History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 10) Free | Columbus discovers America

Now ♥History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 10) Free | Columbus discovers America | History of America Read Urdu Article And Watch Play YouTube Video By Famous YouTube Channel Dekho Suno Jano ( Faisal Warraich ) | History Of America Urdu | History Of America Urdu Free | History Of America Urdu True

PAkistanwap.pk

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 10 ) Play Now!

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 10) Free | Columbus discovers America And History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ Click Hear !

سترہ سو چھہتر، سیونٹین سیونٹی سِکس میں جب امریکہ نے آزادی کا اعلان کیا تو اس کے پرچم میں صرف تیرہ ستارے تھے جو اس کی تیرہ ریاستوں کو ظاہر کر رہے تھے۔ لیکن اپنی آزادی کے تقریباً دو سو برس بعد جب امریکہ نے اپنا جھنڈا چاند پر گاڑا تو اس میں پچاس ستارے تھے۔ یہ ففٹی سٹارز کیسے امریکی پرچم کا حصہ بنے؟

اور دوستو یہ منرو ڈاکٹرائن کیا تھا جس نے امریکہ کو سپرپاور بنا دیا۔ اٹھارہ سو چودہ، ایٹین فورٹین میں جب امریکہ اور برطانیہ کی دوسری جنگ ج سے امریکی قوم اپنی دوسری جنگِ آزادی بھی سمجھتی ہے وہ ختم ہوئی تو امریکہ ایک نئے دور میں قدم رکھ چکا تھا۔ یہ امریکہ ہی نہیں بلکہ یہ پورا خطہ جسے شمالی اور جنوبی امریکہ کہا جاتا ہے یہ سیاسی اور جغرافیائی طور پر بدل رہا تھا اور اس بدلتی دنیا اور نئے دور میں امریکہ کا ایک نیا رول ایک نیا کردار طے ہو رہا تھا

ایک علاقائی تھانے دار کا رول ہوا یہ تھا کہ اٹھارہ سو بیس کی دہائی یعنی ایٹین ٹوینٹیز سے پہلے میکسیکو سے ارجنٹائن تک یہ سارا خطہ جسے لیٹن امریکہ یا لاطینی امریکہ کہا جاتا ہے سپین اور پرتگال کے قبضے میں تھا۔ لیکن ایٹین ٹونٹیز میں یہ علاقے سپین اور پرتگال سے آزاد ہو گئے۔ یہ ایک بہت بڑا انقلاب تھا کیونکہ اس خطے میں پہلی بار یورپی طاقتوں کا اثرورسوخ کافی کم ہو گیا تھا۔ لیکن دوستو یہ خطرہ بہرحال موجود تھا

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

کہ کوئی یورپی طاقت دوبارہ کسی وقت لاطینی امریکہ کے کسی آزاد ملک پر پھر قبضہ نہ کر لے۔ کیونکہ یہ ملک آزادی کے بعد بھی بہت طاقتور نہیں تھے کمزور تھے اور سیاسی طور پر بھی اتنے مستحکم، سٹیبل نہیں تھے ابھی ان کے اندرونی حالات مستحکم نہیں ہوئے تھے۔ ان حالات میں امریکہ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ان ممالک کی حفاظت خود کرے گا اور جو یورپی طاقت ان ممالک پر حملہ کرے گی اس سے جنگ کرے گا۔

امریکہ کا یہ فیصلہ میکسیکو کی سپین سے آزادی کے دو برس بعد اٹھارہ سو تئیس، ایٹین ٹوئنٹی تھری میں منرو ڈاکٹرائن کی شکل میں سامنے آیا۔ دو دسمبر اٹھارہ سو تئیس کو امریکی صدر جیمز منرو نے کانگریس کے نام اپنے ایک پیغام میں امریکہ کی نئی فارن پالیسی سٹیٹمنٹ جاری کی جسے منرو ڈاکٹرائن کا نام دے دیا گیا۔ چار نکات، پر مشتمل منرو ڈاکٹرائن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اب کسی یورپی طاقت کو شمالی یا جنوبی امریکہ میں کسی ملک پر قبضہ نہیں کرنے دے گا۔

اگر کسی یورپی طاقت نے یہاں کسی بھی ملک پر دوبارہ قابض ہونے کی کوشش کی تو اسے امریکہ پر حملہ تصور کیا جائے گا یا ایک ہوسٹائیل ایکٹ کے طور پر لیا جائے گا۔ لیکن امریکہ یورپی ممالک کی آپسی لڑائیوں میں کسی کا فریق نہیں بنے گا۔ اس کے علاوہ شمالی اور جنوبی امریکہ میں یورپ کی جو تھوڑی بہت کالونیز رہ گئی تھیں ان میں بھی امریکہ مداخلت نہیں کرے گا۔

یہ چار نکات تھے اس ڈاکٹرائن کے تو مائی کیوریس فیلوز منرو ڈاکٹرائن امریکہ کو سپرپاور بنانے کی طرف ایک اہم قدم تھا کیونکہ اس میں امریکہ نے اپنےخطے میں ایک خاص کردار ایک پرٹیکولر رول اپنے ذمے لے لیا تھا۔ یوں لاطینی امریکہ میں آنے والی سیاسی تبدیلی نے منرو ڈاکٹرائن کے ذریعے امریکہ کے سپرپاور بننے کی راہ ہموار کر دی۔ لیکن دوستو صرف ڈاکٹرائن یا پالیسی سٹیٹمنٹ کی بنیاد پر تو کوئی ملک سپرپاور نہیں بن سکتا۔

کسی ملک کو سپرپاور بنانے کیلئے زبردست افرادی قوت ، ذہین لوگ، مین پاور ایک بڑا رقبہ، بے پناہ قدرتی وسائل، وسیع سمندری حدود، مضبوط اکانومی اور طاقتور فوج کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ سب فی الحال تو امریکہ کے پاس نہیں تھا۔ ان حالات میں منرو ڈاکٹرائن کے چار نکات چھوٹا منہ بڑی بات والا حساب تھا۔

رقبے کے لحاظ سے دیکھیں تو امریکہ کی حدود مشرق میں تیرہ کالونیز سے شروع ہو کر مغرب میں لویزیانا ٹیریٹری تک جہاں آج مونٹانا اور وایومنگ کی ریاستیں ہیں وہاں تک ختم ہو جاتی تھیں۔ اس کے مغرب میں اوریگن کنٹری یا اوریگن ٹیریٹری کی حدود تھیں جو کہ ایک متنازعہ علاقہ تھا۔ اس علاقے پر امریکہ اور برطانیہ کا مشترکہ کنٹرول تھا۔ یعنی یہ علاقہ ابھی سرکاری طور پر امریکہ یا برطانیہ میں سے کسی کا مکمل حصہ نہیں بنا تھا۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 10)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

امریکہ کے جنوب مغرب میں لویزیانا اور اوکلاہاما کے نیچے یہ ٹیکساس سے کیلیفورنیا تک کا علاقہ بھی امریکہ کے کنٹرول میں نہیں تھا بلکہ میکسیکو کا حصہ تھا۔ کیلیفورنیا اور اوریگن ٹیریٹری نے امریکہ کا پیسفک اوشن تک پہنچنے کا راستہ بلاک کر رکھا تھا۔ اس لئے امریکہ کی سمندری حدود بھی بہت تھوڑی تھی۔

امریکہ کے پاس صرف یہ اٹلانٹک اوشن والے مشرقی ساحل کا کچھ حصہ ہی تھا۔ اگرچہ امریکہ نے اٹھارہ سو انیس میں ریاست فلوریڈا کو سپین سے خرید کر اپنی سمندری حدود بڑھا لی تھیں اور رقبہ بھی مگر یہ جنوب میں نیچے کی طرف ٹیکساس والا ساحل ابھی اسے نہیں ملا تھا یہ اس وقت تک میکسیکو ہی کا حصہ تھا۔ رقبے اور سمندری حدود کی کمی کے علاوہ امریکہ کے ساتھ دوستو تیسرا مسئلہ یہ تھا کہ امریکہ فوجی لحاظ سے بھی ابھی کافی کمزور تھا۔

اٹھارہ سو بیس کی دہائی، ایٹین ٹوئنٹیز میں امریکہ کے پاس باقاعدہ،ریگولر فوج کی تعداد بہت ہی کم تھی بلکہ نہ ہونے کے برابر تھی۔ امریکہ عام طور پر ایک وقت میں دس، پندرہ ہزار سے زیادہ ریگولر فوجی اپنے پاس نہیں رکھتا تھا۔ یہ فوجی بھی صرف اہم قلعوں اور شہروں کی حفاظت کیلئے تعینات ہوتے تھے۔ ریاستوں کا تحفظ، وہاں کی لوکل ملیشیا خود ہی کرتی تھی جبکہ کسی جنگ وغیرہ کی صورت میں فوج کی کمی ریاستوں سے جمع ہونے والے ضاکار پوری کرتے تھے

انہیں بھرتی کر کے ایک عارضی فوج بنائی جاتی تھی۔ امریکی فوج کی تعداد میں کمی کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس کی ریاستیں جو بہت زیادہ خودمختار تھیں وہ مرکز کے پاس طاقتور فوج رکھنے کے حق میں نہیں تھیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ابھی امریکہ کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں تھے کہ وہ ایک بڑی اور طاقتور فوج افورڈ کر سکیں۔ زمینی فوج کے علاوہ امریکہ کے پاس کوئی طاقتور بحری بیڑہ سمندروں میں گشت کرنے والا بحری بیڑہ اور شیپس بھی موجود نہیں تھے۔

تو اب ان مسائل کی موجودگی میں امریکی سرکار یہ سوچ رہی تھی کہ کم وسائل کے ساتھ امریکہ ایک بڑی طاقت نہیں بن سکتا۔ اگر بڑی فوج اور بحری بیڑے بنانے ہیں تو ان کے ملک کو مزید رقبہ اور وسائل بہت زیادہ چاہیے ہوں گے تاکہ امریکہ کی اکانومی ایک طاقتور انٹرنیشنل لیول کی یا ریجنل لیول کی پاورفل فوج کے اخراجات برداشت کر سکے۔

امریکی لیڈرز کو یہ احساس تھا کہ اگر انہیں مشرقی سمندر اٹلانٹک اوشن کے ساتھ ساتھ اپنے مغربی سمندر یعنی پیسفک اوشن بحرالکاہل تک بھی رسائی مل جائے تو ان کا رقبہ اور سمندری حدود دونوں بہت بڑھ جائیں گی۔ چنانچہ امریکہ کو سپرپاور بنانے کیلئے انہوں نے پیسفک اوشن تک پہنچنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ لیکن مائی کیوریس فیلوز پیسفک اوشن بحر الکحل تک پہنچنا اور رقبہ بڑھانا آسان نہیں تھا۔ ہم نے آپ کو پہلے دکھایا ہے

کہ پیسفک اوشن تک پہنچنے کے لیے یہ دونوں راستے یعنی اوریگن ٹیریٹری اور کیلیفورنیا تو امریکہ کےکنٹرول میں ہی نہیں تھے۔ تو اب امریکہ کے سامنے یہ دو چیلنجز تھے کہ وہ کیلیفورنیا اور اوریگن ٹرییٹری کو کیسے اپنے مکمل کنٹرول میں لے آئے۔ اس حوالے سے امریکہ کو ایک کامیابی تو دوستو بہت جلد مل گئی۔ امریکہ کو ٹیکساس کا پورا علاقہ مل گیا اور وہ بھی بغیر کسی جنگ اور سودے بازی کے۔

اس کی وجہ تھی میکسیکو کی ایک غلطی جو کچھ ہی برس بعد ان کے اپنےگلے پڑ گئی۔ ہوا یہ کہ میکسیکو نے جب اٹھارہ سو اکیس میں سپین سے آزادی حاصل کی تو اس وقت ٹیکساس ایک بہت بڑا علاقہ تھا۔ اس میں امریکہ کی موجودہ چار دوسری ریاستوں کا بھی بہت سا علاقہ شامل تھا۔ مگر یہ اتنا بڑا علاقہ زیادہ تر غیرآباد تھا۔ اس علاقے کو آباد کرنے کیلئے میکسیکو نے یہ کیا کہ امریکہ سے سفید چمڑی والوں کو سفید فاموں کو اپنے ہاں بلانا اور بسانا شروع کر دیا۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 10)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

جس سے چند ہی برس میں ان کی آبادی ریاست میں رہنے والے میکسیکو کےپرانے باشندوں سے زیادہ ہو گئی۔ اس دوران ان نئے بسنے والے سفید فاموں کے میکسیکو کی سرکار سے اب اختلافات بھی شروع ہو گئے۔ ان اختلافات کی سب سے بڑی وجہ تھی سیاہ فام غلام۔ میکسیکو نے آزادی کے بعد اپنے ملک میں غلامی پر پابندی لگا دی تھی۔ لیکن ٹیکساس کے امریکی آبادکار غلامی کو برقرار رکھنا چاہتے تھے

اپنی زرعی ضروریات کی وجہ سے چنانچہ انہوں نے میکسیکو سے ان کی سرکار سے بغاوت کر دی۔ ان آبادکاروں نے اٹھارہ سو چھتیس میں ٹیکساس کی آزادی کا اعلان بھی کر دیا۔ میکسیکو کی فوج نے ان آبادکاروں کا مقابلہ تو کیا مگر اپنا علاقہ واپس نہ لے سکی اور یوں ٹیکساس ایک آزاد ملک بن کر ابھرگیا۔ دوستو میکسیکو نے امریکی آبادکاروں کو اپنے ہاں بُلا کر بسانے کی جو غلطی کی تھی وہ اس کے گلے پڑ گئی۔

بلکہ ان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکی تھی اب ٹیکساس پر امریکیوں کی حکومت تھی جو وہاں سے نقل مکانی کر کے ہی یہاں آئے تھے لیکن وہ اپنے مدر کنٹری یعنی یونائیٹڈ سٹیٹس کے ساتھ اب الحاق کرنا چاہ رہے تھے۔ انہوں نے امریکی حکومت سے کہا بھی کہ انہیں امریکہ میں یونائیٹڈ اسٹیٹ میں شامل کر لیا جائے لیکن امریکی حکومت کچھ سیاسی مسائل کی وجہ سے ٹیکساس کو امریکی یونین میں شامل کرتے ہوئے ہچکچا رہی تھی۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ ان دنوں امریکی ریاستیں، سیاہ فام غلاموں کو رکھنے کے معاملے میں دو دھڑوں میں بٹ چکی تھیں۔ کئی شمالی ریاستوں نے سیاہ فاموں کو غلام رکھنے کا سسٹم ختم کر دیا تھا جبکہ جنوبی ریاستوں میں یہ سسٹم، یہ سلیوری کی قبیح رسم برقرار تھی۔ تو امریکی حکومت میں جو لوگ غلامی کا خاتمہ چاہتے تھے وہ ٹیکساس کو امریکی یونین کا حصہ نہیں بنانا چاہتے تھے کیونکہ وہاں غلامی قائم تھی۔ تو اس سیاسی مخالفت کی وجہ سے ٹیکساس کے امریکی یونین کا حصہ بننے میں بہت وقت لگ گیا

لیکن آخر کار نو برس، نائن ایئرز کی تاخیر سے اٹھارہ سو پینتالیس میں غلامی کو قائم رکھنے کے حامی جیت گئے اور ٹیکساس امریکی یونین میں شامل کر لیا گیا۔ اس طرح ٹیکساس ایک پکے ہوئے پھل کی طرح امریکہ کی جھولی میں آن گرا۔ امریکہ کو ٹیکساس کیلئے میکسیکو سے کوئی جنگ نہیں لڑنا پڑی یہ کام اس کے امریکی نژاد شہریوں نے ہی کر دکھایا تھا۔ ٹیکساس کا امریکی یونین میں شامل ہونا امریکہ کی بہت بڑی کامیابی تھی لیکن اس سے بھی بڑی کامیابی امریکہ کو یہ ملی کہ ٹیکساس کے ایک متنازعہ علاقے پر قبضہ کرتے کرتے اسے کیلیفورنیا کا پورا علاقہ بھی مل گیا۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 10)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

ہوا یہ کہ ٹیکساس امریکہ کے ساتھ شامل تو ہو گیا تھا مگر ٹیکساس اور میکسیکو کے درمیان امریکہ کا بارڈر متنازعہ تھا اس پر کوئی ایگریمنٹ نہیں ہوا تھا۔ یہ خاصا بڑا علاقہ تھا جو دو دریاؤں، ریورگرانڈے اور ویور نیوسیز کے درمیان واقع تھا۔ امریکہ کا دعویٰ تھا کہ ٹیکساس کا بارڈر ریور گرانڈئے تک ہے یعنی دریائے نیوسیز اور ریوگرانڈئے کے درمیان کا سارا علاقہ امریکہ کی ملکیت ہے۔

جبکہ میکسیکو کا کہنا تھا کہ ٹیکساس کی حدود دریائے نیوسیز پر ختم ہو جاتی ہے۔ اس سے آگے ریو گرانڈئے تک کا علاقہ میکسیکو کا حصہ ہے۔ ابھی یہ تنازعہ چل رہا تھا کہ امریکی صدر جیمز پولک نے میکسیکو کو یہ پیشکش کی کہ وہ موجودہ نیو میکسیکو اور کیلیفورنیا کے علاقے جو کہ اس وقت میکسیکو کے پاس تھے انھیں تین کروڑ، تیس ملین ڈالرز کے بدلے فروخت کر دے۔

کسی بھی آزاد ملک کی طرح میکسیکو نے ظاہر ہے یہ پیشکش ٹھکرا دی اور اپنی زمین کا ایک انچ بھی بیچنے سے انکار کر دیا۔ اس پر امریکی صدر نے یہ زمین طاقت سے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن میکسیکو سے لڑائی شروع کرنے کیلئے طاقت سے یہ زمین چھینے کے لیے امریکہ کو کوئی بہانہ،کوئی ایکسکیوز چاہیے تھا تاکہ وہ یہ ثابت کر سکے کہ یہ جنگ زمین چھینے کی جو جنگ ہے یہ زمین کے لالچ میں نہیں دراصل حق اور انصاف کی خاطر کی گئی ہے۔

اب امریکی صدر نے یہ کیا کہ اس نے امریکی فوج کو ٹیکساس کے متنازع سرحدی علاقے میں دریائے نیوسیس کے پار بھیج دیا۔ امریکی فوجیوں نے میکسیکو کی سرحد کے بالکل قریب موجودہ براؤنز وِل کے پاس ایک قلعہ تعمیر کیا۔ اس قلعے کو بیس بنا کر یہ فوجی متنازعہ علاقے میں پٹرولنگ کرنے لگے۔ امریکہ کی اس اشتعال انگیزی،اس پرووکیشن پر میکسیکو خاموش نہیں رہا اس نے بھی جواب میں اپنی فوج متنازعہ علاقے میں داخل کر دی۔

پچیس اپریل اٹھارہ سو چھیالیس، ایٹین فورٹی سِکس کو میکسیکن اور امریکی فوجیوں کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی جس میں چودہ امریکن سولجرز مارے گئے۔ اس جھڑپ سے امریکی صدر کو وہ بہانہ مل گیا جس کی اسے تلاش تھی۔ اس نے امریکی کانگریس کے سامنے اعلان کیا کہ میکسیکو نے ہمارے علاقے میں حملہ کیا ہے اور امریکی سرزمین پر امریکی سولجرز کا خون بہایا ہے اس لئے ان کے خلاف اعلانِ جنگ کیا جانا چاہیے۔

کانگریس نے صدر کی بات مان لی اور میکسیکو کے خلاف اعلان جنگ کر دیا گیا اوریوں میکسیکو سے امریکہ کی جنگ شروع ہو گئی۔ امریکی فوج نے بیک وقت کئی مقامات سے میکسیکو پر حملہ کر دیا۔ امریکی فوج کا ایک حصہ مغربی میکسیکو میں داخل ہو کر کیلیفورنیا کی طرف بڑھنے لگا دوسرا حصہ ٹیکساس سے موجودہ میکسیکو کی حدود میں داخل ہوا اور تیسرا حصہ یعنی ایک امریکی بیڑہ وہ نیوآرلینز کی بندرگاہ سے میکسیکو پر دھاوا بول کر آگے بڑھنے لگا۔

یہ تینوں حملے مکمل طور پر کامیاب رہے اور ہر جگہ میکسیکو کی فوج کو بری طرح شکست ہوئی۔ امریکہ نے ناصرف یہ کہ کیلیفورنیا تک میکسیکو کا یہ سارا علاقہ فتح کر لیا بلکہ موجودہ میکسیکو کے اندر بھی کئی علاقے اپنے قبضے میں لے لیے۔ امریکہ کی جو فوج سمندر کی طرف سے میکسیکو پر حملہ آور ہوئی تھی اس نے ویراک روز کی بندرگاہ کے راستے میکسیکو میں زبردست پیش قدمی کرتے ہوئے ستمبر اٹھارہ سو سینتالیس میں میکسیکو کے دارالحکومت میکسیکو سٹی پردھاوا بول دیا۔

شہر کے باہر ایک حفاظتی قلعے پر قبضے کیلئے امریکیوں اور میکسیکن فوجیوں میں شدید لڑائی ہوئی۔ اس قلعے کا دفاع میکسیکو کی تاریخ کا ایک یادگار واقعہ ہے۔ کہتے ہیں یہاں پانچ ٹین ایجر کم عمر کے نوجوان ملٹری کیڈٹس نے امریکیوں کا آخر سانس تک مقابلہ کیا اور آخر اپنی جانیں دے دی۔ ایک چھٹے ملٹری کیڈٹ نے جب امریکیوں کو قلعے میں داخل ہوتے دیکھا تو میکسیکو کا پرچم اپنے جسم کے گرد لپیٹ کر وہ قلعے کی دیوار سے نیچے کود گیا تاکہ یہ پرچم امریکیوں کے ہاتھ نہ لگے اور وہ اس کی بے حرمتی نہ کر سکیں۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

آج ان چھے ملٹری کیڈٹس کو دا چلڈرن ہیروز کہا جاتا ہے۔ ان کیڈٹس کی موت کے بعد قلعے پر امریکیوں کا قبضہ ہو گیا۔ جب اس قبضے کی خبر میکسیکو سٹی کی محافظ فوج تک پہنچی تو وہ شہر خالی کرکے نکل گئے۔ اس فوج کے شہر سے پسپا ہونے کے بعد امریکیوں نے میکسیکو سٹی پر بھی اپنا پرچم لہرا دیا۔ میکسیکو سٹی امریکہ کے قبضے میں جانے کے بعد میکسیکو کی مزاحمت دم توڑ گئی اور جنگ بندی کیلئے مذاکرات شروع ہو گئے۔

دو فروری اٹھارہ سو اڑتالیس، ایٹین فورٹی ایٹ کو بالآخر جنگ بندی کا معاہدہ ہو گیا۔ اس معاہدے کے تحت میکسیکو نے ٹیکساس کو امریکہ کا حصہ تسلیم کر لیا لیکن صرف اتنا ہی نہیں دوستو بلکہ تیرہ لاکھ مربع کلومیٹر، ون پوائنٹ تھری ملین سکوئیر کلومیٹرز کا اضافی رقبہ بھی امریکہ میں شامل ہو گیا تھا۔

لیکن یہاں امریکہ کی سب سے بڑی کامیابی وہ تھی جس کا انھیں اپنی آزادی کے بعد سے انتظار تھا۔ امریکہ کو کیلیفورنیا بھی مل گیا تھا۔ یعنی اب وہ پیسفک اوشن بحرالکاہل کے ساحلوں کو چھونے لگے تھے۔ مشرقی ساحل کی تیرہ کالونیز سے مغربی ساحل تک چار ہزار کلومیٹر سے زائد کا یہ سفر امریکہ نے اپنی آزادی کے بہتر، سیونٹی ٹو ائیرز میں ہی طے کر ہی لیا تھا۔ امریکن فورفادرز کا، امریکہ بنانے والوں کا ایک بڑا اور طاقتور ملک قائم کرنے کا خواب حقیقت بن گیا تھا۔

اب امریکہ کے پاس ایک نہیں دو دو سمندر تھے۔ انھیں کی وجہ سے امریکہ کو تین براعظموں تک رسائی حاصل ہو گئی تھی۔ مشرق میں اٹلانٹک اوشن کے ذریعے امریکہ یورپ اور افریقہ کے قریب آ گیا تھا تو مغرب میں پیسفک اوشن کے ذریعے وہ ایشیا یعنی چین اور جاپان تک باآسانی پہنچ سکتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کو پیسفک اوشن تک زمینی رسائی صرف کیلیفورنیا ہی سے نہیں ملی بلکہ اوریگن کنٹری سے بھی مل گئی تھی۔

اٹھارہ سو چھیالیس میں وہ برطانیہ سے اوریگن کنٹری کے سٹیٹس پر بھی ایک معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت اوریگن کنٹری یا اوریگن ٹیٹری پر امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ کنٹرول والا معاملہ ختم ہو گیا اور یہ علاقہ امریکہ کا حصہ بن گیا۔ اب موجودہ ریاست واشنگٹن سے کیلیفورنیا تک پیسفک اوشن تک یہ سارا علاقہ سارا ساحل اب یونائیٹڈ سٹیٹس کا حصہ تھا۔ برطانیہ اور میکسیکو اس ساحل پر اپنے دعوؤں سے دستبردار ہو چکے تھے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکہ نے میکسیکو کا علاقہ چھیننے کے بعد اسے صرف ڈیڑھ کروڑ ڈالرز، پندرہ ملین ڈالرز معاوضہ دیا جبکہ پہلے وہ اسی زمین کے تین کروڑ، تیس ملین ڈالرز دینے کی افر کر چکا تھا۔ لیکن ظاہر ہے جنگ کے بعد میکسیکو اب مزید رقم مانگنے کی پوزیشن ہی میں نہیں رہا تھا۔

کیونکہ وہ جنگ ہار چکا تھا امریکہ نے امن معاہدے کے بعد میکسیکو سٹی سمیت کچھ علاقے تو انھیں واپس کر دئیے لیکن اس وقت تک امریکہ گن پوائنٹ پر میکسیکو سے اس کے ملک کا ایک تہائی، ون تھرڈ حصہ چھین چکا تھا۔ اب پیچھے بچتا تھا یہ آج کا چھوٹا سا میکسیکو جو امریکہ کے لیے مستقبل میں بھی کسی بڑے خطرے کا باعث نہیں بن سکتا تھا۔ یہ تھی وہ کامیاب پلاننگ اور پھر اس کی کامیاب ایگزیکیوشن جس نے امریکہ کو سپر پاور بننے میں بے پناہ مدد دی۔

دوستو جس وقت میکسیکو، اپنے علاقے کیلی فورنیا کو امریکہ کے سامنے صرف ڈیڑھ کروڑ ڈالرز میں سرنڈر کر رہا تھا تقریباً اسی وقت ایک بڑھئی، ایک کارپینٹر جیمز مارشل کو کیلی فورنیا ہی کے ایک دریا سے دو ارب ڈالرز ملے۔ وہ کیسے؟ دوستو یہ جو پانی کے اندر پہیا لگا ہے اور اس پر لکڑی کے تختے رکھے ہیں ٹھیک یہی وہ جگہ ہے جس کے قریب کارپینٹر جیمز کھڑا تھا۔ یہ جگہ اصل میں لکڑی کی ورکشاپ یا ’سا مِل‘ تھی جو دریا ’امریکن ریور‘ کے پانی سے چلائی جاتی تھی۔

جیمز اس مِل میں کام کرتا تھا۔ چوبیس جنوری اٹھارہ سو اڑتالیس کے دن جیمز کو دریا کے پانی میں کوئی چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی۔ اس نے غور کیا تو یہ سونے کے چھوٹے چھوٹے ذرات تھے جو پانی میں جا بجا بکھرے ہوئے تھے۔ یہ خبر امریکہ کے اس ساحل سے اس ساحل تک جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پورے امریکہ سے لاکھوں لوگ سب کچھ چھوڑچھاڑکر کیلیفورنیا کی طرف دوڑپڑے۔ سب کو سونا چاہیے تھا گولڈ چاہیے تھا۔

اس دور کو امریکی تاریخ میں گولڈ رش کہا جاتا ہے۔ اس دور میں کم از کم تین لاکھ لوگ امریکہ کے مختلف حصوں سے کیلیفورنیا میں آ کرآباد ہوئے۔ کیلیفورنیا گولڈ رش کے دور کم از کم سات، آٹھ برس تک جاری رہا اور اس میں دو ارب، ٹو بلین ڈالرز مالیت کا سونا دریاؤں کی خاک چھان کر نکال لیا گیا۔ دوستو ل گتا ہے کہ قدرت بھی امریکہ کے سپر پاور بننے میں اس کی مدد کر رہی تھی

کیونکہ اتنی دولت سے امریکن اکانومی کو بہت بڑا سہارا مل گیا تھا اور اب وہ اس قابل ہو گیا تھا کہ ایک طاقتور فوج آفوڈ کر سکیں تو یوں کیلیفورنیا اور اوریگن کنٹری کو حاصل کر کے امریکہ اپنے مغربی ساحل یعنی پیسفک اوشن تک پہنچ گیا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر پیسفک اوشن کے ساحل پر پہنچ کر بھی امریکی سرحدوں کا پھیلاؤ نہیں رکا۔ اب امریکی حکومت نے سمندر پار کینیڈا کے مغرب میں ایلاسکا خریدنے کی پلاننگ شروع کر دی

جو کہ اس وقت روس کی ایک غیر آباد سی کالونی تھا۔ امریکہ کے ایلاسکا میں دلچسپی لینے کی ایک وجہ یہ تھی کہ روس اس غیر آباد اور برف سے ڈھکے ہوئے علاقے کو بیچ کر اس سے اپنی جان چھڑانا چاہتا تھا۔ امریکہ کو خدشہ تھا کہ کہیں اس علاقے کو برطانیہ نہ خرید لے۔ آپ جان چکے ہیں کہ منرو ڈاکٹرائن کے تحت امریکہ چاہتا تھا اس کی پلاننگ تھی کہ یورپی طاقتیں شمالی اور جنوبی امریکہ کے کسی نئے علاقے کو اب اپنے ہاتھ میں نہ لے سکیں۔

تو اس سے پہلے کہ برطانیہ اس علاقے کو خرید کر اپنے قبضے والے کینیڈا میں شامل کرنے کی کوئی کوشش کرتا امریکی حکومت نے ایلاسکا خریدنے کی کوششیں خود شروع کر دیں۔ ویسے بھی گولڈ رش کے بعد ان کے پاس بہت پیسہ آ چکا تھا اٹھارہ سو سٹرسٹھ میں سودا طے پا گیا۔

امریکہ نے روس کو بہتر لاکھ، سیون پوائنٹ ٹو ملین ڈالرز ادا کیے اور ایلاسکا کا پندرہ لاکھ مربع کلومیٹر، ون پوائنٹ فائیو ملین سکوئر کلومیٹرز سے زائد کاعلاقہ اپنا حصہ بنا لیا۔ ایلاسکا کے امریکہ میں شامل ہو جانے کی وجہ سے اس کی حدود اب ایشیا کو چھونے لگیں تھیں۔ کیونکہ درمیان میں بس یہ ایک چھوٹی سی سمندری پٹی بیرنگ سٹریٹ ہی حائل تھی۔

جہاں سے پہلی بار ہزاروں سال پہلے چند نامعلوم افراد آئے تھے اور انھی نے امریکہ کو آباد کیا تھا۔ یعنی یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ اب براعظم شمالی امریکہ کی آخری حد تک پہنچ گیا تھا لیکن اب اس کے من میں سمندروں کو فتح کرنے کی دھن تھی اسے پیسفک اوشن میں اپنا ایک طاقتور بحری اڈہ بنانا تھا تاکہ وہ دنیا کے اس سب سے بڑے سمندر کو کنٹرول کر سکے۔ یہ بحری اڈہ بنانے کیلئے امریکہ سے چار ہزار کلومیٹر دور پیسفک اوشن میں ایک آئیڈیل جگہ بہرحال موجود تھی۔

یہ جگہ تھی جزیرہ ہوائی جو اس وقت امریکہ کا حصہ تو ہرگز نہیں تھا۔ جزیرہ ہوائی اس زمانے میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست تھی اور اس کا کنٹرول وہاں کے مقامی لوگوں، نیٹیو ٹرائبز کے ہاتھ میں ہی تھا۔ امریکہ نے اس ریاست پر دباؤ ڈال کر اٹھارہ سو ستاسی، ایٹین ایٹی سیون میں وہاں کی مشہورِ زمانہ بندرگاہ پرل ہاربر میں بحری اڈہ بنانے کی اجازت لے لی۔ یہ وہی اڈہ ہے جس پر جاپان نے دوسری جنگِ عظیم میں بمباری کی تھی۔

تو اٹھارہ سو ستاسی، ایٹین ایٹی سیون میں پرل ہاربر میں بحری اڈہ بنانے کی اجازت حاصل کرنے کے بعد امریکہ نے اٹھارہ سو ترانوے، ایٹین نائنٹی تھری میں یہاں ایک بغاوت کروا کر مقامی ملکہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس واقعے کے سات برس بعد انیس سو، نائنٹین ہنڈرڈ میں ہوائی کو امریکہ میں ضم کر لیا گیا۔ تو مائی کیوریس فیلوز یوں وجود میں آیا یہ پچاس ریاستوں والا امریکہ۔ یونائٹیڈ اسٹیٹ آف امریکہ انہی ریاستوں کو پچاس ستاروں کی شکل میں دوستو امریکی پرچم پر ظاہر کیا جاتا ہے

اور یہی وہ پرچم تھا جو امریکہ نے بعد میں انیس سو انہتر میں چاند پر نصب بھی کیا تھا۔ تو اب تک امریکہ پچاس ریاستوں کا ایک طاقتور ملک بن چکا تھا۔ لیکن جیسا کہ مرزا غالب نے اتفاق سے انہی دنوں فرمایا تھا کہ میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی تو یہی کچھ امریکہ کے ساتھ بھی تھا۔ انیسویں صدی میں ہی جہاں امریکہ چاروں طرف پھیل رہا تھا وہیں اندر سے ٹوٹ بھی رہا تھا۔ ایک فیکٹر امریکہ کو اندر سے کھوکھلا کر رہا تھا

اور پھر اسی فیکٹر نے انیسویں صدی کے وسط میں خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لی۔ امریکہ دو حصوں میں ٹوٹ گیا۔ ایک سزائے موت کے قیدی کو جب پھانسی دینے کے لیے کوٹھڑی سے نکالا گیا تو اس کے ہاتھ میں ایک پرچی تھی۔ یہ بوڑھا قیدی پھندے پر جھول گیا لیکن اس کے ہاتھ سے لکھی ہوئی پرچی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔

اس پر امریکہ کا مستقبل لکھا تھا؟ لیکن اس پر کیا لکھا تھا؟ لوہے اور تاروں سے بنی وہ کیا سادہ سی مشین تھی، جس نے لاکھوں انسانوں کو غلام بنا لیا؟ وہ کون سے ہتھیار تھے جنہوں نے دنیا کا ملٹری ڈاکٹرائن ہمیشہ کیلئے بدل دیا

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 10)

History Of America Urdu , History Of America Urdu Episode 1 , History Of America Urdu Episode 2 , History Of America Urdu Episode 3 , History Of America Urdu Episode 4 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 6 , History Of America Urdu Episode 7 , History Of America Urdu Episode 8, History Of America Urdu Episode 9, History Of America Urdu Episode 10

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: