History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 3 ) Free | Columbus discovers America

Now ♥ History Of America Urdu ( Episode 3 ) Free | ہسٹری آف امریکہ | Columbus discovers America | History of America Read Urdu Article And Watch Play YouTube Video By Famous YouTube Channel Dekho Suno Jano ( Faisal Warraich ) | History Of America Urdu | History Of America Urdu Free | History Of America Urdu True

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ  ( Episode 3 ) Free | Columbus discovers America

History of America Urdu ( Episode 3 )

History of America Urdu ( Part 3 ) And Watch Part 2 Click Hear !

ہسٹری آف امریک

جب کولمبس کے جہاز نئی دنیا کے ساحلوں پر اترے تو مقامی لوگوں کو نیٹیو امریکنز کو لگا جیسے آسمان سے کوئی نئی چیز زمین پر آ گئی ہے۔ وہ حیرت سے کبھی اتنے بڑے بڑے جہازوں کو دیکھتے اور کبھی رنگ برنگ کے کپڑے پہنے اپنے جیسے دو ٹانگوں اور دو بازوؤں والے انسانوں کو دیکھتے۔ یہ سب ان کے لیے بہت نیا تھا۔ وہ معصومیت سے ان کےجہازوں پر چڑھ گئے۔ وہ کولمبس کے عملے سے محبت میں اپنی ہر چیز شئیر کرنے لگے۔ انھیں یہ سمجھنے میں بہت دیر لگی کہ بظاہر انہی جیسا دکھائی دینے والا کولمبس اور اس کےساتھی ان کی آزادی اور زندگیوں کے دشمن ہیں۔ کولمبس نے نئی دنیا اور اس کے معصوم لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ ایسا کیوں ہوا کہ کولمبس کو مارکوپولو کی ساری کہانیاں جھوٹ لگنے لگیں؟

براعظم امریکہ سے کچھ پہلے یہ جو بکھرے ہوئے جزائر ہیں اور انھیں ہم آج ویسٹ انڈیز کہتے ہیں انھی میں یہ ایک جزیرہ سَین سلواڈور ہے۔ یہ وہ تاریخی جزیرہ ہے جس پر بارہ اکتوبر چودہ سو بانوے کی صبح کولمبس کے جہاز نے لینڈ کیا تھا۔ سین سلواڈور اکیس کلومیٹر لمبا اور آٹھ کلومیٹر چوڑا چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ نیٹیو امریکنز اس جزیرے کو گواناہانی کہتے تھے۔ یہ نام چھپکلی جیسے ایک جانور اگوانا کے نام پر رکھا گیا تھا جو اب اس جزیرے سے ناپید ہو چکا ہے ختم ہو چکا ہے۔ جزیرے پر گھنا جنگل تھا، نمکین جھیلیں اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں تھیں۔ آج یہ جزیرہ بہاماس کا حصہ ہے

History Of America Urdu

اور زیادہ تر غیر آباد ہی رہتا ہے۔ تو دوستو چودہ سو بانوے میں جب کولمبس کے جہاز ساحل پر پہنچ رہے تھے تو جزیرے پر رہنے والے لوگوں نے انہیں دور سے دیکھ لیا اور یہ خبر دوسروں تک بھی اپنے لوگوں تک پہنچا دی۔ ان اجنبی مہمانوں کی آمد نے جزیرے پر ہلچل سی مچا دی تھی۔ جزیرے کے لوگ ان جہازوں کو دیکھنے کیلئے جمع ہونے لگے۔ ان میں سے کچھ سمندر میں کودے اور چند ایک جہازوں پر بھی چڑھ کر بیٹھ گئے۔ ان کے چہروں پر بچوں جیسی معصوم سی خوشی تھی۔ وہ یوں ردعمل دے رہے تھے جیسے کوئی آسمان سے زمین پر اتر آیا ہو۔ کیونکہ جس زمین کو یہ لوگ جانتے تھے وہاں تو ایسے بڑے بڑے جہازوں اور اس طرح کے رنگ برنگ کے کپڑے پہنے کا تصور ہی نہیں تھا۔

جزیرے کے لوگ تو گھاس پھونس کے معمولی سے جھونپڑوں میں رہنے کے عادی تھے لباس بھی برائے نام ہی پہنتے تھے۔ وہ مکئی اگا کر کھاتے تھے۔ چنانچہ کولمبس کے بحری جہازوں کا نظارہ ان کیلئے کسی بڑے تماشے سے کم نہیں تھا۔ جب کولمبس کشتی میں سوار ہو کر جزیرے پر پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے اسے ویلکم کہا۔ البتہ کولمبس زمین پر کچھ وقت گزار کر پھر واپس سمندر میں اپنے جہاز پر جو کے ساحل سے کچھ دور لنگرانداز تھا وہاں چلا گیا۔ چند روز بعد کولمبس اور اس کے ساتھیوں نے اپنے جہازوں سے کشتیاں سمندر میں اتاریں اور جزیرے کے ساحل کے ساتھ ساتھ تیرتے ہوئے اس کے شمالی حصے کی طرف بڑھنے لگے۔ اس وقت تک جزیرے کے تمام دیہات کے تمام لوگوں کو اجنبی مہمانوں کی آمد کا علم ہو چکا تھا۔

مقامی لوگ ساحل کے ساتھ کھڑے ان کا استقبال کر رہے تھے ان کیلئے کھانے پینے کی چیزیں لا رہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ انھیں جزیرے کے مختلف رنگوں کے خوبصورت طوطے بھی، پیرٹس بھی پیش کر رہے تھے۔ تخفہ تن جواب میں کولمبس اور اس کے ساتھیوں نے انہیں سرخ رنگ کی ٹوپیاں اور کچھ گھنٹیاں دیں۔ نیٹیو امریکنز گھنٹی کو حیرت سے دیکھتے رہے اور اسے بجا کر اور اس کی آواز سن کر خوش ہوتے رہے۔ غرض کہ جزیرے کی فضاء بالکل دوستانہ تھی اور وہاں کے لوگ کولمبس کے آگے بچھے History Of America Urduچلے جا رہے تھے۔

یہ بڑا دلکش نظارہ تھا۔ مگر کولمبس کا ذہن اس نظارے میں کچھ اور ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ جزیرے کے لوگ ہیں تو بہت سادہ سے ان کے پاس پہننے کو کپڑے ہیں نہ جزیرے پر کوئی محل یا شاندار عبادت گاہیں ہیں لیکن ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنی ناک میں بالیاں پہن رکھی تھیں جو کے خالص سونے کی دکھائی دیتی تھیں۔ کولمبس سمجھنے لگا کہ ہو نہ ہو وہ مارکوپولو کے بتائے ہوئے جزیرہ سیپانگو یعنی جاپان کے کہیں قریب ہی پہنچ چکا ہے۔ مارکوپولو نے لکھا تھا کہ سیپانگو کے قریب جزیروں کا ایک چھوٹا سا گروپ موجود ہے اور کولمبس نے یہ سفر نامہ پڑھ رکھا تھا۔

باقی اس وقت کے یورپی نوجوانوں کی طرح بلکہ اسی سفر نامے کی بنیاد پر ہی تو اس نے جاپان اور چین تک کا یہ مغربی روٹ دریافت کرنے کا مشن شروع کیا تھا چنانچہ کولمبس نے یہاں بہت کم وقت گزارا اور آگے بڑھنے کا پروگرام بنایا کیونکہ وہ جلد از جلد سیپانگو یعنی جاپان تلاش کرنا اور وہاں پہنچنا چاہتا تھا۔ لیکن سیپانگو جانے سے پہلے اس نے ایک کام اورکیا۔ اس نے مقامی لوگوں سے زیادہ سے زیادہ سونا، گولڈ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اور ان لوگوں سے سونا حاصل کرنا تو بہت ہی آسان تھا۔ کیونکہ کولمبس نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے

History Of America Urdu

اس جزیرے یعنی سَین سلواڈور اور اس کے اردگرد کے جزیروں پر اس نے جتنے بھی لوگ دیکھے وہ سب بے لباس تھے کپڑوں کے بغیر تھے ان کے پاس کوئی لوہا یا فولاد یا کوئی اور ہتھیار بھی نہیں تھے نہ ہی یہ لوگ ایسے ہتھیاروں کا استعمال جانتے تھے جس سے کسی انسان کی جان لی جا سکے۔ کولمبس یہ بھی لکھتا ہے کہ ان لوگوں کو صرف پچاس آدمیوں کی مدد سے کچل کر ان سے جو چاہے منوایا جا سکتا تھا۔ یہ لوگ اپنی ملکیت اپنی پوزیشن کے بارے میں اتنے معصوم اور فراخ دل تھے کہ کوئی دیکھے بغیر یقین ہی نہیں کر سکتا۔ اکہ ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہو سکتے ہیں آپ ان سے جو بھی مانگو گے وہ آپ کو دے دیتے تھے، وہ کبھی ناں نہیں کہتےتھے۔

سو دوستو یہ جنگ و جدل سے ناواقف، ملکیت کے موجودہ تصور سے عاری لوگ چالاک کولمبس اور اس کے عملے کے سامنے بے بس تھے۔ کولمبس اور اس کے ساتھیوں نے ان کی سادگی کا فائدہ اٹھایا اور ان کے گھروں میں گھس کر سونا تلاش کرنے لگے۔ وہ گھروں میں سامان کو الٹ پلٹ دیتے اور سونا ڈھونڈتے رہتے۔ نیٹیو امریکنز اپنے گھروں کا یہ حشر دیکھ رہے تھے لیکن پھر بھی سمجھ نہیں رہے تھے کہ یہ لوگ آخر چاہتے کیا ہیں؟ بلکہ وہ انھیں مسلسل ویلکم ہی کہتے جا رہے تھے۔ جب کچھ دن کی مغز ماری کے بعد کولمبس کو یقین ہو گیا کہ یہاں چند بالیوں کے سوا کوئی سونا نہیں ہے تو اس نے مزید آگے سیپانگو یعنی جاپان جانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جزیرے سے کچھ لوگوں کو پکڑ کر زبردستی اپنے جہاز پر قید کر لیا۔ مقصد کولمبس کا یہ تھا

کہ انھیں تھوڑی بہت اپنی زبان سکھا کر گائیڈ کا کام لیا جائے۔ اور ان کی مدد سے ان چھوٹے چھوٹے جزائر کے پیچھے جیسا کے مارکوپولو نے لکھا تھا، سیپانگو اور چین پہنچا جائے۔ اب سیپانگو اور چین تو وہاں تھے ہی نہیں۔ کولمبس کے گائیڈز نے تو کبھی سیپانگو اور چین کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ انہیں کولمبس کی باتوں سے کچھ اتنی سمجھ آئی کہ وہ کسی بہت بڑے جزیرے کی بات کر رہا ہے اور یہ گائیڈز ایک بڑے جزیرے کا پتا بہرحال جانتے تھے۔ تو یہ لوگ کولمبس کو ایک قریبی بڑے جزیرے پر لے آئے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں آج کیوبا کا ملک آباد ہے۔ سارے راستے کولمبس یہی سمجھتا رہا کہ وہ بس اب جاپان اور سیپانگو پہنچنے ہی والا ہے۔

لیکن جب اٹھائیس اکتوبر کو وہ کیوبا کے مقام پر پہنچا، تو وہاں کوئی سونا نہیں تھا۔ وہ سمجھنے لگا شاید وہ کیتھے یعنی چین پہنچ گیا ہے۔ اب وہ کیوبا میں چین کے شاندار شہر تلاش کرتا رہا۔ جن کے قصے اس نے مارکوپولو کے سفر نامہ میں پڑھ رکھے تھے مگر جلد ہی ثابت ہو گیا کہ یہ علاقہ تو چین بھی نہیں ہے، یعنی ابھی چین بھی نہیں آیا اس کے خیال میں۔ اب یہ نہ چین تھا، نا جاپان اور نہ یہاں سونے کے محالات تھے۔ بس لوگوں کے ناک اور کانوں میں کہیں کہیں سونے کی بالیاں سی تھیں۔ کولمبس یہ سب دیکھ کر حیران پریشان تھا کہ یا خدا یہ ماجرا کیا ہے؟

History Of America Urdu

کیا مارکوپولو نے اپنے سفرناموں میں جھوٹ لکھا ہے کہ یہاں سونا ہی سونا تھا؟ فرسٹریٹ ہو کر مایوس ہو کر کولمبس نے پانچ دسمبر کو اپنی طرف سے چین کے ایک مشہور شہر کی تلاش شروع کر دی جسے یورپ میں زیتون کے نام سے جانا جاتا تھا اور جو اب کوآن ژو کہلاتا ہے۔ جب کولمبس کے جہاز کیوبا کے ساحل کے ساتھ ساتھ سفر کر رہے تھے تو ہوا ان کی مخالف سمت میں چلنے لگی اور انہیں کیوبا سے تقریباً سو کلومیٹر دور ایک اور جزیرے پر لے گئی۔ اس جزیرے کو اس کے باشندے ایتی کہتے تھے چھے دسمبر کو کولمبس اس جزیرے پر پہنچا۔ اس نے اس جزیرے کو ہیسپینیولا کا نام دیا، آج بھی یہ جزیرہ اسی نام سے جانا جاتا ہے۔

کولمبس کی ہیسپینیولا پر لینڈنگ کے بعد نیٹیو امریکنز کی تباہی کی وہ خوفناک داستان شروع ہوئی جسے آج کچھ مورخین، کچھ ہسٹورینز امریکن ہولو کاسٹ کا نام بھی دیتے ہیں۔ یعنی امریکنز کی نیٹیو امریکنز کی نسل کُشی۔ مائی کیوریس فیلوز ویسٹ انڈیز کا دوسرا سب سے بڑا جزیرہ ہیسپینیولا ہے۔ اس جزیرے پر آج تو ڈومینیکن ریپبلک اور ہیٹی نام کے دو ملک موجود ہیں۔ مگر کولبمس جب یہاں پہنچا تو تب اس جزیرے پر ملکوں کی یہ تقسیم نہیں تھی اور یہاں بھی آراواک نسل کے لوگ رہتے تھے بلکہ ان کی تعداد تو اسی لاکھ تک پہنچی ہوئی تھی۔ ان لوگوں نے بھی کولمبس کا بھرپور استقبال کیا جیسا کہ باقی جزائر پراس کا استقبال ہوا تھا۔ اس جزیرے کو دیکھ کر کولمبس کو لگا کہ یا تو وہ سیپانگو پہنچ گیا ہے یا پھر کسی ایس جزیرے پر جہاں بڑی مقدار میں سونا موجود ہے،

وہاں پہنچ گیا دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے مزہبی بیک گرونڈ کی وجہ سے وہ یہ بھی سمجھنے لگا تھا کہ شاید ہیسپینیولا کا اس علاقے سے کوئی تعلق ہے جہاں سے بائبل کے مطابق حضرت سلیمان کا بحری بیڑہ سونا، ہیرے جواہرات اور مصالحہ جات لے کر آیا تھا۔ یا پھر یہ علاقہ اس سلطنت کا حصہ بھی اس کے خیال میں ہو سکتا ہے جسے بائبل میں شیبا یا صبا کا نام دیا جاتا ہے اور جہاں کی ملکہ کا تخت حضرت سلیمان نے اپنے پاس منگوایا تھا۔ اب دوستو حضرت سلیمان کی سلطنت تو فلسطین میں تھی اور کہاں فلسطین اور کہاں ہیسپینیولا؟ یہ سلطنتِ صبا والا آئیڈیا اسے کیسے آیا؟ اس بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے

History Of America Urdu

کہ کولمبس کو یقین تھا کہ بائبل کی کہانیوں سے باہر کوئی اجنبی دنیا ایگزسٹ ہی نہیں کرتی موجود ہی نہیں۔ تو اب بائبل کی کہانیوں کی بنیاد پر کولمبس یہی سمجھ رہا تھا کہ ہو نہ ہو، ہیسپینیولا سونے سے مالا مال ضرور ہونا چاہیے۔ اس یقین کی وجہ یہ تھی کہ کولمبس اور اس کے ساتھیوں نے ہیسپینیولا کے دریاؤں میں سونے کے چھوٹے چھوٹے چمکتے ہوئے ذرات دیکھے تھے۔ مزید بُرا یہ ہوا کہ ہیسپینیولا میں ایک سردار نے کولمبس کو سونے کا بنا ایک ماسک بھی تحفے میں پیش کر دیا۔ اب تو کولمبس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ وہ سمجھنے لگا کہ مقامی لوگ سونے کے بارے میں جانتے تو ہیں لیکن اسے بتا نہیں رہے۔ حالانکہ اس جزیرے پر اتنا سونا نہیں تھا، جو تھا وہ صرف دریاؤں اور ندیوں کی ریت میں بہت تھوڑا بہت چھپا ہوا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کا ہیسپینیولا معدنی ذخائر یعنی منرلز سے مالا مال جزیرہ ثابت ہوا ہے۔ صرف ہیسپینیولا کے ملک ہیٹی کے شمالی مشرقی پہاڑوں میں سونے، چاندی اور تانبے کے ذخائر کا اندازہ بیس ارب ڈالر ٹونٹی بلین ڈالرزلگایا جاتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے یہ بات اس وقت کولمبس کو معلوم تھی اور نہ نیٹیو امریکنز ہی اس بارے میں کچھ جانتے تھے۔ ان کے پاس معدنیات تلاش کرنے کیلئے آج کی طرح جدید آلات تو نہیں تھے ناں۔ اس لئے وہاں سونا بڑی مقدار میں نکالنا اسے تلاش کرنا تو ناممکن تھا۔ بہرحال کولمبس نے فیصلہ کیا کہ وہ سپین واپس جائے گا

اور وہاں سے مزید فوج لے کر آئے گا اور اس جزیرے کے چپے چپے کی تلاشی لے کر سونا برآمد کرکے رہے گا۔ دوستو اس وقت تک کولمبس کے عملے کی مقامی لوگوں سے کچھ جھڑپیں بھی شروع ہو گئی تھیں۔ ایک جگہ کولمبس کے ساتھیوں نے دو مقامی لوگوں کو قتل کر دیا۔ ان لوگوں کا قصور بس یہ تھا کہ وہ یورپینز کو ان کی ضرورت کے مطابق تیر اور کمانیں فراہم کرنے پر تیار نہیں ہو رہے تھے۔ لیکن یہ اکا دکا واقعات تھے، ابھی نیٹیو امیریکنز کے ساتھ ان کی باقاعدہ کوئی بڑی جھڑپ نہیں ہوئی تھی۔ کولمبس نے اپنے ذہن میں ہیسپینیولا کو اس جزیرے کے طور پر مارک کر لیا تھا جہاں اس کے خیال میں سونا لازمی موجود تھا۔ چنانچہ اس نے ضروری سمجھا کہ وہ سپین لوٹنے سے پہلے یہاں اپنی ایک بیس قائم کر جائے جہاں اس کے ساتھی موجود رہیں

History Of America Urdu

اور اس کی غیر موجودگی میں سونا بھی تلاش کرتے رہیں۔ کولمبس کو یہ بیس اس کے جہاز ہی میں مل گئی۔ کیونکہ اس کا جہاز سانتا ماریا ہیٹی کے ساحل کے قریب زمین میں دھنس گیا تھا۔ اس لئے کولمبس کے ساتھیوں نے جہاز توڑ کر اس کے تختے نکالے اور اردگرد سے مزید لکڑیاں جمع کر کے اسی مقام پر ایک چھوٹا سا قلعہ تعمیر کرلیا جسے فورٹ نویداد کہا جاتا تھا۔ یہاں کولمبس نے اپنے انتالیس تھرٹی نائن ساتھیوں کو تعینات کر دیا پوائنٹ کر دیا۔ ان لوگوں کو کولمبس نے سونا ڈھونڈنے کی سخت ہدایات دے کر سولہ جنوری چودہ سو ترانوے کو واپس سپین روانہ ہو گیا۔ واپسی کے سفر میں کولمبس کچھ نیٹیو امریکنز کو بھی زبردرستی غلام بنا کر ساتھ لے گیا۔ انھیں جہاز میں بہت بری حالت میں رکھا گیا

جس کی وجہ سے راستے میں کئی غلام نیٹیق امریکنز سردی سے ٹھٹھر ٹھٹھر کر مر گئے۔ غلاموں اور کچھ مصالحہ جات کے علاوہ وہ ہیسپینیولا سے اتنا سونا ضرور ساتھ لے گیا تھا کہ لوگ سپین میں اس کے مخالفین اس کا مذاق نہ اُڑائیں اور دیکھ لیں کہ وہ وعدے کے مطابق سونا بہرحال لے کر آیا توہے۔ کولمبس نے سپین پہنچ کر اعلان کیا کہ اس نے ایشیا کا نیا راستہ دریافت کر لیا ہے اور وہاں بے پناہ سونا موجود ہے۔ سپین کے حکمرانوں نے کولمبس کے دعوؤں کو سچ مان لیا۔ اسے ایڈمرل آف دا سی کا ٹائٹل بھی دے دیا گیا جس کا سپین کے حکمرانوں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اس نے ایشیا کا مغربی روٹ دریافت کر لیا تووہ اسے یہ ٹائٹل دے دئیں گے۔ اب کولمبس سپین کی اشرافیہ کا حصہ بن گیا تھا۔

  • ہر جگہ کولمبس کی آؤ بھگت اور دعوتیں ہونے لگیں۔ لیکن ان دعوتوں میں اس کا مذاق بھی اڑایا جاتا تھا۔ وہ کیوں؟
  • کولمبس جسے نئی دنیا دریافت کرنے والا مہم جؤ ایکسپلورر کہا جاتا ہے اس نے صرف ایک جزیرے پر اسی لاکھ مقامی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا؟
  • کیوں؟ نئی دنیا کے مقامی لوگوں نے خطرناک ہتھیاروں کا مقابلہ ایک چھوٹی سی جڑی بوٹی سے ایک پھل سے کیسے کیا؟ کولمبس کے خلاف کیا مقدمہ چلا اور اس کے آخری دن کیسے گزرے؟

یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن ہسٹری آف امریکہ کی اگلی قسط میں۔

History Of America Urdu , History Of America Urdu Episode 1 , History Of America Urdu Episode 2 , History Of America Urdu Episode 3 , History Of America Urdu Episode 4 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 6 , History Of America Urdu Episode 7

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: