پنجاب کیلئے سکھوں اور افغانستان کی فیصلہ کن جنگ

بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع ملیر کوٹلہ کے گاؤں کپ میں ایک تاریخی یادگار قائم ہے۔ سرسبز کھیتوں کے درمیان کھڑی یہ سفیدو سرخ یادگار افغانوں اور پنجابی سکھوں کی ایک تاریخی لڑائی کی یاد تازہ کرتی ہے۔ اس لڑائی میں احمد شاہ ابدالی نے فیصلہ کن فتح حاصل کی تھی، مگر یہی فتح ان کے زوال کا باعث بھی بنی۔

پنجاب کیلئے سکھوں اور افغانستان کی فیصلہ کن جنگ
پنجاب کیلئے سکھوں اور افغانستان کی فیصلہ کن جنگ

اس فتح نے سکھوں کو متحد کر دیا اور پنجاب تیزی سے افغانوں کے کنٹرول سے نکلتا نکلتا آخر ہمیشہ کے لیے نکل گیا۔ یہ سب کیسے ہوا؟ احمد شاہ ابدالی کے ساتھ تاریخ نے ایسا کیا کیا، جو دو ہزار سال پہلے سکندر اعظم کے ساتھ بھی بیت چکا تھا؟ وڈا گھلو گھارا اور چھوٹا گھلوگھارا کیا تھا؟

افغانستان کی درانی ایمپائر سکھوں کی بار بار کی بغاوت اور لاہور پر حملوں اور لاہور پر قبضے سے تنگ آ چکی تھی۔ سترہ سو اکسٹھ میں سکھ سردار جسا سنگھ اہلووالیا نے لاہور پر قبضہ کر کے سلطان القوم کا لقب اختیار کیا اور خود کو لاہور کا بادشاہ ڈکلئیر کر دیا۔

اس کے جواب میں افغان بادشاہ، احمد شاہ ابدالی جو بھی افغان کمانڈر ایسی بغاوت کچلنے کےلیے پنجاب کی طرف بھیجتے سکھ اسے بری طرح شکست دے دیتے۔ جہان خان، نورالدین خان اور خواجہ عبید تینوں ایک ایک کر کے ناکام ہوئے بلکہ سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور لاہور بھی افغانوں کے ہاتھ سے بار بار نکل جاتا تھا۔ چنانچہ ایک بار پھر فروری سترہ سو باسٹھ میں احمد شاہ ابدالی نے خود ایک بڑے لشکر کے ساتھ پنجاب پر حملہ کیا تا کہ ایک بار پھر پنجاب کو افغانستان کی درانی ایمپائر میں شامل کیا جا سکے۔

بھارتی پنجاب کے ضلع ملیر کوٹلہ میں افغان فوج نے سکھوں کے ایک لشکر کو آ لیا۔ اس سکھ لشکر کے مرکز میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین اور بچے بھی تھے۔ جبکہ کھانے پینے کا سامان چھکڑوں پر لدا ہوا بھی اسی جگہ تھا۔ افغان فوج کا اس سکھ لشکر پر حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ سکھ جنگجوؤں کا دیوالیہ نکل گیا۔

زیادہ تر سکھ تو افغان حملے میں مارے گئے لیکن جو تھوڑے بہت باقی بچے انھوں نے لشکر کے مرکز میں موجود خواتین اور بچوں کے گرد گھیرا ڈال کر لڑنا شروع کر دیا۔ لشکر کے مرکز کو بچاتے ہوئے بچاتے ہوئے سکھ جنگجو آہستہ آہستہ آگے، ملیر کوٹلہ سے چالیس کلومیٹر دور برنالہ کی طرف بڑھنے لگے۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ تعداد میں بہت زیادہ افغان فوج نے چند ہزار سکھ جنگجوؤں کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا، ان کا بچ نکلنا تقریباً ناممکن تھا۔ افغان لشکر کے جنگجوؤں نے گھیرا توڑنے کے لیے تابڑ توڑ حملے کیے اور آخر ایک ایک کر کے خواتین اور بچوں کے گرد حصار بنا کر لڑتے ہوئے تمام سکھ مارے گئے۔

احمد شاہ ابدالی کی فوج نے گھیرے میں آنے والے تمام سکھوں کو ، خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو ہلاک کر دیا، بہت کم تعداد کو غلام بھی بنا کر وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ اس لڑائی میں سکھوں کی مقدس کتاب ادھی گرنتھ کا مشہور نسخہ جو ان کے دسویں گورو، گورو گوبند سنگھ نے مرتب کیا تھا وہ بھی ضائع ہو گیا۔

اس پورے واقعے میں دوستو سکھ ہسٹورینز کے مطابق دس ہزار سے تیس ہزار تک سکھ قتل ہوئے جن میں زیادہ تعداد عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی تھی ان کے بقول۔ اس قتلِ عام کے بعد افغانوں نے مارے گئے سکھوں کے سر کاٹے اور پچاس چھکڑوں میں یہ کٹے ہوئے سر لے کر لاہور آئے۔ سکھ قوم اس سانحے کو وڈا گھلو گھارا یا گریٹ ہالوکاسٹ یعنی بہت بڑا قتل عام کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

کیونکہ اس سے پہلے چھوٹا گھلوگھارا کا سانحہ ہو چکا تھا۔ اس سانحے میں مغل وزیر لکھپت رائے نے اپنے بھائی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے دس ہزار سکھوں کو قتل کیا تھا۔ جن میں سے تین ہزار کی گردنیں لاہور میں آ کر اتاری گئی تھیں۔

تو اسے سکھ چھوٹا گھلو گھارا اور جو بعد میں احمد شاہ ابدالی کے ہاتھوں ہوا اسے وڈا گھلوگھارا کہتے تھے لیکن دوستو وڈا گھلوگھارا کے بعد احمد شاہ ابدالی کی فوج رکی نہیں بلکہ انھوں نے امرتسر کا رخ کیا۔ یہاں انہوں نے سکھوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی۔

سکھوں کے مقدس ترین سنہری گنبد والے دربار، ہرمیندر صاحب جسے اب گولڈن ٹیمپل کہا جاتا ہے اسے بارود سے اڑا دیا۔ سکھوں کے مقدس تالاب کو اس کے ملبے سے بھر دیا گیا۔ پھر تالاب میں جانوروں کا خون اور انٹریاں پھینک دی گئیں۔ اس موقع پر گرفتار سکھوں کا ایک بار پھر قتلِ عام کیا گیا اور ان کے سروں کے مینار بنائے گئے۔

لیکن دوستو جہاں وڈا گھلو گھارا اور امرتسر کے خون آشام واقعات افغان لشکر کی طاقت ظاہر کرتے تھے، وہیں انہی واقعات نے سکھوں کو متحد کرنے میں بھی مدد کی۔ اس کے بعد ہی سکھوں نے یہ طے کر لیا کہ وہ ہر صورت احمد شاہ ابدالی سے انتقام لیں گے۔ اس عزم کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی جنگی اسٹریٹجی ایسے بدلی کہ دوبارہ کبھی افغان فوج کے گھیرے میں وہ نہ آ سکیں۔

انھوں نے یہ بھی طے کیا کہ وہ دوبارہ افغان فوج کے ساتھ آمنے سامنے فیصلہ کن جنگ کی پوزیشن میں نہیں آئیں گے اور صرف گوریلا سٹائل میں جنگ جاری رکھیں گے۔ کھلے میدان میں صرف اس وقت آئیں گے جب انھیں اپنی فتح کا مکمل یقین ہو۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایک اور حیرت انگیز اسٹریٹجی بھی اپنائی قہ یہ کہ امرتسر جو کہ ان کا مقدس شہر تھا اس کا دفاع کرنا انہوں نے چھوڑ دیا۔

دراصل وہ سمجھتے تھے کہ اگر فوجی طاقت مخفوظ رہے گی جوان بچے رہے گے تو وہ یہ شہردوبارہ بھی تعمیر کر لیں گے، لیکن اگر ہزاروں کی تعداد میں سکھ ایک ایک شہر کی حفاظت کے لیے مرتے رہے تو افغانوں سے جنگ کون لڑےگا؟ سو دوستو سکھوں کی یہ دونوں حکمت عملیاں بہت کارگر رہیں۔ احمد شاہ ابدالی وڈا گھالو گھاڑا کے بعد سکھوں کو پھر کبھی فیصلہ کُن شکست نہیں دے سکے۔

حالانکہ انھوں نے بلوچستان کے قلات سردار نصیر خان کے ساتھ مل کر بھی سکھوں کو مات دینے کی کوشش کی پشاور کے پٹھانوں کو بھی ساتھ ملایا لیکن یہ تمام کوششیں ناکام گئیں۔ پنجاب میں اور ہندوستان میں ان کے بار بار کے حملوں کے باعث یہاں کے لوگ اور سکھ تو ان سے تنگ آ ہی چکے تھے لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی بھی جو اس وقت تک بہت طاقت پکڑ چکی تھی وہ بھی احمد شاہ ابدالی کے خلاف ہوچکی تھی۔

حلانکہ اس سے پہلے وہ احمد شاہ ابدالی کی طاقت دیکھتے ہوئے انہیں خوشامدانہ خط بھی لکھا کرتے تھے جو آپ جان چکے ہیں تو سترہ سو چھیاسٹھ میں احمد شاہ ابدالی نے جب پنجاب پر ایک اور حملہ کیا اور اپنا اثرورسوخ رعب دبدبہ دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کی تو ہزاروں افغانوں کو سکھوں نے گوریلا حملوں میں ہلاک کر دیا۔

احمد شاہ ابدالی نے دہلی کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تو سکھوں نے پیچھے سے ان کی سپلائی لائن کاٹ دی۔ احمد شاہ ابدالی جو اپنے علاقے واپس لینے کے لیے اس طرف آئے تھے اب ان کی حالت ییہ ہو گئی تھی کہ وہ ان کے پاس اپنی فوج کی ضروریات پوری کرنے کے لیے رقم نہیں تھی وسائل نہیں تھے افغان فوجی کئی ماہ سے بغیر تنخواہ کے صرف مالِ غنیمت کی آس میں شاہ سے وفاداری نبھا رہے تھے جنگ کرتے آ رہے تھے۔

لیکن ایک روز ان کا صبر جواب دے گیا اور بارہ ہزار فوجی چپکے سے کابل کی طرف کھسک گئے۔ جو فوج احمد شاہ ابدالی کے پاس واپس بچی اس کا بھی کوئی بھروسہ نہیں تھا کہ وہ کب ساتھ چھوڑ دے۔ ادھر احمد شاہ ابدالی خود بھی ہمت ہار چکے تھے۔ وہ اپنے ناک کے کینسر کو شکست نہیں دے پائے تھے اور ان کی صحت جواب دے رہی تھی۔ اب ان کیلئے لڑنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا تھا۔

سکھوں میں دوستو ایک لیجنڈ بھی مشہور ہے کہ احمد شاہ ابدالی جب گولڈن ٹیمپل کو تباہ کر رہے تھے تو ٹیمپل کی ایک اینٹ اڑ کر ان کی ناک پر لگی تھی۔ اور ناک کا یہی زخم پھر کینسر کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ اب سکھوں کی یہ لیجنڈ ہو سکتا ہے درست ہو ہو سکتا ہے صرف داستان طرازی ہو

لیکن یہاں احمد شاہ ابدالی کے ساتھ جو کچھ پنجاب میں ہو رہا تھا اس کو دیکھ کر وہ سمجھنے لگے تھے کہ ان کے درانی ایمپائر کا گریو یارڈ شاید پنجاب ہی ثابت ہو جائے چنانچہ انہوں نے ایک آخری کوشش کی۔ انہوں نے وہی ٹیکنیک اپنائی جو تئیس سو برس پہلے اسکندرِ اعظم نے افغانستان میں اپنائی تھی۔

یعنی جنگ کے بجائے مصلحت کا سہارا لیا جائے۔ انہوں نے سکھ سرداروں کو انعام و اکرام دے کر اپنا دوست بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اس کوشش کے طور پر ایک سکھ سردار امر سنگھ کو پٹیالہ کا حکمران بھی انہوں نے مقرر کر دیا۔ اسی طرح انہوں نے لاہور کے قریب بھنگی مثل کے سردار لہنہ سنگھ کو پھلوں کا تحفہ بھیجا۔

لہنہ سنگھ نے یہ تحفہ شکریے کے ساتھ واپس کر دیا اور کہا کہ پھل بادشاہ کی عیاشی ہیں میرے لئے تو اناج بہترین غذا ہے۔ اس جواب کے ساتھ انہوں نے افغان بادشاہ کو خشک چنے بھیجے۔ یہ سب کرنے اور کہنے سے ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم آپ سے جنگ جاری رکھیں گے۔ احمد شاہ ابدالی کو لہنہ سنگھ کی حاضر جوابی اور دلیری نے بہت متاثر کیا۔ انہوں نے لہنہ سنگھ کو لاہور کے قریبی علاقوں کا حاکم مقرر کر دیا۔

