History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 8) Free | Columbus discovers America

Now ♥History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 8) Free | Columbus discovers America | History of America Read Urdu Article And Watch Play YouTube Video By Famous YouTube Channel Dekho Suno Jano ( Faisal Warraich ) | History Of America Urdu | History Of America Urdu Free | History Of America Urdu True

PAkistanwap.pk

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 8 ) Play Now!

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 8) Free | Columbus discovers America And History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ Click Hear !

تمام انسانوں کو برابر تخلیق کیا گیا ہے انہیں ان کے خالق نے کچھ ایسے حقوق دیئے ہیں جن سے انہیں کبھی محروم نہیں کیا جا سکتا اور ان حقوق میں شامل ہے جینے کا حق، آزادی اور خوشی کی تلاش۔ اپنی نیت کا فیصلہ خدا پر چھوڑتے ہوئے امریکن کالونیز کے اچھے لوگوں کی طرف سے دیئے گئے اختیارات کے تحت یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ یہ متحدہ کالونیز آزاد اور خود مختار ریاستیں ہیں تاجِ برطانیہ سے وفاداری اور برطانیہ سے ہر قسم کا سیاسی تعلق ختم کیا جاتا ہے۔

دوستو یہ تاریخی الفاظ دراصل یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کا اعلان آزادی ہیں۔ ان الفاظ پر مشتمل اعلان آزادی چار جولائی سترہ سو چھہتر، فورتھ آف جولائی سیونٹین سیونٹی سکس کو فیلی ڈلفیا کے انڈیپنڈنس ہال میں جاری کیا گیا تھا۔ یہ ڈیکلیریشن تھامس جیفرسن، جان ایڈمز اور بنجمن فرینکلن سمیت پانچ لوگوں کی ایک کمیٹی نے تیار کیا تھا۔ اس پر امریکہ کی تیرہ کالونیز کے تریپن افراد کے دستخط تھے۔ اسی اعلان نے اُس جنگ کو تیز کر دیا جو سترہ سو ستر کی ایک سرد شام ہونے والی ٹریجڈی سے شروع ہوئی تھی۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 8)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

پھر ایک پینٹنگ تیار ہوئی جس نے بکھری ہوئی امریکن کالونیز کو ایک قوم کر دیا۔ اس سرد شام کیا ہوا تھا اور یہ پینٹںگ کی کہانی کیا تھی؟ دوستو یہ مارچ سترہ سو ستر کی بات ہے۔ امریکی ریاست میساچیوسٹس کے ساحلی شہر باؤسٹن میں وقفے وقفے سے برف کے گالے گر رہے تھے۔ اس ٹھنڈی برف باری میں لوگوں کے جذبات بہت گرم تھے۔ کیونکہ شہر میں سرخ لباس والے ریڈ ڈریس والے برطانوی سپاہی جنھیں اسی لباس کی وجہ سے ریڈ کوٹس کہا جاتا تھا،

ایک مشن پر آ چکے تھے۔ یہ ریڈ کوٹس امریکیوں سے زبردستی ٹیکس وصول کرنے آئے تھے کیونکہ امریکی کالونیز کے لوگوں نے ٹیکس ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ باؤسٹن سمیت پورے امریکہ میں لوگ اس بات پر ناراض تھے کہ برطانیہ ان پر ٹیکس تو لگا رہا ہے لیکن انہیں برٹش پارلیمنٹ میں نمائندگی نہیں دے رہا۔ وہ سمجھتے تھے کہ دراصل برطانیہ انھیں لوٹ رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ٹیکسز سے بچنے کیلئے باؤسٹن کے تاجروں نے اسمگلنگ شروع کر دی تھی۔

جبکہ شہر میں عام لوگوں نے جا بجا برطانوی پراڈکسٹس کے بائیکاٹ کے لیے پوسٹرز چسپاں کر رکھے تھے۔ لوگ اتنے غصے میں تھے کہ انھوں نے برطانیہ کے سرکاری کاغذات یعنی ان سے مطالق کاغذات، سرکاری اور قانونی کاغذات کو بھی جلانا شروع کر دیا تھا کیونکہ ان پر بھی ٹیکس لگتا تھا۔ سو شہر میں ایک موب وائلنس کا ماحول تھا۔ کیونکہ لوگ برطانوی پراڈکٹس بیچنے والوں کو مارنے پیٹنے تک آ چکے تھے۔ ان حالات میں شہر کی برطانوی اتھارٹیز نے سولہ ہزار آبادی والے باؤسٹن کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی چار ہزار ریڈکوٹس کو بلا لیا

۔ تو ریڈکوٹس کو کرنا یہ تھا کہ ٹیکس دینے سے انکار کرنے والوں اور لڑائی جھگڑا کرنے والوں کے خلاف انہیں سخت کریک ڈاؤن کرنا تھا۔ ادھر شہریوں نے بھی ان ریڈ کوٹس کا کوئی اچھا استقبال نہیں کیا کیونکہ جہاں انہیں موقع ملتا وہ ریڈکوٹس پر آوازے کستے اور ہنگامہ برپا کر کے جتنی دل کی بھڑاس نکال سکتے تھے ریڈ کوٹس پر نکال لیتےتھے۔ تو دوستو ہوا یوں کہ پانچ مارچ کی شام ایسے ہی کچھ مشتعل امریکیوں کو ایک تنہا ریڈکوٹ مل گیا۔

یہ اکیلا برطانوی سولجر کسٹم ہاؤس کے باہر تعینات تھا۔ امریکیوں نے اسے گالیاں دینا اور برف کے گولے تاک تاک کر مارنا شروع کر دئیے۔ ابھی یہ سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ مزید آٹھ ریڈکوٹس اپنے اس تنہا ساتھی کی مدد کو پہنچ گئے۔ مزید ریڈکوٹس کو دیکھ کر پہلے سے غصے میں بھرا ہجوم اور بپھر گیا۔ انھوں نے ریڈ کوٹس کو چیلنج کرنا شروع کر دیا کہ ہمت ہے تو ہم پر گولی چلا کے دکھاؤ۔ پھر اچانک دھائیں سے ایک فائر کی آواز گونجی کیوں؟ کیسے؟ کس نے کیا یہ فائر؟

آج تک کوئی نہیں جانتا۔ لگتا یوں ہے کہ یہ گولی ریڈکوٹس میں سے ہی کسی نے چلائی تھی اور اس کا نشانہ امریکن ہجوم تھا پھرپہلی گولی فائر ہوتے ہی باقی ریڈ کوٹس ک بندوقوں کے منہ بھی کھل گئے۔ چند ہی لمحوں میں پانچ امریکی زمین پر مردہ پڑے تھے جبکہ چھ ایسے تھے جو اپنے زخم سہلا رہے تھے۔ اب دوستو کہنے کو تو یہ سانحہ محض ایک ٹریجیڈی تھی جس میں ہجوم کے اکسانے پر ایک افسوس ناک واقعہ ہواتھا۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 8)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

لیکن اس ٹریجڈی کو ایک پینٹنگ نے لازوال شکل دے دی۔ یہ پینٹنگ باؤسٹن کے ایک آرٹسٹ ہنری پیہلم نے بنائی تھی جس میں برطانوی فوجیوں کو نہتے امریکنز پر گولی چلاتے دکھایا گیا تھا۔ یہ پینٹنگ کسی طرح ایک فریڈم فائٹر پال ریویئر کے ہاتھ لگ گئی۔ اس نے اس پینٹنگ کا ڈیزائن لکڑی پر بنایا اور اس کی نقلیں تیار کرکے انہیں ہر طرف پھیلانا شروع کر دیا۔ اس کی نقلوں پر لکھا تھا بلڈی میساکر یعنی خونی قتل عام۔ تو دوستو یہ پینٹنگ اور باؤسٹن کی اس ٹریجڈی کی خبریں امریکی اخبارات میں شائع ہونے لگیں

اور تمام امریکن کالونیز میں پھیلنے لگئیں۔ اس پینٹنگ نے امریکن کالونیز کو جو پہلے تقسیم تھیں، ایک کامن کاز دے دیا برطانیہ کی مزاحمت کا کاز اور یوں امریکن کالونیز ایک قوم میں ڈھلنے لگیں۔ دوسری طرف انگریزوں نے غصے میں بھرے امریکنز کو مطمئن کرنے کی بھرپور کوشش شروع کی۔ باؤسٹن میں نہتے شہریوں پر گولی چلانے والے فوجیوں کو گرفتار کر کے ان پر مقدمات چلائے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان فوجیوں کا دفاع امریکن وکیل جان ایڈمز نے کیا جو بعد میں برطانیہ کے خلاف آزادی کی جدوجہد کرتا رہا اور پھر امریکی صدر بھی بنا۔

تو ہوا یوں کہ جان ایڈمز نے عدالت میں ان فوجیوں کو بے گناہ ثابت کر کے انہیں رہا کروا لیا۔ اس مقدمے کے بعد انگریزوں نے چائے کو چھوڑ کر امریکن کالونیز پر باقی تمام ٹیکسز ختم کر دیئے۔ لیکن امریکنز نے برٹش پراڈکٹس کا بائیکاٹ اسی طرح جاری رکھا اور اس کا نقصان ایک ایسی کمپنی کو جس کا نشان تاریخ میں بہت گہرا ہے۔ یہ کمپنی تھی ایسٹ انڈیا کمپنی۔ تو دوستو وہ ایسٹ انڈیا کمپنی جو ان دنوں ہندوستان پر رفتہ رفتہ قبضے میں مصروف تھی وہی امریکن کالونیز کو چائے بھی ایکسپورٹ کرتی تھی۔

اور پھران کی مہمان نوازی اور رسم و رواج سے اتنے متاثر ہوتے تھے یہ گورے کہ انھیں کے ساتھ رہنا شروع کر دیتے تھے۔ یاد رہے کہ اس وقت کے جیمز ٹاؤن میں زیادہ تر مرد ہی آباد ہونے کے لیے انگلینڈ اور یورپ سے آتے تھے خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی۔ سو دوستو اس بڑھتی ہوئی مردانہ افرادی قوت کا انگریزوں نے ناجائز اور بھرپور فائدہ اٹھانا شروع کیا انہوں نے ایک تو نیٹو امریکنز پر حملے شروع کر دیئے دوسرا یہ کہ جو آبادکار یعنی گورے کھانے پینے کے سامان کی کمی سے تنگ آ کر پوہاٹن قبائل سے جا ملتے تھے اور ان کے ساتھ رہنا شروع کر دیتے تھے

لیکن جب چائے پر ٹیکس لگا تو امریکنز نے اس کمپنی کی چائے کا بائیکاٹ کر دیا اور ڈچ کمپنیز سے چائے اسمگل کر کے پینے لگے۔ اس اسمگلنگ کی وجہ سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی چائے ایکسپورٹ ہونا بند ہو گئی اور ٹنوں کے حساب سے چائے کی پتیاں اس کے گوداموں میں گلنے سڑنے لگیں۔ اب برٹش پارلیمنٹ نے یہ کیا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو نقصان سے نکالنے کیلئے، سترہ سو تہتر میں ٹی ایکٹ پاس کیا۔ اس ایکٹ کے تحت امریکن کالونیز میں چائے بیچنے کے مکمل رائٹس صرف ایک کمپنی یعنی ایسٹ انڈیا کمپنی کو دے دیئے گئے۔

کمپنی پر برطانیہ میں لگایا ہوا اضافی ٹیکس بھی معاف کر دیا گیا۔ لیکن جو امریکنز اس کمپنی سے چائے خرید کر اپنی کالونیز میں فروخت کر رہے تھے برطانیہ نے ان کا ٹیکس معاف نہیں کیا۔ سو اس کا ایک بار پھر شدید ردعمل آیا اور فوری آیا۔ باؤسٹن کے تاجروں نے ایک خفیہ تنظیم بنا رکھی تھی جسے سنز آف لبرٹی، آزادی کے سپوت کہا جاتا تھا۔ سولہ دسمبر سترہ سو تہتر کی رات اس تنظیم کے درجنوں لوگ باؤسٹن کی بندرگاہ پر کھڑے تین جہازوں پر چڑھ گئے۔ ا

ان جہازوں پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی چائے لدی ہوئی تھی۔ حملہ آوروں نے نیٹو امریکنز جیسے لباس پہن رکھے تھے اور ان کے پاس نیٹو امریکنز کی وہ مشہور زمانہ کلہاڑیاں بھی تھیں جنہیں ٹوماہاک کہا جاتا ہے۔ تو انہی کلہاڑیوں سے انہوں نے چائے کے تین سو بیالیس صندوقوں کو چیر ڈالا اور پھر یہ صندوق اور ان میں بھری ہوئی پینتالیس ٹن چائے جس کی قیمت آج کی کرنسی میں دس لاکھ ڈالرز بنتی ہے پانی میں سمندر میں غرق کر دیے۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 8)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

اس واقعے کو تاریخ میں بوسٹن ٹی پارٹی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یعنی بوسٹن میں چائے کی دعوت۔ برطانوی حکومت نے اس حملے کے جواب میں باؤسٹن کی بندرگاہ تجارت کیلئے بند کر دی اور امریکہ میں مزید سخت قوانین نافذ کر دیئے۔ برطانوی حکومت اس ضائع شدہ چائے کی قیمت بھی امریکیوں سے وصول کرنا چاہتی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ تین ماہ بعد ایک اور واقعہ ہو گیا۔ مارچ سترہ سو چوہتر میں ایک بار پھر باؤسٹن کے شہریوں نے ایک جہاز پر حملہ کیا اور چائے سے بھرے تیس صندوق پانی میں پھینک دیئے۔

جب اس نئے واقعے کی خبر پھیلی تو دیگر امریکن کالونیز میری لینڈ، نیویارک اور ساؤتھ کیرولائنا کے ہاتھ بھی ایک آئیڈیا یہی آئیڈیا آ گیا۔ انھوں نے بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے جہازوں پر چڑھ چڑھ کر چائے کو سمندر برد کرنا شروع کر دیا۔ اب پورا امریکہ برطانیہ کے خلاف ایک ہوتا چلا جا رہا تھا۔ انقلاب اور آزادی کی لہر چل پڑی تھی مگر اس لہر کو سیاسی لیڈرشپ کی ضرورت تھی اور یہ لیڈرشپ اسے ملی کانگریس سے جس میں امریکہ کی تمام تیرہ کالونیز کے نمائندے شامل تھے۔

مائی کیوریس فیلوز امریکی شہر فیلی ڈلفیا میں یہ دو عمارتیں جو ایک دوسرے کے قریب قریب ہی واقع ہیں بہت مشہور ہیں تاریخی لحاظ سے۔ پہلی عمارت کارپینٹرز ہال ہے اور دوسری انڈیپنڈنس ہال۔ جب امریکہ آزادی کی راہ پر چل پڑا تو امریکن کالونیز کے نمائندے انہی دو عمارتوں میں اکٹھے ہو کر صورتحال پر غور کیا کرتے تھے۔ تمام کالونیز کے نمائندوں کی اس مشترکہ بیٹھک کو کانٹیننٹل کانگریس کا نام دیا گیا تھا۔

اس کانگریس کا پہلا اجلاس پانچ ستمبر سترہ سو چوہتر کو کارپینٹرز ہال میں ہوا۔ اس طرح اس کانگریس کی شکل میں امریکن کالونیز کی اپنی ایک باقاعدہ پارلیمنٹ وجود میں آ گئی اور اسی نے انقلابی تحریک کو منظم انداز میں لیڈ کرنا شروع کر دیا۔ کانگریس کے پہلے اجلاس میں ورجینیا سے جارج واشنگٹن بھی شریک ہوا تھا تو کانگریس نے ایک اعلامیہ یا ڈیکلریشن جاری کیا جس میں برطانیہ سے مکمل خودمختاری کا آزادی کا نہیں مکمل خود مختاری کا مطالبہ کیا گیا

اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ کالونیز کے مطالبات پورے ہونے تک برطانیہ کا تجارتی بائیکاٹ جاری رہے گا۔ سب سے اہم اعلان یہ تھا کہ برطانیہ کے مقابلے کیلئے امریکی ملیشیا بھرتی کی جائے گی یعنی مسلحہ فورس۔ چنانچہ جلد ہی امریکہ کے کئی علاقوں میں ملیشیا کی بھرتی اور ٹریننگ بھی شروع ہو گئی۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 8)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

کانگریس کے پہلے اجلاس کو دوستو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ طبلِ جنگ بج گیا اور تاریخی امریکن ریولوشنری وار شروع ہو گئی۔ اور اس کا اہم ترین اور پہلا محاذ تھا باؤسٹن کا محاذ۔ کانگریس نے امریکی ملیشیا تو بھرتی کرنا شروع کر دی تھی لیکن انگریزوں کی نظر میں یہ بغاوت تھی۔ ایک نجی فوج بھرتی کرنا ان کے لیے ایک غیر قانونی کام تھا۔ سو برطانوی فوج نے امریکی ملیشیا کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔ انھوں نے ملیشیا کے اڈوں پر چھاپے مارنا اور اسلحہ ضبط کرنا شروع کر دیا۔

ایسی ہی ایک کارروائی کے لیے برطانوی فوج کو اطلاع ملی کہ بوسٹن کے قریب ایک قصبے کنکارڈ میں ملیشیا نے ایک اسلحہ ڈپو بنا رکھا ہے۔ چنانچہ بوسٹن سے سات سو برطانوی فوجی اس اسلحہ ڈپو پر چھاپہ مارنے کیلئے بھیجے گئے۔ مگر باؤسٹن کا باغی پال ریویئر جس نے بلڈی میساکر والی پینٹنگ امریکہ میں پھیلائی تھی وہ آدھی رات کو گھوڑے پر سوار ہو کر ملیشیا کے پاس جا پہنچا اور اسے برطانوی حملے سے خبردار کر دیا۔

امریکی ملیشیا نے فوری طور پر یہ پلاننگ کی کہ اس کا ایک دستہ برطانوی فوجیوں کو کنکارڈ کے قریب لیکسنگٹن قصبے میں روک لے گا جبکہ باقی لوگ اسی دوران اسلحہ ڈپو سے ہتھیار نکال کر لے جائیں گے۔ چنانچہ صبح جب ریڈکوٹس کنکارڈ جاتے ہوئے لیکسنگٹن سے گزرنے لگے تو وہاں امریکی ملیشیا کے ستتر جوانوں نے ان کا راستہ روک لیا۔ ایک برطانوی میجر نے چیخ کر امریکی ملیشیا کے جوانوں کو حکم دیا او باغیو۔۔۔ ہتھیار پھینک دو۔

لیکن ملیشیا نے جواب میں فائر کھول دیا۔ ادھر سے برطانوی فوجیوں نے فائرنگ کی اور ملیشیا کے آٹھ اہلکاروں کو وہیں ڈھیر کردیا جبکہ سات زخمی ہو گئے۔ باقی جو بچے وہ بھاگ گئے لیکن ان کے مقابلے میں صرف ایک ریڈکوٹ کو کچھ زخم آئے۔ ریڈ کوٹس یہ پہلی جھڑپ جیتنے کے بعد بڑے پراعتماد انداز میں قصبے کنکارڈ پہنچ گئے، لیکن اب انہیں دیر ہو چکی تھی۔ ملیشیا والے اپنی پلاننگ کے مطابق اسلحہ ڈپو سے اپنے ہتھیار لے جا چکے تھے۔ مایوسی میں ریڈ کوٹس نے خالی ڈپو کو ہی آگ لگا دی۔ مگر جب وہ آگ لگا کر وہ باؤسٹن جانے کیلئے پلٹے تو ان کے لیے ایک اور سرپرائیز تیار تھا۔

امریکن ملیشیا کے ساڑھے تین ہزار جوان انہیں گھیر ے میں لے چکے تھے۔ ان جوانوں نے برطانوی فوج پر ریڈ کوٹس پر چاروں طرف سے گولیاں برسانا شروع کر دیں۔ برطانوی فوجی افراتفری کے عالم میں باؤسٹن کی طرف پسپا ہو گئے۔ لیکن شہر پہنچنے تک ان پر گولیاں برستی رہیں اور ان کی لاشیں گرتی رہیں۔ جب بھاگتے بھاگتے برطانوی فوجی باؤسٹن پہنچے تو ان کے اڑھائی سو ساتھی ہلاک یا زخمی ہو چکے تھے۔ جبکہ ان کے مقابلے میں امریکن ملیشیا کے محض نوے لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔

اس لڑائی سے ملیشیا کے حوصلے اتنے بڑھ گئے کہ انہوں نے باؤسٹن کا محاصرہ کر لیا۔ اس لڑائی کی خبر جب فیلی ڈلفیا پہنچی تو کانگریس کے رہنما سمجھ گئے کہ برطانیہ سے اب جنگ باقاعدہ جنگ شروع ہو گئی ہے۔ اور اسے ایک ڈھنگ سے لڑنے کے لیے ایک تجربہ کار کمانڈر کی ضرورت ہے۔ اور یہ کمانڈر ان کی بغل ہی میں موجود تھا۔ ورجینیا سے تعلق رکھنے والا جارج واشنگٹن اپنی ریاست کے نمائندےکے طور پر کانگریس کے اجلاس میں شرکت کیلئے آیا کرتا تھا۔

کانگریس کے لوگ جانتے تھے کہ جارج واشنگٹن برطانوی فوج کی کمان میں کرنل کے عہدے پر سرو کر چکا ہے۔ اس کے پاس فرانسیسیوں اور نیٹو امریکنز سے لڑائی کا تجربہ بھی تھا۔ چنانچہ انیس جون سترہ سو پچھتر کو کانگریس نے جارج واشنگٹن کو امریکن فوج جو اب کانٹیننٹل آرمی کہلاتی تھی اس کا کمانڈر انچیف بنا دیا۔ کہتے ہیں کہ یہ عہدہ ملنے پر جارج واشنگٹن کچھ گھبرایا ہوا تھا۔ کیونکہ جب اسے کمانڈر انچیف بنانے کا اعلان کیا گیا تو وہ کمرے سے بھاگ کھڑا ہوا۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 8)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

لیکن کچھ ہی دیر بعد بہرحال اس کے اوسان بحال ہوئے اور وہ سنبھل گیا۔ سو اب اس کمانڈر ان چیف کو اسی برطانوی فوج کا پیچھا کرنا تھا جو ابھی باؤسٹن کی طرف بھاگی تھی۔ جارج واشگنٹن کا پہلا مشن امریکا کا ساحلی شہر باؤسٹن آزاد کروانا تھا۔ سو وہ جون سترہ سو پچھتر کو اپنے پہلے ٹارگٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔ تین جولائی کو جارج واشنگٹن نے کیمبرج میں باقاعدہ طور پر امریکی فورسس کی کمان سنبھال لی۔ اس کے بعد اس نے بوسٹن کے گرد میدان جنگ کا مکمل جائزہ لیا۔

جلد ہی اسے معلوم ہو گیا کہ بوسٹن میں ان کے مقابلے میں انگریزوں کی پوزیشن بہت مضبوط ہے کیونکہ ان کے پاس بھاری توپیں تھیں اور بندرگاہ پر کھڑے برٹش نیوی کے جہاز بھی انہیں سپورٹ کر رہے تھے یعنی برٹش آرمی۔ بوسٹن کو فتح کرنے کیلئے ضروری تھا کہ شہر کے قریب کسی بلند مقام پر توپیں نصب کی جائیں جن سے شہر اور بندرگاہ پر کھڑے بر طانوی جہاز دونوں کو امریکنز اپنے نشانے پر لےآئیں۔ ایسے دو مقامات بوسٹن کے دونوں طرف موجود تھے۔

ان میں ایک جگہ تو یہ تھی جہاں یہ دو پہاڑیاں بنکر ہل اور بریڈز ہِل تھیں۔ جبکہ یہ دوسری جگہ ڈارچیسٹر ہائیٹس تھی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ ان دونوں پہاڑیوں پر یعنی بنکر ہل اور بریڈز ہل پر تو انگریزوں نے پہلے سے قبضہ کر رکھا تھا۔ اس جگہ کو ان سے واپس لینا کافی مشکل تھا۔ کیونکہ انگریزوں کے پاس ہائی گرونڈ تھا جبکہ یہ جگہ یعنی ڈارچیسٹر ہائیٹس ایسی جگہ تھی جہاں انگریزوں کی نظر سے بچ کر پہنچنا تقریباً ناممکن تھا۔

جارج واشنگٹن کے پاس اس وقت شہر پر حملے کیلئے بھاری توپیں بھی موجود نہیں تھیں اس لئے ڈارچیسٹر ہائیٹس پر حملہ کرنا ابھی اس کی نظر میں بیکار تھا۔ یعنی ان ہائیٹس پر قبضہ کرنااس کی نظر میں ابھی کوئی معنی نہیں رکھتا تھا ممکن نہیں تھا یوں بظاہر امریکنز کی پوزیشن بوسٹن میں کمزور تھی۔ مگر جارج واشگنٹن کے آنے سے پہلے ہی امریکی فورسز نے بوسٹن کو جانے والے سارے زمینی راستے بند کر کے انگریزوں کو گھیر رکھا تھا۔

امریکیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔ چنانچہ واشنگٹن نے بھی محاصرہ جاری رکھنے ہی کو ترجیح دی اور بوسٹن پر ہلکی توپوں سے بمباری کا سلسلہ جاری رکھا یعنی برطانوی فورسز پر۔ اس کے ساتھ ہی دنوں فوجوں میں چھوٹی موٹی معمول جھڑپیں بھی ہوتی رہیں۔ اس لڑائی میں دوستو کئی ماہ گزر گئے اور جنوری سترہ سو چھہتر شروع ہو گیا۔ اس ماہ جارج واشنگٹن کو ایک ایسی مدد ملی کہ بوسٹن کی لڑائی میں جو سٹیل میٹ ہو گیا تھا وہ ٹوٹ گیا۔

دراصل جس وقت یہ محاصرہ جاری تھا عین اسی وقت کئی دوسرے محاذوں پر بھی امریکن فوج، برطانوی فورسز سے لڑ رہی تھی۔ تو جنوری سترہ سو چھہتر میں ایسے ہی دوسرے محاذوں سے امریکن فوجیوں نے برطانوی فوج سے چھینا ہوا اسلحہ باؤسٹن بھیجنا شروع کر دیا۔ برفیلے راستوں پر بیلوں کی مدد سے پچاس توپیں بھی کھینچ کھنچ کر باؤسٹن پہنچا دی گئیں۔ یہ ایک بہت ہی بڑی مدد تھی جو جارج واشنگٹں کو ملی تھی۔ سو چار مارچ کی رات جارج واشنگٹن نے ایک ہیروئک ایکٹ کیا۔

اس نے انگریزوں کو سرپرائز دیا اور ناقابل یقین موو کرتے ہوئے شہر کے پاس اس دوسرے بلند مقام ڈارچیسٹر ہائیٹس پر توپیں پہنچا دیں اور انگریزوں کے سنبھلنے سے پہلے ہی یہاں مورچے بنا کر اپنی پوزیشن مضبوط کر لی۔ اب یہ وہ جگہ تھی جہاں سے انگریزوں کی مختصر سی فوج اور جنگی جہاز دونوں کو آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔ انگریزوں سے صبح آنکھ کھولی اور بدلا ہوا منظر دیکھا تو باؤسٹن کے دفاع سے مایوس ہو گئے۔

سترہ مارچ کو انگریز فوج شکست کے بعد بحری جہازوں میں بیٹھ کر شہر سے نکل گئی اور امریکی فوج کو اپنی جنگ آزادی میں پہلی فیصلہ کن فتح مل گئی باؤسٹن پر امریکی پرچم لہرانے لگا تھا۔ باؤسٹن ہاتھ سے نکلنے کا مطلب تھا کہ برطانیہ کے ہاتھ سے ایک اہم ترین بندرگاہ نکل چکی ہے۔ سو انھوں نے اب دوسری اہم بندرگاہ نیویارک پر حملے کا فیصلہ کیا تاکہ اسے اپنی سپلائی لائن بنا کر بغاوت کو کچل سکیں۔ جارج واشنگٹن بھی ایک جنگجو کمانڈر تھا وہ انگریزوں کی اگلی موو سمجھ رہا تھا۔ سو اس نے بیس ہزار فوج کے ساتھ نیویارک کا دفاع اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

سولہ سو بائیس، سکسٹین ہنڈرڈ ٹونٹی ٹو میں ایسے ہی ایک حملے میں عورتوں اور بچوں سمیت تین سو سینتالیس، تھری فورٹی سیون انگریز مارے گئے۔ ان میں پوکاہؤنٹس کا شوہر جان رالف بھی شامل تھا جو اپنی بیوی کی موت کے بعد ورجینیا لوٹ آیا تھا اور وہی رہتا تھا۔ لیکن اس قتل عام سے بھی انگریزوں کی آبادکاری سیٹلمنٹ رک نہیں سکی اور انگریز پوہاٹنز کو شکست پر شکست دے کر ان کی زمینیں ہتھیاتے رہے۔ انگریزوں کے پاس بندوقوں کی سپورٹ کے علاوہ کچھ ایسے نیٹو امریکنز کی مدد بھی شامل تھی جو پوہاٹن قبائل کے دشمن تھے۔

جب جارج واشنگٹن نیویارک پہنچا تو اس دوران اس کے پیچھے سے فیلی ڈلفیا میں ایک تاریخی پیش رفت ہوئی۔ یہ انقلابی پیش رفت امریکہ کا اعلان آزادی تھا۔ یعنی اب امریکہ نے خود مختاری سے آگے بڑھ کر آزادی کا اعلان کر دیا تھا چار جولائی سترہ سو چھئیتر کو کانگرس نے فیلی ڈیلفیا میں اعلان آزادی جاری کیا اور اسی تاریخ کو آج امریکہ میں یومِ آزادی منایا جاتا ہے۔ لیکن جارج واشنگٹن اس انقلابی دستاویز پر دستخط نہیں کر سکا۔

دوستو اعلان آزادی کے ایک ماہ بعد، اگست کے مہینے میں اگست کے آخر میں تیس ہزار سے زائد برطانوی فوج نے نیویارک پر حملہ کر دیا۔ برٹش نیوی کا چار سو بحری جہازوں کا بیڑہ جو بھاری توپوں سے لیس تھا وہ بھی اس لڑائی میں حصہ لے رہا تھا اور اپنی طاقتور توپوں سے امریکنز پر گولے برسا رہا تھا۔ برٹش نیوی اور آرمی کی اس میسو، زبردست فائر پاور نے کچھ ہی دنوں میں امریکنز کے کُشتوں کے پشتے لگا دیئے

اور پندرہ ستمبر تک انگریزوں نے نیویارک ریاست کے نیویارک شہر پر قبضہ کر لیا۔ قبضہ تو ہو گیا لیکن جارج واشنگٹن نے صحیح وقت پر پیچھے ہٹ کر اپنی فوج کو گھیرے میں آنے سے بہرحال بچا لیا۔ اور بڑی تعداد میں اپنے سپاہیوں کی جانیں بھی بچا لی اب انگریزوں کے پاس ایک موقع تھا کہ وہ ایک بڑا حملہ کر کے امریکنز کی بغاوت کو ونس اینڈ فار آل کوکچل کر رکھ دیں ہمیشہ کے لیے۔ یہ حملہ انگریزوں نے کینیڈا کی طرف سے کرنے کا پروگرام بنایا کیونکہ یہاں پر برطانوی فورسز بہت سٹنورنگ تھیں۔

اور یہ پہلا حملہ جو کینیڈا کی طرف سے کیا جانا تھا یہ حملہ امریکی ریاست نیویارک پر کیا جانا تھا کیونکہ اس ریاست کا مرکزی شہر نیویارک سٹی تو انگریزوں کے قبضے میں تھا مگر باقی ریاست ان کے کنٹرول میں نہیں تھی اس پر امریکنز کا قبضہ تھا۔ انگریزوں کا پلان یہ تھا کہ وہ نیویارک کی باقی ریاست پر قبضہ کرکے نیویارک سٹی سے زمینی رابطہ بحال کر لیں گے۔ کیونکہ نیویارک سٹی، ایک جزیرہ نما تھا جیسا کہ آپ نقشے میں دیکھ رہے ہیں۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 8)

اور دوسرا فائدہ انگریزوں کو یہ ملتا تھا کہ امریکی ریاستیں دو حصوں میں بٹ جاتی اور انگریزوں کو بھرپور ملٹری فائدہ ملتا چنانچہ اس پلان کےمطابق جون سترہ سو ستتر میں برطانوی جنرل جان برگوئین نو ہزار فوجیوں کے ساتھ کینیڈا کی طرف سے امریکی ریاست نیویارک پر حملہ آور ہوگیا۔ اس کا ٹارگٹ ریاست نیویارک کا شہر ایلبنے تھا، اور اس شہر پر قبضے کا مطلب یہ تھا کہ برطانوی فوج جلد ہی نیویارک سٹی سے زمینی رابطہ بحال کر لے گی اور نیو انگلینڈ کا یہ سارا علاقہ باقی امریکہ سے کٹ کر واپس انگریزوں کے کنٹرول میں چلا جائے گا۔

اب نیو انگلینڈ تو آپ جانتے ہیں کہ امریکن جنگ آزادی کا گڑھ تھا باؤسٹن جہاں سے آزدی کی لڑائی شروع ہوئی تھی وہ بھی نیو انگلینڈ میں ہی تھا۔ تو نیو انگلینڈ پر قبضے کا مطلب تھا امریکی جنگِ آزادی کا خاتمہ، دی اینڈ۔ جنرل برگوئین کو شکست دینا امریکنز کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا تھا۔ چنانچہ ہزاروں امریکن فوجی اس محاذ پر پہنچ گئے۔ یہاں انھوں نے آمنے سامنے مقابلے کے بجائے جنگل میں پھیل کر گوریلا سٹائل میں جنگ کرنا شروع کر دی۔

امریکن نشانے باز درختوں کے پیچھے چھپ کر اور تاک تاک کر انگریز افسروں اور ان کے نیٹو گائیڈز کو نشانہ بنا کر فرار ہونے لگے۔ اس لڑائی میں انگریزوں کا اس قدر جانی نقصان ہوا کہ ’ایل بنے‘ سے چالیس، پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر سارا ٹوگا پہنچ کر ان کی ہمت ہی جواب دے گئی۔ انگریزوں نے ساراٹوگا کے ایک زرعی فارم میں پناہ لی اور اس کے اردگرد باڑ وغیرہ لگا کر ڈیفنسیو پوزیشن لے لی۔

لیکن یہاں اب امریکنز کا پلڑہ بھاری ہونا شروع ہوا کیونکہ انیوں نے ڈیفنسیو پوزیشن لیے ہوئے برطانوی فوجیوں کو گھیر لیا تقریباً بیس ہزار امریکنز تھے جہنوں نے ان کو سارا ٹوگا کے قریب اس فوم میں گھیرے میں لے لیا تھا اور اب ان برطانویوں پ حملے شروع کر دیے تھے۔ انگریزوں نے امریکنز کا گھیرا توڑنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ تھک ہار کر جنرل برگوئین نے سترہ اکتوبر سترہ سو ستتر، سیونٹین سیونٹی سیون کو پانچ ہزار برطانوی فوج کے ساتھ امریکن جنرل گیٹس کے سامنے سرنڈر کر دیا۔ انگریزوں کی یہ شکست امریکن جنگِ آزادی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔

امریکی فوج کی اس کامیابی سے متاثر ہو کر فرانس، سپین اور نیدر لینڈز جو برطانیہ کے دشمن تھے اور اس سے ماضی میں شکستیں کھا چکے تھے انہوں نے بھی برطانیہ کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ انھوں نے برطانوی فوج کے خلاف امریکہ کے اندر اور باہر مختلف مقامات پر محاذ گرم کر دئیے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے تجربہ کار سولجرز نے امریکی فوج کی مدد بھی کی اور یہ مدد انہوں نے کی ویلی فورج کے علاقے میں جہاں واشنگٹن اپنی فوج کے ساتھ موسمِ سرما گزارنے آیا ہواتھا۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 8)

وہ یوں کہ سترہ سو ستتر کی سردیوں میں جارج واشنگٹن دس ہزار امریکن فوج کے ساتھ امریکی ریاست پنسلوینیا کے علاقے ویلی فورج آرام کرنے کے لیے چلا آیا تھا۔ کیونکہ برف باری میں جنگ تو ممکن نہیں تھی۔ مگر ہوا یہ کہ جب برفباری شروع ہوئی تو یہاں اس کی فوج کا جینا حرام ہو گیا۔ سردی، بھوک اور بیماری سے اڑھائی ہزارامریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ لیکن اس ساری مشکلات کے باوجود ویلی فورج میں امریکنز کو ایک بہت بڑی مدد بھی ملی۔

یہاں فرانسیسی جرنیل مارکس لافیٹ اور ایک سابق جرمن ملٹری آفیسر سٹیوبون نے انھیں انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کی تربیت دی۔ چنانچہ جب موسمِ سرما ختم ہوا تو امریکن فوج جو یہاں بھوک اور بیماری سے لڑ رہی تھی اب ایک زبردست ماڈرن فائٹنگ فورس بن کر باہر نکلی۔ اس کے بعد اگلے تقریباً چار برس تک جنگ میں اتار چڑھاؤ آتے رہے۔ جارج واشنگٹن کی کوشش تھی کہ وہ انگریزوں کی ایک بڑی فوج کو اُسی طرح گھیرے میں لے آئے جیسے سارا ٹوگا میں جنرل برگوئین کی فوج کو امریکی فورس گھیرے میں لے آئی تھی اور انہیں سرنڈر بھی کیا تھا۔

اور پھر دیکھیے کہ ستمبر سترہ سو اکیاسی میں انگریز کمانڈر جنرل لارڈ کارنوالس یارک ٹاؤن ورجینیا میں اس کے گھیرے میں آ گیا۔ اس کے پاس سات ہزار سے زائد برطانوی فوج اور بڑی تعداد میں ہتھیار تھے۔ یہ دوستو وہی لارڈ کارنوالس تھا جس نے بعد میں ہندوستان میں آ کر ٹیپو سلطان سے جنگ لڑی تھی اور پہلی شکست دی تھی۔ تو سترہ سو اکیاسی میں یہی لارڈ کارنوالس یارک ٹاؤن میں پھنس چکا تھا۔ جارج واشنگٹن نے بیس ہزار سے زائد امریکی اور فرانسیسی فوج کے ساتھ یارک ٹاؤن کو گھیر لیا اور اس پر بمباری شروع کروا دی۔

جنرل کارنوالس کے پاس بچ نکلنے کا صرف ایک راستہ تھا اور وہ تھا سمندر۔ کیونکہ یہیں سے برطانوی بحریہ کے جہاز اس کی مدد کیلئے آ سکتے تھے۔ مگر پانچ ستمبر کو فرنچ نیوی، فرانس کی بحری فوج نے یارک ٹاؤن کے قریب انگریزوں کو ہرا کر یہ سپلائی لائن کاٹ دی۔ دوسری طرف امریکن فوج نے یارک ٹاؤن کے باہر انگریزوں کی ڈیفنسیو پوزیشنز پر زبردست حملے شروع کر دیئے۔ کچھ ہی دنوں میں لارڈ کارنوالس مایوس ہو گیا۔ سترہ اکتوبر کو لارڈ کارنوالس نے جارج واشنگٹن کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ ہتھیار ڈالنے کےلیے سرنڈر کیلئے تیار ہے۔

سترہ سو بیاسی، سیونٹین ایٹی ٹو میں فرانس میں مذاکرات شروع ہوئے جن میں امریکہ کی طرف سے بنجمن فرینکلن، جان ایڈمز اور جان جے نے امریکی کانگریس کی نمائندگی کی۔ برطانیہ شروع میں جنگ ختم تو کرنا چاہتا تھا مگر امریکہ کو آزادی دینے پر یا ان کا جو آزادی کا ڈیکلریشن تھا وہ ماننے پر تیار نہیں تھا دوسری طرف امریکی نمائندے اپنی آزاد حیثیت منوائے بغیر جنگ ختم کرنے پر تیار نہیں تھے۔ لیکن مہینوں پر محیط طویل مذاکرات کے بعد فتح امریکیوں ہی کی ہوئی اور برطانیہ امریکہ کی آزادی تسلیم کرنے پر مان گیا۔

تین ستمبر سترہ سو تراسی کو پیرس میں وہ تاریخی معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت امریکہ ایک آزاد ملک بن گیا۔ اس معاہدے کی سب سے خاص بات یہ اس ایگریمینٹ کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ برطانیہ نے سترہ سو تریسٹھ میں فرانس سے جو علاقے چھینے تھے یہ علاقے بھی برطانیہ نے امریکہ کے حوالے کر دیئے۔ ان علاقوں میں موجودہ اوہائیو، مشی گن اور کئی دوسری ریاستوں کی زمین شامل تھیں۔ امریکہ کو یہ علاقے دینے کے علاوہ انگریزوں کو فلوریڈا بھی سپین کو واپس کرنا پڑا۔

یوں یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ میں برٹش ایمپائر کا سورج ہمیشہ کیلئے غروب ہو گیا۔ پیرس معاہدے کے بعد انگریزوں نے نیویارک شہر کو بھی خالی کر دیا اور پچیس نومبر سترہ سو تراسی کو جارج واشنگٹن ایک فاتح کی حیثیت میں نیویارک شہر میں داخل ہو گیا۔ پیرس معاہدے کے چار برس بعد سترہ سو ستاسی میں امریکہ کا آئین بھی مکمل کر لیا گیا۔

اس آئین کے تحت سترہ سو نواسی، سیونٹین ایٹی نائن میں امریکہ کے پہلے صدارتی الیکشن ہوئے اور ان میں امریکن جنگِ آزادی کے ہیرو جارج واشنگٹن کو پہلا صدر چن لیا گیا۔ جان ایڈمز جس نے باؤسٹن کے قتل عام میں ملوث برطانوی فوجیوں کو بچایا تھا وہ امریکہ کا پہلا نائب صدر بنا۔

لیکن دوستو جارج واشنگٹن کو جو امریکہ ملا تھا وہ تو آج کے امریکہ سے تقریباً آدھا تھا۔ تو امریکہ اس ادھورے سے آدھے ملک سے بڑھ کر پچاس ریاستوں پر مشتمل یہ وسیع و عریض ملک کیسے بنا؟ امریکہ کی آزادی کے بعد بھی اس کی برطانیہ سے دوبارہ جنگ کیوں ہوئی؟ امریکہ میں رہنے والے لاکھوں نیٹو امریکنز کا کیا ہوا؟ کیا امریکہ ایک سٹولن کنٹری یا چُرایا ہوا ملک ہے؟

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 8)

History Of America Urdu , History Of America Urdu Episode 1 , History Of America Urdu Episode 2 , History Of America Urdu Episode 3 , History Of America Urdu Episode 4 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 6 , History Of America Urdu Episode 7 , History Of America Urdu Episode 8

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: