UncategorizedHistory of America Read In Urdu Article And Watch Play History

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ (Episode 12) Free | Columbus discovers America

Now ♥History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 12) Free | Columbus discovers America | History of America Read Urdu Article And Watch Play YouTube Video By Famous YouTube Channel Dekho Suno Jano ( Faisal Warraich ) | History Of America Urdu | History Of America Urdu Free | History Of America Urdu True

PAkistanwap.pk

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 12 ) Play Now!

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 12) Free | Columbus discovers America And History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ Click Hear !

یہ امریکہ ہے یہ شکاگو کی گھاس منڈی ہے اور یہاں ایک تاریخ رقم ہے۔ اب ذرا یہاں دیکھئے۔ یہ بحر اوقیانوس کا ساحل ہے اور اس ساحل پر یہ نیوجرسی کی خوبصورت سٹیٹ کا ’’ایلب ررن‘‘ ٹاؤن ہے۔ یہاں ایک امریکی صدر نے اپنے اصولوں کی خاطر آخری سانسیں لیں تھیں۔ وہ اصول کیا تھے اور گھاس منڈی میں مزدوروں نے کیا تاریخ رقم کی تھی؟

اور ہسٹری کا وہ کون سا واقعہ تھا جس نے امریکہ کو دنیا کی ملٹری پاور کے طور پر متعارف کروا دیا تھا؟ اٹھارہ سو ستر کی دہائی سے انیس سو تک کے دور کو امریکہ کی گلڈڈ ایج کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسا دور جس پر سونے کا ملمع چڑھا کر جھوٹی چمک دھمک پیدا کی ہو۔ یہ گلڈڈ ایج کی ٹرم دوستو طنزیہ طور پر استعمال کی جاتی ہے کیونکہ اس دور کے امریکہ کی دو تصویریں تھیں۔

ایک وہ چکاچوند والی ترقی یافتہ تصویر تھی جس میں امریکہ آگے بڑھتا پھلتا پھولتا نظر آ رہا تھا۔ اس تصویر میں یہ تھا کہ وہاں ٹیلفون ایجاد ہو چکا تھا استعمال ہو رہا تھا، شہروں کی گلیاں برقی قمقموں کی روشنی سے جگمگا رہیں تھیں پہلی بار لوگ سڑکوں پر چار پہیوں والی موٹریں چلتی دیکھ رہے تھے ہوائی جہاز اڑانے کے تجربات کی خبریں بھی تصویری اخبارات کی زینت بنتی رہتی تھیں۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

اس تصویر میں امریکہ حقیقت میں ایک نیشن بنتا ہوا ایک ٹکنالوجی نیشن بنتا نظر آرہا تھا کیونکہ امریکہ کی ایکسپورٹس بہت تیزی سے بڑھ رہی تھیں۔ اور اتنی بڑھ رہیں تھیں کہ امریکہ میں دنیا کی تیس فیصد پراڈکٹس تیار کرنے لگا تھا۔ ذہانت، انوویشن اور مقابلے کے رجحان نے امریکہ کو دنیا کا نمبر ون پروڈیوسر نمبر ون ایکسپوٹر بنا دیا تھا اور برطانیہ جو اس وقت سپر پاور تھا وہ پروڈکشن میں دوسرے نمبر پر چلا گیا تھا۔

لیکن یہ صرف ایک تصویر تھی اس تصویر کے پیچھے ایک اور تصویر بھی تھی۔ یہ تصویر ایک بدنما داغ کا منظر تھا۔ منظر یہ تھا کہ وہ لوگ جو اس امریکی چکاچوند کی بنیاد تھے جو اس سنہری دور کی بنیاد تھے جو اپنا خون پسینہ بہا رہے تھے یعنی مزدور، وہ بہت زیادہ استحصال کا ظلم کا شکار تھے۔ اسی لیے بظاہر اس گولڈن ایجن کو کچھ لوگ طنزاً گلڈڈ ایج کہتے تھے، یعنی نقلی چمک دمک والی ترقی۔

کیونکہ اس دور میں وہ مزدور جو یہ سب پراڈکٹس تیار کر رہا تھا روزانہ بمشکل ڈیڑھ ڈالر کماتا تھا یعنی آج کے حساب سے دیکھیں تو صرف دو سو پینتیس روپے روز کے اور مہینے کا حساب کریں تو چھے سے سات ہزار روپے۔ اسی استحصال کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ کی اس وقت کی ترقی اس کا پروڈکشن میں نمبر ون مقام مزدوروں کے استحصال پر کھڑا تھا۔ اب یہ استحصال کیوں ہو رہا تھا؟ دوستو اس کی ایک بے ڈھنگی سی وجہ تھی۔

وجہ یہ تھی کہ ان دنوں امریکہ میں دھڑا دھڑ فیکٹریز لگ رہی تھیں اس لئے عوام کی اکثریت انہیں فیکٹریز میں ملازمت کرلیا کرتی تھی۔ پھر یورپ سے بھی ہزاروں مرد اور عورتیں روزگار اور بہتر زندگی کا خواب لے کر امریکہ میں آ رہے تھے۔ یہ لوگ بھی امریکی فیکٹریوں میں سستے داموں پر بھی کام کرنے کو تیار ہو جاتے تھے اسی لیے سرمایہ داروں کے استحصال کا نشانہ بنتے تھے۔

کیونکہ مزدور لاتعداد مہیا تھے، اس لیے فیکٹری مالکان کو کسی کے آنے جانے کی پروا ہی نہیں تھی۔ سو وہ مزدوروں سے بے تکان دس سے سولہ گھنٹے مسلسل کام لیتے اور تنخواہ کے نام پر آپ جان چکے ہیں کہ یومیہ ڈیڑھ ڈالر دیتے یہ سب کر کے فیکٹری مالکان ہفتے میں ایک چھٹی دیتے اور اپنے تئیں حاتم طائی کی قبر پر لات رسید کر دیتے۔ اس استحصال اور کم تنخواہوں کی وجہ سے مزدوروں کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ وہ گھروں کے کرائے تک افورڈ نہیں کر پا رہے تھے۔

یہ استحصال کھلے عام ہو رہا تھا اور انھیں کوئی انصاف نہیں ملتا تھا۔ اس کی وجہ تھی وجہ یہ تھی کہ جس نے انصاف کے لیے راہ ہموار کرنا تھی یعنی امریکی سیاسی نظام وہ خود ایک کرپٹ بنیاد پر کھڑا تھا۔ امریکہ کے سرکاری ادارے کرپٹ تھے۔ امریکی سیاستدان اور سرکاری افسران رشوت لے کر سرمایہ داروں ہی کے مفادات کا تحفظ کرتے تھے۔

اس کرپشن کی وجہ یہ تھی کہ امریکی سرکاری ملازمین میرٹ پر بھرتی نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ پیٹرونیج یا سپوائلز سسٹم یا مال غنیمت کے اصول پر بھرتی ہوتے تھے۔ اب یہ سسٹم کیا تھا؟ امریکہ میں ایک نعرہ مشہور تھا کہ سپوائلز یعنی مال غنیمت، فاتح کی ملکیت ہوتا ہے۔ اس نعرے کی بنیاد پر ہی ایک نظام بنایا گیا تھا جسے عرف عام میں سپوائلز سسٹم کہتے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ میں جو سیاستدان جو پارٹی الیکشن جیت کر پاور میں آئے گی وہ اپنے سپورٹرز کو سرکاری ملازمتیں دیں۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

مطلب میرٹ کوئی نہیں تھا ہر بھرتی سیاسی بنیادوں پر ہونا ہوتی تھی جس کا فیصلہ جیتنے والی جماعت کرتی تھی۔ یعنی جو پارٹی الیکشن جیتے گی اس کے حامیوں کو سرکاری نوکریاں ملیں گی اور مخالفین سمیت باقی سب کے ہاتھ میں صرف مایوسی آئے گی۔ تو ہوتا یوں تھا کہ جو سیاستدان الیکشن جیت لیتا وہ اپنی پسند کے لوگوں کو ملازمتیں اور دوسری مراعات دے دیتا اور ان کی کرپشن سے آنکھیں بند کر لیتا کیونکہ وہ تو ان کے سپوٹرز تھے۔

سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہونے والے یہ لوگ بعد میں سرمایہ داروں کے آلہ کار بن جاتے اور مزدوروں کا استحصال روکنے کے بجائے سرمایا داروں کے مددگار بن جاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی عوام میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا تھا کہ سرکاری نوکریوں یعنی سول سروسز میں فوری طور پر اصلاحات کی جائیں ریفارمز کی جائیں تاکہ سرمایہ دار اور طاقتور سیاستدان اس نظام کو اپنے مفادات کیلئے استعمال نہ کر سکیں۔

لیکن یہاں مسئلہ یہ تھا کہ سیاستدان تو خود اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھو رہے تھے وہ بھلا ریفارمز کیلئے کیوں تیار ہوتے؟ لیکن پھر ایسا ہوا کہ طویل انتظار کے بعد آخرایک ایسا امریکی صدر آ ہی گیا جس نے سیاسی دباؤ کی پرواہ نہیں کی اور سپوائلز سسٹم کو چیلنج کر دیا۔ اس صدر کا نام تھا جیمز اے گارفیلڈ۔ گار فیلڈ اٹھارہ سو اکاسی، ایٹین ایٹی ون میں امریکہ کے صدر بنے۔ ان کی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی تھا کہ سرکاری اداروں کی کرپشن روکنے کیلئے سول سروس میں ریفارمز کیسے کی جائیں۔

وہ سب سے پہلے سپوائلز سسٹم کو ختم کرنے اور سول سروس میں ریفارمز کرنے کا ارادہ کر کے آئے تھے۔ لہٰذا انہوں نے اپنے سپورٹرز کو سیاسی بنیادوں پر نوکریاں دینے سے انکار کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اپوزیشن کے علاوہ ان کی اپنی جماعت، یعنی ریپبلکن پارٹی کے لوگ بھی ان کے خلاف ہو گئے۔ جو ریپبلکنز سیاسی بنیادوں پر نوکریوں کے حق میں تھے انہیں اسٹالورٹس کہا جاتا تھا۔

سو جب صدر گارفیلڈ نے سیاسی بھرتیوں سے انکار کیا تو انھی کی پارٹی کے اسٹالورٹس، گارفیلڈ کے خلاف ہو گئے۔ اسٹالورٹس کو لیڈ کرنے والے ’’سینیٹر روسکو‘‘ نے تو گارفیلڈ کے خلاف بطور احتجاج استعفیٰ دے دیا۔ اب تو دوستو ریپبلکن پارٹی میں پھوٹ پڑ گئی۔ اتنی پھوٹ اور پھر اتنی نفرت پھیلی کہ ایک اسٹالورٹ نے اپنے صدر کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ صدر گار فیلڈ کے سپورٹرز میں ایک وکیل بھی شامل تھا جس کا نام چارلز گیٹو تھا۔

یہ شخص بھی ایک اسٹالورٹ تھا اور سرکاری نوکری کا خواہش مند تھا۔ لیکن جب صدر گارفیلڈ نے میرٹ کے بغیر نوکریاں دینے سے انکار کر دیا تو چارلز کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ صدر سے یہی مایوسی چارلز گیٹو کو اس غصے تک لے گئی جس میں اس نے نئے امریکی سربراہ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ چارلز نے سب سے پہلے تو یہ کیا کہ ایک ریوالور خریدا جس کا دستہ ہاتھی دانت سے بنا ہوا تھا۔ یہ ایک برٹش بل ڈاگ ریوالور تھا۔

چارلز کو لگتا تھا کہ صدر کے قتل کے بعد جب یہ ریوالور کسی میوزیم میں رکھا جائے گا تو خوبصورت لگے گا۔ چارلز کئی ہفتوں تک اس ریوالور سے فائرنگ کی پریکٹس بھی کرتا رہا۔ دوستو ان دنوں امریکی صدر کی کوئی خاص سیکیورٹی نہیں ہوتی تھی۔ امریکی صدر برائے نام سیکیورٹی کے ساتھ عام لوگوں ہی میں گھومتا پھرتا تھا اس لیے اس وقت اسے نشانہ بنانا آج کی نسبت بہت آسان تھا۔

امریکن سول وار کے دوران امریکی صدر ابراہم لنکن بھی ہلکی پھلکی سیکیورٹی ہی رکھتے تھے لیکن سول وار کے بعد جب ان کی سیکیورٹی کم ہوئی تو آپ جانتے ہیں وہ بھی قتل ہوئے تھے اس کی ساری کہانی آپ ابراہم لنکن کی شاندار اور دلچسپ بائیوگرافی میں دیکھ چکے ہیں۔ اسی طرح گارفیلڈ بھی دوستو اپنے ساتھ سیکیورٹی نہیں رکھتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گارفیلڈ نے ایک بار لکھا تھا کہ موت تو قتل ہونے سے بھی آ سکتی ہے اور آسمانی بجلی گرنے سے بھی، دونوں سے بچنا ایک جیسا مشکل ہے۔ سو اس پرزیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ پریذیڈنٹ گارفیلڈ کا یہی تجاہل عارفانہ ان کو موت کے قریب لے آیا۔ دو جولائی اٹھارہ سو اکاسی، ایٹین ایٹی ون کو گارفیلڈ وائٹ ہاؤس سے کچھ فاصلے پر واقع ایک ریلوے اسٹیشن پر پہنچے۔ یہ ریلوے اسٹیشن اب موجود نہیں ہے اور اس کی جگہ دیگر عمارتوں نے لے لی ہے۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

لیکن اٹھارہ سو اکیاسی میں یہ ریلوے اسٹیشن یہیں موجود تھا۔ گارفیلڈ موسمِ گرما گزارنے کیلئے امریکی علاقے نیو انگلینڈ جا رہے تھے۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ ٹرین پر سوار ہوتے تاک میں بیٹھے قاتل چارلز نے ان کی کمر کا نشانہ لے کر دو گولیاں داغ دیں۔ پہلی گولی تو ان کے دائیں بازو کو محض چھوکر ہی گزر گئی لیکن دوسری گولی ان کی کمر میں گہری اتر گئی۔ اس گولی سے وہ بری طرح زخمی ہو گئے۔

چارلز نے گولیاں مارنے کے بعد بھاگنے کی کوشش کی لیکن اسٹیشن پر موجود لوگوں نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ امریکی صدر کو زخمی حالت میں پہلے وائٹ ہاؤس منتقل کیا گیا اور پھر نیو جرسی کے علاقے ’’ایلب ررن‘‘ میں پہنچا گیا۔ وہاں وہ تقریباً تین ماہ تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہے۔ ڈاکٹروں کی سر توڑ کوششوں کے باوجود ان کا زخم خراب ہوتا چلا گیا اور آخر ستمبر اٹھارہ سو اکاسی، ایٹین ایٹی ون میں ان کی موت ہو گئی۔

بیس ستمبر کے روز اخبارات نے ان کی موت کا اعلان کردیا۔ وہ جگہ وہ ریلوے اسٹیشن جہاں ان پر حملہ ہوا تھا وہاں اب ریلوے اسٹیشن تو نہیں ہے لیکن جب تک وہ تھا وہاں زمین پر ایک سنہری ستارہ نشان کے طور پر موجود رہا۔ اور جس جگہ انھوں نے آخری سانسیں لیں وہاں یہ ایک یادگاری تختی آج بھی نسب ہے۔ دوستو صدر گارفیلڈ پر قاتلانہ حملے کے بعد اخبارات میں چارلز کے کارٹونز شائع ہوئے جن میں وہ ایک ریوالور اور ایک پوسٹر اٹھائے ہوئے وائٹ ہاؤس کے باہر کھڑا دیکھایا گیا۔

پوسٹر پر لکھا تھا نوکری دو گے یا اپنی جان۔ کچھ کارٹونز میں چارلز کو ایک کلاؤن، مسخرے کے روپ میں بھی دکھایا گیا جو لاء اینڈ آرڈر کو اپنے پاؤں تلے روند رہا تھا اور نوکری کا مطالبہ کر رہا تھا۔ بہرحال گارفیلڈ کی موت کے بعد چارلز پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے پھانسی کی سزا دی گئی۔ مائی کیوریس فیلوز گارفیلڈ تو امریکی سول سروس کو ٹھیک کرنے سے پہلے ہی دنیا سے چلے گئے لیکن ان کی موت رائیگاں نہیں گئی۔

گارفیلڈ کے قتل کے بعد امریکی عوام سپوائلز سسٹم کے اس قدر خلاف ہو گئے کہ امریکی حکومت کے پاس اس سسٹم کو ختم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔ گارفیلڈ کی موت کے دو برس بعد اٹھارہ سو تراسی میں امریکی کانگریس نے ’پینڈلیٹن سول سروس‘ ایکٹ منظور کر لیا۔ اس ایکٹ کے تحت یہ طے کیا گیا کہ اب ایک سول سروس کمیشن امیدواروں کی صلاحیتوں کی جانچ کر کے انہیں نوکری دے گا۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 12)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

پینڈلیٹن ایکٹ امریکہ کے اندر کرپشن کے خلاف بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا۔ اس ایکٹ کے تحت امریکہ میں پہلی بار میرٹ پر سرکاری ملازمین کی بھرتیاں شروع ہوئیں اور کرپشن کم ہونے لگی۔ آج امریکہ کے سرکاری ادارے جو ہمیں مضبوط نظر آتے ہیں تو اس کی بنیاد پینڈلیٹن سول سروس ایکٹ کے ذریعے ہی رکھی گئی تھی۔ یوں دوستو گارفیلڈ نے اپنی زندگی قربان کر کے پیٹرونیج سسٹم کے خاتمے کی شروعات تو کر دی تھی

لیکن سرکاری اداروں کو پوری طرح کرپشن سے پاک ہونے کیلئے ابھی بہت وقت درکار تھا۔ اس لئے پینڈلیٹن سول سروس ایکٹ کے بعد بھی مزدوروں کا استحصال جاری رہا۔ جب مزدوروں نے دیکھا کہ واشنگٹن میں بیٹھے سیاستدان ان کی مدد نہیں کر رہے تو انہوں نے اپنی مدد آپ کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے سرمایہ داروں کے خلاف تحریکوں کا آغاز کر دیا اور ان تحریکوں کا مرکز بنا

واشنگٹن سے گیارہ سو کلومیٹر دور واقع شہر شکاگو۔ گلڈڈ ایج یعنی اٹھارہ سو ستر کی دہائی سے انیس سو تک کے دور میں مزدوروں کا سب سے بڑا مطالبہ یہ تھا کہ ان کے کام کا وقت یعنی ورکنگ آورز آٹھ گھنٹے کئے جائیں۔ اس کیلئے انہوں نے پورے امریکہ میں ایک تحریک شروع کر رکھی تھی جسے ایٹ آور ڈے موومنٹ بھی کہتے تھے۔ اس موومنٹ میں شکاگو کے مزدور پوسٹرز ڈیزائن کرتے، مظاہرے کرتے اور اپنی آواز اٹھاتے تھے۔

یہ تحریک دو دہائیوں کے قریب چلتی رہی لیکن مزدوروں کو اس تحریک کا کوئی نتیجہ نکلتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ سرمایہ دار یا حکمران طبقے میں سے کوئی بھی ان کی بات سننے یا ماننے کو تیار نہیں تھا۔ چنانچہ یہ مزدور کسی بڑے ایکشن کا اب منصوبہ بنانے لگے۔ ان مزدوروں کی کمان کرنے والوں میں ایک جرمن امیگرنٹ آگسٹ اسپایئز بھی شامل تھا۔ وہ ایک شعلہ بیان مقرر تھا اور ایک اخبار ’’اربیٹر زائی تونگ‘‘ بھی شائع کرتا تھا۔

اس کے اخبار میں مزدوروں کے حق میں آرٹیکلز لکھے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ سپائیز مزدوروں کی تحریک میں عملی طور پر بھی حصہ لے رہا تھا۔ وہ جہاں تقریر کرنے کے لیے کھڑا ہوتا اپنے الفاظ سے لوگوں کے جذبات میں آگ لگا دیتا۔ اپریل اٹھارہ سو چھیاسی، ایٹین ایٹی سکس میں شکاگو کے مزدوروں نے اعلان کر دیا کہ جب تک آٹھ گھنٹے کا ٹائم ٹیبل لاگو نہیں کیا جاتا کوئی مزدور کام پر نہیں آئے گا۔ یعنی مکمل ہڑتال کی جائے گی۔

ہڑتال کے شیڈول کے تحت یکم مئی کے روز شکاگو میں پینتیس ہزار مزدور ہڑتال پر چلے گئے۔ ان مزدوروں نے شہر کی سڑکوں پر مارچ کیا اور ہر فیکٹری میں جا کر مزدوروں کو ہڑتال کے لیے قائل کرنے لگے۔ یوں فیکٹریز میں کام دھندہ چوپٹ ہوگیا۔ امریکہ کی پروڈکشن مشین سست پڑنے لگی اور سرمایادار کا منافع بھی متاثر ہونے لگا۔ فیکٹری مالکان نے دو روز تک تو یہ سب صبر سے برداشت کیا لیکن تیسرے دن انہوں نے ہڑتالی مزدوروں کو کام سے نکال دیا اور ان کی جگہ نئے مزدور بھرتی کرنا شروع کر دیئے۔

ویسے بھی دوستو امریکہ میں ان دنوں بیروزگاری بڑھ رہی تھی۔ ایک مزدور کی ڈیمانڈ کرو تو ہزار ملتے تھے۔ چنانچہ فیکٹری مالکان کو جلد ہی ہڑتالی مزدوروں کی جگہ کام کرنے کے لیے نئے مزدور ملنا شروع ہو گئے۔ شکاگو کی ایک فیکٹری ’’میکارمک ریپر ورکس‘‘ کے مالکان نے بھی اسی طریقے سے نئے مزدور بھرتی کئے اور ہڑتال کی وجہ سے بند پڑی فیکٹری پھر سے چلنے لگی۔ جیسے ہی ہڑتالی مزدوروں کو پتا چلا کہ ان کے مطالبات تو کیا مانے جاتے انھیں نوکریوں سے ہی نکال باہر کیا گیا ہے تو وہ مشتعل ہو گئے۔

دیکھتے ہی دیکھتے کوئی تین ہزار مزدوروں کا ایک ہجوم جمع ہو گیا اور میکارمک ریپرز کی طرف بڑھنے لگا۔ اس ہجوم کو سپائیز اور اس کے ساتھی لیڈ کر رہے تھے۔ جب یہ ہجوم فیکٹری کے سامنے پہنچا تو انہوں نے دیکھا کہ فیکٹری کے دروازے بند تھے اور باہر مسلح پولیس اہلکار تعینات تھے۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

سپائیز نے جب یہ صورتحال دیکھی تو اس نے ہجوم کے سامنے ایک پرجوش تقریر کی۔ اس نے مزدوروں کو اتنا بھڑکایا کہ مزدورغصے میں فیکٹری پر چڑھ دوڑے۔ انہوں نے فیکٹری کے گیٹ اور دوسرے حصوں کو توڑنا شروع کر دیا۔ جواباً پولیس نے بھی فائرنگ کر دی اور چھے مزدوروں کی جان چلی گئی۔ خون خرابہ شروع ہوا تو ہجوم پسپا ہو گیا۔ اس ٹریجڈی کے بعد زیادہ تر مزدور تو اپنے گھروں کو چلے گئے لیکن اسپایئز گھر نہیں گیا بلکہ سیدھا اپنے اخبار کے دفتر پہنچا۔

یہاں اس نے ایک پمفلٹ شائع کیا۔ اس پمفلٹ میں اس نے پولیس والوں کو سرمایہ داروں کے بلڈ ہاؤنڈز، شکاری کتے قرار دیتے ہوئے مزدوروں کو بدلہ لینے پر اکسایا۔ اس نے مزدوروں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ تم نے برسوں تک ذلت اور ناانصافی برداشت کی ہے تم نے محنت کرتے ہوئے اپنی جانیں دی ہیں، غربت اور بھوک کی تکالیف برداشت کی ہیں تم نے اپنے بچوں کو فیکٹری مالکان کیلئے قربان کر دیا ہے آخر کیوں؟

چار مئی کو اس حوالے سے ایک پوسٹر بھی شائع ہوا جس میں لکھا تھا کہ میٹنگ آج رات ساڑھے سات بجے ہو گی۔ پوسٹر میں مزدوروں سے کہا گیا تھا کہ تم لوگ مسلح ہو کر یعنی اسلحہ لے کر پوری قوت کے ساتھ میٹنگ میں پہنچو۔ تاہم دوستو اس پوسٹر کے چھپنے کے کچھ وقت بعد ایک دوسرا پوسٹر شائع کیا گیا جس میں مسلح ہونے والی بات نکال دی گئی تھی۔ اب دیکھئے کہ میکارمک فیکٹری کی فائرنگ والے واقعے کی وجہ سے شکاگو کا ماحول پہلے سےسُپر چارج تھا۔

مزدور بھڑکے ہوئے تھے۔ پولیس کو بھی احساس تھا کہ اگر اس میٹنگ کو اب روکا گیا تو خون خرابہ ہو جائے گا۔ چنانچہ شہر کے میئر نے ناصرف یہ کہ میٹنگ کی اجازت دے دی بلکہ پولیس کو بھی اس میں مداخلت کرنے سے روک دیا۔ اس انتظام کے بعد سرکار کو لگتا تھا کہ مزدوروں کے جذبات مینیج ہو گئے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ چار مئی کو ہے مارکیٹ میں مزدور جمع ہوئے۔ مزدور قائدین کیلئے جو اسٹیج بنایا گیا تھا وہ بھی ایک گھاس لے جانے والی ایک گاڑی ہی تھی۔

اسی پر کھڑے ہو کر انھیں تقریر کرنا تھی۔ آج عین اسی جگہ ایک یادگار تعمیر کی گئی ہے جو بالکل اسی انداز میں ڈیزائن ہے جیسے یہ مزدور قائدین تقریر کرنے کے لیے جمع تھے۔ تو عین اس جگہ جہاں یہ آج یادگار ہے وہیں گھاس کی وہ گاڑی کھڑی تھی جس پر سے مزدور لیڈرز پولیس کے خلاف تقریریں کر رہے تھے۔

ان کے سامنے ہزاروں کا پرجوش مجمع تھا مزدوروں کا ایک سمندر تھا جو پولیس کی کارروائیوں پر بپھرا ہوا تھا۔ اس ہجوم سے کچھ فاصلے پر پولیس بھی موجود تھی مگر وہ کوئی مداخلت نہیں کر رہی تھی۔ مزدوروں کا محبوب لیڈر ’’آگسٹ سپائیز‘‘ بھی یہیں تھا۔ اب یوں تھا کہ اس بے پناہ چارج ہجوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو پولیس سے دو دو ہاتھ کرنے کیلئے بیتاب تھے۔ ان کے حساب سے آج پولیس سے بدلہ چکانے کا سنہری موقع تھا۔

انہوں نے پولیس سے نمٹنے کی تیاری بھی کر لی تھی۔ اب یہاں ایک راز تھا جو وہاں موجود لوگوں میں سے بہت ہی کم لوگوں کو پتہ تھا۔ وہ راز یہ تھا کہ جو لوگ پولیس سے دو دو ہاتھ کرنا چاہتے تھے ان کے ہاتھ میں ڈائنامیٹ تھا، بارود تھا۔ گاڑی پر کھڑے مزدور لیڈرز تقریریں کر رہے تھے اور پولیس بھی ایک طرف خاموش کھڑی تھی کہ اچانک ہنگامہ ہو گیا۔ ہوا یہ کہ ایک مزدور لیڈر تقریر کے دوران پولیس کے خلاف شعلہ جوالہ بن گیا۔

جوش خطابت میں اس نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ اب تو بھلے قانون کا گلا ہی گھونٹ دینا چاہیے۔ کیونکہ ہمیں ایسا قانون نہیں چاہیے جو مزدوروں پر گولی چلائے۔ یہ الفاظ سنتے ہی کوئی دو سو کے قریب پولیس اہلکار ہجوم کی طرف بڑھے اور مزدوروں سے کہا کہ وہ اپنی میٹنگ یہاں ختم کر دیں۔ پولیس کی پیش قدمی دیکھ کر جوشیلا ہجوم بپھر گیا۔ یہی وہ موقع تھا جس کا کچھ لوگوں کو شاید انتظار تھا۔ اچانک ہجوم سے ایک بم اچھالا گیا جو پولیس پر گرا اور دھماکے سے پھٹ گیا۔

کان پھاڑ دینے والی آواز آئی اور بھگدڑ مچ گئی۔ پولیس والوں نے بدحواس ہو کر یا ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فائر کھول دیا۔ جب پولیس والوں کی گولیاں ختم ہو گئیں تو بھگڈر ابھی تک قائم تھی سو انہوں نے اپنی گنز کو ری لوڈ کیا اور پھر فائرنگ کی ہجوم کی طرف سے بھی کچھ لوگوں نے پولیس پر فائر کھولا۔ یہ ساری ہنگامہ آرائی صرف دو منٹ جاری رہی۔ دو منٹ کے اندر اندر ساری جگہ خالی ہو چکی تھی۔

جب ذرا حالات نارمل ہوئے تو سڑک پر کم از کم سات پولیس اہلکاروں اور چار مزدوروں کی لاشیں پڑی تھیں۔ جبکہ دونوں طرف سے زخمی ہونے والے درجنوں میں تھے۔ دو منٹ کا کھیل تو دوستو ختم ہو ا، لیکن ٹریجڈی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ پولیس کو ابھی اس حملہ آور کی تلاش تھی جس نے ان پر پہلا ڈائنامائیٹ یا بم پھینکا تھا۔ وہ شخص اور اس کے ساتھی تو پولیس کے ہاتھ نہیں آئے لیکن پولیس نے آٹھ ایسے افراد کو دھر لیا جو مزدوروں کی تحریک میں پیش پیش تھے۔

ان میں آگسٹ سپائیز بھی شامل تھا۔ ان لوگوں کو ڈائنامائیٹ حملے کا ذمہ دار قرار دے کر مقدمہ چلایا گیا۔ اگرچہ عدالت میں ان پر یہ جرم ثابت نہیں ہو سکا لیکن پھر بھی انھیں تشدد پھیلانے کا مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی گئی سپائیز سمیت چار مزدور رہنما پھانسیوں پر جھول گئے۔ باقی چار میں سے ایک نے خودکشی کر لی اور تین کی سزائیں بعد میں معاف کر دی گئیں۔ سپائیز اور اس کے ساتھی جنہیں پھانسی دی گئی تھی انہیں شکاگو کے فاریسٹ پارک قبرستان میں ٓدفن کر دیا گیا۔

ان کی قبروں پر ایک یادگار بنائی گئی جسے ’’ہے مارکیٹ مارٹرز مانیومنٹ‘‘ کہا جاتا ہے یا آپ اسے ’’گھاس منڈی کی یادگارِ شہداء‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس یادگار میں دکھایا گیا ہے کہ ایک گرتے ہوئے مزدور کے سامنے ایک عورت کھڑی ہے جو پولیس کی گولیاں روکنے کی بظاہر کوشش کر رہی ہے۔ آگسٹ سپائیز مر تو گیا لیکن اس سے منسوب ایک تاریخی جملہ آج بھی اس یادگار پر لکھا ہوا ہے۔ وہاں لکھا ہے کہ ایک دن آئے گا

جب ہماری خاموشی ان آوازوں سے زیادہ طاقتور ہو گی جنہیں آج تم دبانے کی کوشش کر رہے ہو۔ دوستو سپائیز نے سچ کہا تھا۔ امریکی پولیس اور سرمایہ دار طبقہ مزدوروں کو خاموش نہ کروا سکا۔ مزدوروں کی تحریک جاری رہی اور تقریباً تیس برس بعد مزدور اپنا سب سے بڑا مطالبہ منوانے میں کامیاب ہو گئے انیس سو سولہ، نائنٹین سکسٹین میں امریکی حکومت نے ایک قانون ایڈم سن ایکٹ منظور کیا۔ اس قانون کے تحت ریلوے مزدوروں کے ورکنگ آورز آٹھ گھنٹے مقرر کر دیئے گئے۔

اس قانون کی منظوری کے بعد جلد ہی ریلوے کے علاوہ دیگر پرائیویٹ کمپنیز میں بھی ملازموں کو آٹھ گھنٹے کام کا حق دے دیا گیا۔ یوں مزدوروں کی جدوجہد کئی جانیں لے کر اور دہائیوں کی کوششوں کے بعد کامیاب ہو گئی۔ مائی کیوریس فیلوز مزدوروں نے اپنے مطالبات کی جنگ تو جیت لی لیکن وہ چار مئی کے سانحے کو نہیں بھولے۔ یہ حادثہ مزدوروں پر ہونے والے اُن مظالم میں سے ایک تھا جن کی یاد میں آج یکم مئی کو لیبر ڈے منایا جاتا ہے۔

اگرچہ یہ سب تو بہت بعد میں ہوا لیکن گلڈڈ ایج یعنی اٹھارہ سو ستر کی دہائی سے انیس کے دور کا اختتام ایک جنگ پر ہوا۔ آپ ہسٹری آف امریکہ کے دوسرے سیزن کی تیسری قسط میں منرو ڈاکٹرائن کے بارے میں جان چکے ہیں۔ اسی منرو ڈاکٹرائن کے تحت امریکہ نے یورپی طاقتوں کو شمالی اور جنوبی امریکہ میں مداخلت سے دور رہنے کی وارننگ دی تھی۔ تو اب یہ ہوا کہ اٹھارہ سو اٹھانوے میں امریکہ نے منرو ڈاکٹرائن کے تحت ایک ہمسایہ ملک پر حملہ کر دیا۔

امریکہ کی یہ جارحانہ جنگ اس کے سپر پاور بننے اور دنیا کی سب سے بڑی ملٹری پاور بننے کی طرف ایک بڑی چھلانگ تھی۔ لیکن یہ چھلانگ تھی کیا دوستو امریکی ریاست فلوریڈا کے نیچے یہ بڑے بڑے جزائر پر مشتمل ملک، کیوبا ہے۔ کیوبا کا علاقہ کولمبس کے زمانے سے ہی یعنی تقریباً چار سو برس سے اسپین کی کالونی تھا۔ لیکن اٹھارہ سو پچانوے، ایٹین نائنٹی فائیو میں وہاں آزادی کی تحریک شروع ہو گئی۔

مقامی لوگوں نے سپینش آرمی سے لڑنا شروع کر دیا کہ وہ ان کا علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں۔ اب اسپینش فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ امریکہ کو اس لڑائی سے پریشانی تھی کیونکہ اس نے کیوبا میں مختلف شعبوں میں پانچ کروڑ، ففٹی ملین ڈالرز کی انویسٹمنٹ کر رکھی تھی۔ اس کے علاوہ امریکہ اور کیوبا کے درمیان دس کروڑ، ہنڈرڈ ملین ڈالرز کی سالانہ تجارت بھی ہوتی تھی۔ لیکن کیوبا میں لڑائی کی وجہ سے امریکہ کی تجارت اور انویسٹمنٹ دونوں تباہ ہو رہی تھی۔

چنانچہ امریکہ نے کیوبا کی لڑائی میں غیر جانبدار رہنے کے بجائے پارٹی بننے کا فیصلہ کرلیا۔ ویسے بھی امریکی میڈیا اور عوام کیوبا کے باغیوں کے ساتھ تھے اور امریکی حکومت پر زور دیتے تھے کہ وہ کیوبا میں مداخلت کر کے انہیں آزادی دلوائے۔ امریکہ نے اس دباؤ کے تحت یا اپنے فائدے کے تحت ایک اپنا جنگی جہاز ’’یو ایس ایس مین‘‘ کیوبا کے موجودہ دارالحکومت ہوانا کی بندرگاہ پر بھیج دیا۔

امریکہ نے یہ جنگی جہاز بھیجنے کا بہانہ یہ بنایا کہ اس جہاز کو بھیجنے کا مقصد کیوبا میں امریکی شہریوں اور ان کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہے۔ لیکن جب یہ جہاز ہوانا کی بندرگاہ پر پہنچا تو وہاں قدرت کے نامعلوم خزانے سے ایک بڑا پتھر لڑھک گیا۔ ہوا یہ کہ پندرہ فروری، اٹھارہ سو اٹھانوے، ایٹین نائنٹی ایٹ کی رات جب امریکی جہاز کا زیادہ تر عملہ سو رہا تھا تو اچانک جہاز پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ ایک خوفناک دھماکہ سے جہاز میں آگ لگ گئی۔

اب یہ کسی نے جہاز پر تارپیڈو فائر کیا تھا یا کچھ اور ہوا تھا، کوئی سمجھ نہیں پایا۔ بس دیکھنے والے دیکھ رہے تھے کہ پانی میں آگ لگ گئی ہے اور جہاز کا عملہ جانیں بچانے کی ناکام کوششیں کرتا ہوا سمندر میں ڈبکیاں کھا رہا ہے۔ اس حادثے میں عملے کے تقریباً چار سو لوگوں میں سے دو سو ساٹھ جان سے چلے گئے۔ تاہم جہاز کے کیپٹن سمیت باقی لوگ زندہ بچ رہے۔ اگرچہ اس جہاز کو پوری طرح سمندر میں غرق ہونے میں کافی وقت لگا لیکن یہ اس بری طرح تباہ ہو چکا تھا

کہ اسے بچانے کی کوشش فضول تھی۔ جہاز کے کیپٹن نے موقع ملتے ہی فوری طور پر امریکہ ٹیلیگرام بھیجا اور جہاز کی تباہی کی اطلاع دی۔ امریکہ خبر پہنچی تو وہاں کہرام مچ گیا۔ امریکہ بھر کے اخبارات میں یہ خبر فرنٹ پیج کی ٹاپ ہیڈلائن بن گئی اور اسپین پر دھوکے بازی کا الزام لگا دیا گیا۔ دا ایوننگ ٹائمز نے لکھا کہ یو ایس ایس مین کو اسپین نے تباہ کیا ہے۔

اخبار نے جہاز کے کیپٹن ’’سیگز بی‘‘ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جہاز کو تارپیڈو سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اخبار نے یہ بھی لکھا کہ اڑھائی سو امریکی سیلرز شارک مچھلیوں کی خوراک بن گئے ہیں اور یہ حب الوطنی کا مسئلہ ہے۔ اخبارات نے ایسا ماحول بنا دیا کہ امریکہ میں اسپین سے بدلہ لینے کے نعرے لگنے لگے۔ ایک اخبار میں ایسا کارٹون بھی شائع ہوا جس میں امریکی جہاز اسپین کے شہنشاہ الفانسو تھرٹین پر ایک بم فائر کر رہا تھا۔

اور بم پر لکھا تھا ریٹریبیوشن یعنی انتقام جبکہ شہنشاہ اس بم کے آنے سے پہلے کیوبا میں ایک کھلونا کشتی سے کھیل رہا تھا۔ امریکی اخبارات نے تواسپین کے خلاف جنگ چھڑنے کے حق میں عوام کو لانے کے لیے یہ نعرہ بھی لگا دیا کہ ’’ریمیمبر دا مین، ٹو ہیل ود اسپین‘‘ یعنی امریکی جہاز مین کو یاد کرو اور اسپین کی پرواہ نہ کرو۔ تو اب امریکی میڈیا اور پبلک میں انتقام کی باتیں ہونے لگیں جس کا فائدہ براہ راست امریکی اسٹیبلشمنٹ نے اٹھایا۔

امریکی حکومت نے جہاز کی تباہی کی تحقیقات کیلئے ایک کمیشن قائم کیا جس نے ایک ماہ کے قریب عرصے میں یہ رپورٹ دی کہ امریکی جہاز پر حملہ اسپین نے ہی کروایا ہے۔ اسپین کی حکومت نے امریکہ کے اس دعوے کو نہیں مانا اور یہ پیشکش کی کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کسی غیر جانبدار ملک سے کروانے پر تیار ہیں۔ برطانیہ، فرانس اور روس سمیت تمام عالمی طاقتوں نے بھی انسانیت کے نام پر امریکی صدر ولیم میکنلے سے اپیلیں کیں کہ وہ کیوبا میں مداخلت نہ کرے۔

امریکی صدر میکنلے کا جواب یہ تھا کہ اگر ہم نے کوئی مداخلت کی تو وہ انسانیت کے مفاد میں ہی ہو گی۔ کیتھولک فرقے کے سربراہ پوپ لیو تھرٹین نے بھی امریکہ اور اسپین کے درمیان ثالثی کی پیش کش کی۔ لیکن امریکہ تو منرو ڈاکٹرائن کے تحت اسپین کو کیوبا میں ایک دشمن طاقت کے طور پر دیکھتا تھا۔ امریکہ کے خیال میں یہ بہت ضروری ہو گیا تھا کہ اسپین کو کیوبا سے نکالنے کیلئے طاقت استعمال کی جائے۔

چنانچہ اس نے جنگ نہ کرنے کی ہر اپیل اور ثالثی کی ہر پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے بیس اپریل کو انتہائی قدم اٹھا لیا۔ امریکن کانگریس نے اسپین سے مطالبہ کیا کہ وہ کیوبا سے فوری طور پر اپنی فوج ہٹا کر اسے آزادی دے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس نے امریکی صدر ولیم میکنلے کو بھی یہ اختیار دے دیا کہ وہ کانگریس کا مطالبہ منوانے کیلئے امریکن آرمی یا نیوی کو استعمال کر سکتے ہیں۔

امریکی کانگریس کا یہ اعلان اسپین کے معاملات میں کھلی مداخلت تھا اور اس اعلان نے اسپین کو بند گلی میں دھکیل دیا تھا۔ اب اسپین کے پاس امریکہ سے جنگ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ چنانچہ اس نے چوبیس اپریل کو امریکہ کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ اگلے روز پچیس اپریل کو امریکی کانگریس نے بھی اسپین کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ امریکن بحری بیڑے نے اسپین کی چار کالونیز پر دھاوا بول دیا۔

ان چار میں سے دو کالونیز امریکہ کے مشرق میں کیوبا اور پروٹوریکو تھیں جبکہ مغرب میں دوسری دو کالونیز فلپائن اور گوام تھیں۔ ان چاروں مقامات پر موجود اسپینش فورسز امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکیں اور بغیر کسی قابل ذکر مزاحمت کے شکست کھا گئیں۔ امریکہ نے اس ملٹری کیمپین میں کیوبا، پورٹوریکو، فلپائن اور گوام کو قبضے میں لے لیا۔

History Of America Urdu , History Of America Urdu Episode 1 , History Of America Urdu Episode 2 , History Of America Urdu Episode 3 , History Of America Urdu Episode 4 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 6 , History Of America Urdu Episode 7 , History Of America Urdu Episode 8, History Of America Urdu Episode 9, History Of America Urdu Episode 10, History Of America Urdu Episode 11, History Of America Urdu Episode 12

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Adblock Detected

Please Turn off Your Adblocker. We respect your privacy and time. We only display relevant and good legal ads. So please cooperate with us. We are thankful to you