لیکن ظاہر ہے اس علامتی اقدام کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ لہنہ سنگھ نے احمد شاہ ابدالی کی بالادستی قبول ہی نہیں کی تھی۔ حقیقت یہ ہے دوستو کہ صلح صفائی کیلئے اب شاید بہت دیر ہو چکی تھی۔ زیادہ تر سکھ سردار احمد شاہ ابدالی کو اپنا حکمران تسلیم کرنے کے بجائے میدانِ جنگ میں لڑ کر مر جانا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے احمد شاہ ابدالی کی فوج پر حملے جاری رکھے۔

اب احمد شاہ ابدالی کے پاس بھی افغانستان واپسی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ انہوں نے پنجاب کو الوداع کہا اور غالباً ملتان کے راستے افغانستان لوٹ گئے۔ ان کے جاتے ہی پنجاب میں سکھ ہر طرف پھیل گئے اور افغان گورنرز کو بے دخل کرنا شروع کر دیا انہوں نے۔

رنجیت سنگھ کے دادا چڑھت سنگھ نے جہلم کے قریب قلعہ روہتاس کا محاصرہ کر لیا اور جلد ہی اس پر قبضہ جما لیا۔ ادھر تینوں سکھ سردار لہنہ سنگھ، گوجر سنگھ اور سوبھا سنگھ۔۔۔ جو پہلے بھی لاہور پر قابض رہ چکے تھے اور جن میں سے ایک کے نام پر لاہور کا علاقہ قلعہ گوجر سنگھ آج بھی قائم ہے، وہی تینوں سکھ لوٹ آئے۔

انہوں نے لاہور کا محاصرہ کر لیا۔ گورنر عبیداللہ خان نے دو ماہ تک قلعہ بند ہو کر سکھوں کے محاصرے کا مقابلہ کیا لیکن آخرکار ہتھیار ڈال دیئے۔ یوں پنجاب جیسا زرخیز اور دولت مند صوبہ افغانستان سے کٹ کر آزاد ہو گیا۔ درانی ایمپائر کی بنیاد سے بہت بڑا قیمتی پتھر کھسک چکا تھا۔ اگرچہ احمد شاہ ابدالی پنجاب تو کھو چکے تھے لیکن پھر بھی وہ اسے اپنی سلطنت کا حصہ سمجھتے تھے۔

بڑھاپے اور بیماری کے باوجود سترہ سو انہتر میں انہوں نے پنجاب پر اپنا نواں، نائنتھ اور آخری حملہ کیا۔ احمدشاہ ابدالی پشاور کے راستے پنجاب میں جب داخل ہوئے، تو سکھ ان سے مقابلے کیلئے تیار تھے لیکن ہوا یہ کہ کسی بڑی جنگ کی نوبت ہی نہیں آئی۔ گجرات کے قریب پہنچ کر احمد شاہ ابدالی کی صحت جواب دے گئی۔

ادھر افغان فوج میں بھی یہ سب دیکھ کر بغاوت نمودار ہونا شروع ہو گئی۔ ان حالات میں اگر وہ سکھوں سے لڑتے تو شکست یقینی نظر آ رہی تھی۔ چنانچہ احمد شاہ ابدالی نے وقت کے فیصلے کے سامنے سر جھکا دیا۔ وہ جان گئے تھے کہ وہ پنجاب کو اب دوبارہ نہیں جیت پائیں گے۔ چنانچہ وہ واپس چلے گئے اور پھر کبھی اس طرف لوٹ کر نہیں آئے۔

افغانستان کے پہلے بادشاہ، احمد شاہ ابدالی نے پنجاب تو ہار دیا تھا لیکن باقی درانی ایمپائر پر ان کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ اس کے علاوہ آپ کو دوستو یہ بھی بتائیں کہ احمد شاہ ابدالی کی زندگی صرف جنگ و جدل میں ہی نہیں گزری تھی۔ انہوں نے افغانستان کی ترقی کیلئے بھی بہت خدمات انجام دی۔ ان کے دور میں دارالحکومت قندھار نئے سرے سے تعمیر ہوا تھا۔

اسی نئے قندھار میں وہ عمارت بھی موجود ہے جس میں پیغمبر اسلام کا ایک چوغہ جسے خرقہ شریف کہتے ہیں اسے محفوظ کیا گیا۔ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی کہ احمد شاہ ابدالی کے دور میں افغانستان میں غیرمسلموں کی بڑی تعداد بھی آباد تھی جن میں ہندو، عیسائی اور یہودی سبھی شامل تھے۔ یہ لوگ احمدشاہ ابدالی کے دور میں پرامن طور پر افغانستان میں رہتے تھے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: