History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 6) Free | Columbus discovers America

Now ♥History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 6) Free | Columbus discovers America | History of America Read Urdu Article And Watch Play YouTube Video By Famous YouTube Channel Dekho Suno Jano ( Faisal Warraich ) | History Of America Urdu | History Of America Urdu Free | History Of America Urdu True

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 6 ) Play Now!

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 6) Free | Columbus discovers America And History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ Click Hear !

جو لوگ امریکہ میں سونا تلاش کرنے آئے تھے انھیں ایک دس سال کی بچی نے سونے کی ایسی کان کا پتا بتا دیا جو اصل سونے کی کان تو نہیں تھی لیکن سونے کی کان، گولڈ مائن اس کے سامنے کوئی حثیت نہیں رکھتی تھی۔ یہ دس سالہ بچی امریکی تاریخ کے اہم ترین کرداروں میں سے ایک ہے۔ اس نے انگریزوں کی پہلی بستی جیمز ٹاؤن کو بچانے اور پھر بسانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔ امریکی اس بچی کو آج بھی اپنی محسن مانتے ہیں۔ یہ بچی کون تھی؟جیمز ٹاؤن کیسے آباد اور برباد ہوا؟ کیسے جیمز ٹاؤن نے ایک سپرپاور ملک کی بنیادیں رکھی۔ یہ ہے یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کی ایسٹن اسٹیٹ مشرقی ریاست ورجینیا۔ اس کے سفید سنہری ریتلے ساحلوں پر آج ہزاروں سیاح گھومتے پھرتے ہیں۔

انگریزوں نے جیمز ٹاؤن میں چھوٹے چھوٹے خیموں پر مشتمل ایک چھوٹی سی بستی بسائی اور اس کے گرد لکڑیوں کی ایک مضبوط اونچی باڑ کھڑی کر دی۔ اب وہ اسے جیمز ٹاؤن فورٹ یعنی قلعہ کہنے لگے۔ اس قلعے میں گھاس پھونس سے جھونپڑی نما گھر، گودام اور ایک چرچ تعمیر کیا گیا۔ یہ قلعہ ایک تِکونی شکل میں بنایا گیا تھا جس کے ہر کونے پر ایک برج تھا اور ہر برج پر ایک توپ رکھی تھی۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا کہ اگر سپیشن لوگ جو کہ انگریزوں کے اس دور میں شدید دشمن تھے یا وہ نیٹیو امریکنز یا مقامی امریکی جنھیں غلطی سے شروع میں انڈینز سمجھا گیا

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

وہ اگر حملہ کریں تو جیمزٹاؤن کے لوگ تھوڑی تعداد کے باوجود اس کا تحفظ کر سکیں۔ دوستو یوں جیمز ٹاؤن تو بس گیا مگر اب ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ وہ یہ کہ جیمز ٹاؤن کے اردگرد کی زمین دلدلی تھی فصل اگانے کیلئے ہرگز موزوں نہیں تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ہی عرصے میں جیمز ٹاؤن میں خوراک کی شدید قلت ہو گئی۔ لوگ بھوک سے مرنے لگے۔ تو اس وقت دوستو ایک چھوٹی سی دس سالہ لڑکی ان کی مدد کو آئی۔ یہ ایک دس سال کی پوہاٹن قیبلے کی بچی تھی۔

اس لڑکی کا اصل نام تو متوکا تھا مگر وہ اپنے نِک نیم پوکاہؤنٹس سے زیادہ مشہور ہوئی جس کا مطلب تھا شرارتی لڑکی، دا میسچیویس ون۔ یہ لڑکی جیمز ٹاؤن تک کیسے پہنچی؟ ہوا یہ کہ جیمز ٹاؤن آباد ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد سولہ سو سات میں ہی ایک دن نیٹو امریکنز نے ایک انگریز جان سمتھ کو پکڑ لیا۔ وہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ پوہاٹن ایمپائر کے علاقے میں بہت دور تک اندر تک چلا گیا تھا۔ جہاں دو سو قبائیلی جنگجوؤں نے اس پر حملہ کر دیا سمتھ اور اس کے ساتھیوں نے دفاع کرنے کی ناکام کوشش کی مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے دو ساتھی جان سمتھ کے دو ساتھی مارے گئے اور وہ خود زندہ پکڑا گیا۔

نیٹوز مقامی لوگ سمتھ کو گرفتار کر کے اپنے بادشاہ کے پاس لے گئے۔ بادشاہ نے سمتھ سے اس کے عزائم جاننے کی بھرپور کوشش کی۔ اسے کچھ آدھا پورا سمجھ آیا لیکن زبان نہ سمجھنے کی وجہ سے کچھ بات کلئیر نہیں ہو سکی نہ جانے کیا وہ سمجھا اور کیا نہ سمجھا بہرحال بادشاہ نے جان سمتھ کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ سمتھ کا سر ایک پتھر پر رکھ دیا گیا بادشاہ ایک ڈنڈے سے اس کی کھوپڑی تھوڑنے ہی والا تھا کہ اچانک ایک دس سالہ لڑکی بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے اپنا سر سمتھ کے سر کے اوپر رکھ دیا ماحول پر سناٹا چھا گیا سمتھ کو مارنے کیلئے اٹھے ہوئے ہاتھ جہاں تھے وہیں رک گئے۔

جس لڑکی نے سمتھ کی جان بچانے کے لیے یہ قبائلی رسم پوری کی تھی اس کا نام پوکاہؤنٹس تھا اور یہ وہی لڑکی تھی جو اس ایمپائر کی شہزادی تھی بادشاہ کی بیٹی تھی بیٹی کے بیچ میں آ جانے کی وجہ سے بادشاہ نے سمتھ کی جان بخش دی۔ بلکہ بعد میں اس نے مہمان نوازی کی انتہا کرتے ہوئے اسے اپنا منہ بولا بیٹا بنا کر حفاظت سے جیمز ٹاؤن واپس بھیج دیا۔ اس واقعے کے بعد پوکاہؤنٹس اکثر کھانے پینے کا سامان لے کر جیمز ٹاؤن جانا شروع ہو گئی۔ اس سامان سے جیمز ٹاؤن میں خوراک کی قلت ختم ہوئی اور وہاں کے لوگوں کو نئی زندگی مل گئی۔

شاید یہی وجہ تھی کہ جیمز ٹاؤن کے لوگوں نے جان سمتھ کو اپنا گورنر بنا لیا کیونکہ اس کے شہزادی پوکاہؤنٹس اور پوہاٹن ایمپائر سے بہت اچھے تعلقات قائم ہو چکے تھے۔ ہوتے ہوتے نیٹو اور انگریزوں میں بڑے پیمانے پر تجارت بھی شروع ہو گئی۔ قبائیلی لوگ جیمز ٹاؤن کو کھانا اور دوسری ضروریات کی چیزیں فراہم کرتے تھے۔ اور بدلے میں وہ انگریز انھیں اپنے ہتھیار اور دوسرے اوزار وغیرہ بیچ دیتے تھے۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

یہ دوستی اور کاروبار کی خوشگوار فضاء کچھ عرصہ قائم رہی مگر پھر جیسا کہ فراز نے کہا ہے کہ ۔۔۔ سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی سو یہ دو قوموں کے معاملات دل کی عمر بہت جلد پوری ہو گئی مگر کیسے؟ معاملات دل اور حالات بدلنے کی وجہ یہ تھی کہ انگریزوں کی طرف سے کھانے کے سامان کی ڈیمانڈ روزبروز بڑھنے لگی تھی۔ لیکن پوہاٹنز کے پاس اتنی زیادہ خوراک تھی ہی کب۔ وجہ یہ تھی کہ ورجینیا کا یہ علاقہ آٹھ صدیوں میں پہلی بار بدترین قحط سے فیمن سے دوچار تھا۔ چنانچہ نیٹو امریکنز کے پاس بھی جیمز ٹاؤن کے لوگوں کو دینے کیلئے اضافی کھانا نہیں تھا۔

چنانچہ دونوں کے تعلقات میں کھٹ پٹ شروع ہو گئی۔ لیکن تعلقات بچانے کے لیے سولہ سو نو، سکسٹین زیرو نائن کے شروع میں جان سمتھ پوہاٹنز کے بادشاہ سے ملنے گیا۔ یہ ملاقات بڑے خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ مگر جب رات کو سب سو گئے تو سمتھ کی اچانک آنکھ کھلی۔ کوئی اس کے سرہانے بیٹھا رو رہا تھا۔ یہ پوکاہؤنٹس تھی۔ اس نے روتے ہوئے سمتھ کو بتایا کہ میرا باپ تمہیں قتل کرنے والا ہے، بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جاؤ۔ جان سمتھ کی جان بچانے دوسری بار پوہاٹنز کی شہزادی آئی تھی لیکن دراصل یہ سمتھ کی نہیں ایک مستقبل کی سپر پاور کے بیج کا تحفظ تھا جو وہ انجانے میں کیے جا رہی تھی۔

سو سمتھ اور اس کے ساتھی فوری طور پر جان بچا کر بھاگ نکلے۔ جیمز ٹاؤن بھی خبردار ہو گیا اور یوں سب لوگوں کی جان بچ گئی۔ مگر کچھ عرصے بعد سمتھ زخمی ہو کر انگلینڈ واپس آ گیا۔ لیکن جیمز ٹاؤن کو زیادہ سپاہی اور زیادہ لوگوں کے ساتھ آباد کرنے کے لیے انگلینڈ سے ایک نیا گورنر بھی پہنچ گیا۔ ہاں اس دوران جیمز ٹاؤن اور پوہاٹن قبائل کے تعلقات پھر سے کافی نارمل ہو گئے تھے۔ پہلے جیسے نہیں لیکن نارمل ہو گئے تھے نئے گورنر اور نئے لوگوں کے آنے سے جیمز ٹاؤن کی آبادی اب بڑھ گئی تھی۔ اب یہ بھی ہونے لگا تھا کہ جیمز ٹاؤن سے کچھ لوگ پوہاٹن قبائل کے پاس چلے جاتے تھے

اور پھران کی مہمان نوازی اور رسم و رواج سے اتنے متاثر ہوتے تھے یہ گورے کہ انھیں کے ساتھ رہنا شروع کر دیتے تھے۔ یاد رہے کہ اس وقت کے جیمز ٹاؤن میں زیادہ تر مرد ہی آباد ہونے کے لیے انگلینڈ اور یورپ سے آتے تھے خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی۔ سو دوستو اس بڑھتی ہوئی مردانہ افرادی قوت کا انگریزوں نے ناجائز اور بھرپور فائدہ اٹھانا شروع کیا انہوں نے ایک تو نیٹو امریکنز پر حملے شروع کر دیئے دوسرا یہ کہ جو آبادکار یعنی گورے کھانے پینے کے سامان کی کمی سے تنگ آ کر پوہاٹن قبائل سے جا ملتے تھے اور ان کے ساتھ رہنا شروع کر دیتے تھے

انہیں ان لوگوں نے جیمز ٹاؤن کے رہنے والوں نے غدار قرار دینا شروع کر دیا۔ ان بھگوڑوں انگریزوں کو تلاش کیا گیا اور جو بھی جیمزٹاؤن کے لوگوں کے ہاتھ لگا ان میں سے اسے زندہ جلا دیا گیا یا پھر کوئی اور دردناک موت کی سزادی گئی۔ ان واقعات کی وجہ سے شہزادی پوکاہؤنٹس اور دوسرے قبائیلیوں نے اب جیمز ٹاؤن آنا ہی چھوڑ دیا لیکن اس کا نتیجہ جیمز ٹاؤن کے حق میں تباہ کن نکلا۔ ہوا یہ کہ سولہ سو نو میں جب ورجینیا کا علاقہ بدترین قحط سے گزر رہا تھا جیمز ٹاؤن میں کھانے پینے کے سامان کی پہلے ہی بہت کمی تھی اس پر مزید یہ ہوا کہ انگلینڈ سے مزید تین سو لوگ جیمز ٹاؤن آ گئے۔

یہ لوگ اپنے ساتھ کھانے پینے کا کوئی اضافی سامان بھی نہیں لائے تھے۔ چنانچہ سب کو ایک دوسرے کو خوف سے دیکھتے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں کہتے ونٹر از کمنگ موسم سرما سے ونٹر سے وہ اس لیے خوفزدہ تھے کہ ورجینیا میں موسم سرما بہت شدید ہوتا تھا۔ کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا، شکار بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کچھ اگانا تو بہت دور کی بات تھی۔ ایسے میں بھوک پیاس سے جیمز ٹاؤن میں یہ لوگ مرنے لگے۔ دیکھے ہی دیکھتے چند ہفتوں میں ایک سو انگریز لقمہ اجل بن گئے۔ جو زندہ بچے انہوں نے بھوک مٹانے کیلئے اپنے پالتو کتے، بلیاں حتیٰ کہ اپنےجوتوں کا چمڑا تک ابال کر کھا لیا۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

جب یہ سب کچھ ختم ہو گیا تو زندگی برقرار رکھنے کیلئے ایک تکلیف دہ اور حیران کن کام کیا گیا۔ انہوں نے اپنے مردہ ساتھیوں کی لاشیں قبروں سے نکالیں اور انہیں بھی کھا گئے۔ حتیٰ کہ کسی کمزور، مرتے ہوئے انسان کے جسم سے خون بہنے لگتا تو وہ اس خون کو بھی چاٹ جاتے۔ جدید دور کے ماہرین نے اس دور میں بھوک سے مرنے والی ایک چودہ سالہ لڑکی کی ٹوٹی ہوئی کھوپڑی کی مدد سے اس کے چہرے کا ماڈل بھی بنایا ہے جس کے مرنے کے بعد آبادکاروں نے اس کی لاش نکال کر اس وقت کھائی تھی۔

اس بدقسمت لڑکی کا فرضی نام جین رکھا گیا ہے۔ اس دور کو جیمز ٹاؤن کی تاریخ میں سٹارونگ ٹائم یا فاقہ کشی کا دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں انگریزوں کی ڈیسپریشن اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ بہت سے انگریزوں نے جیمز ٹاؤن چھوڑ کر پوہاٹنز کے پاس، نیٹو امریکنز کے پاس پناہ لے لی تھی اور ان کی سوسائٹی کا مستقل حصہ بن گئے تھے۔ سولہ سو نو میں جب موسم سرما شروع ہوا تھا تو جیمز ٹاؤن میں پانچ سو انگریز آباد تھے فائیو ہنڈرڈ لیکن سرما کے آخر پر صرف ساٹھ، سکسٹی انسان برف میں ٹھٹھرے سانس کی ڈوری سلامت رکھے بمشکل زندہ تھے۔

جب موسم ذرا مناسب ہوا تو انہوں نے جیمز ٹاؤن چھوڑ دیا اور انگلینڈ جانے کیلئے ساحل کی طرف چل پڑے۔ لیکن ساحل پر انھیں دور سے چند جہاز آتے دکھائی دئیے۔ یہ جہاز انگلینڈ سے آ رہے تھے۔ ان جہازوں پر جیمز ٹاؤن کا نیا گورنر لارڈ ڈیلاوائر اور ڈیڑھ سو مزید آبادکار سیکلرز سوار تھے۔ ان پر کھانے پینے کا سامان بھی بھاری مقدار میں لدا ہوا تھا۔ ان جہازوں کی آمد فاقہ کش انگریزوں کیلئے کسی جنت جیسی خوشخبری سے کم نہیں تھی۔ وہ جو اپنے سب پیاروں اور سب امیدوں کھو چکے تھے ان کے سینے اس خوش اُمیدی کی خبر سے بھر گئے، جسموں میں نئی جان سی آ گئی۔ انھوں نے انگلینڈ واپسی کا ارادہ ترک کر دیا اور جیمز ٹاؤن کے قلعے میں لوٹ آئے۔

سولہ سو دس میں جب ڈیلاوائر نے جیمز ٹاؤن میں قدم رکھا تو یہ ایک اُجڑی ہوئی بستی تھی۔ یہاں کےلوگ زندہ تھے، لیکن لاشوں کی طرح دکھائی دیتے تھے۔ ڈیلاوائر نے آخری سانسوں پر زندہ لوگوں کو کھانا فراہم کیا اور ساتھ ہی پوہاٹن ایمپائر کے خلاف جنگ کی تیاریاں بھی شروع کر دی۔ پہلے اس نے پوہاٹن ایمپائر سے مطالبہ کیا کہ وہ ان بھگوڑے انگریزوں کو واپس کرے جنہوں نے سٹارونگ ٹائم میں جیمز ٹاؤن کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ ڈیلاوائر ان لوگوں کو عبرتناک سزائیں دینا چاہتا تھا مگر جب پوہاٹنز نے ان پناہ گزین گوروں کو حوالے کرنے سے انکار کیا تو ڈیلاوائر نے ان پر حملے کیلئے ایک فوجی دستہ بھیجا۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

ان فوجیوں نے پوہاٹنز کے ایک اتحادی قبیلے کے گاؤں پر حملہ کیا اور وہاں جو کوئی بھی ان کے ہاتھ لگا اسے بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پھر انہوں نے گاؤں کی رانی اور اس کے دو معصوم بچوں کو پکڑ لیا اور انھیں کشتی میں بٹھایا اور جیمز ٹاؤن کی طرف چل پڑے۔ لیکن راستے میں یہ ہوا کہ سپاہیوں کا موڈ بدل گیا انہوں نے دونوں بچوں کو پانی میں پھینک کر ان کے کھوپڑیوں میں گولیاں اتار دیں۔ پھر ملکہ کو جیمز ٹاؤن لایا گیا تاکہ اسے زندہ جلایا جا سکے۔ مگر اس دوران فوجی دستے کے کمانڈر کو رانی پر رحم آ گیا۔ کمانڈر نے اسے زندہ جلانے کے بجائے، تلوار گھونپ کر قتل کر دیا۔ یہ اس انگریز کمانڈرکا رحم تھا۔ اب ظاہر ہے ایسے حملوں پر پوہاٹنز بھی خاموشی سے بیٹھنے والے نہیں تھے۔

وہ جیمز ٹاؤن کے قلعے پر تو کھل کر حملہ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہاں انگریزوں نے توپیں نصب کر رکھی تھیں جس کا مقابلہ یہ مقامی لوگ نہیں کر سکتے تھے۔ البتہ جیمز ٹاؤن سے باہر کھیتی باڑی یا کسی اور کام سے جانے والے انگریز جو تعداد میں کم ہوتے تھے وہ قبائیلوں کا آسان شکار بننے لگے۔ وہ پوہاٹنز کے ہاتھوں مارے جاتے یا اغوا ہو جاتے تھے۔ اس گوریلا جنگ کے عذاب کے علاوہ اب جیمز ٹاؤن کو پوہاٹنز سے خوراک کی سپلائی بھی بند ہو چکی تھی۔ سو انگریزوں نے ہوش کے ناخن لیے اور امن کا راستہ اپنانے پر سوچنا شروع کر دیا۔ لیکن یہ امن انہوں نے مذاکرات کی میز پر نہیں بلکہ گن پوائنٹ پر حاصل کیا۔ انہوں نے پوہاٹنز کی شہزادی پوکاہؤنٹس کو اغوا کر لیا۔

وہی شہزادی جس کی وجہ سے جیمز ٹاؤن کو ایک وقت میں نئی زندگی ملی تھی۔ ہوا یہ کہ انگریزوں نے پوکاہؤنٹس کو اغوا کرنے کیلئے ایک مقامی سردار کو ساتھ ملایا۔ یہ گھر کا بھیدی پوکاہؤنٹس کو جانتا تھا وہ اس لڑکی کو کسی بہانے انگریزوں کے بحری جہاز میں لے آیا اور وہ انگریزوں کے ہاتھوں یرغمال بن گئی۔ یہ سال تھا سولہ سو تیرہ، سکسٹین ہنڈرڈ تھرٹین کا اور پوکاہؤنٹس کی عمر تھی کوئی پندرہ یا سولہ سال۔ پوکاہؤنٹس کا اِغوا انگریزوں اور ابتدائی امریکی تاریخ کا ایک بہت اہم چیپٹرہے۔ کیونکہ اس اغوا کے بعد پوہاٹن ایمپائر کو انگریزوں کے آگے جھکنا پڑا تھا

گوریلا جنگ ختم کرنا پڑی تھی اور انہیں خوراک کی سپلائی بھی پھر بحال کرنا پڑی تھی۔ لیکن انگریزوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ انھوں نے پوکاہؤنٹس کو زبردستی عیسائی بنایا، اس کا عیسائی نام ربیکا رکھا اور ایک انگریز جان رالف سے اس کی شادی بھی کروا دی۔ تاہم اس شادی کیلئے انگریزوں نے رواج کے مطابق اس لڑکی کے باپ یعنی نیٹو امریکنز کے بادشاہ کی اجازت حاصل کر لی گئی تھی۔ اب ظاہر ہے اس کے باپ کے پاس ایک مغوی لڑکی کی شادی کی اجازت دینے کے سوا چارہ بھی کیا تھا؟ ۔

لیکن اس لڑکی نے ان امریکیوں کو جو سونا تلاش کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے تھے ایک سونے سے، گولڈ مائن سے بھی قیمتی راز کا پتہ بتا دیا۔ یہ ایسا راز تھا جس پر آنے والی صدیوں میں انگریزوں کی زندگی اور موت کا دورومدار تھااسی راز نے یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کے قیام اور آزادی کی بنیاد رکھی۔ یہ راز تھا دھواں ۔۔۔ تمباکو کی کاشت۔ ۔۔۔ کلٹی ویشن آف ٹوبیکو ۔۔۔ انگریزوں کے جیمز ٹاؤن بسانے سے پہلے وہ سپینش لوگ جو جنوبی امریکہ میں قتل و غارت کر رہے تھے وہ نیٹیو امیریکنز سے تمباکو اگانے کا راز اور گر سیکھ چکے تھے۔ جس کے بعد سے وہ سپینش لوگ تمباکو کو یورپ سپلائی کر کے بہت سا مال بنا رہے تھے۔

لیکن تمباکو اگانے کا راز وہ کسی دوسرے سے شئیر نہیں کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ تمباکو کی تجارت پر سپینش حملہ آووروں کی ایک اجارہ داری تھی ایک صدی تک وہ اس پر چھائے ہوئے تھے۔ لیکن سو برس کے بعد صورتحال بدل گئی۔ تمباکو کے کچھ بیج کسی طرح ایک انگریز کسان کے ہاتھ بھی لگ گئے جو انہیں لے کر سولہ سو بارہ میں جیمز ٹاؤن پہنچ گیا۔ دوستو یہ انگریز کوئی اور نہیں وہی جان رالف تھا جس سے بعد میں پوکاہؤنٹس کی زبردستی کی شادی ہوئی تھی۔ اپنی شادی تک جان رالف جیمز ٹاؤن میں تجرباتی بنیادوں پر تمباکو اگا رہا تھا مگر اسے کوئی کامیابی نہیں مل رہی تھی کہ وہ اس تمباکو کو کمرشل بنیادوں پر تیار کرسکے اس لیول کا تیار کر سکے۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

مگر اب پوکاہؤنٹس سے شادی کے بعد یہ سب بدل گیا۔ پوکاہؤنٹس مقامی امریکن تھی، وہ مقامی ماحول اور زراعت کو ایگریکلچر کو بہت اچھی طرح سمجھتی تھی۔ اس کی کوششوں سے جلد ہی جیمز ٹاؤن میں تمباکو کی بہترین فصل پیدا ہونے لگی۔ جیمز ٹاؤن نے اب یہ تمباکو انگلینڈ بھیجنا شروع کر دیا، جس سے سپین کی اس کاروبار پر جو اجارہ داری تھی، مناپلی تھی وہ ختم ہونے لگی۔ یہی وہ وقت تھا جب جیمز ٹاؤن کی چھوٹی سی بستی پہلی بار ایک منافع بخش کالونی سیلف سسٹین ایبل کالونی بن گئی۔ اس کے بعد تو انگلینڈ سے آنے والوں کی لائن لگ گئی۔ انگلینڈ اور پورے یورپ سے بہت سے لوگ جیمز ٹاؤن پہنچنے اور اس کے اردگرد تمباکو اگانے لگے۔

جیمز ٹاؤن دیکھتے ہی دیکھتے ایک چھوٹی سی بستی ایک قلعہ سےبہت بڑا قصبہ بن گیا۔ اب ایک دلچسپ بات بتاتے ہیں آپ کو جیمز ٹاؤن آباد ہونے کے پہلے گیارہ برس میں یہاں خواتین کی تعداد کوئی ایک سو کے لگ بھگ یا اس سے بھی کم تھی۔ یہ عورتیں اپنے شوہروں یا والدین کے ساتھ جیمز ٹاؤن آئی تھیں اور کام کاج میں ان کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ لیکن جب جیمز ٹاؤن میں مردوں کی تعداد بڑھنے لگی تو یہ بستی بسانے والی ورجینیا کمپنی نے باقاعدہ کاروباری بنیادوں پر خواتین کی یہاں امیگریشن پہلی بارشروع کی۔ سولہ سو انیس، سکسٹین ہنڈرڈ نائنٹین میں نوے عورتوں، نائنٹی ویمن کو جیمز ٹاؤن بھیجا گیا۔

ان خواتین نے مقامی آبادکاروں سے یہاں پہنچ کر شادیاں کیں اور یوں جیمز ٹاؤن میں تمباکو کے ساتھ فیملی فارم ہاؤسز اور فیملی لائف کا بھی آغاز ہوا۔ فیملیز تو بن گئیں تو اب بچے بھی ہونا تھے سو ہوئے فیملیز بڑھنے لگیں اور ساتھ ہی ساتھ تمباکو کے کھیت بھی پھیلنے لگے۔ اب ان پھیلتے کھیتوں کے لیے لیبر کی ضرورت بڑھ رہی تھی۔ لیکن جیمز ٹاؤن کے زمیندار اتنے امیر نہیں تھے کہ مزدوروں کو یورپ سے ہائر کر کے یہاں لائیں اور پھر ان کی سیلریز تنخواہ افوڈ کریں۔ ویسے بھی ہر انگریز جو یورپ سے آ رہا تھا

وہ امریکہ کی لامتناہی زمین پر جہاں تک چاہے اپنا کھیت پھیلا سکتا تھا اپنے زور بازو پے۔ تو اس کھیت میں مزدوری کے لیے جو مسئلہ پیدا ہوا اس کا حل ایک ایسی چیز سے نکلا جو آنے والی صدیوں میں امریکہ کے لیے ایک نیا مسئلہ بن کر کھڑا ہوا۔ بلکہ سچ پوچھیں تو آج بھی وہی امریکہ کی فالٹ لائن ہے۔ اس حل کا نام تھا ۔۔ افریقہ کے غلام ۔۔۔ سولہ سو انیس میں جیمز ٹاؤن کے ایک جہاز نے ڈچ شپ کی مدد سے ایک پرتگالی جہاز کو لوٹ لیا۔ یہ پرتگالی جہاز غلاموں کی تجارت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس جہاز سے پچاس سیاہ فام افریقی غلام جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے انہیں جیمز ٹاؤن لے جایا گیا۔

جیمز ٹاؤن کے فارمرز نے یہاں سے بیس سیاہ فام غلام خرید لیے۔ یوں یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کی سرزمین پر غلامی کا طویل اڑھائی سو برس پر پھیلا دور شروع ہوگیا۔ چونکہ شروع میں انگریزوں کے پاس جیمز ٹاؤن اور اس کے اردگرد بہت تھوڑی زمین تھی اس لئے کئی آبادکاروں نے تو اپنے لانز اور بیک یارڈز میں ہی چھوٹے چھوٹے کھیت بنا لئے تھے جہاں وہ تمباکو اگاتے تھے۔ پھر جب انگریزوں کی آبادی بڑھنے لگی تو انہیں نئی زمینوں کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہوں نے پوہاٹن ایمپائر کی زمینیں ہتھیانا شروع کر دیں۔

ویسے بھی پوکاہؤنٹس جو انگریزوں اور نیٹو امریکنز میں امن کی واحد گارنٹی تھی وہ اس وقت تک ختم ہو چکی تھی۔ کیونکہ سولہ سو سولہ میں جس وقت کی ہم بات کر رہے ہیں اس سے تین چار سال پہلے پوکاہؤنٹس اپنے شوہر جان رالف اور بیٹے کے ساتھ انگلینڈ چلی گئی تھی۔ انگلینڈ میں وہ بادشاہ جیمز کے دربار میں پیش ہوئی جہاں اسے شاہی مہمان بنایا گیا اس کی خوب آؤ بھگت ہوئی۔ بلکہ اس کے تو پورٹریٹس بنائے جاتے تھے جس میں اسے مغربی لباس میں دکھایا جاتا تھا اور ان پورٹریٹس میں اس کا عیسائی نام ربیکا لکھا جاتا تھا۔ اس آؤ بھگت سے ظاہر ہوتا ہے کہ انگلینڈ کے حکمرانوں کے نزدیک جیمز ٹاؤن کے سروائیول کیلئے پوکاہؤنٹس بہت اہمیت کی حامل تھی۔

لیکن سولہ سو سترہ میں انگلینڈ کے ہاتھ سے یہ ترپ کا پتا نکل گیا۔ ورجینیا واپسی کے دوران ایک بار جہاز میں پوکاہؤنٹس کی طبیعت خراب ہو گئی۔ اسے واپس انگلینڈ کے علاقے گریوز۔اینڈ لے جایا گیا جہاں اس کی موت ہو گئی۔ پوکاہؤنٹس کو اسی علاقے میں پھردفن کر دیا گیا۔ تاہم نیٹو امریکنز اس لڑکی کی جو ہسٹری بیان کرتے ہیں اس سے یہ تاثر آج ملتا ہے کہ وہ طبعی موت نہیں مری تھی بلکہ شاید اسے مارا گیا تھا قتل کیا گیا تھا زہر دے کے پوکاہؤنٹس آج امریکہ کی ابتدائی تاریخ کی ایک لیجنڈ بن چکی ہے۔ اس پر کئی فلمیں اور کارٹونز بھی بن چکے ہیں۔

انیس سو پچانوے میں بنائی گئی ایک اینی میٹڈ فلم میں پوکاہؤنٹس کو جیمز ٹاؤن کے گورنر جان سمتھ کی محبت میں گرفتار بھی دکھایا گیا ہے۔ تو پوکاہؤنٹس کی موت کے ساتھ ہی انگریزوں اور پوہاٹن ایمپائر کے درمیان امن کا دور ختم ہو گیا۔ پوہاٹن قبائل اب انگریزوں کی بلیک میلنگ سے آزاد ہو چکے تھے چنانچہ وہ بھی مادرِ وطن کے تخفظ کیلئے ڈٹ گئے۔ انہوں نے جیمز ٹاؤن کے اردگرد قائم انگریزوں کی نئی آبادیوں کو جو زیادہ محفوظ نہیں تھیں نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

سولہ سو بائیس، سکسٹین ہنڈرڈ ٹونٹی ٹو میں ایسے ہی ایک حملے میں عورتوں اور بچوں سمیت تین سو سینتالیس، تھری فورٹی سیون انگریز مارے گئے۔ ان میں پوکاہؤنٹس کا شوہر جان رالف بھی شامل تھا جو اپنی بیوی کی موت کے بعد ورجینیا لوٹ آیا تھا اور وہی رہتا تھا۔ لیکن اس قتل عام سے بھی انگریزوں کی آبادکاری سیٹلمنٹ رک نہیں سکی اور انگریز پوہاٹنز کو شکست پر شکست دے کر ان کی زمینیں ہتھیاتے رہے۔ انگریزوں کے پاس بندوقوں کی سپورٹ کے علاوہ کچھ ایسے نیٹو امریکنز کی مدد بھی شامل تھی جو پوہاٹن قبائل کے دشمن تھے۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

سولہ سو چوالیس، سکسٹین فورٹی فور میں پوہاٹنز نے انگریزوں کے خلاف اپنی آزادی کی آخری جنگ لڑی۔ یہ ایک فیصلہ کن جنگ تھی جس میں پانچ سو انگریز اور یورپی باشندے مارے گئے۔ لیکن یہ جنگ بھی پوہاٹنز ہار گئے اور ان کا اس وقت کا بادشاہ بھی قتل ہو گیا۔ سولہ سو چھیالیس، سکسٹین فورٹی سکس میں پوہاٹنز نے ہتھیار ڈال دیئے اور انگریزوں نے امن معاہدے کے نام پر پوہاٹنز کو غلام بنا کر ان کی زیادہ تر زمینیں چھین لیں۔ یوں جیمز ٹاؤن کی چھوٹی سی بستی سے شروعات کرنے والے انگریز محض انتالیس برس میں، تھرٹی نائن ایرز میں ورجینیا کے بڑے حصے پر قابض ہو گئے۔ وہ انگریز جنھوں نے ایک زمانے میں ورجینیا میں پوہاٹنز کے بادشاہ کو تاج پہنایا تھا

آج اس کا تخت و تاج اور زمین سب کچھ چھین چکے تھے۔ آج اس وسیع و عریض سلطنت کی یادگار فقط یہ پندرہ سو ایکڑ کی ایک زمین رہ گئی ہے جسے پامونکے ریزرویشن کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے باہر تختے جیسی اس چٹان پر اس بادشاہ کا، پوکاہؤنٹس کے باپ کا چہرہ بنا ہے۔ اس ریزرویشن میں پوہاٹن ایمپائر کی بچی کھچی نسل کے کچھ لوگ آج بھی آباد ہیں۔ ایسی ریزرویشنز امریکہ بھر میں دوسرے نیٹو قبائل کیلئے بھی قائم ہیں جن کی زمینیں ان گوروں نے امریکنز نے اور یورپینز نے چھین لی تھیں۔ ورجینیا تو انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا مگر سولہ سو ننانوے میں جیمز ٹاؤن بھی اجڑ گیا۔ ہاں اب اسی جگہ یادگار کے طور پر جیمز ٹاؤن دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے جسے دنیا بھر دیکھنے کے لیے سیاح ورجینا آتے ہیں۔

یہاں ان تین جہازوں کے ماڈل بھی کھڑے ہیں جن پر جیمز ٹاؤن کے پہلے آبادکار یہاں پہنچے تھے۔ جبکہ جیمز ٹاؤن کو زندگی دینے والی پوکاہؤنٹس کے مجسمے بھی جیمز ٹاؤن اور انگلینڈ میں نصب ہیں تو یہ تھی مائی کیوریس فیلوز یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ میں انگریزوں کی پہلی بستی جیمز ٹاؤن کی کہانی جس نے امریکہ جیسی سپرپاور کے قیام کی بنیاد رکھی۔ لیکن دوستو جب جیمز ٹاؤن اپنی کامیابی کی ابتدائی منازل طے کر رہا تھا تو انگریز امریکہ میں ایک اور کالونی بھی بسا رہے تھے۔

یہ کالونی اتنی کامیاب ہوئی کہ آج ہر دسواں امریکی اسی کالونی سے تعلق رکھتا ہے برطانیہ سے آزادی کی تحریک نے بھی اصل میں اسی کالونی سے جنم لیا تھا۔ اس کالونی کی کہانی دراصل اس امریکہ کی کہانی ہے جسے آپ اور ہم آج یو ایس اے کہتے ہیں۔ کیا تھی اس کالونی کی کہانی؟ جیمز ٹاؤن کا غلام اس نئے کالونی کے کام کیسے آیا؟ ریت میں فصلیں کیسے اگائی گئیں؟ وہ تھینکس گیونگ ڈے تھا یا ہیلووین کی خوفناک شکل؟

History Of America Urdu , History Of America Urdu Episode 1 , History Of America Urdu Episode 2 , History Of America Urdu Episode 3 , History Of America Urdu Episode 4 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 6

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: