The Story of Bengal Suno Jano Dekho Pakistan

  نواب سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی (پارٹ1/6) میر جعفر کا انجام کیا ہوا؟

بنگال کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھا جا رہا تھا۔ سراج الدولہ قتل ہو چکے تھے اور ان کی جگہ بنگال کے تخت پرمیر جعفر کو بیٹھایا جا چکا تھا۔ ان کی حکومت سے کمپنی سرکار اور خوشامدی درباریوں دونوں کو بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔ یہ لوگ ہر جگہ نواب میر جعفر کے قصیدے پڑھتے تھے اور بنگال کی ہر خرابی کا ملبہ پرانی حکومت پر یعنی نواب سراج الدولہ پر ڈال دیتے تھے۔

  نواب سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی (پارٹ1/6) میر جعفر کا انجام کیا ہوا؟
نواب سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی

لیکن جس میر جعفر کو انگریز اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے اقتدار تک لائے تھے وہ حیران کن حد تک نااہل ثابت ہوئے۔ صرف تین برس میں ہی انھوں نے بنگال کی اکانومی کو اس بری طرح برباد کیا کہ انہیں لانے والی ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے انتخاب پر پچھتانے لگی۔ میر جعفر کے بارے میں ان کے سب سے بڑے سپورٹر کرنل کلائیو اپنے خطوط میں اب لکھنے لگے تھے کہ جس شخص کو ہم نے تخت پر بٹھایا ہے وہ مغرور، لالچی اور بات بات پر گالی دینے والا ثابت ہورہا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ اب ایسٹ انڈیا کمپنی اور کرنل کلائیو نے میر جعفر کا متبادل تلاش کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ متبادل کون تھا؟ سراج الدولہ کو انگریزوں کے سامنے ترنوالہ بنا کر پیش کرنے والے میر قاسم کا انجام کیا ہوا؟ لارڈ کلائیو سے وقت نے کیا سلوک کیا؟ اور میر جعفر کے ساتھ کیا بیتی؟ میر جعفر نے سراج الدولہ کے خلاف سازش کر کے اقتدار تو حاصل کر لیا تھا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وہ اس کے اہل ہرگز نہیں تھے۔

ان کے دور میں بنگال کے فوجیوں کو دس، دس ماہ تک تنخواہیں نہیں ملتی تھیں۔ فوجی جوان اور ان کے گھوڑے ہڈیوں کے ڈھانچے بنتے جا رہے تھے۔ حتیٰ کہ فوجی افسروں کی نئی وردیاں لانے کے لیے بھی بجٹ نہیں تھا اس لیے فوجی پرانی پیوند لگی وردیاں ہی پہن رہے تھے۔ بنگال جو سراج الدولہ کے دور میں ہندوستان کا امیر ترین صوبہ تھا وہ صرف تین سال میں ہی غریب ترین صوبہ بن چکا تھا۔

حالت یہ ہو گئی تھی کہ مرشد آباد میں بھی لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہو چکے تھے اور اس وجہ سے کتنے سفید پوش، سفید پوشی کا بھرم کھو چکے تھے، کوئی نہیں جانتا تھا۔ میر جعفر کے اس حد تک ناکام ہونے کی ایک وجہ ان میں افیون لینے کی عادت بھی تھی۔ پھر انھیں ہیرے جواہرات جمع کرنے کا بھی بہت شوق تھا بلکہ لالچ تھا۔ وہ اپنا قیمتی وقت خواتین کا رقص دیکھنے میں گزارتے اور کار سرکار ان کا منہ دیکھتے رہتے۔

عام آدمی کے مسائل سے ان کی دلچسپی بہت واجبی اور سطحی سی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کو اقتدار میں لانے والے انگریز، نواب میر جعفر اور ان کے بیٹے میر میرن سے تنگ آ چکے تھے۔ لارڈ کلائیو نے بھی میر جعفر کو دی اولڈ فول اور ان کے بیٹے میرن کو دا ورتھ لیس ینگ ڈاگ کہنا شروع کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ ان کے ایک درباری نے میر جعفر کو طنزاً کلائیو کا گدھا قرار دیا اور عوام میں اس نام کو بہت شہرت ملی۔

ایک طرف تو میر جعفر کی نااہلی سے بنگال تباہ ہو رہا تھا تو دوسری طرف ایسٹ انڈیا کمپنی کے کارندے بھی بنگال کا سنہرا سونا دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے تھے۔ انگریزوں نے بنگال کو ہر طرح کا ٹیکس دینا بند کر دیا تھا، ایک چھوڑ چار سو نئے ٹریڈ سنٹرزانہوں نے قائم کر لیے تھے۔ وہ بنگال کی ساری امپورٹ ایکسپورٹ پر قبضہ جما کر بیٹھ گئے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ بنگال کے مقامی لوگوں کی ایک فوج بیروزگار ہو چکی تھی اور ٹیکس نہ ملنے سے شاہی خزانے میں دھول اڑنے لگی تھی۔ میر جعفر کشکول ہاتھ میں لیے کبھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے در پر جاتے تو کبھی اپنے امیر ترین مقامی مددگار جگت سیٹھ کا دروازہ کھٹکھٹاتے۔ لیکن دوستو نااہلی، ناکامی لاتی ہے اور آپ جانتے ہیں ناکامی یتیم ہوتی ہے۔ کوئی اسے اون کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔

یہی میر جعفر کے ساتھ اب ہو رہا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی انہیں قرض دینے پر تیار تھی اور نہ ہی جگت سیٹھ ان کے لیے اپنی تجوری کھول رہے تھے۔ بلکہ جگت سیٹھ نے تو انھیں ملنے تک سے انکار کر دیا تھا۔ میر جعفر کے بار بار کے تقاضوں سے پریشان ہو کر جگت سیٹھ کسی نامعلوم مقام پر روپوش ہو چکے تھے۔

جب ریاستوں کی ایسی صورتحال ہوتی ہے تو بغاوتیں سر اٹھانے لگتی ہیں۔ میر جعفر ان بغاوتوں کو کچلنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے کیونکہ وہ تو اپنی فوج کو تنخواہیں تک نہیں دے پا رہے تھے۔ ایسے میں بنگال کے علاقوں مدنا پور، پورنیا اور پٹنہ کے گورنرز نے میر جعفر کو حکمران ماننے سے انکار کر دیا۔

پھر یہی نہیں دہلی سے مغل فوج نے میر جعفر پر حملہ کر دیا۔ مائی کیوریس فیلوز آپ جانتے ہیں کہ جس دور کی ہم بات کر رہے ہیں یعنی سترہ سو ستاون، سیونٹین ففٹی سیون کے بعد کی، اس دور میں مغل ایمپائر زوال کا شکار تھی۔ ہندوستان کے زیادہ تر علاقے مغل شہنشاہوں کے کنٹرول سے باہر نکل چکے تھے اور مغل حکمرانوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ ان علاقوں کو واپس لے سکیں۔

نواب سراج الدولہ کے نانا علی وردی نے بھی مغلوں کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر بنگال کو مغل کنٹرول سے آزاد کروا لیا تھا۔ لیکن میر جعفر نے بنگال کو اتنا کمزور کر دیا تھا کہ دہلی کے ناتواں حکمران بھی اسے ترنوالہ سمجھنے لگے تھے۔ سترہ سو انسٹھ، سیونٹین ففٹی نائن میں سلطنتِ دہلی کے ولی عہد شاہ عالم ثانی نے بنگال پر حملہ کر دیا۔

بنگال کی حدود میں داخل ہوتے وقت شاہ عالم نے اعلان کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہندوستان کے سب سے امیر صوبے بنگال کو دوبارہ مغل سلطنت کا حصہ بنایا جائے۔ جب میر جعفر کو مغلوں کے اس حملے کا علم ہوا تو وہ حواس باختہ ہو گئے۔ انہیں معلوم تھا کہ ان کی فوج اس حد تک کمزور ہو چکی ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی حملہ آور کا مقابلہ اب نہیں کر سکتی۔

چنانچہ انہوں نے مغلوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے پھر انگریزوں سے مدد مانگی۔ لیکن انگریزوں کی مدد سے پہلے ہی مغل فوج بنگال میں داخل ہو چکی تھی۔ ایک موقع پر مغل فوج پٹنہ پر قبضہ کرنے کے بہت قریب پہنچ گئی تھی لیکن شاہ عالم ثانی نے ارادہ بدل دیا اور بنگال کے دارالحکومت مرشد آباد کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔

مغل فوج کی پیش قدمی کی اطلاع جب میر جعفر کر ملی تو وہ سمجھ گئے کہ اب مقابلہ کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے بیٹے میر میرن کی کمان میں ایک فوج مغلوں سے مقابلے کیلئے بھیج دی۔ جبکہ ابھی تک انگریز فوج نہیں پہنچی تھی۔ لیکن دوستو اس فوج کا برا حال ہوا اور یہ مار کھا کر واپس پلٹی۔ اس فوج کے کمانڈر میر میرن اس جنگ میں شدید زخمی ہو گئے۔

قریب تھا کہ مغل فوج مرشد آباد پر قبضہ کر لیتی اور انگریزوں کی بنگال میں لوٹ مار خطرے میں پڑ جاتی۔ لیکن ایسے میں انگریز فوج حرکت میں آئی۔ انھوں نے جدید طریقوں سے جنگ کرتے ہوئے مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کو بنگال کی حدود سے باہر نکال دیا۔ دوستو اس لڑائی کے ختم ہونے سے پہلے نواب میر جعفر کو ایک گہرا زخم لگا۔

ان کے زخمی بیٹے میر میرن پر آسمانی بجلی گری اور وہ چل بسے۔ ان کی موت کے بعد ایسی افواہیں بھی پھیلیں کہ انہوں نے اپنی کسی لونڈی کی بہن کو قتل کروایا تھا۔ اس قتل کا بدلہ لینے کیلئے لونڈی نے ان کے خیمے کو آگ لگا کر انہیں جلا کر ہلاک کر دیا۔ بہرحال یہ آسمانی بجلی گرنے والا واقعہ تاریخ میں زیادہ اتھینٹک سمجھا جاتا ہے۔

اپنے جوان بیٹے کی موت، مغلوں کے حملے، انگریزوں کی لوٹ مار اور عوام میں بڑھتی بے چینی نے میر جعفر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہیں اچانک احساس ہونے لگا کہ وہ لارڈ کلائیو کی کٹھ پتلی بن چکے ہیں اور بنگال ایسٹ انڈیا کمپنی کا غلام بن کے رہ گیا ہے۔ سو انھوں نے ایک بار پھر وہی کیا جو وہ اس سےپہلے نواب سراج الدولہ کے خلاف کر چکے تھے۔ انھوں نے ایک سازش تیار کی۔

انھوں نے کلکتہ کے قریب ہی موجود ایک ہالینڈ سے آئی تجارتی کمپنی یعنی ڈچ کمپنی سے رابطہ کیا اور انگریزوں کے خلاف فوجی مدد مانگی۔ ڈچ کمپنی نے میر جعفر سے ساز باز کی اور اپنی تقریباً ایک ہزار فوج کو کلکتہ کی طرف روانہ کر دیا۔ اس فوج نے چینسورہ میں ہیڈکوارٹر بنا کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف کارروائی کرنا تھی۔

لیکن لارڈ کلائیو کو اس فوج کی موومنٹ کا بروقت پتا چل گیا اور انہوں نے حملہ کر کے اس فوج کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ میر جعفر کی اپنے سرپرستوں کے خلاف یہ سازش بری طرح ناکام ہو چکی تھی، پہلے سے خراب تعلقات اور بھی بگڑ گئے تھے۔ انگریز میر جعفر کی جگہ کسی اور کو بنگال کے تخت پر بٹھانا چاہتے تھے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان کا متبادل کون ہو؟

جتنی وفاداری سے میر جعفر نے نواب سراج الدولہ کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دیا تھا اتنا وفادار کوئی دوسرا ملنا ان کے نزدیک ابھی مشکل تھا۔ لیکن حالات ایسے تھے کہ اب انگریزوں کو اپنی چوائس بہرحال بدلنا تھی۔ یہ چوائس بدلنا انگریزوں کے کے لیے جلد ہی آسان ہو گیا۔ کیونکہ میر جعفر کو لانے والےکرنل کلائیو کو اس دوران انگلینڈ واپس بلا لیا گیا اور نئے انگریز گورنر ’’ہنری وینسی ٹارٹ‘‘ کو ان کی جگہ کلکتہ بھیج دیا گیا۔

نئے انگریز گورنر ہنری نے سیٹ سنبھالتے ہی اپنی نئی کٹھ پتلی کے لیے ایک ایسے شخص کو بلایا جو ان کے خیال میں انگریزوں کے کے لیے میر جعفر کا بہترین متبادل تھا۔ یہ شخص تھا میر قاسم۔ وہی میر قاسم جو سراج الدولہ کو دریا کنارے سے گرفتار کر کے لائے تھے۔ میر قاسم سے تفصیلی ملاقات کے بعد کمپنی سرکار نے میر جعفر کو ہٹانے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔

لیکن کمپنی نے میر قاسم سے پہلے ہی اس طرح کے عہدوپیماں لئے جس طرح میر جعفر سے لئے تھے۔ یعنی میر قاسم نے میر جعفر کے خلاف سازش کیلئے انگریزوں کو بھاری رقم دینے کی حامی بھر لی۔ اس میں گورنر ہنری کو پچاس ہزار جبکہ ان کی کونسل کو ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ دینے کا وعدہ تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سازش میں بھی ایک بار پھر بنگال کے تاجر جگت سیٹھ ہی اہم کردار ادا کر رہے تھے۔

پہلے انہوں نے سراج الدولہ کو ہٹانے کیلئے میر جعفر پر سرمایہ کاری کی تھی اور اب وہ میر جعفر کو ہٹانے کیلئے میر قاسم پر پیسہ لگا رہے تھے۔ دس جولائی سترہ سو اکسٹھ، سیونٹین سکسٹی ون کو مرشد آباد میں بنگالی فوج نے میر جعفر کے محل کو گھیر لیا۔ فوجی محل کی دیواروں پر چڑھ گئے اور محل کو پانی کی سپلائی بھی بند کر دی۔

اب میر قاسم محل کے اندر گئے اور نواب میر جعفر کو بتایا کہ آپ کی زندگی خطرے میں ہے آپ کچھ عرصے کیلئے شہر سے نکل جائیں۔ یوں میر قاسم، میر جعفر کو سمجھا بجھا کر محل سے باہر نکالا اور ایک کشتی میں بٹھا کر کلکتہ کی طرف روانہ کر دیا۔ اس کے بعد وہ محل میں داخل ہوئے اور خود تخت پر بیٹھ گئے۔ یوں خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر میر قاسم اقتدار پر قابض ہو چکے تھے

اور میرجعفر کا مختصر دورِ حکومت ختم ہو چکا تھا۔ میر جعفر کو کلکتہ پہنچنے تک یہ احساس ہو گیا تھا کہ ان کے ساتھ کھیل کھیلا جا چکا ہے اور تخت و تاج ان کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل گیا ہے لیکن ظاہر ہے اب وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ وہ خاموشی سے کلکتہ چلے گئے۔ یہاں انگریزوں نے انہیں ریسیو کیا اور ایک حویلی میں نظر بند کر دیا۔

یوں میر جعفر کو مکھن سے بال کی طرح نکال دیا گیا اور انگریزوں کی آشیر باد سے میر قاسم کو حکومت مل چکی تھی۔ اب کمپنی سرکار اور بنگال کے عوام دونوں نے تمام تر امیدیں نئے نواب میر قاسم سے وابستہ کر لیں تھیں اور شروع کا کچھ عرصہ وہ ان سب امیدوں پر پورا بھی اترے۔ لیکن ہوا یہ کہ میر قاسم نے جیسے ہی بنگال کے معاشی حالات درست کیے انھیں انگریز اور جگت سیٹھ کھٹکنے لگے۔

سو انھوں نے انگریزوں اور جگت سیٹھ سے بغاوت کر دی۔ انھوں نے جگت سیٹھ کی دولت چھین کر ان کے خاندان کے ایک ایک بڑے کو قتل کروا دیا۔ انھوں نے انگریزوں کے خلاف بھی جنگ شروع کر دی۔ نواب میر قاسم نے اپنا دارالحکومت بھی مرشد آباد سے پٹنہ منتقل کر دیا تھا۔ سترہ سو تریسٹھ کی ایک لڑائی میں انھوں نے پٹنہ میں موجود انگریز فوج کو شکست دی اور ان کے فوجیوں کو گرفتار کر لیا، جنھیں ایک روایت کے مطابق بعد میں مار بھی دیا گیا تھا۔

لیکن اس دوران انگریزوں نے یہ کیا کہ کلکتہ کے قلعے میں بند بوڑھے میر جعفر کو مرشد آباد کے خالی تخت پر لا کر ایک بار پھر نواب بنا دیا۔ لیکن دوستو نواب میر جعفر کا اس وقت بہت برا حال تھا۔ افیون کی لت نے انھیں کسی قابل نہیں چھوڑا تھا۔ وہ بمشکل تمام ہی کار سرکار انجام دے سکتے تھے۔

لیکن انگریزوں کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ کیونکہ کار سرکار تو انھوں نے چلانے تھے انھیں نواب صرف ایک نمائشی حثیت میں چاہیے تھا۔ سو انھوں نے نمائشی حثیت میں نواب کو بھی رکھا اور کار سرکار بھی خود چلائے وہ پٹنہ میں میر قاسم کو بھی ختم کرنا چاہتے تھے لیکن میر قاسم آسانی سے ہار ماننے والے نہیں تھے۔

لیکن جب میر قاسم نے انگریزوں سے جنگوں میں شکستیں کھانا شروع کیں اور اپنی حکومت کو ناکام ہوتے دیکھا تو اپنے وفاداروں کو ساتھ ملا کر انہوں نے گوریلا جنگ شروع کر دی۔ انھوں نے اودھ کے راجہ شجاع الدولہ اور شاہ عالم ثانی سے بھی تعاون مانگا۔ یہ تعاون انہیں ملا بھی لیکن پھر یہ ہوا کہ کسی غلط فہمی کی وجہ سے شجاع الدولہ نے میر قاسم کو قید میں ڈال دیا۔

جس کے بعد شجاع الدولہ نے مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کے ساتھ مل کر انگریزوں سے ایک فیصلہ کن جنگ بہرحال کی۔ لیکن یہ جنگ جسے جنگ بکسر کہتے ہیں شجاع الدولہ کی فوج نے زیادہ تعداد کے باوجود ہار دی کیونکہ ان کی فوج میں ڈسپلن اچھا نہیں تھا۔ چالیس ہزار ہندوستانی فوج جیت کے قریب پہنچ کر انگریزوں کا مال لوٹنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے لگی۔

جس سے یہ ہوا کہ انگریزوں کو پلٹ کر وار کرنے کا موقع ملا اور مال و دولت لوٹتی ہندوستانی فوج کو بھاگنا پڑا۔ جنگ بکسر کے بعد بنگال باقاعدہ طور پر انگریزوں کے قبضے میں آ گیا تھا۔ سترہ سو پینسٹھ، سیونٹین سکسٹی فائیو میں مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی نے انگریزوں سے معاہدہ سائن کیا جس کے تحت بنگال سے ٹیکس اب ایسٹ انڈیا کمپنی جمع کرے گی۔

یہ معاہدہ بنگال اور اوودھ کو انگریزوں کی جھولی میں ڈالنے والی بات تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ کرنے کے لیے انگلینڈ سے ایک بار پھرکرنل کلائیو ہی ہندوستان آئے تھے۔ اس معاہدے کے بعد صورتحال کچھ یوں تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے صرف اڑھائی سو کلرک بیس ہزار ہندوستانی سپاہیوں کی مدد سے مغل ایمپائر کے امیر ترین صوبوں، بنگال اور اوودھ پر حکومت کر رہے تھے۔

تجارت کے نام پر ہندوستان میں آنے والی یہ کمپنی اب یہاں کی مالک بن گئی تھی۔ بنگال پر ان کا مکمل قبضہ تھا اور میر جعفر علامتی نواب تھے۔ افیون کے نشے نے ان کی صحت کو اس بری طرح تباہ کیا کہ دوسری بار نواب بننے کے صرف دو سال بعد یعنی سترہ سو پینسٹھ، سیونٹین سکسٹی فائیو میں وہ انتقال کر گئے۔ انہیں مرشد آباد میں جعفر گنج قبرستان میں دفن کر دیا گیا جہاں ان کے خاندان کے باقی لوگ بھی دفن ہیں۔

ان کے محل کو آج بھی نمک حرام ڈیوڑھی کے ٹائٹل سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ ان کی موت کے بعد ان کے بیٹے اور پھر ان کی اولادوں کو علامتی طور پر نواب آف بنگال کا عہدہ دیا جاتا رہا۔ بعد میں اس عہدے کو نواب آف مرشد آباد کہا جانے لگا اور یہ ٹائٹل آج تک ان کے خاندان میں موجود ہے۔ دوہزار چودہ، ٹو تھاؤزنڈ فورٹین میں یہ ٹائٹل عباس علی مرزا کو ملا اور اس وڈیو کی اپ لوڈنگ ڈیٹ تک وہی نواب بہادر آف مرشد آباد کہلاتے ہیں۔

نواب سراج الدولہ کےبہت بڑے دشمن جگت سیٹھ خاندان کے لوگ تھے جن کے متعلق آپ جان چکے ہیں کہ انہیں میر قاسم نے قتل کروا دیا تھا۔ سراج الدولہ کے قاتل میر جعفر کے بیٹے میر میرن زخمی ہونے کے بعد آسمانی بجلی گرنے سے ہلاک ہو چکے تھے۔ اسی طرح نواب سراج الدولہ کے خلاف جنگ کرنے والے انگریز کرنل لارڈ کلائیو کا انجام بھی اچھا نہیں ہوا۔

انہیں بھی کچھ عرصے بعد برطانیہ واپس بلوا لیا گیا تھا۔ وہاں ان پر کرپشن کے مقدمات چلے۔ ان مقدمات میں وہ سزا سے تو بچ نکلے لیکن بدنامی ان کے گلے کا طوق بن گئی۔ ان کے لیے انگلینڈ میں زندگی اتنی تلخ ہوئی کہ سترہ سو بہتر، سیونٹین سیونٹی ٹو میں انہوں نے چاقو سے اپنا گلا کاٹ کر زندگی ختم کر لی۔

اب رہ گئے سراج الدولہ کے آخری دشمن وہ میر قاسم تھے جو انھیں گرفتار کر کے لائے تھے اور میر جعفر کے بعد کچھ دیر کے لیے نواب بھی بنے تھے۔ میر قاسم نواب سراج الدولہ کے دشمنوں میں سب سے زیادہ جیے لیکن یہ زندگی بھی کوئی زندگی تھی بھلا؟ میر قاسم کو شجاع الدولہ نے انگریزوں سے معاہدے سے کچھ پہلے ہی رہا کر دیا تھا۔ لیکن اس وقت تک ہندوستان کے حالات بہت زیادہ بدل چکے تھے۔

میر قاسم تنہا تھے۔ وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگے۔ ان کے آخری دن بھیک مانگتے ہوئے گزرے۔ سترہ سو ستتر، سیونٹین سیونٹی سیون کے آس پاس جب وہ آگرہ کے قریب کہیں موجود تھے، انھیں موت نے آن لیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی لاش سامنے پڑی تھی اور ان کے بچوں کے پاس انھیں دینے کے لیے کفن کی رقم تک نہیں تھی۔

یعنی آخری آزاد نواب آف بنگال سراج الدولہ کے قتل کے صرف بیس سال بعد ان کا ایک بھی بڑا دشمن ایسا نہیں تھا جسے وہ کچھ ملا ہو جس کے لیے اس نے نواب سراج الدولہ سے دھوکا کیا تھا۔ سب کا انجام عبرتناک ہوا۔ دوسری طرف ہندوستان کے نوابوں اور راجوں نے وقت کے ساتھ آگے بڑھنے کا جو سبق نہیں سیکھا تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ خطہ اگلی دو صدیوں کے لیے انگریزوں کی کالونی بن گیا۔

اور اسی کالونیل دور کے اثرات آج تک یہاں کی بیورکریسی اور اسٹیبلشمنٹ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہاں سراج الدولہ اور میر جعفر سے منسلک جنگ پلاسی کی عبرت ناک سچی کہانی مکمل ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button

Adblock Detected

Please Turn off Your Adblocker. We respect your privacy and time. We only display relevant and good legal ads. So please cooperate with us. We are thankful to you