History of America Read In Urdu Article And Watch Play HistoryUncategorized

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 7) Free | Columbus discovers America

Now ♥History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 7) Free | Columbus discovers America | History of America Read Urdu Article And Watch Play YouTube Video By Famous YouTube Channel Dekho Suno Jano ( Faisal Warraich ) | History Of America Urdu | History Of America Urdu Free | History Of America Urdu True

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ  ( Episode 7) Free  Columbus discovers America
History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

History of America Urdu ( Episode 7 ) Play Now!

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 7) Free | Columbus discovers America And Watch History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ Click Hear !

ہسٹری آف امریکہ

تقریباً پانچ سو برس پہلے میساچیوسٹس کے ساحلوں پر ایک انگلش جہاز لنگر انداز ہوا اس میں ایک سو کے لگ بھگ لوگ موجود تھے۔ انھوں نے ساحل کے قریب ہی ایک بستی پلے مِتھ بسائی۔ جہاں یہ بستی بسائی گئی اس کے قریب ہی نیٹیو امریکنز کا ایک بڑا قبیلہ پوکاناکٹ آباد تھا۔ ایک دن کیا ہوا کہ پوکاناکٹس کا ایک آدمی انگریزوں کے پاس آیا اور کہا ’ہیلو‘ پوکاناکٹس کو انگلش کیسے آتی تھی؟ اور دوستو وہ کون سا راز ہے جسے امریکنز اپنے بچوں سے چھپانا چاہتے ہیں؟ ۔

امریکی جنگ آزادی کا آغاز کن واقعات کی وجہ سے ہوا؟ دوستو امریکہ میں دوسری برطانوی کالونی پلے مِتھ پہلی کالونی جیمز ٹاؤن سے سات سو کلومیٹر دور میساچیوسٹس کے ساحل پر بسائی گئی تھی

اسے پلے مِتھ اس لیے کہا گیا کیونکہ اسے آباد کرنے والے برطانیہ کی جس بندرگاہ سے روانہ ہوئے تھے اس کا نام پلے متھ ہی تھا۔ اس کالونی کے پہلے آبادکار کی بڑی تعداد ایک خاص مسیحی فرقے کرسچن سیکٹس سے تعلق رکھتی تھی جہیں بعد میں پیلگریمز کہا گیا جس کا مطلب ہے ’مقدس سفر کے لیے نکلے ہوئے مذہبی لوگ‘۔ برطانیہ میں چونکہ اس فرقے کو مذہبی آزادی حاصل نہیں تھی اس لئے یہ پیلگریمز سولہ سو بیس میں برطانوی بندرگاہ پلے مِتھ سے سمندری جہاز مے فلاور میں سوار ہو کر امریکہ کی طرف نکلے۔

یہ لوگ پینسٹھ دن کے سفر کے بعد دسمبر سولہ سو بیس میں موجودہ امریکی ریاست میساچیوسٹس کے ساحل پرلنگر انداز ہوئے۔ مے فلاور کے مسافروں میں خواتین اور بچے بھی موجود تھے۔ ان لوگوں نے یہاں آباد ہوتے ہوئے آپس میں ایک معاہدہ کیا۔ معاہدے میں طے کیا گیا کہ کالونی کے لوگ اپنے قوانین خود بنائیں گے لیکن تاج برطانیہ کے وفادار رہیں گے اور اپنے مذہب کرسچینیٹی کے اس خاص سیکٹ پر عمل بھی کرتے رہیں گے۔ یہ کالونی ان سیکلرز اور ان کی زندگیوں میں اور آنے والی نسلوں کی زندگیوں میں ایک خوشگوار آغاز تھا۔ لیکن شروع ہی میں بہت سی مصیبتیں ان پر ایک ساتھ ٹوٹ پڑیں۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

پہلی مصیبت تو یہ تھی کہ جب وہ وہاں پہنچے تو سخت سردی کا موسم تھا۔ انھوں نے اپنے لیے درخت کاٹ کر جو لکڑیوں کے ہٹس جھونپڑے سے بنا رکھے تھے وہ ناکام ثابت ہوئے اور یخت بستہ ہوائیں لکڑیوں کی درزیں چیریتی ہوئی ان کی ہڈیوں تک میں اترنے لگی۔ دوسری بڑی مشکل یہ تھی کہ کالونی کے اردگرد کی زمین ریتلی تھی یہاں کچھ بھی اگانا، کھیتی باڑی کرنا ناممکن تھا۔ چنانچہ آبادکاروں کو جلد ہی کھانے کے لالے پڑ گئے۔ تیسری مصیبت یہ ان پر ٹوٹی کہ کالونی میں بیماری پھیل گئی اور جلد ہی کالونی کے آدھے لوگ یعنی پچاس کے قریب افراد موت کی نیند سو گئے۔

جو باقی بچے ان کی حالت مردوں سے بھی بدتر تھی۔ جب تدبیریں ناکام ہو گئیں تو اب ان مذہبی بیک گراؤنڈ کے لوگوں نے کسی معجزے کی امید لگا لی۔ اور دیکھئے کہ ایک روز یہ معجزہ ہو بھی گیا۔ وہ یوں کہ پلے مِتھ کالونی جس علاقے میں واقع تھی وہاں نیٹو امریکنز کا ایک طاقتور قبیلہ ’پوکاناکٹ‘ بھی آباد تھا جسے بعد میں انگریزوں نے جبر کے تحت ’’ویمپانوآگ‘‘ قرار دینا شروع کیا تھا۔ ان لوگوں نے جب پلے مِتھ کالونی کو یوں برباد ہوتے دیکھا ان نیٹیوز نے تو وہ ان کی مدد کیلئے آ گئے۔ ۔

جو پہلا شخص اس کالونی کے لوگوں سے ملنے آیا وہ پوکاناکٹس کا مذہبی رہنما ’سیماسیٹ‘ تھا۔ اس نے ساحل پر آنے والے انگریز مچھیروں سے ان کی زبان سیکھ لی تھی۔ تو اسے انگلش آتی تھی، اور اسی نے ان لوگوں کو پلے میتھ کے لوگوں کو ہیلو کہا تھا

تو پوکاناکٹس نے پلے میتھ والوں کی مدد کے لیے جس وفد کو بھیجا اس میں سیماسیٹ اہم رکن تھا۔ یہ انگریزوں کو بچانے کے لیے آئے تھے لیکن ان کی ہمدردی سراسر مفت میں نہیں تھی۔ انگریزوں کے پاس فائر آرمز یعنی بندوقیں بارود وغیرہ تھا۔ جبکہ پوکاناکٹس کو اپنے دشمنوں سے مقابلے کے لیے ایسے ہی ہتھیار چاہیے تھے۔ چنانچہ پوکاناکٹس کے بادشاہ میساسوئیٹ نے انگریزوں سے رابطہ کر ل یا تھا اسی وجہ سے انگریز بھی اپنے سروائیول کی خاطر پوکاناکٹس سے دوستی اور ان کے دشمنوں سے جنگ کیلئے تیار ہو گئے۔

لیکن اس جنگ سے پہلے وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ ریت میں فصل کیسے اُگائی جاتی ہے؟ تو نیٹو امریکنز کا جواب تھا ۔۔۔ مچھلی کی کھاد سے۔ جی ہاں نیٹو امریکنز ریت میں مچھلیوں کو دفن کر کے اوپر ریت ڈال دیتے تھے وہاں فصل اگاتے تھے اور یہ مچھلیاں اس فصل کیلئے کھاد کا کام کرتی تھیں۔ اب نیٹو امریکنز کے مشورے پر انگریزوں نے مچھلی کی کھاد سے مکئی کی فصل اگانا شروع کر دی اور کچھ ہی عرصے میں پلے مِتھ کالونی کے گرد مکئی کے خوبصورت کھیت لہلہانے لگے۔

یوں مچھلی کی کھاد نے وہ معجزہ دکھایا جس کا پلے مِتھ کالونی کے لوگوں کو شدت سے انتظار تھا۔ انگریزوں کیلئے یہ جشن کا موقع تھا لیکن اس جشن سے پہلے انگریزوں کو ایک اور کام سرانجام دینا تھا۔ انہوں نے پوکاناکٹس کے دشمنوں کو ختم کرنا تھا کہ وہ اس کا وعدہ کر چکے تھے۔ چودہ اگست سولہ سو اکیس کی رات پوکاناکٹس کے ایک گروپ نے انگریزوں کو ساتھ ملا کر اپنے دشمنوں کے ایک گاؤں پر حملہ کیا۔ انگریزوں نے گاؤں پر گولیاں کی برسات کر دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے نیند کی وادیوں میں کھوئے درجنوں مقامی امریکی موت کی نیند میں جا سوئے۔

انگریز اور پوکاناکٹس فتح کے نشے سے سرشار ہو کر پلے مِتھ کالونی میں واپس پہنچے اور پہلی فصل کی کٹائی کا جشن منایا۔ اس جشن کی اصل تاریخ دوستو آج کسی کو معلوم نہیں لیکن یہ جشن سولہ سو اکیس، سکسٹین ٹونٹی ون میں ستمبر سے نومبر کے دمیان ہی کسی وقت منایا گیا تھا تین روز جاری رہنے والے جشن میں مختلف کھیل کھیلے گئے اور لڑائی کی مشقیں بھی کی گئی۔ اور یہی وہ جشن ہے جسے بعد میں تھینکس گیونگ کا نام دیا گیا یعنی انگریز اپنی کامیابی پر خدا کا شکر ادا کر رہے تھے۔

اس جشن میں انگریز تو صرف پچاس تھے، لیکن نیٹو امریکنز کی تعداد زیادہ تھی۔ ان کا بادشاہ میساسوئیٹ اپنے نوے لوگوں کے ساتھ اس دعوت میں شریک تھا یہ نیٹو امریکنز اپنے ساتھ شکار کئے ہوئے پانچ ہرن اور جنگلی پھل وغیرہ بھی لائے تھے۔ انگریزوں نے ایک بڑی سے مرغی ٹرکی اور دوسرے کھانوں سے اپنے مہمانوں کی تواضع کی یہ ایک شاندار جشن تھا لیکن ظاہر ہے یہ جشن ان دوسرے نیٹو امریکنز کی لاشوں پر منایا گیا تھا۔

جہیں یہ قتل کر کے آئے تھے اور اسی کے بعد وقتی طور پر پوکاناکٹس اور انگریز دوست بھی بن گئے تھے۔ لیکن دوستو پوکاناکٹس اور اس علاقے میں رہنے والے باقی نیٹو امریکنز کو بھی لانگ ٹرم میں یہ چھوٹا سا امن یہ دوستی بہت مہنگی پڑی۔ کیونکہ پلے مِتھ کالونی کی کامیابی کے بعد یہاں انگلینڈ سے بڑے پیمانے پر آبادکار آئے اور اس علاقے میں پھیلتے چلےگئے جسے آج نیو انگلینڈ کہا جاتا ہے یہی یہ سب لوگ پھیل کر آباد ہوئے تھے۔ جب ان ساحلی علاقوں میں انگریزوں کے قدم مضبوط ہو گئے تو انہوں نے نیٹو امریکنز کو غلام بنانے کے ایجنڈے پر کام شروع کر دیا۔

پھر ایک جنگ ہوئی جس کے بعد اس میں کوئی شک نہ رہا کہ انگریز اس علاقے کے مالک بننا چاہتے ہیں نیٹیو امریکنز کے دوست نہیں۔ پلے مِتھ کالونی کے قیام کے محض پندرہ برس کے بعد سولہ سو چھتیس، سکسٹین تھرٹی سکس میں انگریزوں نے نیٹو امریکنز کے ایک اور طاقتور قبیلے ’پیکوآٹ‘ پر چڑھائی کر دی۔ اس لڑائی کو انگریز کمانڈر جان میسن لیڈ کر رہا تھا۔ جان میسن نے ’پی۔کوآٹ‘قبیلے کے ایک بڑے گاؤں کو آگ لگا دی جس میں تقریباً سیو ہنڈرڈ خواتین، بچے اور بوڑھے پھنسے ہوئے تھے۔

یہ تمام لوگ اس آگ میں اس آتش میں زندہ جل مرے آخر وقت تک یہ لوگ مدد مدد پکارتے رہے لیکن کسی انگریز کو ان پر رحم نہیں آیا۔ ان لوگوں کی ان نیٹیو امریکنز کی بے بسی پر کمانڈر میسن نے حقارت سے کہا تھا کہ خدا ان لوگوں پر ہنس رہا تھا جو خدا کے اور اس کے پیروکاروں کے دشمن تھے اور اس نے انہیں جلتا ہوا تندور بنا دیا تھا۔ یہ خدا کا کافروں کے خلاف فیصلہ تھا اور خدا نے اس جگہ کو لاشوں سے بھر دیا۔ پھر جان میسن نے لاشوں کی گنتی کی اور چہکتے ہوئے بولا ’یہ خدا کا انصاف والا فیصلہ ہے۔

ایک اور انگریز کمانڈر اَنڈر ہل جو اس قتل عام میں شامل تھا اس نے تو عورتوں اور بچوں کے قتل کو یہ کہہ کر جائز قرار دیا کہ بعض اوقات مذہبی کتابیں یہ اعلان کرتی ہیں کہ عورتوں اور بچوں کو بھی اپنے ماں باپ کے ساتھ مر جانا چاہیے۔ اس دور کے اور بھی بہت سے انگریزوں نے اس واقعے کو جسٹیفائی کیا، اس کی توجیہات پیش کی ہے۔ امریکن ہولوکاسٹ کے مصنف ڈیوڈ سٹینرڈ نے نیوانگلینڈ کے ایک مذہبی رہنما کاٹن میتھر کا حوالہ دیا ہے۔

اس شخص نے اپنی کتاب میگنالیا کرسٹی امریکانا میں اس واقعے کے بارے میں لکھا تھا کہ صرف ایک گھنٹے کے اندر پانچ سو سے چھے سو وحشی اس دنیا سے ختم ہو گئے تھے

جس پر وہ بوجھ بنے ہوئے تھے۔ تو دوستو اس قسم کی توجیہات سے ایکسکیوزز سے انگریز اپنے ظلم کو جسٹیفائی کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں۔ اس جنگ میں جو کہ تقریباً ایک برس جاری رہی پی۔کوآٹ قبیلے کا مکمل طور پر صفایا کر دیا گیا۔ ان کے تمام دیہات جلا دیئے گئے۔ بچے کھچے لوگوں کو رسیوں سے باندھ کر سمندر میں پھینک دیا گیا یا غلام بنا کر بیچ دیا گیا۔ جب اس قبیلے کا خاتمہ ہو گیا تو نیو انگلینڈ کے نقشوں سے اس قبیلے کا نام نکال کر نئے نقشے دوبارہ بنائے گئے۔

کنیکٹی کٹ میں بہنے والے ایک دریا کو جسے ’پی۔کوآٹ‘ ریور کہا جاتا تھا اس کا نام تبدیل کر کے تھیمز ریور کہا جانے لگا۔ اسی دریا کے کنارے ’پی۔کوآٹ‘نام کا ہی ایک قصبہ تھا جس کا نام نیو لندن کر دیا گیا جو کہ آج بھی اسی نام سے قائم ہے۔ لیکن ’پی۔کوآٹ‘قبیلے کی تباہی تو دوستو محض شروعات تھی۔ اس واقعے کے تقریباً اڑتیس برس کے بعد ایک اور بڑی جنگ ہوئی اور اس بار اس خطے میں نیٹو امریکنز کی آزادی کا آخری چراغ بھی بجھ گیا۔

دوستو ہم نے آپ کو دکھایا تھا کہ کیسے پوکاناکٹس قبیلے کے بادشاہ میساسائیٹ نے پلے مِتھ کالونی کی مدد کی تھی اور ان کی پہلی تھینکس گیونگ دعوت میں بھی شریک ہوا تھا۔ مگر سولہ سو اکسٹھ میں جب اس کی موت ہوئی تو پلے مِتھ کالونی کے لوگ اپنے اس محسن کے بیٹوں سے لڑنے لگے۔ حالانکہ ان کے بیٹوں نے تو اپنے نام بھی انگریزوں جیسے رکھے ہوئے تھے۔ سولہ سو پچھتر تک دوستو نیٹو امریکنز میں یہ حیرت انگیز رواج آ گیا تھا کہ یہ لوگ اپنے نام انگریزوں کے ناموں جیسے رکھنے لگے تھے۔

سولہ سو اکسٹھ میں میساسائیٹ کی موت کے بعد جب اس کا بڑا بیٹا بادشاہ بنا تو اس نے اپنا نام الیگزانڈر رکھ لیا۔ انگریزوں نے الیگزانڈر پر ایک سازش کا الزام لگا کر سولہ سو باسٹھ میں اسے گرفتار کیا اور تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کی موت کے بعد اس کا بھائی جس کا نام میٹا کام تھا وہ بادشاہ بنا اس نے اپنا انگریزی نام فلپ رکھا۔ فلپ نے انگریزوں سے امن برقرار رکھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

وجہ یہ تھی کہ انگریزوں کا رویہ اب پوکاناکٹ قبیلے کے ساتھ بہت توہین آمیز ہو گیا تھا انسلٹینگ ہو گیا تھا۔ وہ پوکاناکٹس پر حکم پر چلانے لگے تھے۔ اس وقت تک یہ صورتحال تھی کہ پوکاناکٹس انگریزوں سے ہتھیار خریدتے تھے اور بدلے میں اپنی زمینیں انہیں دے دیتے تھے۔ مگر سولہ سو اکہتر میں انگریزوں نے فلپ کو بلا کر اس سے زبردستی ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرا لئے۔ کہ جس کے تحت اب پوکاناکٹس کو انگریزوں کے وہ فائر آرمز واپس کرنا پڑے جو انہوں نے اپنی زمینیں دے کر حاصل کئے تھے۔

یوں پوکاناکٹس کے ہاتھوں سے ہتھیار بھی گئے، اور زمینیں بھی گئی اور آبرو بھی گئی۔ اب وہ مکمل طور پر انگریزوں کے رحم و کرم پر تھے۔ فلپ یہ صورتحال برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔ ادھر انگریزوں کی کارروائیاں بڑھتی چلی جا رہی تھیں بلکہ انہوں نے تو پوکاناکٹ کے کچھ لوگوں کو عیسائی بنا کر ان سے جاسوسی بھی کروانا شروع کر دی تھی۔ جون سولہ سو پچھتر میں جب ایسے ہی ایک جاسوس کی لاش ملی تو پلے ۔

مِتھ کالونی نے اس قتل کا جھوٹا الزام نیٹو امریکنز پر لگا کر تین لوگوں کو پھانسی دے دی۔ اس واقعے نے فلپ کو بھی اشتعال دلا دیا اور وہ سر پر کفن باندھ کر انگریزوں سے ایک فیصلہ کن لڑائی لڑنے نکل کھڑا ہوا

فلپ اور انگریزوں کی جنگ کو کنگ فلپس وار کہا جاتا ہے اور یہ جنگ ایک سال جاری رہی سولہ سو پچھتر سے سولہ سو چھہتر تک سکسٹین سیونٹی فائیو سے سیونٹی سکس تک۔ کنگ فلپس وار اس جگہ نیٹو امریکنز کی آخری جنگ آزادی تھی۔ فلپ اور پوکاناکٹس جی جان سے اس لڑائی میں لڑے۔ اور کیوں نہ لڑتے، آخر یہ ان کی آنے والی نسلوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ مگر ان کی پوزیشن بہت ہی کمزور تھی۔

کیونکہ انگریزوں کے پاس بندوقیں تھیں اور اس حساب سے امریکنز نیٹو امریکنز تو خالی ہاتھ تھے۔ کیونکہ وہ تو معاہدے کے تحت اپنی بندوقیں پہلے ہی واپس کر چکے تھے۔ تھوڑی بہت بندوقیں جو وہ انگریزوں سے چھین پائے تھے یا ڈچ اسمگلرز اور فرانسیسیوں سے حاصل کیا کرتے تھے وہ جنگ کیلئے ناکافی تھیں۔ اس لیے انھیں اپنی آخری جنگ تر تیرکمان جیسے ہتھیاروں کے بھروسے پر ہی لڑنا تھی۔ جب لڑائی شروع ہوئی تو جلد ہی انگریزوں کا پلہ بھاری ہوا اور نیٹوز کا صفایا شروع ہو گیا۔

انگریزوں نے اپنا پرانا حربہ ایک بار پھر آزمایا اور نیٹیو امریکنز کے گاؤں گاؤں جلانے شروع کر دئیے۔ انسانوں سے آباد بستیوں کی بستیاں آگ کی نذر کر دی گئیں اور انھیں جلا کر پھونک دیا گیا۔ انگریز کتنے بے رحم ہو گئے تھے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انگریز مذہبی رہنما اور مصنف ۔۔۔ کاٹن میتھر نے دیہات جلانے کے واقعات کو بڑی سنگدلی کے ساتھ باربی کیو قرار دیا۔ یاد رہے کہ اس جنگ میں کچھ نیٹو امریکنز بھی انگریزوں کا ساتھ دے رہے تھے۔ ا

نہی کی مدد سے انگریزوں نے پوکاناکٹس کی بچی کھچی مزاحمت بھی کچل دی۔ جنگ میں کامیابی کے بعد اب انگریز بادشاہ فلپ کو پکڑنا چاہتے تھے تاکہ اسے اپنے انتقام کا نشانہ بنا سکیں۔ فلپ تو ان کے ہاتھ نہ آیا لیکن اس کا نو سالہ بیٹا اور بیوی انگریزوں کے ہتھے چڑھ گئے۔ یہ دونوں غلام بنا لیے گئے۔ مگر جان بچاتا بادشاہ بھی زیادہ دیر بچ نہ سکا۔ اگست سولہ سو چھہتر میں اسی سال انگریزوں کو معلوم ہو گیا کہ فلپ رہوڈز آئی لینڈ پر اپنے آبائی گاؤں میں چھپا ہوا ہے۔ چنانچہ انگریزوں اور ان کے اتحادی نیٹو امریکنز نےاس گاؤں پر حملہ کیا۔

فلپ، نیو انگلینڈ میں نیٹو امریکنز کی جنگِ آزادی کا آخری ہیرو یہاں بھی ان کے ہاتھ نہیں آیا۔ فلپ نے گولیوں کا مقابلہ بے جگری سے کیا اور لڑتے ہوئے مارا گیا۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اسے جس شخص نے قتل کیا وہ اس کے قبیلے کا ایک فرد تھا مگر اب عیسائی ہو چکا تھا اور انگریزوں کا ساتھ دے رہا تھا۔ لیکن انگریزوں نے اپنے بہادر دشمن کی لاش کو عزت دینے کی بجائے اس سے انتقام لیا۔ پہلے اسے کے ٹکڑے ٹکڑے کیے پھر انھیں آگ دکھا دی۔

امریکن رائٹر ڈیوڈ سلور مین اپنی کتاب دس لینڈ از دیئر لینڈ میں لکھتے ہیں کہ پوکاناکٹس بادشاہ کے کٹے ہوئے ہاتھ اس کے قاتل ایلڈر مین کے حوالے کر دیئے گئے جس نے ایک ہاتھ کو تو بیچ دیا اور دوسرے ہاتھ کو محفوظ کر لیا اس کے گھر آنے والے لوگ اسے پیسے دے کر پوکاناکٹ بادشاہ کا کٹا ہوا ہاتھ دیکھا کرتے تھے۔ فلپ کا سر کاٹ کر پلے مِتھ کالونی میں لایا گیا اور ایک نیزے پر رکھ کر آبادی کے باہر نصب کر دیا گیا۔ فلپ کے چہرے اور سر کا گوشت تو کچھ عرصے میں پرندے وغیرہ کھا گئے یا وہ گل سڑ گیا۔

لیکن نیوانگلینڈ کے آخری مقامی بادشاہ کی کھوپڑی بیس سے پچیس سال تک یونہی نیزے پر اونچی ٹنگی رہی

فلپ کی موت کی خوشی میں پلے مِتھ اور میساچیوسٹیس کالونیز نے تیرہ اگست کو تھینکس گیونگ ڈے منانے کا اعلان کیا۔ یہ وہی فلپ تھا جس کا باپ انگریزوں کا مددگار بنا تھا۔ اور جس نے انہیں سبزیاں اگانے کا فصل اگانے کا طریقہ بتایا تھا آج اس کا یادگاری مجسمہ اسی میساچیوسٹس میں نصب ہےجہاں وہ کبھی حکومت کرتا تھا۔ تو دوستو یہ تھا تھینکس گیونگ ڈے کا وہ ڈرٹی سیکرٹ جو آج نئی نسل سے امریکنز چھپانا چاہتے ہیں۔ لیکن تھینکس گیونگ ڈے امریکہ میں جلد ہی ایک روایت بن گیا اور آج تک یہ روایت چلی آ رہی ہے۔

لیکن اب یہ تہوار اگست میں نہیں بلکہ نومبر کی آخری جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ اٹھارہ سو تریسٹھ میں امریکی صدر ابراہم لنکن نے اس تھینکس گیونگ ڈے پر چھٹی کا اعلان کیا تھا۔ جو آج تک برقرار ہے جبکہ امریکہ میں جو نیٹیو امریکنز آج موجود ہیں وہ اس دن کو ’یوم سوگ‘ نیشنل ڈے آف ماؤرننگ کے طور پر مناتے ہیں۔ کنگ فلپ وار کے بعد انگریز نیو انگلینڈ پر مکمل طور پر حاوی ہو گئے۔ نیٹو امریکنز اپنی زمینیں کھو چکے تھے اور اب چند ایک علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔ جبکہ امریکہ کے ساحلی علاقوں میں یورپ سے مسلسل آبادکار آتے ہی چلے جا رہے تھے۔

ان سیکلرز کو آبادکاروں کو امریکہ کی فضا اتنی راس آئی کہ یہاں پیدا ہونے والی ان کی نسلوں کے اوسط قد، ایوریج ہائٹ دو انچ تک بڑھ گئی۔ ہر خاندان میں اوسطاً آٹھ آٹھ بچے پیدا ہو رہے تھے۔ اور اس بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ پلے مِتھ کالونی کے آبادکاروں کی اولادیں اتنی پھیلیں کہ آج ہر دسواں امریکی اسی کالونی سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ کالونی ایک طرح کا بیج تھا جس کے بعد سو سال سے بھی کم عرصے میں مشرقی امریکی ساحلوں پر تیرہ انگلش کالونیز آباد ہو گئیں۔ اس دوران فرانسیسیوں نے بھی امریکہ اور کینیڈا کے اس وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا۔

اور جہاں آج فلوریڈا ہے وہاں سپین کی کالونی تھی۔ تو جیسے یہ یورپینز یورپ میں ایک دوسرے سے لڑتے تھے یہاں بھی برطانیہ، سپین اور فرانس میں سرحدوں بارڈرز کے معاملے پر لڑائیاں ہونے لگیں۔ یہی جھڑپیں سترہ سو چھپن میں ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر گئیں۔ اس لڑائی میں نیٹو امریکنز بھی اپنی اپنی پسند کے یورپی ملک کا ساتھ دیتے تھے۔ یعنی جہاں انہیں سٹیجگ فائدہ نظر آتا تھا برطانوی کالونیز کی ایک فورس جسے کالونیل ملیشیا کہتے تھے وہ انگریزوں کی طرف سے یہ لڑائی لڑ رہے تھے اس ملیشیا کے ایک افیسر کا نام تھا جارج واشنگٹن۔

امریکہ میں ان یورپی جنگوں کا اختتام یوں ہوا کہ سات سال بعد سترہ سو تریسٹھ میں پیرس معاہدے کے تحت کینیڈا اور امریکہ سے فرانس کو نکال باہر کیا گیا۔ کینیڈا کے سارے فرنچ علاقے برطانیہ کے قبضے میں چلے گئے۔ امریکہ میں فرانسیسی علاقے برطانیہ اور سپین میں تقسیم کر دیے گئے۔ جبکہ سپین کے زیرِ کنٹرول فلوریڈا پر بھی برطانوی قبضہ تسلیم کر لیا گیا۔ نیٹو امریکنز کے بھی کچھ علاقے جو اس وقت تک آزاد تھے وہ بھی برطانیہ کے قبضے میں چلے گئے۔ یوں برطانوی اقتدار اپنی تیرہ کالونیز سے بڑھ کر اس سارے علاقے تک پھیل گیا۔

یہ امریکہ میں برطانوی دورِ حکومت کا عروج تھا، پیک ٹائم تھا۔ لیکن سات سالہ جنگ کے خاتمے پر برٹش ایمپائر نے دو ایسی غلطیاں کیں جنہوں نے امریکہ میں اس کے اقتدار کے خاتمے پر مہر لگا دی۔ پہلی غلطی یہ تھی کہ برطانیہ نے اس جنگ سے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کیلئے امریکن کالونیز پر نئے ٹیکس لگا دیئے خاص طور پر چائے کی امپورٹ پر بڑا بھاری ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ برطانیہ نے ٹیکس تو لگائے مگر امریکن کالونیز کو برٹش پارلیمنٹ میں نمائندگی بالکل نہیں دی۔ دوسری غلطی یہ ہوئی کہ برطانیہ نے اس جنگ میں فرانس سے چھینے گئے علاقوں میں یورپین آبادکاروں کے داخلے پر ہی پابندی لگا دی۔

اور ان علاقوں کو صرف نیٹو امریکنز کیلئے انہیں ریڈ انڈینز بھی کہا جاتا ہے ان کے لیے ریزرو کر دیا کہ یہاں اب صرف مقامی امریکی قبائل ہی آباد ہوں گے یا رہیں گے۔ برطانیہ نے نیٹو امریکنز کی زمینوں کو تحفظ دینے کیلئے امریکن کالونیز میں انڈین ریزرو کے قریب رہنے والے سینکڑوں یورپین آبادکاروں کو بھی دوسری جگہوں پر منتقل کر دیا۔ برٹش ایمپائر کے ان دونوں اقدامات یعنی ٹیکسز کے نفاذ اور نیٹو امریکنز کی خاطر یورپینز کو بے گھر کرنے کے اقدامات پر امریکن کالونیز کے انگریز مشتعل ہو گئے غصے میں آگئے اور ان کے دلوں میں بغاوت کروٹیں لینے لگی۔

بغاوت کا آغاز ہوا اس شہر بوسٹن سے جو پلے مِتھ کالونی سے تقریباً ستر کلومیٹر دور ہے۔ پھر یوں ہوا کہ امریکن اخبار میں ایک پینٹنگ چھپی اور بغاوت کی چنگاریاں آزدی کے شعلوں میں بدل گئیں۔ اس پینٹنگ نے ایک نئی قوم کی بنیاد رکھی اور یہی سے یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ نے جنم لیا یہ کیا کہانی تھی؟ ایسٹ انڈیا کمپنی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش انگریزوں کو بہت مہنگی پڑی، کیوں؟ وہ انوکھی پارٹی کیا تھی جس نے دنیا کا نقشہ ہی بدل دیا؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن ہسٹری آف امریکہ کے اگلے سیزن کی پہلی قسط میں۔

History Of America Urdu , History Of America Urdu Episode 1 , History Of America Urdu Episode 2 , History Of America Urdu Episode 3 , History Of America Urdu Episode 4 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 6 , History Of America Urdu Episode 7

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Adblock Detected

Please Turn off Your Adblocker. We respect your privacy and time. We only display relevant and good legal ads. So please cooperate with us. We are thankful to you