مہاتما گاندھی کو کیوں قتل کیا گیا؟ | مہاتما گاندھی کے آخری دن

آج کل میری سنتا ہی کون ہے؟ مجھے کہا جا رہا ہے کہ میں سیاست سے ریٹائر ہو کر ہمالیہ چلا جاؤں اور ایک سادھو کی زندگی بسر کروں۔ ہر کوئی میری تصاویر اور مجسموں کو ہار تو پہنانا چاہتا ہے لیکن میری نصحیت پر کوئی کان دھرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ آنے والی نسلیں مجھ پر یہ کہہ کر لعن طعن کریں کہ میں ہندوستان کے ٹکڑے کرنے کی کارروائی کا حصہ تھا۔ ہندوستان کی تقسیم کی صورت میں جو آزادی ہمیں مل رہی ہے وہ تو لکڑی کے لڈو ہیں۔ کھائیں گے تو پیٹ درد سے مرئیں گے، نہیں کھائیں گے تو بھوک سےمرجائیں گے۔

PAkistanwap.pk
دوستو یہ الفاظ ہیں موہن داس کرم چند گاندھی کے جنہیں بھارت میں باپو، مہاتما گاندھی یا گاندھی جی کہا جاتا ہے۔

مہاتما گاندھی کو کیوں قتل کیا گیا؟ | مہاتما گاندھی کے آخری دن

لیکن جو گاندھی ہندوستان کو ایک رکھنے کی بات کر رہے تھے ان پر حملے کئے گئے۔ لوگوں نے ان پر پتھر برسائے، ان کے راستے میں غلاظت اور کانچ کے ٹکڑے پھینکے گے۔ مہاتما گاندھی کو اتنا ستایا گیا کہ وہ ہندوستان کی آزادی کے جشن میں بھی شریک ہی نہیں ہوئے۔ بلکہ انھوں نے اعلان کردیا کہ اب وہ پاکستان میں رہیں گے ایسا کیوں تھا؟

مائی کیوریس فیلوز مہاتما گاندھی زندگی کے آخری حصے میں جس سیاسی زوال کا شکار ہوئے اس کی وجہ تھی ان کی چار چاہتیں۔ چار ایسی خواہشات جن کیلئے انہوں نے زندگی بھر جدوجہد کی تھی۔ پہلی خواہش یہ تھی کہ ہندوستان تقسیم نہ ہو یعنی پاکستان اور بھارت الگ الگ ملک نہ بنیں۔ گاندھی کہا کرتے تھے کہ ہندوستان کی تقسیم ان کی لاش پر سے گزر کر ہی ہو سکتی ہے۔

ان کی دوسری خواہش تھی کہ انگریز پرامن طور پر ہندوستان چھوڑ دیں۔ کوئی دنگا، فساد اور ہنگامہ نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مہاتما گاندھی نان وائلنس پر یقین رکھتے تھے وہ کسی بھی قسم کے لڑائی جھگڑے یا فسادات کے خلاف تھے۔ ان کی تیسری وش یہ تھی کہ ہندوستان میں ایک ایسی حکومت قائم ہو جو اپنے ٹھاٹھ باٹھ کے بجائے صرف عوام کی خدمت پر کمربستہ رہے۔ اس حکومت کے وزیر ان کی طرح سادہ زندگی گزاریں بلکہ سرونٹ کوارٹرز میں رہیں۔ بڑی بڑی گاڑیوں کے بجائے تانگوں میں سفر کیا کریں۔ مہاتما گاندھی کی چوتھی خواہش یہ تھی کہ اگر خدانخواستہ ہندوستان کی تقسیم کی نوبت آ بھی جائے تو ہندوستان اور پاکستان محبت کے رشتے میں بندھے رہیں۔ ان میں کوئی دشمنی اور جنگ نہ ہو۔

تو یہ دوستو ان کی چار خواہشات تھیں۔ لیکن ہوا یہ کہ آزادی کے فوراً بعد ان کی یہ سب خواہشات ان کی آنکھوں کے سامنے مٹی کا ڈھیر بننے لگیں۔ ہندوستان راتوں رات یوں بدلا کہ مہاتما گاندھی کا فلسفہ اچانک ہی آؤٹ ڈیٹڈ ہو گیا۔ اس تبدیلی کی شروعات ہوئی راست اقدام یعنی ڈائریکٹ ایکشن ڈے سے۔ سولہ اگست انیس سو چھیالیس، نائنٹی فورٹی سکس وہ دن تھا جب مسلم لیگ کے لیڈر قائداعظم محمد علی جناح کی اپیل پر ہندوستانی مسلمانوں نے ڈائریکٹ ایکشن ڈے یا راست اقدام کیا۔ مطلب یہ کہ اس دن ہندوستان بھر میں مسلمانوں نے سڑکوں پر نکل کر قیامِ پاکستان کے لیے تحریک چلائی۔ لیکن تحریک کا یہ دن خونی فسادات میں بدل گیا۔ سب سے زیادہ فسادات بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں ہوئے۔

کئی روز جاری رہنے والے فسادات میں کم از کم چار سو افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کا قتل عام کیا، خواتین کو اغوا کیا گیا اور گھروں کو جلایا گیا۔ کلکتہ سے یہ فسادات ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں بھی پھیلنے لگے۔ ممبئی، دہلی اور بہار وغیرہ بھی فسادات کی لپیٹ میں آ گئے۔ صورتحال یہ تھی کہ مشرقی بنگال میں جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی وہاں ہندوؤں پر حملے ہو رہے تھے اور بہار میں جہاں ہندوؤں کی تعداد زیادہ تھی، وہاں مسلمانوں پر جتھوں کے جتھے حملے کر رہے تھے۔ ان حالات میں مہاتما گاندھی خون خرابہ روکنے کیلئے متحرک ہوئے۔ انہوں نے بنگال میں فسادات سے متاثرہ ہندوؤں کے علاقوں کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

پھر انھوں نے بہار کے مسلمانوں کے لیے بھی آواز اٹھائی اور ایک خط میں لکھا کہ میرے خوابوں کی سرزمین بہار نے خود کو غلط راستے پر ڈال لیا ہے۔ اگر کوئی ایک گروپ غلط قدم اٹھا رہا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دوسرا گروپ بھی بدلے میں وہی کرے موہن داس کرم چند گاندھی دہلی سے ٹرین کے ذریعے پہلے بنگال میں کلکتہ اور پھر نواکھلی پہنچے۔ وہ نواکھلی اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں گھوم پھر کر نان وائلنس کا درس دیتے رہے عدم تشدد کا درس دیتے رہے۔ یہ دورہ بہت خطرناک تھا دوستو کیونکہ ان کے ساتھ کوئی گارڈز نہیں تھے۔ وہ صرف اپنے ایک سیکرٹری اور بنگالی ٹرانسلیٹر کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔

مسلمانوں اور ہندوؤں میں نفرتیں ختم کرنے کیلئے گاندھی نے یہ طریقہ کار اپنایا تھا کہ وہ دن کے وقت فسادات سے متاثرہ علاقوں میں جاتے تھے اور رات کے وقت کسی مسلمانوں کے گاؤں میں ٹھہر کر آرام کرتے تھے۔ مہاتما گاندھی کی کوششوں سے دوستو بنگال کا امن بڑی حد تک لوٹ آیا۔ اس کے بعد مارچ انیس سو سینتالیس، نائنٹین فورٹی سیون میں مہاتما گاندھی نے بہار میں بھی فسادات سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ پختون قوم پرست رہنما باچا خان بھی اس دورے میں ان کے ساتھ ساتھ تھے۔ مہاتما گاندھی جہاں بھی گئے انہیں خوفناک تباہی اور دکھوں کی ایک جیسی داستانیں سننے کو ملیں۔ وہ لوگوں کو تسلیاں دیتے رہے اور انہیں انتقامی کارروائیوں سے روکتے رہے۔

لیکن آپ جانتے ہیں کہ جب نفرت کے جذبات بھڑک چکے ہوں تو امن کی بات کرنے والا پرایا پرایا سا لگتا تھا۔ بس یہی کچھ گاندھی جی کے ساتھ بھی ہونے لگا تھا اور انتہاپسندوں کی نفرت کا رُخ ان کی طرف پھر گیا۔ یہاں تک کہ ان پر حملے اب شروع ہو گئے۔ علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر ایک ہجوم نے ان کی ٹرین پر اٹیک کیا۔ حملہ آوروں نے اس بوگی پر سنگباری کی، پتھر برسائے جس میں مہاتما گاندھی سفر کر رہے تھے۔ البتہ وہ ان حملوں میں محفوظ رہے۔ حملہ آوروں نے ان کے راستے میں گندگی اور کانچ کے نوکیلے ٹکڑے پھینکنا شروع کیے تاکہ انہیں تکلیف پہنچے۔ اس کے جواب میں کرم چند گاندھی نے جوتے اتار دئیے اور ننگے پاؤں سفر شروع کر دیا۔ وہ خود کو تکلیف دے کر لوگوں کو بتانا چاہتے تھے کہ میرے راستے کے پتھر میرے سفر کی رکاوٹ نہیں ہیں۔ دوستو مہاتما گاندھی کی تمام تر کوششوں کے باوجود ہندو مسلم فسادات رکے نہیں یہ بڑھتے اور پھیلتے رہے۔

انیس سو سینتالیس، نائنٹین فورٹی سیون کے ابتدائی مہینوں میں ہی واضح ہو گیا تھا کہ اب ہندو اور مسلمان برصغیر میں اکٹھے نہیں رہ پائیں گے۔ ان حالات میں کانگریس پارٹی نے ایک اہم فیصلہ کیا۔ انہوں نے قیامِ پاکستان کے مطالبے کو تسلیم کر لیا۔ ہندوستان کی تقسیم یعنی قیام پاکستان کے مطالبے کو تسلیم کرنے کے پیچھے کانگرس پارٹی کی ایک لاجک تھی۔ ان کی لاجک یہ تھی کہ اگر پاکستان نہ بنا تو ہندوستان میں تشدد اور بڑھے گا، جس سے ہندوستان غیر محفوظ ہو گا۔ اس لئے قیام پاکستان کی حمایت کر کے مسلم اکثریتی علاقوں سے خود کو الگ کر لیا جائے۔ یہاں دوستو آپ کو یہ بھی بتا دیں کہ انیس سو چھیالیس، نائنٹین فورٹی سکس کے الیکشنز کے نتیجے میں مرکز میں کانگریس اور مسلم لیگ کی ایک مشترکہ عبوری حکومت، انٹیرم گورنمنٹ بنی تھی۔ اسی حکومت کے وزیراعـظم پنڈت جواہر لعل نہرو اور وزیرخزانہ لیاقت علی خان تھے۔ بعد میں اسی حکومت میں شامل لوگ پاکستان اور بھارت کے ابتدائی سیاسی حکمران بنے تھے۔

آپ جانتے ہیں کہ لیاقت علی خان پاکستان میں وزیرا عظم بنے تھے اور انڈیا میں آپ جان چکے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو۔ تو خیر، دوستو وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے قائداعظم محمد علی جناح اور پنڈت نہرو سے مذاکرات کر کے پارٹیشن کی تفصیلات طے کیں اور تین جون انیس سو سینتالیس، نائنٹین فورٹی سیون کو پارٹیشن پلین کا باقاعدہ اعلان ہوا۔ پھر گیارہ دن بعد، فورٹینتھ آف جون کو دہلی میں کانگریس کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں پنڈت نہرو اور کانگریسی لیڈرز نے ہاتھ اٹھا کر پارٹیشن کے حق میں ووٹ بھی دے دیا۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ تھا۔ مسئلہ یہ تھا کانگرس تو تقسیم پر راضی تھی، لیکن کانگرس کے سرپرست کرم چند گاندھی راضی نہیں تھے۔ کانگریسی لیڈرز کی ہندوستان کو تقسیم کی سوچ پر مہاتما گاندھی نے کہا تھا نہرو اور سردار پٹیل سمجھ رہے ہیں کہ عمر کے ساتھ میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔ ایک اور موقع پر انھوں نے مایوسی سے یہ بھی کہا کہ میری تو کوئی بات ہی نہیں سنتا۔

کیا میں واقعی بوڑھا ہو گیا ہوں؟ کیا چیزیں واقعی میری سمجھ میں نہیں آتیں؟ دوستو وہ یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ اب ان کی بات مانے جانے کا کوئی امکان نہیں، انھوں نے پارٹیشن کی مخالفت جاری رکھی۔ وہ لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ میں نہیں چاہتا کہ آنے والی نسلیں مجھ پر لعن طعن کریں اور کہیں کہ میں ہندوستان کے ٹکڑے کرنے کی واردات میں شامل تھا۔ مہاتما گاندھی کی یہ ساری اختلافی باتیں پارٹیشن کی طرف بڑھتے ہوئے ہندوستان میں کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھیں۔ پسند نہیں آ رہیں تھیں۔۔ کانگریس کے لوگ، اپنے اس سرپرست سے ملتے تو انہیں سادھو بن کر ہمالیہ کے پہاڑوں میں چلے جانے کا مشورہ دیا کرتے۔ اس مشورے کا مقصد مہاتما گاندھی کو یہ تکلیف دہ احساس دلانا تھا کہ آزاد ہندوستان میں ان کے نظریات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ پھر جیسے جیسے تشدد بـڑھتا گیا، مہاتما گاندھی اور کانگریس میں بھی فاصلے بڑھتے گئے۔ مہاتما گاندھی کو محسوس ہونے لگا کہ پنڈت نہرو کی حکومت ہندوستانی عوام کی بہتری اور فسادات کو روکنے کیلئے بھرپور کوششیں نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا میں جواہر لعل نہرو کو ایک بے تاج بادشاہ کی طرح سمجھتا ہوں۔

پھر بھی ہندوستان ایک غریب قوم ہے انہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ اتنا غریب ہے کہ اس کے منتخب لیڈرز کو تو کاروں میں جانے کے بجائے پیدل چلنا چاہیے۔ محلوں میں رہنے کی بجائےسرونٹ کواٹرز میں رہنا چاہیے، محل میں رہنے والا حکومت نہیں چلا سکتا۔ انہوں نے پنڈت نہرو اور سردار پٹیل کو کئی بار یہ کہا تھا کہ وہ دہلی کے محل نما گھروں اور شاندار آفس بلڈنگز کو بے گھر مہاجرین کیلئے وقف کردئیں ہاسٹل بنا دئیں بلکہ خود انہوں نے کہا کہ آپ لوگ خود مذہبی لوگوں ہریجان کے کوارٹرز میں منتقل ہو جائیں یا پھر مزارعوں یعنی کسانوں کے جھونپڑوں میں رہائش اختیار کر لیں۔ انہیں اس بات پر بھی گلہ تھا کہ سرکاری دفاتر میں کرپشن اتنی عام کیوں ہے جبکہ ہم آزاد ہو چکے ہیں؟ ان حالات میں دوستو گاندھی جی کو ان کے کچھ پرانے دوستوں نے ایک خفیہ مشورہ بھی دیا کہ وہ پنڈت نہرو کی حکومت گرانے کیلئے ویسی ہی تحریک شروع کریں جیسی وہ انگریزوں کے خلاف چلایا کرتے تھے۔ مہاتما گاندھی نے یہ مشورہ ماننے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس ادارے یعنی کانگریس اور اس کی حکومت کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلائیں گے۔ مائی کیوریس فیلوز پارٹیشن کی مخالفت اور کانگریس کی حکومت پر تنقید ہی وہ معاملات تھے جن کی وجہ سے کرم چند گاندھی کو ایک ممکنہ اہم ترین عہدے سے محروم کر دیا گیا۔ پھر وہ لمحہ بھی آیا جب انتہا پسند ہندو مہاتما گاندھی کے گھر پر ہی حملہ آور ہو گئے۔ یہ کیا واقعہ تھا؟ دوستو آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو پنڈت نہرو نے ہندوستان کا پہلا گورنر جنرل بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہسٹورین اسٹینلے والپرٹ کے مطابق مہاتما گاندھی چاہتے تھے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جگہ انھیں ہندوستان کا پہلا گورنر جنرل بنایا جائے۔ تاہم پنڈت نہرو گاندھی جی کو یہ عہدہ دینے کے حق میں نہیں تھے۔ والپرٹ کے مطابق ماؤنٹ بیٹن کو یہ احساس تھا کہ مہاتما گاندھی اس عہدے کے صحیح حقدار ہیں۔

تاہم پنڈت نہرو چونکہ ماؤنٹ بیـٹن سے بہت سے سٹریٹیجک معاملات میں مدد لے رہے تھے اس لیے انہوں نے مہاتما گاندھی کو گورنر جنرل بنانے کا آئیڈیا مسترد کر دیا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے گورنر جنرل بنتے ہی قائداعظم محمد علی جناح کے خدشات درست ثابت ہونے لگے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پاکستان کی نظر میں اہم ترین خطے کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بنانے کے لیے کردار ادا کرنا شروع کردیا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ جموں و کشمیر برصغیر کی ایک پرنسلی اسٹیٹ تھی۔ پنڈت نہرو اسے بھارت کا حصہ بنانا چاہتے تھے، جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے اپنے آباؤ اجداد کشمیر سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ انہوں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ذریعے کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اس منصوبے پر کام کیلئے مہاتما گاندھی کو چُنا۔

انہوں نے مہاتما گاندھی سے کہا کہ وہ کشمیر جا کر ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ سے بات کریں اور کشمیر کو ہندوستان میں شامل کروائیں۔ مہاتما گاندھی نے کشمیر جانے کی حامی تو بھر لی لیکن ساتھ ہی ایک ایسا بیان بھی دے دیا جو ماؤنٹ بیٹن اور کانگریسی لیڈرز کو پسند نہیں آیا۔ گاندھی جی نے کہا میں مہاراجہ سے یہ کہنے نہیں جا رہا کہ وہ ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر لیں۔ ہمیں کشمیر کے لوگوں سے یہ پوچھنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا ہندوستان کے ساتھ ان کی مرضی کیا ہے۔ مہاتما گاندھی یکم اگست انیس سو سینتالیس، نائنٹین فورٹی سیون کے روز کشمیر کے دارالحکومت سرینگر پہنچے۔ کشمیر کے بعض مسلمان مہاتما گاندھی کے دورے کو بھارت سے الحاق کی کوشش سمجھ رہے تھے۔ اس لئے کشمیر میں کئی مقامات پر ان کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔ ایسے ہی ایک واقعے میں یہ ہوا کہ گاندھی جی کار میں سوار کہیں جا رہے تھے۔ کچھ مظاہرین پاکستان کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے گاندھی جی کی کار کے پیچھے دوڑے۔ اس پر کرم چند گاندھی نے کار رکوائی اور لوگوں سے پوچھا کہ وہ کیوں احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین میں سے کسی نے کہا ہم پاکستان چاہتے ہیں۔ گاندھی جی نے کہا پاکستان تو بن گیا ہے۔

اس پر اسی شخص نے جواب دیا ہم یہاں یعنی کشمیر میں پاکستان مانگتے ہیں۔ مہاتما گاندھی نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کے ڈرائیور نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی اور تیزی سے ہارن بجاتے ہوئے گاڑی آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ ڈرائیور کے اس رویے پر مظاہرین میں سے کسی نے پتھر مار کر گاڑی کا شیشہ توڑ دیا۔ بہرحال کرم چند گاندھی اس حادثہ میں مخفوظ رہے انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی انہوں نے مہاراجہ ہری سنگھ اور دیگر کشمیری لیڈرز سے بھی ملاقاتیں کیں۔ چار اگست کو وہ جموں کے راستے راولپنڈی چلے آئے۔ مہاتما گاندھی کے اس دورے کے نتیجے میں کشمیر کے الحاق کا تو کوئی اعلان نہیں ہوا البتہ اس کے فوری بعد کچھ اہم واقعات ہوئے۔ ایک تو یہ کہ کشمیر کے وزیراعظم رام چندرا جنہیں کشمیری مسلمان پسند نہیں کرتے تھے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے اگلے ماہ کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ جو مہاراجہ کی قید میں تھے انہیں رہا کر دیا گیا۔ مہاتما گاندھی کشمیر کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ٹرین کے ذریعے چھے اگست انیس سو سینتالیس کو لاہور پہنچے۔ لاہور ریلوے اسٹیشن پر انہوں نے ایک اور اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ میری باقی زندگی پاکستان میں گزرے گی۔ شاید مشرقی بنگال میں یا پھر مغربی پنجاب میں اور یا پھر اس سرحدی صوبے میں، جسے اب خیبرپختونخوا کہتے ہیں۔ تاہم مہاتما گاندھی نے اس اعلان کے دوران یہ بھی کہا کہ فی الحال میں یہاں نہیں رک سکتا۔ میں ابھی بنگال جا رہا ہوں کیونکہ وہاں کے لوگوں سے میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں پندرہ اگست کو یوم آزادی سے پہلے ان کے پاس ہوں گا۔ انہوں نے ہندوؤں سے یہ بھی کہا کہ وہ لاہور کو چھوڑ کر نہ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنایا جاتا ہے تو اقلیتوں کو چاہیے کہ وہ پاکستانی پرچم کو سلیوٹ کریں۔ لیکن اگر اقلیتوں کو حقوق نہیں ملتے تو کم از کم میں پاکستانی پرچم کو سلیوٹ نہیں کروں گا۔ لاہور ریلوے اسٹیشن پر اس خطاب کے بعد مہاتما گاندھی پہلے پٹنہ اور پھر کلکتہ چلے گئے۔ اب پندرہ اگست کو آزادی کا دن بہت قریب آ گیا تھا۔ کرم چند گاندھی نے ہندوستان میں اپنے تمام پیروکاروں سے اپیل کی کہ وہ پندرہ اگست کو برت یعنی روزہ رکھیں۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس اناج نہیں ہے، کپڑے نہیں ہیں، گھی اور تیل نہیں ہے۔ تو پھر ہم آزادی کا جشن کیوں منائیں؟ اس لئے پندرہ اگست کے روز آزادی کا جشن منانے کے بجائے روزہ رکھنا چاہیے چرخہ چلانا چاہیے اور دعا کرنی چاہیے۔ مہاتما گاندھی دس اگست کو کلکتہ پہنچے۔

یہاں انہوں نے مسلم لیگ کے لیڈر اور بنگال کے سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی سے ملاقات کی۔ اس وقت بنگال پارٹیشن پلان کے تحت تقسیم ہو چکا تھا۔ مشرقی بنگال، مشرقی پاکستان بن چکا تھا جبکہ مغربی بنگال جس کا دارالحکومت کلکتہ تھا وہ ہندوستان کے حصے میں آچکا تھا۔ حسین شہید سہروردی ابھی تک کلکتہ میں تھے اور مشرقی پاکستان منتقل نہیں ہوئے تھے۔ مہاتما گاندھی نے کلکتہ پہنچ کر حسین شہید سہروردی سے ملاقات کی۔ دونوں نے طے کیا کہ وہ مل کر فسادات کو روکنے اور امن بحال کرنے کیلئے کام کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی طے کیا کہ وہ ایک ہی عمارت میں رہائش رکھیں گے تاکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو بھی بھائی چارے کا درس ملے۔ تو اب کرم چند گاندھی اور حسین شہید سہروردی حیدری منزل میں منتقل ہو گئے۔ یہ دوستو ایک خالی حویلی تھی جو کچھ مسلمانوں کی ملکیت تھی۔ تاہم اس کے مالکان فسادات کے بعد اسے چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے تھے۔ ویسے آج کل آپ کو بتائیں کہ اس عمارت کو میوزیم میں بدل دیا گیا ہے اور اسے گاندھی بھون کہا جاتا ہے۔

خیر دوستو مہاتما گاندھی اور حسین شہید سہروردی اس عمارت میں حیدری منزل میں رہنے لگے۔ ان کا ایک ہی عمارت میں رہنا ہندو مسلم اتحاد کی علامت بن گیا۔ دونوں لیڈروں نے شہر کے طاقتور لوگوں سے رابطے شروع کر دیئے اور انہیں امن بحال کرنے کی کوششوں میں شامل کر لیا۔ یہی نہیں بلکہ بہت سے ہندو اور مسلمان جو فسادات کی وجہ سے بے گھر ہو گئے تھے وہ بھی اب اس گھر میں چلے آئے اور اس کے صحن میں خیمے وغیرہ لگا کر رہنے لگے۔ لیکن ہندو انتہا پسند مہاتما گاندھی کی آمد پر خوش نہیں تھے وہ سمجھ رہے تھے کہ گاندھی جی یہاں صرف مسلمانوں کو بچانے آئے ہیں کیونکہ کلکتہ تو بھارت میں شامل ہو چکا ہے۔ سو اسی رات کو سینکڑوں انتہا پسند ہندو حیدری منزل کے باہر جمع ہو گئے۔ انہوں نے نعرے بازی کی اور مہاتما گاندھی سے کہا تم یہاں کیوں آئے ہو؟ تم ان جگہوں پر کیوں نہیں جاتے جہاں سے ہندوؤں کو نکالا جا رہا ہے جہاں ان پر ظلم ہو رہا ہے؟ اس پر مہاتما گاندھی نے جواب دیا میں یہاں صرف مسلمانوں کے لیے نہیں آیا بلکہ ہندوؤں کی بھی مدد کے لیے بھی آیا ہوں۔ اس پر ہندو انتہاپسندوں نے کہا تم یہاں سے چلے جاؤ۔ ہمیں تمہاری ضرورت نہیں ہے۔ مہاتما گاندھی نے جواب میں کہا تم مجھے میرے کام سے روک سکتے ہو، مجھے قتل کر سکتے ہو لیکن مجھے ہندوؤں کا دشمن نہیں کہہ سکتے، میں اس الزام کو قبول نہیں کر تا۔ بہرحال یہ مظاہرہ دوستو کچھ دیر بعد ختم ہو گیا اور ہندو انتہاپسند پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں || تقسیم ہندوستان کا پہلا دن “ماؤنٹ بیٹن کی جے ہو ” کے نعرے کیوں لگے؟

اگلے روز یہی ہندو دوبارہ جمع ہوئے اور مہاتما گاندھی سے پھر بحث کی۔ یہ چودہ اگست کی رات تھی۔ گاندھی جی نے ان کے اعتراضات کے جواب دیئے اور آخرکار ان لوگوں کے دل جیتنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ انتہاپسند ہندو جو ان سے لڑنے آئے تھے وہ ان کے گن گانے لگے۔ ان میں سے ایک نے چیخ کر کہا یہ شخص جادوگر ہے۔ جو شخص یہ بات کہہ رہا تھا وہ مہاتما گاندھی سے اتنا ایمپریس ہوا کہ حیدری منزل کا گارڈ بن گیا۔ یوں دوستو گاندھی جی اور حسین شہید سہروردی نے حیدری منزل کو مرکز بنا کر کلکتہ کو پرامن بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ان کی کوششوں سے کلکتہ میں واقعی امن کی ایک ایسی فضاء پیدا ہو گئی جس سے لگتا تھا کہ اب یہاں کوئی مزید فساد نہیں ہو گا۔ ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھی مہاتما گاندھی کی کوششوں کی تعریف کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا پنجاب میں ہم نے پچپن ہزار فوج تعینات کر رکھی ہے اس کے باوجود وہاں ہنگامے ہو رہے ہیں۔ لیکن بنگال میں ہماری فوج صرف ایک جوان پر مشتمل ہے اور وہاں کوئی ہنگامے نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس ایک جوان والی فوج اور اس کے سیکنڈ ان کمانڈ مسٹر سہروردی کو سلام پیش کرتا ہوں۔ اسی دوران جب کہ مہاتما گاندھی ابھی کلکتہ میں ہی تھے چودہ اور پندرہ اگست کے وہ تاریخی لمحات آئے جب پاکستان اور بھارت آزاد ہوگئے۔ آزادی کے موقع پر دونوں ممالک میں بھرپور جشن منایا گیا اور اس کی کہانی ہم آپ کے اس سیریز کی پہلی وڈیو میں دکھا چکے ہیں۔ لیکن دوستو آزادی کی خوشی میں گاندھی جی نے کوئی جشن نہیں منایا۔ چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی رات جب دہلی میں جشن ہو رہا تھا اور نہرو تقریر کر رہے تھے تو گاندھی جی کلکتہ کی حیدری منزل میں بظاہر اس سب سے لاتعلق، گہری نیند سو رہے تھے۔ تاہم آزادی کے موقع پر مہاتما گاندھی کو دہلی میں یاد ضرور کیا گیا۔ جب رات کے بارہ بجے اور بھارتی پارلیمنٹ میں شنکھ کی آواز کے ساتھ آزادی کا اعلان ہوا تو گاندھی کی جے ہو، گاندھی کی جے ہو، کے نعرے بھی لگائے گئے۔ پارلیمنٹ میں آزادی کی تقریب ختم ہونے کے بعد پنڈت نہرو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو ہندوستان کا گورنر جنرل بننے کی باضابطہ دعوت دینے پہنچے۔ اس موقع پر بھی ماؤنٹ بیٹن نے مہاتما گاندھی کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے کہا اس تاریخی لمحے پر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہندوستان کیلئے گاندھی جی کی کیا خدمات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نان وائلنس کے ذریعے ہندوستان کی آزادی کو یقینی بنایا۔ ہم آج انہیں مِس کر رہے ہیں کیونکہ وہ یہاں موجود نہیں ہیں۔ تو دوستو دہلی میں تو مہاتما گاندھی کو یاد کیا جا رہا تھا لیکن دوسری جانب کلکتہ میں مہاتما گاندھی کی زندگی سخت خطرات میں گھر چکی تھی۔ اور ان پر رات کے وقت ایک گروہ نے حملہ کر دیا۔ ہوا یہ کہ اکتیس اگست کی رات اچانک ہندو نوجوانوں نے حیدری منزل پر حملہ کر دیا اور اینٹیں پھینک پھینک کر گھر کے شیشے توڑ ڈالے۔ یہ لوگ ایک ہندو کے قتل کا بدلا لینے آئے تھے اور مسلمانوں پر اس کا الزام لگا رہے تھے ان کا خیال تھا کہ ابھی تک حسین شہید سہروردی اور دوسرے مسلمان اسی بلڈنگ کے صحن میں موجود ہیں۔ اس ہنگامے سے مہاتما گاندھی کی آنکھ کھل گئی۔ وہ باہر نکل آئے اور انہوں نے ہندو نوجوانوں کو سمجھانے کی کوشش سروع کر دی۔ مگر ان سب کے سر پر بدلے کی دھن سوار تھی۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کی بھی ایک نہیں سنی اور ہنگامہ جاری رکھا۔ لیکن اس سے پہلے کہ یہ لوگ عمارت کے صحن میں موجود مہاجرین کو کوئی نقصان پہنچاتے پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی۔ پولیس کو آتے دیکھ کر مشتعل نوجوانوں کا یہ گروہ بھاگ گیا اور معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ یہ ایک معاملہ تو ٹل گیا، لیکن مہاتما گاندھی کو اس صورتحال سے اتنا صدمہ پہنچا کہ انہوں نے اگلے روز برت رکھنے، بھوک ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پانی کے علاوہ کچھ نہیں لیں گے۔ یعنی کھانا نہیں کھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں ہنگاموں کو نہیں روک سکتا اگر میں فسادات کو نہیں رک سکتا تو پھر میں زندہ رہ کر کیا کروں گا؟ حالانکہ اس سے پہلے وہ ایک سو پچیس برس تک زندہ رہنے کی باتیں کیا کرتے تھے تا کہ اپنے نظریات پر اپنی زندگی میں عمل ہوتا دیکھ سکیں مگر اب فسادات کو دیکھتے ہوئے وہ زندگی سے نفرت کی باتیں کرنے لگے تھے۔ تو بہرحال دوستو موہن داس گاندھی کے برت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور بڑے بڑے رہنما ان کا برت ختم کروانے کیلئے دوڑے چلے آئے۔

ان میں حسین شہید سہروردی تھے، کانگریسی لیڈر سُرت بوس تھے اور بنگال کے ہندو مہاسبھا لیڈر ’دبیندرا ناتھ مکھرجی‘ بھی تھے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی سیاستدان آئے۔ گاندھی بھوک کی وجہ سے بستر سے لگ چکے تھے۔ یہ سیاستدان ان کے سرہانے کھڑے ہو کر ان کی منت سماجت کرتے رہے کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں۔ انہوں نے گاندھی جی کو یقین دلایا کہ وہ ہر صورت ہندوستان میں لوگوں کو نان وائلنٹ رکھیں گے۔ کوئی ہنگامہ آرائی نہیں ہونے دیں گے۔ ان لوگوں کی کوششوں کے نتیجے میں چار ستمبر کو رات سوا نوے بجے یعنی چار دن بعد گاندھی نے اورنج جوس کا ایک گلاس پی کر بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس وقت ان کے کمرے میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ مہاتما گاندھی نے ان سے کہا میں یہ برت اس لئے توڑ رہا ہوں تاکہ پنجاب کے لوگوں کیلئے کچھ کر سکوں۔ دوستو یہ بات انھوں نے اس لیے کہی کہ بنگال کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ خوفناک خونی فسادات پنجاب میں بھی پھوٹ پڑے تھے۔ اب گاندھی جی کی خواہش تھی کہ وہ پنجاب جا کر فسادات رکوانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے اپنے کمرے میں موجود لوگوں سے کہا کہ میں آپ کی یقین دہانی پر برت توڑ رہا ہوں۔

مجھے امید ہے کہ یہاں رہنے والے ہندو مسلم مجھے دوبارہ اس پر مجبور نہیں کریں گے۔ انہوں نے کلکتہ کے نوجوانوں سے کہا کہ وہ بغیر ہتھیار اٹھائے امن قائم کرنے کی کوشش کریں۔ سو وہاں ایک امن فوج یا شانتی سینا دَل قائم ہو گئی۔ مہاتما گاندھی کا برت اور بنگال میں امن کا قیام ان کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ انہیں لگنے لگا تھا کہ وہ جلد ہی پورے ہندوستان کو فسادات کی دلدل سے باہر نکال لیں گے۔ چنانچہ وہ ایک نئے مشن اور نئے جوش کے ساتھ سات ستمبر کو کلکتہ سے ٹرین میں بیٹھے اور دہلی روانہ ہو گئے۔ ان کا ارادہ تھا وہ دہلی سے پنجاب جائیں گے اور فسادات رکوانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن دوستو وہ کبھی پنجاب نہیں پہنچ سکے۔ اس وقت تک ہندوستان میں کئی طاقتور دھڑے ان کے خلاف ہو چکے تھے۔ پہلے تو صرف کانگریسی لیڈرز ان سے پرخاش رکھتے تھے، لیکن اب ’’ہندوت توا‘‘ کے مسلح جتھوں نے، آرمڈ گروپس نے بھی سر اٹھا لیا تھا۔

یہ لوگ ہندوستان کے بارے میں، ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں سیکولرازم سے ہٹ کر بالکل ہی ایک الگ نظریہ رکھتے تھے۔ ایک ایسا نظریہ جس میں مہاتما گاندھی کسی طرح بھی فٹ نہیں بیٹھتے تھے۔ وہ مہاتما گاندھی کے ہندو مسلم بھائی چارے کو قبول کرنے کے لیے کسی طرح بھی تیار نہیں تھے۔ وہ نسلی اور مذہبی برتری کے قائل تھے اور ان کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ موہن داس کرم چند گاندھی ہی تھے۔ انھی میں سے کچھ نوجوانوں نے اپنے راستے کی اس سب سے بڑی رکاوٹ کو، جس ہندوستانی باپو کہتے تھے، اسے ہٹانے کا منصوبہ بنا لیا۔

یہ منصوبہ بنانے والے نوجوان کون تھے؟

انھوں نے اپنے رہبر کو قتل کرنے کا پلین کیوں بنایا تھا؟

کیا گاندھی جی کو کشمیریوں اور پاکستان کی حمایت پر قتل کیا گیا تھا؟ مہاتما گاندھی کے قتل کے وہ کون سے راز ہیں جن سے آج تک پردہ نہیں اُٹھایا جا سکا؟

یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن ہسٹری آف ماڈرن انڈیا کے تیسرے حصے میں

یہ بھی پڑھیں || جب امریکہ دو ٹکڑے ہوگیا سیاہ فاموں کی غلامی کیسے ختم ہوئی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: