The Story of Bengal Suno Jano Dekho Pakistan

نواب سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی (پارٹ1/2)

سترہ سو چھپن میں نواب سراج الدولہ نے کلکتہ میں انگریزوں کے قلعے فورٹ ویلیم پر قبضہ کیا تو گویا انھوں نے شہد کی مکھیوں کے چھتے کو چھیڑ دیا تھا۔ ان کے نانا علی وردی کے مطابق اب شہد کی مکھیاں موت کی دہلیز تک ان کا پیچھا کرنے والی تھیں۔ کلکتہ کا فورٹ ویلیم واپس لینے کے لیے انگریزوں نے لندن سے ایک ناکام سیاستدان اور تجربہ کار ملٹری کمانڈر لیفٹینٹ کرنل لارڈ کلائیو کو ہندوستان بھیجا۔

نواب سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی (پارٹ12)
نواب سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی

سراج الدولہ جیسے نو عمر نواب آف بنگال نے ایک تجربہ کار انگریز جنگجو اور جدید اسلحے سے لیس فوج کا مقابلہ کیسے کیا؟ سراج الدولہ کی زندگی میں ایک بلیک ہول نے اہم ترین کردار ادا کیا مگر یہ بلیک ہول کیا تھا؟ نواب سراج الدولہ کے کلکتہ پر قبضے کے بعد شہر کے مرکزی قلعے فورٹ ویلیم میں وہی منظر تھا جو جنگ کے فوراً بعد ہو سکتا تھا۔

عمارتیں جل رہی تھیں، ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں اور فورٹ ویلیم کے اندر ایسٹ انڈیا کمپنی کے سرکاری دفتر کو بھی آگ لگ چکی تھی۔ نواب نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے دفتر کو انگریز گورنر راجر ڈریک کی ذاتی رہائش گاہ سمجھ کر جلانے کا حکم دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمارت شہزادوں کے رہنے کے قابل ہے تاجروں کے نہیں۔

جب سراج الدولہ کی فوج کلکتہ پر قبضہ کرتے ہوئے اندر داخل ہو رہی تھی تو انگریز گورنر ساتھیوں سمیت کلکتہ سے فرار ہو چکا تھا۔ چھوٹے سے شہر کی عام آبادی بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن جو انگریز اور یورپین سولجرز، فورٹ ویلیم میں رہ گئے تھے انہیں بنگالی فوجیوں نے جی بھر کے لوٹا۔ ان فوجیوں کی بازو کی گھڑیاں، جیبوں کے پیسے اور کوٹ کے بٹنز تک ان سے چھین لیے گئے۔

لیکن اس موقعے پر کسی قیدی پر تشدد نہیں کیا گیا۔ کیونکہ نواب آف بنگال نے تمام یورپین قیدیوں کی جان بخشی کا اعلان کر دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ نواب کے فوجیوں نے تو کئی یورپی فوجیوں کو آزادی سے گھومنے کی اجازت بھی دے دی اور ان سے ان کے ہتھیار بھی واپس نہیں لیے گئے۔ انھی انگریز قیدیوں میں سے ایک ایسٹ انڈیا کمپنی کے عہدیدار ’’ہال ویل‘‘ بھی تھے۔

جب انھیں ہاتھ باندھ کر نواب کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے مسٹر ہال ویل کے ہاتھ کھولنے کا حکم دیا اور کہا کہ اس کمپنی کے عہدیدار قیدی کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے بدسلوکی نہ کی جائے۔ شام کے قریب قلعے پر مکمل قبضہ ہو چکا تھا۔ سراج الدولہ فورٹ ویلیم میں واقع ایک انگریز کے چھوڑے گھر میں آرام کرنے چلے گئے۔

لیکن ان کے جانے سے کچھ پہلے ایک چھوٹی سی جھڑپ ہوئی اور بنگال اور برطانیہ کے درمیان دشمنی کے ایک نئے دور کا آغاز اسی جھڑپ سے دراصل ہو گیا تھا۔ ہوا یہ کہ وہ انگریز قیدی جنہیں نواب نے امان دی تھی اور جن سے ابھی ہتھیار نہیں لئے گئے تھے، انہوں نے ہنگامہ شروع کر دیا۔

نشے میں دھت ایک برطانوی فوجی سے جب ایک بنگالی سپاہی نے کچھ چھیننے کی کوشش کی تو اس نے سپاہی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے بعد اس برطانوی فوجی کے ساتھ کیا سلوک ہوا یہ تو واضح نہیں لیکن اس کے بعد انگریز فوجیوں کے ساتھ نواب کے بنگالی سپاہیوں کا رویہ بدل گیا۔

سپاہیوں نے جا کر نواب سے شکایت کی کہ انگریز فوجیوں کو آزاد رکھنا اور ان کے پاس اسلحہ کا رہنے دینا خطرناک ہے اس لئے ان قیدیوں کو کم از کم آج رات کیلئے کسی جگہ بند کر دینا چاہیے تا کہ وہ کسی پر فائر نہ کھول سکیں یا رات کا فائدہ اٹھا کر بغاوت نہ کرسکیں۔ نواب کے علم میں لایا گیا کہ فورٹ ویلیم کے تہہ خانے میں ایک کمرہ موجود ہے جسے قید خانے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا تھا۔

چنانچہ نواب کے حکم پر انگریز قیدیوں کو جن کی تعداد چونسٹھ کے قریب تھی انہیں اسی تہہ خانے کے کمرے میں لاک کر دیا گیا۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ تھا۔ وہ یہ کہ کمرہ صرف اٹھارہ فٹ لمبا اور چودہ فٹ چوڑا تھا۔ اس میں عام طور پر چار سے زیادہ قیدیوں کو نہیں رکھا جاتا تھا۔ جب چار قیدیوں والے اس تنگ سے کمرے میں چونسٹھ قیدی ٹھونسے دیے گئے تو کمرے میں بے تحاشا گھٹن ہو گئی جس سے قیدیوں کا سانس لینا دوبھر ہو گیا۔

یہ جون کا مہینہ تھا اور دریا کنارے قلعے میں حبس بھی شدید ہو جاتا تھا۔ تہہ خانے کے اس کمرے میں صرف ایک ہی روشندان تھا جہاں سے کبھی کبھار ہوا کا بھولا بھٹکا جھونکا ہی اندر آ سکتا تھا۔ انگریز قیدی اس روشندان کے پاس کھڑے ہونے کیلئے ایک دوسرے کے اوپر چڑھنے لگے، اور دھکم پیل ہونے لگی اور کئی قیدی اپنے ہی ساتھیوں کے قدموں تلے کچلے گئے۔

کمرے میں بند انگریز روشندان سے مدد مدد پکارنے لگے، باہر کھڑے گارڈز نے ان کی پکار سنی اور ان میں سے کچھ قیدیوں کو پانی بھی پلایا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان قیدیوں کو نواب کے حکم پر اس کمرے میں بند کیا گیا تھا اور انھی کے حکم سے انھیں کسی دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا تھا۔

ہاں نواب سراج الدولہ کو اطلاع دی جاسکتی تھی کہ قیدی بری حالت میں ہیں، جگہ تبدیل ہونی چاہیے لیکن یہ اطلاع دیتا کون؟ نواب آف بنگال سو چکے تھے اور ان کے کسی سپاہی میں اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ ان کی نیند میں مخل ہوتا اور انھیں جگا کر یہ اجازت حاصل کرتا۔ دوستو اس ہچکچاہٹ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس تنگ و تاریک کمرے کے اندر درجنوں انگریز قیدی گھٹن اور پیاس سے مرنے لگے۔

اکیس جون سترہ سو چھپن، سیونٹین ففٹی سکس کی صبح چھے بجے تک یہ قیدی اسی تنگ سے کمرے میں قید رہے۔ جب نواب سراج الدولہ نیند سے بیدار ہوئے، انھیں صورتحال بتائی گئی اور انھوں نے قیدیوں کو کمرے سے نکالنے کا حکم دیا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ چونسٹھ میں سے انتالیس، تھرٹی نائن آؤٹ آف سکسٹی فور انگریز قیدی مر چکے تھے۔

مائی کیوریس فیلوز یہ وہ واقعہ ہے جسے تاریخ میں بلیک ہول آف کلکتہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انگریزوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کو اس واقعے نے ایک بہت بڑا پراپیگنڈہ ٹول فراہم کر دیا۔ اس واقعے کی خبر کچھ ہی دن میں ہندوستان میں موجود زیادہ تر برطانوی اڈوں تک پہنچ گئی۔

اس کے ساتھ ہی انگریزوں کی پراپیگنڈہ مشینری حرکت میں آئی اور اس واقعے میں قیدیوں اور مرنے والوں کی تعداد کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا جانے لگا۔ انگریزوں نے دعویٰ کر دیا کہ کم از کم ایک سو چھیالیس قیدیوں کو بے دردی سے ایک چھوٹے سے کمرے میں ٹھونس دیا گیا جن میں سے صرف تئیس ہی زندہ بچ پائے۔ اس واقعے کو بنیاد بنا کر ہندوستان سے لندن تک انتقام انتقام کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔

انگریزوں نے اس سانحے کو بلیک ہول آف کلکتہ کا نام دے کر خوب پھیلایا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہندوستانی لوگ انتہائی وحشی اور ظالم انسان ہیں۔ ان سے کسی مہذب روش کی کوئی امید رکھنا فضول ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہندوستان کو برطانوی کنٹرول میں لے کر ان وحشیوں کو انسان بنایا جائے۔

یہ واقعہ اگلے ایک سو برس تک انگلستان کے تعلیمی نصاب کا حصہ رہا۔ اور اس اینگل سے رہا کہ انگریز بچوں کو ہندوستانیوں کا منفی ایمیج بیچا جاتا رہا۔ انگریزوں نے بعد میں اس واقعے کی ایک یادگار بھی تعمیر کی جو کلکتہ کے سینٹ جارج چرچ کے صحن میں آج بھی موجود ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بلیک ہول کا سارا واقعہ کس انگریز نے سب سے پہلے لکھا تھا؟

ہال ویل نے۔ وہی جس کے بندے ہاتھ نواب سراج الدولہ نے کھلوائے تھے اور اس سے اچھے سلوک کا حکم دیا تھا۔ یہ یادگار تو کلکتہ میں آج بھی موجود ہے لیکن اس کے ساتھ ایک شک بھی کھڑا ہےکہ آیا یہ واقعہ ہوا بھی تھا یا نہیں؟ کیونکہ بہت سے مورخین جیسے کہ محمد عمر نے اس واقعے پر شک ظاہر کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ جس انگریز ہال ویل نے یہ سارا واقعہ لکھا اس نے اس مبینہ سانحے کے پانچ ماہ تک کسی سے اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ اور پانچ ماہ بعد جب وہ ایک مہینوں پر پھیلے طویل بحری سفر کے ذریعے انگلستان جا رہے تھے تو انھوں نے غالباً فارغ وقت گزارنے کے لیے یہ پوری کہانی گھڑی تھی۔

محمد عمر یہ بھی سوال اٹھاتے ہیں آخر چار افراد کے لیے بنے چھوٹے سے کمرے میں چونسٹھ یا اس سے زیادہ قیدی کیسے سما سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سراج الدولہ پر سخت ترین تنقید کرنے والے ہسٹورین غلام حسین نے بھی اپنی کتاب میں اس واقعے کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا۔

اس لیے یہ واقعہ تاریخ کا ایک متنازعہ واقعہ ہے جس کی یا تو تفصیلات مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں یا پھر یہ واقعہ شاید سرے سے پیش ہی نہیں آیا۔ اب یہ واقعہ درست ہو یا من گھڑت لیکن ایک بات یقینی تھی کہ انگریزوں نے اس کے ذریعے ہندوستانیوں کے خلاف زبردست پروپیگنڈا کیا اور بنگال میں فوجی کارروائی کے لیے ایک کامیاب ماحول تیار کر لیا۔

دوسری جانب سراج الدولہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ کلکتہ کی فتح اور مبینہ بلیک ہول واقعے نے انگریزوں پر کیسا اثر ڈالا ہے اور اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ سو وہ کلکتہ کی فتح کے بعد اطمینان سے اپنے کزن کی اسی بغاوت کو کچلنے کے لیے نکل پڑے جس کی طرف جاتے ہوئے نارائن سنگھ نے انہیں کلکتہ بھیجا تھا اس باغی کزن کا نام شوکت جنگ تھا اور وہ موجودہ بھارتی صوبے بہار کے شہر پورنیا کا گورنر تھا۔

وہ سراج الدولہ کا مخالف تھا اور ان سے بنگال کا تخت چھیننا چاہتا تھا۔ سراج الدولہ کے حملے میں شوکت جنگ مارا گیا اور یہ بغاوت پورے طریقے سے کچلی گئی۔ کلکتہ اور پورنیا کی ان دو فتوحات کے بعد جب سراج الدولہ مرشد آباد کی طرف واپس پلٹے تو ان کا مورال بہت بلند تھا۔ بنگالی عوام کو بھی ان پر یقین آ رہا تھا کہ نواب سراج الدولہ بھلے ایک تئیس سالہ نوجوان ہیں

لیکن وہ ایک مضبوط حکمران کی طرح بغاوتوں کو کچلنے اور سازشوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جس وقت سراج الدولہ یہ فوجی کامیابیاں حاصل کر رہے تھے اسی وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کلکتہ پر حملے کا انتقام لینے کیلئے بے چینی سے پلاننگ کر رہی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ساری لڑائی اس فرانسیسی بحری بیڑے کی وجہ سے شروع ہوئی تھی

جسے ایک نامعلوم نوجوان نے دریائے سکورف سے نکلتے دیکھا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ بحری بیڑہ کبھی ہندوستان کے کسی ساحل پر نہیں پہنچا۔ عین ممکن ہے وہ کسی اور مہم کے لیے نکل گیا ہو، کہاں کو نکلا؟ ہم نہیں کہہ سکتے کیونکہ تاریخ کے بلیک ہول میں یہ واقعہ بھی گم ہو چکا ہے۔

اس گمشدہ واقعے کے بعد انگریزوں اور سراج الدولہ میں جو لڑائی شروع ہوئی وہ بہرحال ایک فیصلہ کن جنگ ثابت ہوئی۔ یہ وہ جنگ تھی جس میں ایسٹ انڈیا کمپنی بظاہر نواب سراج الدولہ سے اتنی کمزور پوزیشن میں تھی کہ وہ کسی صورت بنگالی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ اگر ایسا تھا تو پھر مائی کیورئیس فیلوز، انگریز کس بل بوتے پر نواب آف بنگال کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہے تھے؟

سترہ سو چھپن، سیونٹین ففٹی سکس کا سال وہ وقت تھا، جب انگریز ابھی برصغیر میں فوجی طاقت نہیں بنے تھے۔ ان کے پاس ہندوستان کے ساحلی علاقوں کے ساتھ کچھ قلعے تھے جہاں بہت زیادہ فوج موجود نہیں تھی۔ انگریز کسی بھی فوجی مہم کیلئے محض چند ہزار سے زیادہ سپاہی جمع نہیں کر پاتے تھے۔ اور وہ بھی اس طرح کہ ان چند ہزار میں آدھے سے زیادہ فوج تو ہندوستانی جوانوں پر مشتمل ہوتی تھی۔

ان ہندوستانی سپاہیوں کو جو انگریزوں کے ساتھ مل کے لڑتے تھے “سیپائے” کہا جاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں اگر آپ دیکھیں تو نواب سراج الدولہ کے پاس ساٹھ سے ستر ہزار تک باقاعدہ فوج تھی۔ اس لحاظ سے ایسٹ انڈیا کمپنی اور نواب سراج الدولہ کی طاقت کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ اگر میدان جنگ میں دوبدو مقابلہ ہو جاتا تو ایسٹ انڈیا کمپنی سراج الدولہ کے ہاتھوں کچلی جاتی۔

کسی بھی فیصلہ کن شکست کی صورت میں ہندوستان سے انگریزوں کی کاروباری ایمپائر بھی ختم ہو سکتی تھی کیونکہ بنگال ان کا اہم ترین ہیڈکوارٹر تھا۔ اس لیے یہ سوچنا بھی کہ انگریز، نواب آف بنگال سراج الدولہ سے اتنی مہنگی دشمنی مول لیں گے ایک دیوانے کا خواب لگتا تھا۔ لیکن دوستو ملٹری پوائنٹ آف ویو سے اگر ذرا گہرا جائزہ لیں تو معاملہ کچھ مختلف تھا۔

فوج کی تعداد بھلے سراج الدولہ کی زیادہ تھی لیکن وقت کی رفتار انگریزوں کے حق میں تھی۔ انگریزوں کے پاس وہ ہتھیار تھے جن سے لڑنے کی نواب سراج الدولہ کی فوج کو عادت ہی نہیں تھی۔ سراج الدولہ کی فوج ابھی تک تیر اور تلوار پر بھروسہ کرتی تھی جبکہ انگریز فوج پوری طرح جدید ہتھیاروں اور ان سے منسلک جدید تکنیکس کی عادی ہو چکی تھی۔

پھر ان کے پاس ایک ایسا کمانڈر تھا جو ہندوستان کو بھی جانتا تھا اور نواب سراج الدولہ کے اتحادی فرانسیسیوں کو بھی اچھے سے جانتا تھا۔ یہ جہاندیدہ کمانڈر انگلینڈ کا ناکام سیاستدان رابرٹ کلائیو تھا۔ وہی جسے تاریخ کلائیو آف انڈیا کے نام سے جانتی ہے۔ ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے کی داستان میں اگر نواب سراج الدولہ اور میر جعفر کے بعد کسی ایک شخص کی سب سے زیادہ اہمیت ہے تو وہ یہی رابرٹ کلائیو ہیں۔

لیکن سوچئیے کہ ایک ناکام سیاستدان کو ہندوستان پر حملے کے لیے کمانڈر کیوں بنایا گیا؟ رابرٹ کلائیو کا ہندوستان سے رشتہ بہت پرانا اور بہت گہرا تھا۔ انہیں ہندوستان کا انگریز بھی کہا جا سکتا ہے ان کی دولت، شہرت، کیریئر غرض سب کچھ ہندوستان سے ہی وابستہ تھا۔

سترہ سو تینتالیس، سیونٹین فورٹی تھری میں جب وہ محض اٹھارہ برس کے تھے تو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم کی حیثیت سے وہ ہندوستان میں مدراس میں آئے جسے اب چنیئی کہا جاتا ہے۔ یہ مدراس بھی کلکتہ ہی کی طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کا بڑا تجارتی مرکز تھا۔ رابرٹ کلائیو نے مدراس اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں دس برس گزارے اور ہندوستان کی سرزمین اور یہاں کے ماحول میں رچ بس گئے۔

رابرٹ کلائیو نے ہندوستان میں سرمایہ کاری کے ذریعے دولت بھی بہت کمائی لیکن اس دوران انھوں نے اپنی انتظامی اور فوجی صلاحیت کا لوہا بھی منوایا۔ وہ یوں کہ سیونٹین ففٹی ون، سترہ سو اکاون میں انھیں نے ہندوستان میں موجود فرانسیسیوں کے خلاف ایک کامیاب فوجی مہم سر کی۔ انہوں نے محض پانچ سو فوجیوں کی مدد سے موجودہ بھارتی ریاست تامل ناڈو کے شہر ’’آرکوٹ‘‘ کے قلعے پر قبضہ کر لیا۔

یہ قلعہ فرانسیسیوں اور ان کے مقامی اتحادیوں کے پاس تھا۔ قلعے پر قبضے کے بعد فرانسیسیوں کو وہاں سے نکال دیا گیا تھا۔ آپ جانتے ہیں دوستو کہ اس وقت ہندوستان میں مقامی سردار راجے مہاراجے وغیرہ آپس بٹے ہوئے تھے۔ کچھ انگریزوں کے ساتھ مل کر ان کی طاقت اور پیسے سے پاور گیمز کھیلتے تھے اور کچھ فرانسیسوں کے ساتھ مل کر یہ کام کرتے تھے۔

تو جب اس قلعے پر جب انگریز کمانڈر نے قبضہ کر لیا تو فرانس کے ہندوستانی اتحادیوں نے قلعے کو واپس لینے کیلئے ایک جوابی حملہ کیا۔ رابرٹ کلائیو نے تریپن روز، ففٹی تھری ڈیز تک قلعہ بند ہو کر حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

یعنی وہ اس چھوٹی سی لڑائی میں فاتح رہے تھے۔ قلعے کی کامیاب حفاظت کے بعد وہ اپنی فورسز کے ساتھ فرانسیسی فوجوں اور مقامی حکمرانوں کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں یا گوریلا ایکشن بھی کرتے رہے۔ انہیں اپنی فورسز کو کیموفلاج کرنے یعنی چھپانے اور دشمن پر اچانک حملہ کر کے اس کی صفوں میں ہلچل مچا دینے میں کمال حاصل تھا۔

ان فوجی مہمات کے بعد رابرٹ کلائیو کی شہرت ایک بہترین گوریلا فائٹر اور کمانڈر کے طور پر لندن تک پہنچ چکی تھی۔ دوستو سترہ سو تریپن میں انہیں ہندوستان سے واپس انگلستان بلا لیا گیا تھا۔ برطانیہ میں انہوں نے الیکشن لڑا اور برٹش پارلیمنٹ میں پہنچ گئے۔ لیکن اپنا دیس انھیں راس نہیں آیا۔

ان پر الزام لگا کہ انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ کی یہ نشست اس دولت سے خریدی ہے جو انھوں نے ہندوستان سے کمائی یا لوٹی تھی۔ چنانچہ انہیں پارلیمنٹ سے نااہل کر کے نکال باہر کیا گیا۔ یوں ان کا سیاسی کیریئر دوستو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ الیکشن میں ناکامی کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے انہیں دوبارہ ہندوستان بلا لیا۔ انہیں لیفٹیننٹ کرنل کا عہدہ دے کر مدراس کا ڈپٹی گورنر بنا دیا گیا۔

انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ مدراس پہنچ کر وہاں سے تقریباً ایک سو ساٹھ کلومیٹر دور ساحلی قلعے سینٹ ڈیوڈ کا چارج بھی سنبھال لیں۔ لارڈ کلائیو فوری طور پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے ہندوستان روانہ ہو گئے۔ اب لارڈ کلائیو کی پرسنیلٹی اس دور کے تمام ہسٹورینز کے نزدیک بہت تجربہ کار اور گھاگ انسان کی تھی۔

لارڈ کلائیو ان لوگوں میں سے تھے جو یقین رکھتے تھے کہ ’’جنگ اور محبت میں سب جائز ہے۔‘‘ دشمن کو دھوکہ دینا، جوڑ توڑ کرنا اور اپنے مفاد کیلئے سازشیں کرنا ان کے نزدیک کوئی بُرا عمل نہیں تھا۔ ایک اسٹریٹجی تھی ان کے مقابلے میں دوستو ئتیس سالہ سراج الدولہ جنہیں نواب بنے ابھی چند ہی ماہ ہوئے تھے جنگی لحاظ سے بہت ناتجربہ کار تھے۔

ان کا مقابلہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے سب سے شاطر اور آٹھوں گانٹھ کمیت کمانڈر سے ہونے جا رہا تھا۔ یہ انگریزوں کیلئے ایک بہت بڑا ایڈوانٹیج تھا اور نواب سراج الدولہ کیلئے بہت بڑا ڈس ایڈوانٹیج۔ باقی دوستو بات رہی فوج کی تربیت، ہتھیاروں اور جنگی ٹیکنیکس کی تو اس معاملے میں بھی انگریزوں کا پلڑا پہلے دن سے بھاری تھا۔ انگریز فوجی اور ان کے ہندوستانی سپاہی یا سیپائی لڑائی کے جدید طریقے سیکھ چکے تھے۔

دوستو یہ وہ دور تھا جب تلواروں اور نیزوں کے ساتھ فائر آرمز یعنی بندوقیں اور توپیں بھی جنگ کا لازمی حصہ بن چکی تھیں۔ ان ہتھیاروں نے پوری وار اسٹریٹجی، جنگی حکمت عملی ہی کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ اب کوئی چھوٹی سی فوج بھی کسی پہاڑ، ڈھلوان، چوٹی یا جنگل کا سہارا لے کر صرف بندوقوں کے ذریعے بڑی سے بڑی اس فوج کا مقابلہ کر سکتی تھی جس کے پاس بندوقیں نہیں ہیں۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیادہ تر فوجی فائر آرمز ہی استعمال کرتے تھے اور دشمن کے خلاف اسی لحاظ سے مضبوط دفاعی پوزیشن لینے کی بھی انھیں خوب پریکٹس ہو چکی تھی۔ ان کے مقابلے میں ہندوستانی سپاہی اب بھی پرانے طور طریقوں سے جنگ کرنے کے عادی تھے۔ انہیں فائر آرمز سے زیادہ اپنی تلوار بازی، نیزہ بازی اور گھڑسواری پر ناز تھا۔

اگرچہ ہندوستان میں شہنشاہ بابر کے دور سے ہی توپخانے اور بندوقیں وغیرہ استعمال ہو رہی تھیں لیکن اب بھی ہندوستانی لوگ کیونکہ زیادہ تر لڑائیاں مقامی راجوں اور مہاراجوں کے درمیاں ہی لڑنے میں مشہور تھے اور یہیں مصروف رہتے تھے سو وہ زیادہ تر تیر تلوار پر ہی بھروسہ کرتے تھے۔ انٹرنیشنل وار فئیر سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا جیسا کے انگریزوں اور فرانسیسوں کا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ ہندوستانی سپاہی کسی طرح بھی اس فوج سے لڑنے کے لیے ٹرینڈ نہیں تھے جو تیر تلوار کے بجائے فائر آرمز کے ذریعے دنیا کے کئی محاذوں پر جنگوں کا تجربہ حاصل کر چکے تھے۔ تو مائی کیوریس فیلوز اب آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ بنگال میں نواب سراج الدولہ کو فوجی شکست دینا انگریزوں کے لیے محض ایک دیوانے کا خواب نہیں تھا۔

سو کلکتہ پر سراج الدولہ کے قبضے کے ساڑھے تین ماہ بعد سولہ اکتوبر سترہ سو چھپن کو مدراس سے جنگی بحری جہازوں کا ایک بیڑہ کلکتہ کی طرف روانہ ہوا۔ اس بیڑے میں نو سو یورپیئن اور پندرہ سو ہندوستانی فوجی سوار تھے۔ یعنی یہ کل ملا کر چوبیس سو کا ایک لشکر بنتا تھا جو لیفٹیننٹ کرنل لارڈ کلائیو کی قیادت میں نواب سراج الدولہ کی ساٹھ ستر ہزار فوج کو چیلنج کرنے جا رہا تھا۔

اس فوج کے کمانڈر کو لارڈ کلائیو کو ایک نئی ایجاد پر بہت بھروسہ تھا کیونکہ یہ ایجاد سراج الدولہ کی فوج پر بہت بھاری پڑنے والی تھی۔ یہ ایجاد کیا تھی؟ دوستو اٹھارویں صدی کی جو بندوقیں تھیں، انھیں لوڈ کرنے فائر کرنے اور پھر دوبارہ لوڈ کرنے میں کئی سیکنڈز کا وقت لگتا تھا۔

لیکن انگریز فوج جسے دنیا بھر میں فرانسیسی اور سپیشن فوج سے مقابلہ درپیش تھے، وہ نئی نئی جنگی مشینری بھی بناتے چلے جا رہے تھے۔ تو سراج الدولہ سے مقابلے سے کچھ پہلے ہی انگریز فوج کے حوالے ایک نئی ایسی بندوق کی گئی جو بہت جلدی سے لوڈ اور ری لوڈ ہو جاتی تھی۔

یہ بندوق تھی براؤن بیس گن۔ اسی نے انگریزوں کی فائر پاور کو بہت زیادہ بڑھا دیا تھا جس کی مدد سے ان کا ہر جوان بیک وقت کئی کئی مسلح ہندوستانیوں پر بھاری پڑ سکتا تھا۔ یوں لارڈ کلائیو فتح کے یقین کے ساتھ کلکتہ کی جانب بڑھتے رہے۔ ان کے جہاز خلیج بنگال سے گزرتے ہوئے دریائے ہوگلی میں داخل ہوئے۔

اس دور یعنی اٹھارہویں صدی، ایٹینتھ سنچری کا کلکتہ صرف فورٹ ویلیم اور اس کے اردگرد کی چند چھوٹی چھوٹی آبادیوں پر مشتمل تھا۔ فورٹ ویلیم دریائے ہوگلی کے کنارے واقع تھا اس لئے لارڈ کلائیو دریائے ہوگلی میں اپنے جہازوں کو آگے بڑھاتے رہے۔ مائی کیوریس فیلوز یہاں آپ کو یہ بھی بتا دیں کہ جب لارڈ کلائیو کلکتہ پر حملہ کرنے آ رہے تھے

تو اس وقت تک انگریزوں کا ہندوستان فتح کرنے یا نواب سراج الدولہ کو حکومت سے ہٹانے کا کوئی پلان نہیں تھا۔ لارڈ کلائیو کو صرف یہ انسٹرکشنز دے کر بھیجا گیا تھا کہ وہ نواب سے کلکتہ واپس لیں اور انہیں مجبور کریں کہ وہ آئندہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔

انہی دو مقاصد یعنی کلکتہ کو واپس لینے اور نواب کو کمپنی معاملات سے دور رکھنے کو ذہن میں لے کر لارڈ کلائیو دسمبر سترہ سو چھپن، سیونٹین ففٹی سکس کے آخر تک کلکتہ کے قریب پہنچ گئے۔ انہوں نے کلکتہ سے کافی دور اپنی فوج کو جہازوں سے اتار لیا۔ اور دریا کے کنارے کنارے جنگل کے راستے کلکتہ کی طرف بڑھنے لگے۔

ان کا پہلا ٹارگٹ کلکتہ سے کچھ پہلے بج بج کا ایک قلعہ تھا کیونکہ یہی کلکتہ کی دوستو پہلی ڈیفنس لائن بھی تھا۔ اس نام سے آج بھی کلکتہ کے پاس بج بج کا قصبہ موجود ہے جو غالباً اسی قلعے کی آبادی کا تسلسل ہے۔ تو لارڈ کلائیو اپنی انتہائی کم تعداددیکھتے ہوئے سراج الدولہ کی کسی بھی فوج سے براہ راست لڑائی سے بچنا چاہتے تھے۔ سو انھوں نے بج بج کے قلعے پر لڑائی سے پہلے ایک نفسیاتی چال چلی۔

انہوں نے کلکتہ کے نگران راجہ مانک چند کو خط لکھا اور خط میں دھمکی دی کہ میں اتنی بڑی فوج کے ساتھ بنگال آ رہا ہوں کہ اتنی بڑی فوج تم نے تاریخ میں نہیں دیکھی ہو گی۔ کرنل کلائیو کا خیال تھا کہ یہ خط ملنے کے بعد مانک چند خوفزدہ ہو جائیں گے اور کلکتہ چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔

لیکن مانک چند لارڈ کلائیو کی توقع سے زیادہ ہوشیار ثابت ہوئے۔ انہوں نے بھاگنے کے بجائے انگریز کرنل کو ایک سرپرائز دیا۔ مانک چند اور ان کے سپاہی ’’بج بج‘‘ کے قلعے کے قریب رات کے وقت جنگل میں لارڈ کلائیو کی فوج پر ٹوٹ پڑے۔ یہ حملہ اتنا اچانک اور زبردست تھا کہ وقتی طور پر کلائیو کی فوج شدید دباؤ میں آ گئی اور ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی انگریزوں کے قدم اکھڑ جائیں گے۔

لیکن پھر جیسے ہی سدھ بدھ قائم رکھ پانے والے انگریزوں نے براؤن بیس بندوق سے آگ اگلنا شروع کی تو دیکھتے ہی دیکھتے مانک چند کے دو سو سپاہی ڈھیر ہو گئے۔ کئی گولیاں مانک چند کی پگڑی سے بھی ٹکرائیں لیکن وہ خود بال بال بچ گئے۔ مانک چند نے فوری طور پر اپنے سپاہیوں کو واپسی کا حکم دیا اور بج بج کے قلعے کو انگریزوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر کلکتہ کی طرف پسپا ہو گئے۔

ان کی واپسی کے بعد لارڈ کلائیو نے قلعے پر قبضہ جمایا اور اپنا جھنڈا گاڑ دیا۔ اس کامیابی نے ان کا حوصلہ بڑھا دیا اور انہوں نے کلکتہ کے سب سے اہم قلعے یعنی فورٹ ویلیم کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ دو جنوری کی صبح لارڈ کلائیو فورٹ ولیم کے سامنے جا پہنچے۔ کرنل کلائیو نے قلعے کا محاصرہ کر لیا اور بنگال فوجیوں کی پوزیشنز پر بمباری شروع کر دی۔

اب قلعے میں موجود کمانڈر مانک چند پہلے ہی انگریزی فوج کی فائر پاور کا نظارہ کر چکے تھے اور غالباً جنگ کے اس نئے انداز اور نئے ہتھیاروں سے مقابلہ کرنے میں کچھ دقت بھی حسوس کر رہے تھے۔ سو وہ زیادہ دیر مقابلہ جاری نہ رکھ سکے۔ جب ابھی ان کے صرف نو آدمی ہی مارے گئے تھے تو انھوں نے سٹریٹیجکلی قلعہ خالی کر دیا اور مرشد آباد کی طرف نکل گئے۔

اس دور کے متنازعہ مورخ غلام حسین کے مطابق جب مانک چند نے قلعہ چھوڑا تو ان کے پاس پانچ ہزار گھڑ سوار اور آٹھ ہزار پیدل سپاہی یعنی کل ملا کر تیرہ ہزار فوج موجود تھی۔ مانک چند اور ان کے سپاہی بنگال کے دارالحکومت مرشد آباد کی طرف پسپا ہوئے اور لارڈ کلائیو فاتحانہ فورٹ ویلیم میں داخل ہو گئے۔

یہاں بعد میں مزید پانچ سو برطانوی سپاہیوں نے کرنل کلائیو کو جوائن کر لیا اور ان کی فوج کی تعداد تقریباً تین ہزار ہو گئی۔ اس طرح دوستو لارڈ کلائیو چند ہی ماہ میں انگریزوں کا کھویا ہوا قلعہ واپس حاصل کر کے اپنی مہم کا پہلا مقصد حاصل کرچکے تھے۔ اب کلکتہ مکمل طور پر ان کے قبضے میں تھا۔ وہ کلکتہ جو سراج الدولہ کی فتح کے دوران کافی ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہوچکا تھا۔

لارڈ کلائیو ایک جھگڑالو طبیعت کے جلد غصے میں آ جانے والے شخص تھے۔ جب انھوں نے کلکتہ کی جلی ہوئی اور تباہ حال عمارتیں دیکھیں تو ان پر جذبات غالب آئے اور انھوں نے اپنے مینڈیٹ سے آگے بڑھ کر سراج الدولہ سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ کلکتہ کو انگریز لوگ دراصل اپنا شہر، اپنی ملکیت سمجھتے تھے۔

کرنل کلائیو نے یہ بدلہ یوں لیا کہ بنگال کے ایک اہم ساحلی علاقے ہوگلی بندر پر حملہ کیا اور وہاں بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی اور عام لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دی۔ علاقے میں بنگالی فوج کے اسلحہ ڈیپو بھی موجود تھے، انگریزوں نے انھیں لوٹا اور باقی بچے سامان کو آگ لگا کر تباہ کر دیا گیا۔ ایک ہی روز میں یہ تباہی پھیلا کر انگریزی فوج فورٹ ویلیم واپس آ گئی۔

انگریز لیفٹینٹ کرنل لارڈ کلائیو اپنی حد سے بہت آگے جا کر سراج الدولہ کو نقصان پہنچا چکے تھے۔ سو اب جواب دینے کی باری ہندوستان کے سب سے امیر صوبے بنگال کے نواب سراج الدولہ کی تھی۔ انھوں نے انگریزوں کو اس حرکت کا کیا جواب دیا؟ سراج الدولہ کے خلاف درباری سازشیں کیسے شروع ہوئیں؟

لارڈ کلائیو ایک بار سراج الدولہ کو گرفتار کرنے ان کے خیمے تک پہنچ گئے، پھر کیا ہوا؟ سراج الدولہ سے چالیس سال بڑے میر جعفر کا ان سے جھگڑا کیا تھا؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن ’’سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی کی اگلی قسط میں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button

Adblock Detected

Please Turn off Your Adblocker. We respect your privacy and time. We only display relevant and good legal ads. So please cooperate with us. We are thankful to you