The Song of Ice & Fire, Planet Jupiter and its Moon Europa Urdu | کڑوروں کلو میٹر دور برف کا ایک سمندر ہے

The Song of Ice & Fire, Planet Jupiter and its Moon Europa Urdu | کڑوروں کلو میٹر دور برف کا ایک سمندر ہے

جنوری سولہ سو دس کی بات ہے کہ گلیلیو گیلیلے، ایک چھوٹی سی دوربین سے سیارے مشتری، پلانٹ جیوپیٹر کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے پہلی بار نوٹ کیا کہ جیوپٹر کے بہت قریب کچھ دمک رہا ہے، چمک رہا ہے۔ اسے لگا کہ یہ تین ستارے ہیں۔ گلیلیو نے اپنے معمول کے مطابق انھیں نوٹ کیا اور سو گیا۔ اگلی رات جب اس نے دوبارہ جیوپیٹر کو دیکھنا شروع کیا تو اب اسے جیوپٹر کے قریب ہی جھلملاتا ہوا ایک اور ستارہ دکھائی دیا۔ یعنی یہ اب تین نہیں چار ستارے تھے۔

کڑوروں کلو میٹر دور برف کا ایک سمندر ہے

لیکن صرف یہی ایک فرق نہیں تھا۔ بلکہ اب پہلے والے تینوں ستاروں کی پوزیشنز بھی بدل چکی تھیں۔ گلیلیو نے انھیں شروع میں ستارے ہی سمجھا اور اس وقت کی ایک رئیس فیملی میڈیچنز جو سائنسی تحقیقات کے لیے فنڈز فراہم کرتی تھی، اس کے نام پر انھیں میڈیچنز سٹارز کا نام دے دیا۔ لیکن بہت بعد میں اسے اور ہمیں پتا چلا کہ جنھیں وہ ستارے سمجھا تھا وہ ستارے نہیں بلکہ جیوپٹر کے چاند تھے۔ اور ان چاروں میں جو چاند سب سے زیادہ جگمگا رہا تھا اس کا نام یوروپا تھا۔

اسے یوروپا کا نام کیوں دیا گیا؟ ایسا کیوں مانا جاتا ہے کہ یوروپا کی سطح کے نیچے پانی تیر رہا ہے اور اس پانی میں مچھلیاں بھی ہو سکتی ہیں، یا زندگی کی کوئی اور قسم؟ یہ سن کر شاید آپ اور حیران ہوں کہ انسان اس چاند کے سمندر کو دیکھنے جا رہا ہے۔ جی ہاں اسی کروڑ کلومیٹر دور جا رہا ہے مگر یہ کیسے ممکن ہے؟ دی یونیورس، کل کائنات سیریز کی ساتویں قسط میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گے یونانی مائیتھالوجی کا سب سے بڑا دیوتا زیوس کہلاتا تھا۔ زیوس ایک شہزادی یوروپا کے حسن پر فدا ہوا تو بیل کا بھیس بدل کر اس کے علاقے میں ساحل سمندر پر آن بیٹھا۔

یہ وہی وقت تھا جب یوروپا اپنی سہیلیوں کے ساتھ ساحل پر ٹہل رہی تھی۔ بھیس بدلے زیوس نے یوں ظاہر کیا جیسے وہ ایک وفادار اور پالتو بیل ہے۔ یوروپا بھی یہی سمجھتے ہوئے بے تکلفی سے اس بیل پر بیٹھ گئی۔ زیوس اسی لمحے کا انتظار کر رہا تھا۔ جیسے ہی یوروپا کچھ بےپروا ہوئی، اس نے سمندر میں چھلانگ لگا دی اور تیرتا ہوا گہرے پانیوں میں گھس گیا۔ اب یوروپا کہیں بھاگ تو سکتی نہیں تھی۔ سو چاروناچار اسے زیوس کے ساتھ ہی جانا پڑا۔ زیوس، یوروپا کو ساتھ لے آیا اور کریٹ کی ملکہ بنا دیا۔

