History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 11) Free | Columbus discovers America

Now ♥History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 11) Free | Columbus discovers America | History of America Read Urdu Article And Watch Play YouTube Video By Famous YouTube Channel Dekho Suno Jano ( Faisal Warraich ) | History Of America Urdu | History Of America Urdu Free | History Of America Urdu True

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 11)
History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 11)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 11) Play Now!

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 11) Free | Columbus discovers America And History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ Click Hear !

امریکہ میں خانہ جنگی ابھی شروع نہیں ہوئی تھی جب ایک بوڑھے قیدی کو پھانسی کیلئے لے جایا جا رہا تھا۔ وہ ڈرا ہوا تو بالکل نہیں تھا۔ کیونکہ وہ تو پھانسی گھاٹ کی طرف اپنے اسی تابوت پر بیٹھ کر جا رہا تھا جس میں اس کی لاش واپس آنا تھی۔ جیل سے نکلتے وقت اس نے ایک پرچی پر کچھ تحریر کر کے جیلر کو دے دیا۔ یہ تحریر ایک پیشگوئی تھی اور یہ پیشگوئی حرف بحرف سچ ثابت ہوئی۔

اس پرچی پر کیا لکھا تھا؟ یہ بوڑھا قیدی کون تھا؟ یہ وہ تاریخ کی سادہ سی ایجاد ہے جس نے امریکہ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا تھا۔ یہ امریکہ میں کپاس کے پھولوں سے روئی اور بیج الگ کرنے کی سادہ سی ابتدائی مشین ہے۔ اس مشین کے آ جانے سے امریکہ کی جنوبی ریاستوں کے گورے زمینیداروں کے وارے نیارے ہو گئے۔

کیونکہ جنوبی ریاستیں ہی سب سے زیادہ کاٹن یعنی کپاس پیدا کرتی تھیں۔ ان دنوں یورپ میں بڑے پیمانے پر ٹیکسٹائل انڈسٹری لگ رہی تھی۔ اس لیے کاٹن پیدا کرنی والی جنوبی ریاستوں کے سامنے سادہ سا فارمولا تھا۔ زیادہ کھیت، زیادہ کپاس اور زیادہ منافع۔ اب ظاہر ہے جیسے جیسے کاٹن کے کھیت پھیلتے گئے تو غلاموں کی ڈیمانڈ بھی بڑھتی گئی۔ غلاموں کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کیلئے غلاموں کی بڑی بڑی منڈیاں لگنے لگیں۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

ان منڈیوں میں سیاہ رنگ کے بے بس انسان چار سو سے چار ہزار ڈالرز تک میں بیچ دئیے جاتے تھے۔ یہ غیر انسانی کاروبار امریکہ اور خاص طور پر جنوبی امریکی ریاستوں میں بڑھتا اور پھیلتا جا رہا تھا۔ اس کے برعکس چونکہ شمالی ریاستوں کی بنیادی پراڈکٹ کاٹن نہیں تھی اور وہاں انڈسٹریل دور کا آغاز ہو چکا تھا اس لئے وہاں ایسی صورتحال نہیں تھی۔ لوگ کھیتوں سے نکل کر فیکٹریز میں جابز کرنے لگے تھے۔ اور یہاں سرمایہ دار فیکٹریاں لگا رہے تھے۔

اس لیے شمالی ریاستوں میں غلاموں کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ کیونکہ اگر فیکٹریوں میں غلام رکھے جاتے تو سفید فام لوگ تو بےروزگار ہو جاتے۔ سو شمالی ریاستوں میں غلامی کے سسٹم کی مخالفت شروع ہو گئی۔ بلکہ اس کے مکمل خاتمے کے لیے تحریکیں اور تحریکوں میں کام کرنے کے لیے نظریاتی لوگ بھی پیدا ہو گئے۔ انھی غلامی کے مخالفین نے جنوبی ریاستوں سے غلاموں کو خفیہ راستوں سے فرار کرانا شروع کر دیا۔

ان خفیہ راستوں کو انڈر گراؤنڈ ریل روڈ نیٹ ورک کا نام دیا گیا اس نیٹ ورک کے ذریعے کوئی ایک لاکھ کے لگ بھگ غلام فرار ہوئے۔ جس سے ان کے سفید فام آقاؤں کو پانچ کروڑ ڈالرز کا نقصان پہنچا۔ اس نقصان کے علاوہ ایک اور واقعہ ایسا ہوا جس نے غلامی کے حامیوں اور مخالفین کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہتھیار بند کر دیا۔

ہوا یہ کہ کچھ پیچیدہ مفادات کے کھیل میں ایک ایسا قانون پاس ہوا جس کا سادہ مطلب یہ تھا کہ امریکہ ریاستوں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ ووٹ کے ذریعے فیصلہ کر لیں کہ آیا وہ اپنی ریاست میں غلامی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ اسے کنساس نیبراسکا ایکٹ کہا جاتا ہے۔ یہ ایکٹ پہلے دن سے ہی اتنا متنازعہ ہو گیا کہ اس کے حامیوں اور مخالفین نے ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے۔ حتیٰ کہ کانگریس بھی میدانِ جنگ بن گئی۔

غلامی کے حامی ایک امریکی کانگریس مین نے غلامی کے مخالف سینیٹر کو کانگریس کے فلور پر چھڑی سے مار مار کر ادھ موا کر دیا۔ کنساس میں غلامی کے حامیوں اور مخالفین میں مسلح جھڑپیں بھی شروع ہو گئیں۔ ان جھڑپوں کے دوران گھر، اخبارات کے دفاتر اور ہوٹل تک جلا دیئے گئے۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران ایک ایسا شخص سامنے آیا جو عام لڑائیوں سے ہٹ کر کچھ بڑا پلان کر رہا تھا۔ یہ لمبی سفید داڑھی والا انسٹھ سالہ شخص جان براؤن تھا۔

براؤن نے کنساس کے ہنگاموں میں حصہ لیا تھا اور غلامی کے کئی حامیوں کو قتل بھی کیا تھا۔ اس کے ساتھی اسے کیپٹن جان براؤن بھی کہتے تھے اور اس نے حلف اٹھا رکھا تھا کہ وہ غلامی کا خاتمہ کر کے دم لے گا۔ کیپٹن جان براؤن کا پلان یہ تھا کہ اسلحے کا کوئی بڑا گودام لوٹا جائے اور وہاں سے ملنے والے ہتھیار سیاہ فام غلاموں میں تقسیم کر دیئے جایں۔ اس طریقے سے وہ غلاموں کی بغاوت، سلیو ریوولٹ شروع کرانا چاہتا تھا۔ براؤن کو اپنے مقاصد کے لیے جلد ہی اسلحے کا ایک ذخیرہ مل گیا۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 11)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

موجودہ ریاست ویسٹ ورجینیا کے ایک قصبے ہارپرز فیری میں امریکی حکومت کا ایک اسلحہ کا گودام تھا۔ اس میں بیس ہزار رائفلیں تھیں۔ براؤن نے اس گودام کو لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔ سولہ اور سترہ اکتوبر اٹھارہ سو انسٹھ، ایٹین ففٹی نائن کی درمیانی رات براؤن اور اس کے بیس کے قریب ساتھیوں نے گودام پر حملہ کر دیا۔ براؤن کی فورس نے گودام پر قبضہ کر کے وہاں کچھ لوگوں کو یرغمال بھی بنا لیا۔ لیکن اتنے میں مدمقابل بھی الرٹ ہو گئے۔

قصبے کے لوگوں اور امریکی سپاہیوں نے گودام کو گھیر لیا اور دونوں طرف سے فائرنگ شروع ہو گئی جو دن بھر جاری رہی۔ اگلے روز امریکی میرینز کے ایک دستے نے گودام پر حملہ کر کے کیپٹن براؤن کو پکڑ لیا۔ اس ساری لڑائی میں جان براؤن کے بیٹے سمیت دس ساتھی بھی مارے گئے۔ جن امریکی میرینز نے براؤن کو گرفتار کیا تھا ان کی کمان ’کرنل رابرٹ ای لی‘ کر رہا تھا جو آنے والے دنوں میں باغی ریاستوں کا کمانڈر اور تاریخ کا اہم ترین کردار بھی بنا۔

جان براؤن گرفتار ہو چکا تھا اسے ویسٹ ورجینیا کے علاقے چارلز ٹاؤن میں لے جا کر اس جیل میں قید کر دیا گیا۔ اس پر مقدمہ چلایا گیا اور بغاوت کو ہوا دینے اور غداری کے جرم میں سزائے موت سنا دی گئی۔ دو دسمبر کو جان براؤن کو پھانسی دینے کیلئے جیل کی کوٹھڑی سے نکالا گیا۔ اس وقت جان براؤن نے اپنے جیلر کو ایک پرچی تھمائی جس پر وہ الفاظ لکھے تھے جو امریکہ کا مستقبل تھے۔

اس نے لکھا تھا کہ مجھے یہ یقین ہو گیا ہے کہ اس دھرتی کے گناہ اب صرف خون سے دھلیں گے میں بیکار میں خود کو یہ سمجھاتا رہا کہ زیادہ خون بہائے بغیر ایسا ہو سکتا ہے۔ جان براؤن کو سخت پہرے میں جیل سے نکال کر پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے لے جانے کیلئے جو گھوڑا گاڑی لائی گئی تھی اسی گاڑی میں اس کا تابوت رکھا تھا جس میں موت کے بعد اس کی لاش رکھ کر دفن کی جانی تھی۔

براؤن بے فکری سے تابوت پر بیٹھ گیا اور گھوڑا گاڑی پھانسی گھاٹ کی طرف لے جائی گئی۔ پھانسی گھاٹ کے دونوں طرف ایک ہزار امریکی فوجی چوکس کھڑے تھے۔ اتنی زبردست سیکیورٹی اس وجہ سے تھی کہ جان براؤن غلامی کے مخالفین کا ہیرو بن چکا تھا۔ یہ لوگ ایسے اشتہارات شائع کروا رہے تھے جن میں لکھا تھا کہ عیسائیت پر یقین رکھنے والے تمام لوگ جان براؤن کیلئے دعا کریں۔ جب جان براؤن کو پھانسی گھاٹ کے پاس اتارا گیا تو وہ بغیر کسی گھبراہٹ کے پھانسی گھاٹ پر چڑھا۔

وہ اطمینان سے کھڑا ہوا اور وہاں موجود لوگوں سے باری باری ہاتھ ملایا۔ وہ اتنا پُرسکون تھا جیسا یہ پھانسی کا عمل اس کیلئے معمولی بات ہو۔ علاقہ شیرف نے اس کے گلے میں پھانسی کا پھندا اور چہرے پر ایک سفید ہُڈ ڈال دی۔ براؤن کی ہمت دیکھئے کہ اس ہُڈ کو ایڈجسٹ کرنے کیلئے ایک پِن بھی براؤن نے اپنے کالر سے نکال کر شیرف کو دی۔ اس کے بعد جان براؤن کے پاؤں کے نیچے سے تختہ کھینچ دیا گیا۔

جان براؤن کی پھانسی سے غلامی کے مخالفین کو ایک شہید مل گیا تھا جس کی میراث، لیگیسی کی بنیاد پر وہ اپنی جدوجہد کو تیز کر سکتے تھے۔ لیکن کنساس نیبراسکا ایکٹ نے غلامی کے مخالفین کو صرف ایک شہید ہی نہیں دیا بلکہ نیا صدر بھی دے دیا۔ یہ صدر تھا ابراہم لِنکن۔ ابراہم لِنکن اٹھارہ سو چون، ایٹین ففٹی فور تک امریکی پبلک میں اتنا مقبول نہیں ہوا تھا کہ وہ صدر کی کرسی تک پہنچ سکتا۔ لیکن کنساس نیبراسکا ایکٹ پاس ہوتے ہی لِنکن کے اقبال کا ستارہ بھی بُلند ہونے لگا۔

اس نے اس ایکٹ کی مخالفت میں کھلے عام تقریریں کیں اور ایکٹ پاس کرانے والے سٹیفن ڈگلس کو مناظرے، ڈیبیٹ کا چیلنج دے دیا۔ یہ ڈیبیٹس ہوئیں اور ان میں لِنکن نے اپنے زبردست دلائل سے ڈگلس کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ اپنی ڈیبیٹس اور تقریروں کی وجہ سے لِنکن شمالی ریاستوں میں بے حد مقبول ہو گیا اور جنوبی ریاستوں میں بہت ہی بدنام۔ اسی وجہ س ے اٹھارہ سو ساٹھ، ایٹین سکسٹی میں لِنکن ریبپلکن پارٹی کا صدارتی امیدوار بننے میں کامیاب رہا۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 11)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

اب دیکھئے کہ ریپبلکن پارٹی جو اٹھارہ سو چون میں بنی تھی اس میں بھی زیادہ تر غلامی کے مخالفین ہی شامل تھے۔ جب اس پارٹی نے لنکن کو صدارتی امیدوار نامزد کیا تو جنوبی ریاستوں میں ہلچل مچ گئی۔ وہاں کے لوگوں کو لگنے لگا کہ لِنکن جو کنساس نیبراسکا ایکٹ کا سب سے بڑا مخالف تھا اگر وہ صدر بنا تو سمجھو امریکہ سے غلامی ختم ہو گئی۔ چنانچہ جنوبی ریاستوں میں یہ کہا جانے لگا کہ اگر لِنکن صدر بنا تو یہ ریاستیں یونین کے ساتھ نہیں چلیں گی الگ ہو جائیں گی۔

جنوبی ریاستوں میں لِنکن کے خلاف بھرپور پراپیگنڈہ مہم بھی چلائی گئی۔ اس کے خلاف اخبارات نے ایسے کارٹون شائع کئے جن میں دکھایا گیا تھا کہ لِنکن اپنی پارٹی اور سیاہ فاموں کے کندھوں پر بیٹھ کر وائٹ ہاؤس کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تو دوستو اس ماحول میں امریکہ میں چھے نومبر اٹھارہ سو ساٹھ، ایٹین سکٹی کو ووٹنگ ہوئی۔ جنوبی ریاستوں میں تو لِنکن سے نفرت اتنی زیادہ تھی کہ اس کا نام تک بیلٹ پیپر پر موجود نہیں تھا۔

بلاشبہ یہ امریکی تاریخ کے حساس ترین صدارتی الیکشن تھے جن میں امریکہ کا اتحاد داؤ پر لگا تھا۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ اگر لِنکن امریکہ کا صدر بن گیا تو امریکی یونین ٹوٹ جائے گی۔ پھر ایسا ہوا بھی۔ جب الیکشن کا رزلٹ آیا تو جہاں لنکن نے صدارتی حلف اٹھایا وہیں امریکہ کی پندرہ غلام ریاستوں میں سے گیارہ نے امریکی یونین سے علیحدگی اختیار کر لی۔ ان جنوبی ریاستوں نے اپنے الگ ملک ’کنفیڈریٹ سٹیٹس‘ کا اعلان کر دیا۔

اٹھارہ فروری اٹھارہ سو اکسٹھ، ایٹین سکسٹی ون کو کنفیڈریٹ سٹیٹس کے صدر جیفرسن ڈیوس نے حلف اٹھا لیا۔ باغی ریاستوں نے ورجینیا کے شہر رچمونڈ کو اپنے نئے ملک کا دارالحکومت قرار دے دیا جو واشنگٹن سے محض ایک سو ستر کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ ابراہم لِنکن ابھی ناتجربہ کار تھا اور صدر بنتے ہی اسے ایک بہت بڑے چیلنج سے واسطہ پڑ گیا تھا۔ لیکن اس نے ناتجربہ کاری کو اپنی کمزوری یا ایکسکیوز نہیں بننے دیا۔

وہ اس اختلاف کو خون بہائے بغیر طے کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے حلف اٹھانے کے اگلے ہی ماہ اپریل میں باغی ریاستوں نے جنوبی کیرولائنا میں امریکی یونین کے قلعے فورٹ سمٹر پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ یہ امریکی خانہ جنگی، سول وار کا آغاز تھا۔ جان براؤن کی پیشگوئی کے مطابق امریکی دھرتی کے گناہوں کو خون سے دھونے کا وقت آ گیا تھا۔ لِنکن نے آزادی کی حامی ریاستوں کی طاقت کے بل بوتے پر امریکی فوج کی تعداد اور طاقت کو بڑھانا شروع کر دیا۔

ان ریاستوں کی تعداد باغی ریاستوں سے واضح طور پر زیادہ تھی۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکی فوج صرف سولہ ہزار جوانوں پر مشتمل تھی مگر اگلے پانچ برس کے دوران یہ تعداد دس لاکھ جوانوں تک جا پہنچی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں باغی ریاستیں اس سے آدھی یعنی صرف پانچ لاکھ فوج ہی تیار کر سکیں۔ اس جنگ کے دوران یونین اور باغیوں نے اپنے اپنے وسائل سے جدید ہتھیار تیار کرنے کی بھی پوری پوری کوشش کی۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

یونین نے مشین گنز تیار کیں اور باغیوں نے آبدوزیں۔ یہ دونوں ہتھیار سول وار کے بعد کی جنگوں میں گیم چینجر ثابت ہوئے۔ انہوں نے دنیا کا ملٹری ڈاکٹرائن بھی ہمشہ کیلئے بدل دیا۔ اگرچہ یہ ہتھیار امریکی سول وار میں کوئی بڑے پیمانے پر استعمال نہیں ہو سکے اور یہ جنگ زیادہ تر پرانے ہتھیاروں اور ٹیکنیکس کی مدد سے ہی لڑی گئی۔ لِنکن کے حکم پر یونین کی فوج نے باغیوں کے خلاف کئی محاذ کھول لئے۔

یونین نیوی نے بھی باغیوں کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی اور کچھ ساحلی علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا۔ لِنکن کا ایک کے بعد ایک جرنیل باغیوں کے دارالحکومت رچمونڈ کو فتح کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن یہاں باغیوں کا ایک جرنیل، لِنکن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا۔ اس جنرل کا نام تھا رابرٹ ای لی۔ وہی ’جنرل لی‘ جس نے جان براؤن کو گرفتار کیا تھا اور اب یونین آرمی سے استعفیٰ دے کر باغیوں کا کمانڈر بن چکا تھا۔ اٹھارہ سو چونسٹھ تک باغیوں اور لنکن کی فورسز کے درمیان سول وار مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔

لیکن اس کا فیصلہ کن مرحلہ تب آیا جب اٹھارہ سو چونسٹھ میں لنکن نے اپنے کمانڈر جنرل گرانٹ کو باغیوں کے مرکز رچمونڈ کو فتح کرنے کے لیے بھیجا۔ اس محاذ پر ایک لمبی لڑائی اور پیچیدہ جنگی ٹیکنیکس کے استعمال کے بعد رابرٹ لی کی فوج کو آخری شکست ہونا شروع ہوئی۔ وہ یوں کہ چار سال کی خوفناک خانہ جنگی سے تھکی ہوئی رابرٹ لی کی فوج پسپا ہونے لگی۔ ویسے بھی جنرل لی کی فورسز، یونین آرمی یعنی لنکن کی فوج کی نسبت کم وسائل سے لڑ رہی تھی

پھر کچھ جگہوں پر سیاہ فاموں کی بغاوتوں نے بھی ان کے لیے مسائل کھڑے کر دئیے تھے۔ سو دو اپریل اٹھارہ سو پینسٹھ، ایٹین سکسٹی فائیو میں جنرل لی اپنی فوج کے ساتھ رچمنڈ کے قریب پیٹرز برگ کے محاذ سے پیچھے ہٹ گیا۔ اس واقعے کے سات روز بعد اس نےجنرل گرانٹ کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ پیٹرز برگ اور رچمونڈ پر یونین کا پرچم لہرانے لگا۔ امریکہ پھر سے یونائیٹڈ ہو گیا۔ جان براؤن نے جو پیش گوئی کی تھی وہ چھے برس بعد پوری ہوئی۔

امریکی خانہ جنگی چار سال بعد چھ لاکھ ہم وطنوں کی جانیں لے کر ختم ہو گئی تھی۔ لیکن ابھی اس میں ابراہم لنکن کا خون شامل ہونا تھا۔ جنرل لی، کے ہتھیار ڈالنے کے صرف پانچ روز بعد چودہ اپریل کو واشنگٹن کے فورڈز تھیٹر میں ابراہم لِنکن کو قتل کر دیا گیا۔

لِنکن کو باغیوں کے حامی سٹیج اداکار جان وائیکس بوتھ نے قتل کیا تھا۔ چند روز بعد قاتل خود بھی امریکی فوجیوں سے جھڑپ میں مارا گیا۔

اس کے چار ساتھی بھی گرفتار ہوئے جنہیں پھانسی دے دی گئی۔ لنکن تو قتل ہو گیا مگر اپنے قتل سے پہلے وہ ایک ایسا حکم نامہ جاری کر گیا تھا جس سے چالیس لاکھ سیاہ فاموں کو غلامی سے نجات مل گئی۔ دوستو خانہ جنگی کے بعد امریکہ جو دنیا کی امیر ترین قوم بن چکی تھی اس کو ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔

اس نئے مسئلے نے دنیا کی اس امیر ترین قوم کی ساری ترقی کو بریک لگا دی۔ وہ بریک کیا تھی؟ امریکہ کامیابی سے دوسرے ملکوں کی زمینیں ہڑپ کرتا جا رہا تھا لیکن ایک زمین اس کے گلے میں پھنس گئی یہ کون سی زمین تھی اور کہانی کیا تھی؟

History Of America Urdu , History Of America Urdu Episode 1 , History Of America Urdu Episode 2 , History Of America Urdu Episode 3 , History Of America Urdu Episode 4 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 6 , History Of America Urdu Episode 7 , History Of America Urdu Episode 8, History Of America Urdu Episode 9, History Of America Urdu Episode 10, History Of America Urdu Episode 11

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: