تقسیم ہندوستان کا پہلا دن “ماؤنٹ بیٹن کی جے ہو ” کے نعرے کیوں لگے؟

0
33

تقسیم ہندوستان کا پہلا دن  “ماؤنٹ بیٹن کی جے ہو ” کے نعرے کیوں لگے؟

جب گھڑیال رات کے بارہ بجائے گا اور دنیا سو رہی ہو گی یہی وہ ساعت ہو گی جب بھارت آزادی کا سانس لے رہا ہو گا۔ تاریخ میں وہ لمحہ کبھی کبھار آتا ہے جب دبا کر رکھی گئی ایک قوم پرانے دوسر سے نئے دور میں داخل ہوتی ہے اور اپنی آواز بلند کرتی ہے۔ یہ الفاظ ہیں بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے

جو انہوں نے چودہ اگست انیس سو سینتالیس، فورٹینتھ آف اگست نائنٹین فورٹی سیون کی رات بھارت کی دستور ساز، کانسٹیٹیونٹ اسمبلی میں ادا کیے۔
PAkistanwap.pk
تقسیم ہندوستان کا پہلا دن  “ماؤنٹ بیٹن کی جے ہو ” کے نعرے کیوں لگے؟

یہ رات ہندوستان کی تاریخ کی اہم ترین رات تھی کیونکہ اس کی صبح بھارت کی آزادی کی شکل میں طلوع ہونا تھی۔ اس رات کی صبح کیسی تھی؟ پاک، بھارت آزادی کی تاریخیں کیوں بدلی ہوئی ہیں؟ بھارتیوں نے آزادی کے بعد بھی ایک انگریز گورنر جنرل کی جے جے کار کیوں کی؟ سیکولر نہرو نے آزادی سے پہلے ہندو مت کا لبادہ کیوں اوڑھ لیا؟ میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی اس تاریخی ویڈیو میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گے مائی کیوریس فیلوز چودہ اگست کا دن پاکستان اور بھارت دونوں کی تاریخ میں انتہائی اہم ہے۔

اس روز رات کو بارہ بجے دونوں ملکوں کو برطانوی سلطنت سے آزادی ملنا تھی۔ تین جون انیس سو سینتالیس، تھرڈ آف جون نائنٹینن فورٹی سیون کے منصوبے کے تحت ہندوستان کو پاکستان اور بھارت میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ چودہ اگست کی رات بارہ بجے تاریخ بدلتے ہی یعنی پندرہ اگست شروع ہوتے ہی دونوں ملکوں کو آزادی مل جانا تھی۔

لیکن یہ مکمل آزادی نہیں تھی، اس میں ایک قانونی گتھی موجود تھی جسے ابھی دونوں ملکوں نے سلجھانا تھا۔ وہ یہ کہ پاکستان اور بھارت کو برطانیہ کے تحت ڈومینینز کا اسٹیٹس دیا گیا تھا، مطلب ریاست کا کنٹرول دیا گیا تھا۔ قانونی طور پر یوں سمجھیں کہ بظاہر تو وہ آزاد تھے لیکن ان ملکوں کے آئینی سربراہ کا عہدہ ابھی برطانوی بادشاہ جارج سکس جو کہ موجودہ برطانوی ملکہ الزبتھ ٹو کے والد تھے، ان کے پاس رہنا تھا۔

یعنی جیسے آج آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت کئی ممالک کی آئینی سربراہ برطانوی ملکہ الزبتھ ٹو ہیں اسی طرح اس وقت آزادی کے فوراً بعد پاکستان اور بھارت کے آئینی سربراہ جارج سکس، کنگ جارج سکس کو ہونا تھا۔ اس وقت تک جب تک کہ ان دونوں ممالک کا آئین نہیں بن جاتا۔ تاہم آئین بننے کے بعد وہ چیف ایگزیکٹو یا پریذیڈنٹ کا عہدہ تخلیق کر سکتے تھے اور جارج سکس کی جگہ اپنا نیا آئینی سربراہ بنا سکتے تھے۔ یہ اختیار دونوں ممالک کے پاس تھا۔

تاہم ایسا ہونے تک پاکستان اور بھارت میں عارضی طور پر برطانوی بادشاہ جارج سکس کو ہی اپنا آئینی سربراہ تسلیم کرنا تھا۔ اب دونوں ممالک میں برطانوی بادشاہ کی نمائندگی گورنر جنرل نے کرنا تھی کیونکہ اس سے پہلے بھی جارج سکس گیارہ برس سے برطانیہ کے بادشاہ تھے لیکن ایک بار بھی وہ ہندوستان نہیں آئے تھے۔

ان کی جگہ وائسرائے جسے وہ کہا کرتے تھے وہ ان کے نمائندے کے طور پر حکومت کرتا تھا۔ اب ان کی جگہ گورنر جنرل نے پاکستان اور بھارت کا انتظام دیکھنا تھا آئین بننے تک۔ لیکن گورنر جنرل کے انتخاب میں ہی کچھ ایسے معاملات ہو گئے جنہوں نے پاکستان اور بھارت کی تاریخ ہی بدل دی بلکہ ان کی آزادی کی ڈیٹس بھی الگ الگ ہو گئیں۔ اب یہ کیسے ہوا؟ مائی کیوریس فیلوز جب ہندوستان کی تقسیم کا حتمی فیصلہ ہو گیا،

پندرہ اگست کی تاریخ بھی طے پا گئی اور بظاہر لگ رہا تھا کہ ہندوستان کے آخری انگریز وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پاکستان اور بھارت دونوں کے مشترکہ گورنر جنرل بن سکتے ہیں۔ لیکن ہوا یہ کہ قائداعظم محمد علی جناح نے خود گورنر جنرل بننے کا فیصلہ کیا۔ وہ دراصل آزادی کی تاریخ کے بعد ایک دن کے لیے بھی کسی انگریز کو پاکستان کا سربراہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے۔ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور جواہر لعل نہرو کی بہت زیادہ دوستی کی وجہ سے قائداعظم کو ا نگریز گورنر جنرل کی نیت پر بھی بھروسہ نہیں تھا۔ تو ایسے ہی شکوک و شبہات کی وجہ سے قائداعظم نے خود گورنر جنرل بننے کا فیصلہ کیا۔

دوسری طرف نہرو اور کانگریس پارٹی آئین کی تیاری تک لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بھارت کا گورنر جنرل بنانے پر تیار ہو گئے۔ یعنی اب قائداعظم پاکستان کے اور ماؤنٹ بیٹن بھارت کے گورنر جنرل بننے والے تھے۔ تاہم ماؤنٹ بیٹن پریشان تھے کہ اگر وہ پندرہ اگست کو تقریر کرنے کراچی چلے گئے تو دہلی میں ان کی حلف برداری کی تقریب ادھوری رہ جائے گی۔ یہ تقریب بہت دھوم دھام سے ہونا تھی۔

ماؤنٹ بیٹن ویسے ہی دھوم دھام اور پروٹوکول کے بہت شوقین تھے۔ انہوں نے اپنی حلف برداری کی تقریب کے ایک ایک انتطام کی تفصیل خود معلوم کی تھی اور اس حوالے سے وہ بہت ایکسائٹڈ تھے پرجوش تھے۔ اس تقریب کو کسی بھی بدمزگی سے بچانے کیلئے انہوں نے ایک بہت ہی اہم فیصلہ کیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ آزادی سے ایک روز پہلے چودہ اگست کو ہی کراچی جائیں گے

اور پاکستان کی دستور ساز اسمبلی، کانسٹیٹیونٹ اسمبلی سے خطاب کر کے شام تک بھارت میں دہلی میں واپس آ جائیں گے۔ تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ بلکہ وہ دو روز پہلے تیرہ اگست کو ہی کراچی پہنچ گئے۔ اگلے روز چودہ اگست کو وہ قائداعظم کے ساتھ گاڑیوں کے ایک قافلے میں گورنمنٹ ہاؤس یعنی موجودہ گورنر ہاؤس کراچی سے روانہ ہوئے۔ ان کی منزل سندھ اسمبلی کی موجودہ عمارت تھی جو اس وقت پاکستان کی کانسٹیٹیونٹ اسمبلی بھی تھی۔

اگلی گاڑی میں قائداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح بیٹھے تھے اور پچھلی گاڑی میں ماؤنٹ بیٹن اور ان کی اہلیہ تھی۔ ان کے ساتھ پروٹوکول کی دیگر گاڑیاں بھی تھیں۔ کراچی کے ہزاروں شہری سڑک کے دونوں طرف قطار در قطار کھڑے تھے اور گاڑیوں کے قافلوں کی جانب ہاتھ ہلا رہے تھے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن سندھ اسمبلی پہنچے اور وہاں ایک روایتی سا انہوں نے خطاب کیا۔ پاکستان کیلئے انہوں نے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، برطانیہ کے ساتھ اچھے تعلقات اور کچھ دیگر رسمی باتیں کر کے وہ کراچی سے رخصت ہوئے اور چودہ اگست کی شام کو ہی دہلی پہنچ گئے۔

یعنی انہوں نے رسمی طور پر پاکستان کی سربراہی قائداعظم محمد علی جناح کو ہینڈ اوور کرنے کی کارروائی ایک روز پہلے ہی انجام دے دی پندرہ اگست سے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان اپنی آزادی کا دن پندرہ اگست کے بجائے ایک روز پہلے چودہ اگست کو ہی مناتا ہے کیونکہ اسی روز حکومت کی رسمی تبدیلی ہو گئی تھی۔ دوستو لارڈ ماؤنٹ بیٹن اب دہلی واپس آ چکے تھے جہاں کی عوام بیتابی سے آزادی کی صبح طلوع ہونے کے منتظر تھی۔ تاہم آزادی کا سورج نکلنے سے پہلے ایک اور ڈرامائی تبدیلی آ گئی، بھارت کے لادین اور خود کو ایتھیئسٹ کہنے والے لیڈر جواہر لعل نہرو نے ماتھے پر تلک لگوا لیا اور ہندو عقائد کے مطابق مذہبی رسومات بھی ادا کرنا شروع کر دیں۔

یہ کایا پلٹ کیسے ہوئی؟ ہوا یہ کہ چودہ اگست کی شام کو دو ہندو پنڈت اپنے ساتھ ہندو مذہب کی متبرک اشیاء لے کر دہلی میں نہرو کے گھر سترہ یارک روڈ آ گئے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ نہرو نے انہیں بلوایا تھا یا وہ اپنی مرضی سے آئے تھے۔ بہرحال جب نہرو کو ان کی آمد کا علم ہوا تو وہ فوراً ان سے ملنے چلے آئے۔ ہندو پنڈتوں نے انہیں ایک سفید ریشمی شال اوڑھائی، ان کے ماتھے پر ہندوؤں کی مقدس راکھ جسے بھبھوت کہا جاتا ہے وہ ملی اور تنجور ندی کا مقدس پانی بھی ان پر چھڑکا۔ نہرو نے پنڈتوں کی کسی بھی رسم پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ مائی کیوریس فیلوز بظاہر عام سی رسم ایک غیرمعمولی پیغام بن گئی۔ پیغام یہ تھا کہ بھارت ایک ہندو ریاست ہے۔

آزادی کی پہلی گھڑی میں انھوں نے ایک سیکولرازم سے نہیں بلکہ ایک خاص مذہب سے نمائشی قربت دکھا دی تھی۔ کیونکہ اس گھڑی انھوں نے مسلمانوں یا دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ایسی کوئی رسومات ادا نہیں کیں۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ جب بھارتی آئین بنا تو جواہر لعل نہرو نے اسے مکمل طور پر سیکیولر ہی رکھا تھا۔ تو بہرحال دوستو یہ مذہبی رسومات ادا کرنے کے بعد نہرو نے اپنی اس تقریر کی تیاری شروع کی جو انہوں نے آزادی کے موقع پر کرنی تھی۔

تقریر سے پہلے انھیں ایک فون کال آئی جس نے انھیں ذہنی طور پر بہت پریشان کر دیا۔ اس فون کال میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے شہر لاہور میں فسادات ہو رہے ہیں اور بہت سے لوگوں کی جانیں چلی گئی ہیں۔ نہرو کو اس سے بہت صدمہ پہنچا کیونکہ انہیں لاہور سے خاص محبت تھی۔ وہ لاہور میں ہی کانگریس کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اور لاہور میں ہی کانگریس کے سیشن میں ارکان نے ہندوستان کی انگریزوں سے مکمل آزادی یعنی پوورنا سوراج کی ڈیمانڈ کی تھی۔ اس سیشن میں ایک قرارداد منظور کی گئی تھی جس کے تحت جنوری انیس سو تیس، نائنٹین تھرٹی کے آخری اتوار کو ہندوستان کی آزادی کا دن قرار دیا گیا تھا۔

یہ اتوار چھبیس جنوری کو آیا تھا اس لئے آج بھی بھارت میں چھبیس جنوری کو یومِ جمہوریہ یا ریپبلک ڈے منایا جاتا ہے۔ نہرو نے اکتیس دسمبر انیس سو انتیس، نائنٹین ٹوئنٹی نائن کو دریائے راوی کے کنارے ترنگا یعنی ہندوستانی پرچم بھی لہرایا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کی قرارداد بھی لاہور میں ہی انیس سو چالیس، نائنٹین فورٹی میں منظور ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے لاہور کی تاریخی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔ کہ پاکستان اور بھارت دونوں کے قیام کی قراردادیں یہاں، اس شہر لاہور میں منظور کی گئی تھیں فسادات کی خبر والی فون کال سے نہرو کافی رنجیدہ تھے۔ اس وقت ان کی بیٹی اندرا گاندھی اور داماد فیروز گاندھی بھی ان کے ساتھ تھے۔ نہرو نے اندرا سے کہا میں آج خطاب کیسے کروں گا؟ میں خوشی کا اظہار کیسے کروں گا جبکہ مجھے علم ہو گا کہ میرا لاہور، میرا خوبصورت شہر لاہورجل رہا ہے؟ اس موقعے پر ان کی بیٹی اندرا گاندھی نے ان کی ڈھارس بندھائی، انھیں حوصلہ دیا اور تقریر تیار کرنے پر آمادہ کیا۔

رات کو نہرو دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس گئے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کا مرکزی ہال کانگریس کے نمائندوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کانگرس کی خاتون لیڈر سوچیتا کرپلانی جو بعد میں بھارتی ریاست اترپردیش کی وزیراعلیٰ بھی رہیں وہ بھی پارلیمنٹ میں موجود تھیں۔ انہوں نے علامہ اقبال کی مشہور قومی نظم ’ترانہ ہندی‘‘ گائی۔۔۔ سارے جہاں سے اچھا، ہندوستان ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں گلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارا اے آب رود گنگا وہ دن ہے یاد تجھ کو اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا سوچیتا کرپلانی نے یہ ترانہ وہاں گایا اور اس کے بعد انہوں نے بھارت کا متنازعہ گیت وندے ماترم بھی گایا۔ یہ ترانہ علامہ اقبال کے ترانے کا بالکل الٹ تھا۔

اقبال کا ترانہ ہندی اگر ایک جغرافیے میں رہنے والی ایک قوم کی نمائندگی کرتا تھا تو بنکم چندر چٹر جی کا وندے ماترم، ایک جغرافیے میں رہنے والے مذاہب میں سے صرف ایک مذہب کی تعریف اور دوسرے کی ضد میں لکھا گیا تھا۔ یہ ترانہ ہندو قوم پرست بنکم چندر چٹر جی کے مشہور ناول ’’آنند مٹھ‘‘ میں شامل تھا۔ یہ ناول بنگالی زبان میں اٹھارہ سو بیاسی، ایٹین ایٹی ٹو میں لکھا گیا تھا۔ اس میں میر جعفر کے دور یعنی ایٹینتھ سنچری کے بنگال میں ہندوؤں کی مسلمانوں کے خلاف بغاوت کی منظر کشی کی گئی تھی۔ ناول میں یہ پیغام دیا گیا تھا کہ وقتی طور پر تو ہندوستان کی حکومت انگریزوں کو مل رہی ہے لیکن ایک وقت آئے گا جب ہندو مذہب کے ماننے والے حکمرانی کیلئے تیار ہو جائیں گے۔ اس کے بعد ہندوستان پر ان کی حکومت ہو گی اور یہاں سے مسلمانوں کا صفایا کر دیا جائے گا۔ وندے ماترم ترانے کو اس ناول میں ایک کردار اس وقت گاتا تھا جب اسے اپنے ساتھیوں کے جذبات بڑھکانا ہوتے تھے۔ اس ترانے کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا تھا کہ ہندو ایک قوم ہیں، ہندوستان ان کی دھرتی ماں ہے اور وہ اسے کے بچے ہیں۔

ہندو کمزور نہیں ہیں بلکہ جب ان کی تلواریں ایک ہوتی ہیں تو وہ کسی بھی دشمن پر، جو کہ ناول کی کہانی کے مطابق مسلمان تھے، ان پر بھاری پڑ سکتے ہیں۔ تو یہ متنازعہ ترانہ بھی بھارتی پارلیمنٹ میں گایا گیا اور نہرو نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ پنڈتوں کے ساتھ مذہبی رسومات کی ادائیگی کے محض چند گھنٹوں کے اندر یہ دوسرا اہم واقعہ تھا جس سے یہ اشارہ ملا کہ بھارت بھلے مستقبل میں سیکیولر ہو جائے لیکن اس کی ایک مذہبی شناخت غالب رہے گی، ایک ٹائم بم کی طرح کسی بھی وقت سیکولرازم کی عمارت دھڑام سے گر بھی سکتا ہے۔ آج بھارت کی قوم پرست جماعتیں جیسا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی بھی اپنی ہندوتوا پالیسی میں اس ترانے کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ تو خیر دوستو چودہ اگست انیس سو سینتالیس کی رات دہلی کے پارلیمنٹ ہال میں یہ دونوں ترانے گائے گئے جس کے بعد رات گیارہ بج کر پچپن منٹ پر نہرو ڈائس پر تشریف لائے۔ وہ آئے تو ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ نہرو نے آزادی کی تقریر شروع کر دی۔ انہوں نے انگریزی میں کہا کہ ابھی جب آدھی رات ہے اور دنیا سو رہی ہے تو انڈیا آزادی کی سانس لینے جا رہا ہے۔

جب جواہر لعل نہرو کی تقریر ختم ہوئی اور دیوار پر نصب گھڑیال نے بارہ بجائے۔ ہال میں کھوکھلی سیپی کا ساز گونجنے لگا۔ یہ سنکھ تھا جسے ہندوستانی قدیم زمانوں سے اعلان کے لیے استعمال کرتے تھے اور موسیقی کے لیے بھی اسے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس لمحے حکومتی نمائندے بہت جذباتی تھے، کچھ رو رہے تھے اور کچھ مہاتما گاندھی کی جے ہو، مہاتما گاندھی کی جے ہو کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ پارلیمنٹ میں آزادی کی تقریب مکمل ہونے کے بعد نہرو وہاں سے نکلے اور برطانوی بادشاہ جارج سکس کے نمائندے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے گھر یعنی وائسرائے ہاؤس جا پہنچے۔ یہ عمارت اب بھارت کا صدارتی محل یعنی راشٹرپتی بھون کہلاتی ہے۔ انہوں نے ماؤنٹ بیٹن کو آزاد انڈیا کا پہلا گورنر جنرل بننے کی رسمی دعوت دی۔ ماؤنٹ بیٹن نے دعوت قبول کر لی۔ یہ ماؤنٹ بیٹن اور جواہر لعل نہرو دونوں کیلئے خوشی کا موقع تھا۔ ماؤنٹ بیٹن نے اس خوشی کو سیلیبریٹ کرنے کیلئے پورٹ وائن کی بوتل نکالی۔ انہوں نے اپنا جام بلند کر کے کہا ’’ٹو انڈیا، یعنی میرا جام انڈیا کے نام۔‘‘ اس کے جواب میں نہرو نے اپنا جام بلند کر کے کہا ’’ٹو کنگ جارج‘‘ یعنی میرا جام کنگ جارج سکس کے نام۔ ہندوستان کی آزادی کی پہلی رات اسی بھاگ دوڑ میں گزر گئی اور پندرہ اگست کا سورج طلوع ہوا۔ دوستو اس روز پارلیمنٹ میں عجیب منظر تھا۔ لوگ لاکھوں کی تعداد میں پارلیمنٹ کی طرف امڈ آئے تھے۔ پارلیمنٹ کا گراؤنڈ تو کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ہی، چھتوں اور دیواروں پر بھی لوگ چـڑھے ہوئے تھے۔ گھڑسوار پولیس اہلکار انہیں کنٹرول کرنے کی کوششیں کر رہے تھے مگر کر نہیں پا رہے تھے۔ پنڈت نہرو خود بھی پارلیمنٹ کی چھت پر کھڑے تھے اور لوگوں سے پرسکون رہنے کی بار بار اپیل کر رہے تھے۔

پارلیمنٹ کے اردگرد سڑکوں پر بھی ہجوم ہی ہجوم تھا۔ اس ہجوم میں طرح طرح کے کھیل بھی چل رہے تھے۔ کہیں ریچھ کا تماشہ دکھایا جا رہا تھا، تماشے والا ڈگڈگی بجا رہا تھا، بندر نچانے والے مداری بھی موجود تھے، سپیرے بین بجا کر سانپوں کو مدہوش کر رہے تھے، اور کہیں پنگھوڑے والا بچوں کو جھولے جھولا رہا تھا۔ ایک امبوہِ آدم تھا جسے جہاں تفریحی منظر دکھائی دیتا وہ ادھر کو رخ کر لیتا۔ اسی لیے پولیس لوگوں کو ڈسپلن میں رکھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ کہیں بھگدڑ نہ مچ جائے کوئی ہنگامہ نہ ہو جائے۔ پارلیمنٹ سے کچھ ہی دوری پر وائسرائے ہاؤس میں صبح ساڑھے آٹھ بجے ہی ہندوستانی کابینہ نے حلف بھی اٹھا لیا تھا۔ پنڈت نہرواپنے وزیروں کے ناموں والی پرچی گھر بھول آئے تھے۔ یعنی ہر نام اور اس کے عہدے کا فرداً فرداً تعارف اب ممکن نہیں رہا تھا۔ چنانچہ حلف برداری کی تقریب اس پرچی کے بغیر ہی انجام پائی۔ ظاہر ہے نامزد وزیروں کو پہلے سے ہی اپنے عہدوں کا علم تھا اس لئے اس میں کوئی بڑا مسئلہ بھی نہیں تھا۔ حلف برداری کی تقریب عمارت کے مرکزی ہال میں منعقد ہوئی جہاں دو بڑی کرسیاں رکھی تھیں۔ پہلے ماؤنٹ بیٹن وائسرائے کی حیثیت سے اپنی اہلیہ کے ساتھ ان کرسیوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ اب وہ گورنر جنرل اور ان کی اہلیہ مسز گورنر جنرل کی حیثیت سے ان کرسیوں پر براجمان ہوگئے۔ اسی کمرے میں انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور نہرو سے ہندوستان کے وزیراعظم کا حلف لیا۔ یوں بھارت کی نئی حکومت باقاعدہ طور پر وجود میں آ گئی۔ حلف برداری کی تقریر کے بعد نئی حکومت کو اکیس توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ اس سے پہلے وائسرائے کو اکتیس توپوں کی سلامی دی جاتی تھی۔

لیکن ان کے گورنر جنرل بننے کے بعد پروٹوکول میں دس توپوں کی کمی کر دی گئی تھی۔ حلف برداری کی تقریب ختم ہونے کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن اپنی شاندار بگھی میں گھڑسوار سیکیورٹی دستے کے ساتھ دہلی کی سڑکوں پر نکلے۔ باہر موجود لاتعداد لوگوں نے بگھی کو دیکھ کر خوشی سے چیخنا چلانا نعرے لگانا شروع کر دیئے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔ ہزاروں لوگوں نے بگھی کو گھیر لیا۔ جب ماؤنٹ بیٹن اور ان کی اہلیہ بگھی سے اترے تو ہندوستانی شہریوں نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ ان کے سامنے ریچھ اور بندر نچائے گئے، سپیروں نے انہیں اپنا فن دکھایا۔ وہ بھی پنگھوڑوں کے پاس کھڑے بچوں سے ہاتھ ملاتے رہے۔ اس سارے منظر سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن یقینی طور پر خوش ہورہے ہوں گے۔ دوستو ادھر بھارت میں یہ حلف برداری اور جشن کا ماحول تھا تو دوسری طرف پاکستان میں بھی پندرہ اگست کو ہی قائداعظم نے بھی گورنر جنرل کا حلف اٹھایا۔ حلف اٹھانے کی تقریب کراچی کے گورنمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوئی جو اب گورنر سندھ کی رہائش گاہ ہے۔ یہ تقریب کھلے آسمان تلے منعقد ہوئی۔ قائداعظم سے ہندوستان کے سینئر موسٹ مسلم جج، سر میاں عبدالرشید نے حلف لیا۔ وزیراعظم لیاقت علی خان اور باقی کابینہ نے بھی اسی وقت حلف اٹھایا۔ تو دوسری طرف سرحد پار دوستو دہلی میں جب حلف برداری کی تقریب ختم ہوئی تو بس ایک کام باقی تھا۔

وہ یہ کہ نہرو نے دہلی کے مشہورِ زمانہ انڈیا گیٹ کے قریب پرنسز پارک میں بھارتی پرچم یعنی ترنگا لہرانا تھا۔ لیکن یہ کام تقریبِ حلف برداری سے زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ وہ اس لئے کہ بھارتی لیڈرز کا خیال تھا کہ حلف برداری کی تقریب کے بعد پارلیمنٹ میں جمع ہوئے عوام منتشر ہو جائیں گے۔ اس لئے رش بہت کم ہو گا۔ کچھ لیڈرز کا اندازہ تھا کہ پرنسز پارک میں تیس ہزار تک لوگ آئیں گے۔ لیکن ہوا یہ کہ شام پانچ بجے جب پرچم لہرانے کی تقریب شروع ہوئی تو پارک میں اور اس کے اردگرد اندازاً پانچ لاکھ لوگوں کا جمِ غفیر آ گیا۔ یہ اتنا بڑا مجمع تھا کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی، کندھے سے کندھا ملا ہوا تھا۔ درمیان میں گزرنے کیلئے ذرا بھی جگہ نہیں تھی۔

ایسی صورتحال میں جب وزیراعظم جواہر لعل نہرو وہاں پہنچے تو وہ یہ منظر دیکھ کر حیران و پریشان رہ گئے۔ لوگ چاہ کر بھی ان کیلئے جگہ نہیں چھوڑ پا رہے تھے کیونکہ وہ خود بری طرح پھنس چکے تھے۔ لیکن نہرو نے ہر صورت اسٹیج پر پہنچنا ہی تھا کیونکہ انہوں نے پرچم لہرانا تھا۔ ایسے میں انہوں نے لوگوں کے کندھوں پر پاؤں رکھ کر سٹیج کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ وہ ہجوم میں کھڑے لوگوں پر باقاعدہ چڑھ گئے۔ اردگرد کھڑے لوگوں نے بھی ہاتھوں سے انہیں سہارا دے کر آگے بڑھایا۔ یوں نہرو لوگوں کی مدد سے ایک کندھے سے دوسرے کندھے پر سنبھل سنبھل کر پاؤں رکھتے ہوئے کسی نہ کسی طرح اسٹیج پر پہنچ ہی گئے۔ نہرو تو خیر عوامی لیڈر تھے وہ لوگوں کے کندھوں پر سوار ہو کر آگے جانے کی ہمت رکھتے تھے۔

لیکن یہ ہمت ماؤنٹ بیٹن میں نہیں تھی وہ اپنے رکھ رکھاؤ کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکے۔ وہ رش کی وجہ سے اپنی بگھی میں ہی بیٹھے رہ گئے۔ نہ بگھی آگے جا سکتی تھی نہ وہ اتر کر اسٹیج تک پہنچ سکتے تھے۔ انہوں نے بگھی سے ہی چیخ کر نہرو سے کہا کہ میں یہیں رہوں گا، آپ جھنڈا لہرا دیں۔ اسٹیج پر کھڑے جواہر لعل نہرو نے ان کی آواز سنی اور پرچم بلند کرنا شروع کیا۔ ماؤنٹ بیٹن نے بگھی میں ہی کھڑے ہو کر جھنڈے کو سلامی دی۔ جیسے ہی جھنڈا بلند ہونا شروع ہوا تو لوگوں نے ماؤنٹ بیٹن کی جے ہو، ماؤنٹ بیٹن کی جے ہو یعنی ماؤنٹ بیٹن زندہ باد، زندہ باد کے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔ صدیوں بعد یہ شاید پہلا موقع تھا کہ بھارتی عوام دیوانہ وار کسی انگریز کے حق میں نعرے لگا رہی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے دوستو کہ نہرو جو پرچم لہرا رہے تھے وہ کھدر سے بنا تھا اور کھدر انگریزوں کی دکھتی رگ تھی مہاتما گاندھی نے جب انگریزوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی مہم چلائی جسے ’’سودیشی تحریک‘‘ کہا جاتا ہے اس میں انہوں نے کھدر کو فروغ دیا تھا۔ انہوں نے عوام سے کہا تھا کہ وہ انگریزی لباس پہننے کے بجائے کھدر سے بنا ہوا لباس پہنا کریں۔ اس تحریک میں مسلمانوں نے بھی بڑے پیمانے پر حصہ لیا تھا اور دیوہیکل چرخے لے کر جلوس نکالا کرتے تھے۔ مہاتما گاندھی خود بھی چرخے پر کھدر سے کپڑا بُن کر پہنا کرتے تھے۔

اس تحریک نے ہندوستان میں برطانوی مصنوعات کی فروخت کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔ یعنی کھدر ہندوستان میں انگریزوں سے نفرت کی علامت بن گیا تھا۔ لیکن پندرہ اگست کو جب کھدر سے بنا بھارتی ترنگا لہرا رہا تھا تو بھارتی عوام ایک انگریز کی جے جے کار کر رہی تھی۔ دوستو یہ تاریخ کا ایک ستم ہی تھا کہ برطانوی ملکہ وکٹوریہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی پرنانی تھیں۔ اب آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کو ملکہ وکٹوریہ کے دور میں اٹھارہ سو اٹھاون میں باضابطہ طور پر غلام بنایا گیا تھا یعنی تاجِ برطانیہ کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اس سے پہلے ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت تھی جسے کمپنی سرکار کہا جاتا تھا۔ تاہم اٹھارہ سو ستاون، ایٹین ففٹی سیون کی جنگِ آزادی میں ہندوستانیوں کی شکست کے بعد ہندوستان کو تاجِ برطانیہ کے کنٹرول میں لیا گیا تھا۔ اب اسی ملکہ کے پرنواسے، گریٹ گرینڈسن ہندوستان کو اس کی آزادی لوٹا رہے تھے۔ اسی کے نواسے جس کی پرنانی نے یہ آزادی چھینی تھی تو یہ تھے لارڈ ماؤنٹ بیٹن جن کی بھارت میں جے جے کار ہوئی۔ اسی جے جے کار کی وجہ سے اگلے دن یعنی سولہ اگست کو ماؤنٹ بیٹن کے پریس اتاشی ایلن کیمبل جانسن نے اپنے ایک ساتھی سے تاریخی الفاظ کہے۔

انہوں نے کہا ’’آخر دو سو سال بعد برطانیہ نے ہندوستان پر فتح حاصل کر ہی لی۔‘‘ ان کا مطلب یہ تھا کہ برطانیہ نے آخرکار ہندوستانیوں کے دل جیت لئےہیں۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستانیوں کے دل تو جیت لئے لیکن اپنے ہم وطنوں کے دل وہ ہار گئے بلکہ ان میں سے ایک طبقے نے انہیں اپنا دشمن بنا لیا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور برطانیہ کے ساتھ نارتھ آئرلینڈ، شمالی آئرلینڈ کی آزادی کی تخریک چل رہی تھی جسے آئرش ریپبلکن آرمی لیڈ کر رہی تھی آئرش ریپبلکن آرمی نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو اپنے نشانے پر رکھ لیا۔ انیس سو اناسی، نائنٹین سیونٹی نائن میں آئرش ریپبلکن آرمی نے ایک بم دھماکے میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو ہلاک کر دیا۔ دوستو پاکستان اور بھارت کی آزادی کے چند گھنٹوں کی کہانی آپ نے دیکھی۔ آپ اسے دیکھنے کے بعد کیا سمجھتے ہیں کہ ماؤنٹ بیٹن کو آئین بننے تک پاکستان کا گورنر جنرل نہ بنانے کا فیصلہ درست تھا یا غلط؟ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ہمیں کامنٹس میں ہمیں ضرور لکھیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here