آپ یوں سمجھیں کہ جسے یونانی زیوس دیوتا کہتے تھے رومیوں کے لیے وہی جیوپٹر تھا۔ سواسی وجہ سے جیوپیٹر کے سب سے چمکتے اور خوبصورت چاند کو اسی حسن کے نام پر جس پر وہ فدا ہو گیا تھا یوروپا کا نام دے دیا گیا۔ یہ نام ایک ایسے شخص نے دیا جس نے تقریباً اسی وقت جیوپٹر کے یہ چاروں چاند دریافت کیے تھے جن دنوں گلیلیو یہ کر رہا تھا۔ یہ شخص جرمنی کا اسٹرالوجسٹ سائمن ماریس تھا۔ اس کا اپنا نام تو گلیلیو کے بڑے نام کے نیچے دب گیا لیکن ان چاندوں کے موونز کے جو الگ الگ نام ہیں، یہ اِسی جرمن ماہر فلکیات سائمن ماریس ہی کے دئیے ہوئے ہیں۔ آئیو ۔۔۔ گینی میڈ ۔۔۔ کیلسٹو اور یہ رہا ۔

۔۔ یوروپا۔ اور یہ رہی ہماری کہکشاں، ملکی وے۔ ملکی وے میں بلینز اینڈ بلینز، اربوں کھربوں ستارے ہیں۔ اور ہمارا ستارہ ہمارا سورج یہاں ہے۔ اسی کے گرد ایک گھومتی چٹان، ایک گول پتھر پر ہم اور آپ رہتے ہیں۔ ہم یہاں اس لیے رہ سکتے ہیں کہ یہ جگہ نہ تو سورج سے اتنا دور ہے کہ وہاں بے پناہ سردی ہو اور نہ ہی سورج کے اتنا قریب ہے کہ بے اندازہ گرمی اور سولر ونڈز سیارے کا پانی اور ایٹماسفئیر ختم کر دے۔ اس لیے پوری کائنات میں تمام کہکشاؤں میں جو ستارے ہیں ان کے گرد وہ جگہ جو نہ تو بہت گرم ہو اور نہ بہت سرد اسے اس سورج کا ہیبٹ ایبل زون یا گولڈی لاکس کہتے ہیں۔ تو یہ جگہ جہاں ہماری زمین ہے وہ ہمارے سورج کا گولڈی لاکس ہے۔

ہیبٹ ایبل زون ہے آپ پوچھیئے کہ اسے گولڈی لاکس کیوں کہتے ہیں؟ تو مائی کیوریس فیلوز یہ نام بچوں کی ایک کہانی میں چھوٹی سی پیاری سی لڑکی کا نام تھا۔ گولڈی لاکس ایک دن اپنے گھر سے پھول توڑنے نکلی تو غلطی سے ایک ریچھ کے خالی گھر میں جا پہنچی۔ وہاں اسے تین پیالے ملے۔ تینوں میں کھانے کی کوئی میٹھی چیز تھی۔ لیکن ایک پیالہ بہت گرم، دوسرا بہت سرد لیکن تیسرا نارمل تھا نہ زیادہ گرم نہ ٹھنڈا تو گولڈی لاکس نے بہت گرم اور بہت سرد پیالے کو چھوڑ کر اسی تیسرے پیالے سے میٹھی چیز کھا لی۔ اسی کہانی سے اسی بچی کے نام پر کسی بھی ستارے یا سورج کے گرد وہ جگہ جو مناسب فاصلے پر ہو،

نہ زیادہ گرم اور نہ بہت سرد ہو اسے گولڈی لاکس یا گولڈی لاکس زون کہا جانے لگا۔ تو کسی بھی گولڈی لاکس زون میں اگر کوئی سیارہ ہو اور وہ گیس کا بنا ہوا نہ ہو بلکہ چٹان ہو چٹانی سیارہ ہو، جیسا کہ ہماری زمین ہے تو اس پر بہتے پانی کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ جہاں بہتا پانی ہوتا ہے وہاں زندگی ضرور ہوتی ہے یا اس کا امکان بہت ہی زیادہ ہوتا ہے تو صرف ہماری کہکشاں ملکی وے میں بلیلنز اینڈ بیلینز، ارب ہا ارب ستارے ہیں ان کے گرد گولڈی لاکس زونز بھی بہت زیادہ ہیں۔ تقربباً کتنے ہیں؟ تو خلا میں زندگی تلاش کرتی کیپلر ٹیلی سکوپ کے مطابق ہماری کہشکشاں میں جس میں ہمارہ نظام شمسی سولر سسٹم ہے

اس میں بیس سے پچاس فیصد ایسے ستارے ہیں جن کے ہیبٹ ایبل زونز، گولڈی لاکس میں چٹانی سیارے محو حرکت ہیں۔ یعنی کیپلر ٹیلی سکوپ ہی کے مطابق ان کی تعداد چالیس ارب، فورٹی بیلین سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ جب سائنسدان خلا میں کوئی زمین جیسا سیارہ تلاش کر رہے ہوتے ہیں تو دراصل وہ ستاروں کے گرد گولڈی لاک زون میں گھومتے یہی چٹانی سیارے ہی تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ انھی پر بہتے پانی کی موجودگی کا امکان ہوتا ہے اور زندگی کا بھی۔ آخر دنیا میں تو ہم نے یہی دیکھا ہے کہ جہاں بھی پانی ہے وہاں زندگی ضرور ہے۔ چاہے کھولتے پانی کا چشمے ہو یا ڈیڈ سی کی نمکین جھیل ہو۔

اردن اور اسرائیل کی سرحد پر واقع ڈیڈ سی جہاں کا پانی سمندر سے نو گنا زیادہ نمکین ہے، سالٹی ہے اس کی تہہ میں بھی زندگی موجود ہے ایک سیل پر مشتمل ہی سہی، لیکن ہے تو۔ تو اسی طرح ایک سو اکیس ڈگری سینٹی گریڈ کے کھولتے ہوئے پانی میں زندگی کے جراثیم موجود ہوتے ہیں اور ہماری زمین پر ہیں تصویر میں آپ امریکا کے ییلوسٹون نیشنل پارک کا وہی چشمہ دیکھ رہے ہیں، جہاں ایک خلیے کا جاندار سٹرین ون ٹوینٹی ون پایا جاتا ہے۔ یہ سخت جان مائیکروب نیوزی لینڈ کے گرم چشموں میں بھی دریافت ہو چکا ہے یعنی جہاں بہتا پانی وہاں زندگی۔ تو اب دیکھئے کہ زمین تو ہمارے سورج کے گرد موجود گولڈی لاک زون میں آ گئی۔

اس لیے یہاں بہتا پانی اور زندگی ہے۔ مریخ بھی اس زون کے قریب ہے وہاں جمی ہوئی برف ہے، وہاں بھی ماضی کے کسی زمانے میں بہتے پانی اور زندگی کی موجودگی کا کوئی جواز بنتا ہے۔ لیکن گولڈی لاک زون سے کروڑوں کلومیٹر دور جیوپیٹر کے اس ننھے منے چاند پر پانی اور زندگی کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ دراصل اس امید کے پیچھے صدیوں کی کہانی ہے اور اس کہانی میں ثبوت ہیں یوروپا کی دریافت کے تین سو سینتالیس سال بعد ایک اسٹرونومر جیرارڈ کیوپر نے یوروپا کو دوربین سے کئی بار بغور دیکھا۔ دیکھنے کے بعد اس نے پیش گوئی کہ ہو نہ ہو اس چمکتے چاند کے نیچے پانی ہے۔

یہ سائنس دان اپنے دور کا ایک جینئس اسٹرونومر تھا۔ اسی نے انسان کے چاند پر جانے سے بہت پہلے پیش گوئی کی تھی کہ چاند کی مٹی برف کے باریک ذرات کے جیسی ہو گئی اسی نے مریخ پر کسی بھی سپیس کرافٹ کے بھیجے جانے سے دہائیوں پہلے پیش گوئی کی تھی کہ مریخ کے پولز پر جو سفید سفید جگہ نظر آتی ہے وہ جمی ہوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ نہیں بلکہ جما ہوا پانی ہے جب بہت بعد میں مون لینڈنگ ہوئی چاند پر انسان پہنچا اور مریخ پر درجنوں سپیس کرافٹ بھیجے گئے تو اس کی یہ دونوں پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں۔ لیکن یوروپا تو چاند اور مریخ سے بہت ہی زیادہ دور ہے،

اسی کروڑ، آٹھ سو ملین کلومیٹر میں۔ اور وہ بھی گولڈی لاکس سے بہت پرے وہاں پانی کی پیشگوئی کر دینا بہت بڑا دعویٰ تھا۔ سو انیس سو تہتر، نائنٹین سیونٹی تھری میں ایک فلائی بائی مشن، پاؤنیر ٹن دور کے سیاروں کو کھوجنے کےلیےنکلا۔ اس نے یوروپا کی ایک تصویر بنائی جس میں پہلی بار دیکھا گیا کہ یوروپا کہیں سے بہت زیادہ چمکیلا ہے اور کہیں سےکم پھر ایک مشہور اور اہم سپیس کرافٹ وائجر ون نے یہ تصویر بھیجی جو آپ دیکھ رہے ہیں، اس تصویر سے انسان نے جانا کہ یوروپا کی سطح پر ابھری ہوئی موٹی لمبی لکیریں پھیلی ہوئی ہیں۔ لیکن یہ ایک مدھم تصویر تھی۔

بہت لائٹ تھی فیڈ تھی اس کے کچھ ہی ہفتوں بعد ایک دوسرا مشن وائجر ٹو جب یوروپا کے پاس سے گزرا تو اس نے ہائی ریزولیشن پکچرز زمین پر بھیجیں۔ یہ تصاویر اتنی واضح تھیں انتی کلئیر تھیں کہ یوروپا کی سطح پر سرخی مائل ابھری ہوئی لمبی لمبی لکیریں زیادہ واضح نظر آ رہی تھیں۔ انھی تصاویر سے ہم نے جانا کہ یوروپا پر کوئی پہاڑ نہیں ہے، آتش فشاں نہیں ہیں اور ہماری زمین کے چاند کی طرح گہرے گڑھے بھی نہیں ہیں۔ وائجر ون کی بھیجی ہوئی درجنوں تصاویر یہ بتانے کے لیے کافی تھیں کہ یوروپا کے نیچے چھپی ہوئی کوئی ایسی سیال، لیکوئیڈ چیز ضرور ہے جس نے اس کی اوپری سطح کو اس قدر ہموار اور پلین رکھا ہوا ہے۔

جیرارڈ کیوپر کی پیش گوئی قریب قریب درست ثابت ہو رہی تھی۔ پھر ناسا کا ایک سپیس مشن گلیلیو پروب، انیس سو نواسی، نائنٹین ایٹی نائن میں جیوپٹر پر گیا۔ یہ بھی ایک فلائی بائی مشن تھا۔ یعنی اس نے جیوپیٹر پر اترنا نہیں تھا اس کے گرد چکر لگانا تھا اس نے جیوپیٹر کے علاوہ اس چاند یوروپا کے گرد بھی گیارہ چکر لگائے کچھ چکر تو ایسے تھے جن میں گلیلیو سپیس کرافٹ یوروپا سے صرف دو سو ایک کلومیٹر اوپر تیر رہا تھا۔ اور تصاویر بنا رہا تھا اسی دوران سپیس کرافٹ نے یہ والی تصاویر بنائیں جن سے یوروپا کی سطح اور اس کے نیچے پانی کے اور بھی شواہد ملےایویڈنس ملے اس وقت تک اندازہ یہی تھا کہ اتنی ہموار اور چمک دار سطح کسی سیال مادے، کسی لیکیوئڈ چیز کی نیچے موجودگی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔

لیکن ان اندازو ں کو جلد ہی مزید بڑے بڑے شواہدوں کا ثبوتوں کا سہارا بھی مل گیا۔ ہوا یہ کہ دو ہزار سترہ میں بحرالکاہل کے بیچوں بیچ جزیرہ ہوائی پر لگی ایک ٹیلی سکوپ نے یوروپا کی سطح سے کچھ پھوٹتا ہوا نوٹ کیا۔ یہ پانی کے فوارے تھے جو یوروپا کی سطح پر موجود برف کو چیرتے ہوئے باہر نکل رہے تھے۔ سو اب یہ تو پکا تھا کہ یوروپا کی برفیلی سطح کے نیچے کوئی سیال لیکیوئیڈ پانی جیسی کوئی چیز ہے ضرور۔ لیکن کیا یہ ایچ ٹو او ہے، وہی پانی جو ہماری زمین وافر مقدار میں موجود ہے؟

اس کے لیے سترہ دن تک یوروپا کی سطح کا معائنہ کیا جاتا رہا۔ جس میں پتا چلا کہ ان فواروں کے مالیکولز پر جب سولر ریڈیشنز پڑتی ہیں تو یہ بھی وہی خاص انفراریڈ لائٹ خارج اور جذب، ایمٹ ایند ابژارب کرتے ہیں جیسا کہ ایچ ٹو او، ہماری زمین والا پانی کرتا ہے۔ دوہزار چودہ اور سولہ میں ہبل ٹیلی سکوپ بھی ایسے ہی پانی کے فوارے پھوٹتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔ جس سے یہ دریافت پختہ ہو گئی کہ یوروپا کے نیچے بہتا پانی موجود ہے۔ اب نہ صرف یہ کہ سورج سے اسی کروڑ کلومیٹر دور پانی دریافت ہو چکا تھا،

بلکہ پیچیدہ اور مسلسل آبزرویشن سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ یوروپا کی برفانی سطح کتنی موٹی ہے اور اس کے نیچے کا سمندر کتنا گہرا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے زمین پر سمندر کی سب سے گہری جگہ کونسی ہے؟ یہ ماریانہ ٹرنچ ہے جو گیارہ کلومیٹر کے قریب گہری ہے اور سب سے بلند موئنٹ ایورسٹ ہے جو ایٹ پوائنٹ ایٹ کلومیٹر سے کچھ اونچی ہے، یعنی یہ دونوں جمع بھی کر لیں تو موئنٹ ایوریسٹ کی بلندی سے ماریانہ ٹرنچ کی گہرائی تک کل تقریباً بیس کلومیٹر بنتا ہے۔ لیکن یوروپا کی سطح پر موجود برف کی موٹائی پندرہ سے پچیس کلومیٹر ہے۔

جبکہ اس کے سمندر کی گہرائی ساٹھ سے ایک سو پچاس کلومیٹر ہے۔ اب بول میری مچھلی کتنا پانی؟ اتنا پانی! اگر یہ بات آپ کو حیران کر رہی ہے تو ابھی ٹھہرئیے۔ ایک بات اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے اور وہ یہ کہ انسان یوروپا کی اس پندرہ سے پچیس کلومیٹر موٹی برفیلی چادر کو چیرنے اور اس کے نیچے گہرے سمندر میں جھانکنے کے لیے جا رہا ہے۔ لیکن یہ ہو گا کیسے؟ انسان کے پاس تو زمین پر ایسی کوئی مشین نہیں جو پچیس کلو میٹر گہرا سوراخ بنا سکے

اور وہ بھی کروڑوں کلومیٹر دور یہ سانگ آف آئیس اینڈ فائر کی کہانی میں آدھی کہانی آئیس کی کہانی تو آپ نے دیکھی لیکن یہ فائر کی کہانی کیا ہے یہ برفیلے چاند کے ہمسائے میں آگ کا دہکتا ہوا چاند کیوں ہے؟ اور وہ کیا چیز ہے جو اگر کوئی چاند سے زمین پر لے آئے تو مالا مال ہو جائے؟ یہ سب بہت ہی دلچسپ سائنٹیفک سٹوریز دیکھنے کے لیے یونیورس سیریز کی اٹھویں قسط یہاں دیکھیئے یہاں جانئیے کہ مریخ پر آخر انسان کالونی بنانے کیوں جا رہا ہے اور یہ کالونی وہ بنائے گا کیسے؟ اور یہ رہی وہ زبردست کہانی جس میں آپ جانیں گے کہ زمین سے کروڑوں کلومیٹر دور سے سیپس کرافٹس ساری معلومات ہم تک کیسے بھیجتے ہیں؟

Read More :: History of Pakistan Read In Urdu Article And Watch Play History

Part 8 :: Europ Clipper Mission and Jupiter Moon lo Urdu | آتش فشاں دھانوں سے بھرا چاند

▷❤▷❤ Watch Historical Series English Subtitles And Urdu Subtitles By Top20series

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: