UncategorizedHistory of America Read In Urdu Article And Watch Play History

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 9) Free | Columbus discovers America

Now ♥History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 9) Free | Columbus discovers America | History of America Read Urdu Article And Watch Play YouTube Video By Famous YouTube Channel Dekho Suno Jano ( Faisal Warraich ) | History Of America Urdu | History Of America Urdu Free | History Of America Urdu True

PAkistanwap.pk

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 9 ) Play Now!

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 9) Free | Columbus discovers America And History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ Click Hear !

رات کا وقت، دریائے اوہائیو کا کنارہ پانی کا شور اور قریب ہی لکڑی کے ہٹ میں ایک نیٹیو امریکن ماں اپنے آنے والے بچے کی منتظر تھی۔ یہ سال تھا سیونٹین سکسٹی ایٹ، سترہ سو اڑسٹھ اور صاف ستھرے آسمان پر ستارے جگمگا رہے تھے۔ رات کے کسی پہر جب اس ماں نے اپنے بچے کو جنم دیا تو اس کی نگاہیں آسمان پر تھیں۔ ماں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ستارہ ٹوٹتا ہے اور دور اپولیچین موئنٹیز کے پیچھے کہیں غائب ہو جاتا ہے۔

اس کے شاؤنی قبیلے میں ٹوٹتے ستارے کو تیکامسا کہا جاتا تھا۔ یہ منظر اتنا سہانا تھا کہ ماں نے بچے کو بھی تیکامسا کا نام دے دیا۔ یہ وہ بچہ تھا جسے بڑا ہو کر اپنے لوگوں کے لیے ایک الگ آزاد وطن کی جنگ لڑنا تھی۔ کینیڈا اگر آج امریکہ کا حصہ نہیں ہے تو اس میں اس بچے کا بہت اہم کردار ہے۔ اس بچے اور نئے نویلے ملک یونائٹیڈ اسٹیٹ آف امریکہ کی کہانی کیا ہے؟ وہ کیا جنگ تھی جس میں امریکی پرچم پر ساری رات بمباری ہوتی رہی لیکن وہ گر نہ سکا؟ آخر کیوں؟

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 9)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

امریکہ کو اپنی آزادی کے بعد بھی ایک اور جنگ آزادی کیوں لڑنا پڑی؟ سترہ سو چھہتر میں جب امریکہ آزاد ہوا تو نقشے میں نظر آنے والی ان تیرہ ریاستوں پر مشتمل تھا۔ پھر سترہ سو تراسی، سیونٹین ایٹی تھری تک یہ علاقہ جو آج کی امریکی ریاست وسکانسِن تک پھیلا ہوا ہے یہ بھی امریکہ میں شامل ہو چکا تھا۔ لیکن ان ابتدائی تیرہ سٹیٹس اور مغرب میں پھیلے اس وسیع وعریض امریکہ کے درمیان یہ ہزاروں کلومیٹر طویل پہاڑی سلسلہ اپولیچین مونٹینز تھا۔

اُس وقت اِس علاقے کو شمال مغرب یا نارتھ ویسٹ کہا جاتا تھا۔ آج اسے اولڈ نارتھ ویسٹ کہا جاتا ہے۔ یہ جادوئی قدرتی مناظر اور آنکھوں کو خیرہ کرتی جھیلیں جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ اسی نارتھ ویسٹ کا حصہ ہیں۔ تو اس علاقے اور نئے نویلے ملک یو ایس اے کو اس پہاڑی سلسلے نے الگ کر رکھا تھا۔ ان تیرہ اسٹیٹس سے نارتھ ویسٹ میں پہنچنا آسان نہیں تھا بہت تھوڑی تعداد ہی میں امریکی ان مشکل پہاڑی راستوں کو طے کرتے ہوئے یہاں پہنچتے تھے۔

لیکن پھر یہ ہوا کہ جلد ہی امریکیوں کو دور نیچے جنوب میں ساؤتھ میں ایک ایسی جگہ مل گئی جہاں سے نارتھ ویسٹ میں، اپولیچین موؤنٹینز کو بائی پاس کر کے باآسانی پہنچا جا سکتا تھا۔ جیسا کہ آپ نقشے میں دیکھ رہے ہیں یہ راستہ موجودہ امریکی ساحلی شہر نیو آرلینز سے گزرتا تھا۔ امریکی یا سفید فام آبادکار،وائٹ سیٹلرز نیوآرلینز جاتے اور یہاں سے مسیسیپی ریور میں سفر کرتے ہوئے اوپر نارتھ ویسٹ میں یا راستے میں کسی بھی جگہ آسانی سے پہنچ جاتے تھے۔

اسی وجہ سے نارتھ ویسٹ میں امریکیوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی تھی۔ لیکن یہاں نارتھ ویسٹ میں جتنے بھی امریکی آباد ہو رہے تھے ان کے لیے سمندری تجارت اور دوسرے تمام اہم امور کے لیے یہ اپولیچین مونٹینز کے پار والی تیرہ ریاستیں بہت اہمیت کی حامل تھیں۔ بلکہ یہی ریاستیں ان کی بنیادی سپلائی لائن بھی تھیں۔ اسی لیے ان دونوں حصوں کے ملانے والے یعنی نیو آرلینز کے علاقے کی اہمیت آپ سمجھ ہی سکتے ہیں کہ کتنی زیادہ تھی۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ امریکی اس راستے کو استعمال تو کر رہے تھے لیکن اٹھارہ سو تین تک یہ علاقہ امریکہ کا حصہ نہیں تھا۔ یہ علاقہ فرانسیسی کنٹرول میں تھا اور فرانس میں نپولین بونا پارٹ جیسے طاقتور کمانڈر کی حکومت تھی۔ اس لیے خدشہ تھا کہ سٹریٹیجک اہمیت کے حامل اس علاقے کو اگر نپولین یا کسی اور نے بند کر دیا تو دونوں طرف کے امریکہ کے درمیان کا ایک راستہ اہم راستہ سپلائی لائن کٹ جائے گی۔ سو اسے بچانے کے لیے امریکیوں نے فرانس سے ایک تاریخی سودا کیا۔

یہ سودا امریکی تاریخ کا رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا وہ سودا تھا جس میں اسے کوئی جنگ نہیں لڑنا پڑی اٹھارہ سو تین، ایٹین او تھری میں امریکہ نے فرانس سے نیوآرلینز سمیت نارتھ ویسٹ سے آگے کا یہ پورا علاقہ جسے تاریخی طور پر ’لوزیانا ٹیریٹری‘ کہا جاتا ہے خرید لیا۔ اور جانتے ہیں کتنے میں خریدا صرف ایک کروڑ بارہ لاکھ ڈالرز میں۔ اکیس لاکھ مربع کلومیٹر، ٹو پوائنٹ ون ملین سکوئر کلومیٹر صرف الیون پوائنٹ ٹو ملین ڈالرز میں۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 9)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

اس علاقے کے امریکہ میں شامل ہونے سے امریکہ کو دو فائدے ہوئے۔ ایک تو اس نئے ملک کا رقبہ دوگنا ہو گیا ڈبل ہو گیا اور دوسرے ساتھ ہی نارتھ ویسٹ سے امریکہ کی سپلائی لائن بھی محفوظ ہو گئی۔ اب نیوآرلینز کے امریکہ میں شامل ہو جانے سے امریکی آبادکار باآسانی نیوآرلینز کے راستے ہی نارتھ ویسٹ میں پہنچنے لگے۔ لیکن یہاں تو آپ جانتے ہیں کہ پہلے سے بہت بڑی تعداد میں امریکی نیٹیو ٹرائبز، مقامی لوگ رہتے تھے جن کی آبادی لاکھوں میں تھی اور وہ یہاں ہزاروں سال سے آباد تھے یہی زمین ان کا گھر تھی۔

یہاں دوستو یہ بات آپ کے ذہن میں رہے کہ جب فرانس، برطانیہ یا امریکہ ایک دوسرے سے کوئی زمین لیتے تھے یہاں کی تو اس میں وہاں کے مقامی قبائل یعنی نیٹیوز کا کوئی کردار نہیں ہوتا تھا۔ اس زمین کو لینے والی امریکی، برطانوی یا فرانسیسی حکومت کو ان قبائل سے اپنے طور پر نمٹنا ہوتا تھا۔ دل چاہے تو وہ انھیں وہاں رہنے دیں۔ نہ چاہے تو بھلے نکال دیں، مار دیں یا پھر غلام بنا لیں۔ سو امریکیوں نے نارتھ ویسٹ میں بھی وہ کیا جو انھوں نے اپنی چالاکی اور اسلحے کے زور پر باقی جگہوں پر کیا تھا

۔ یعنی نیٹیوز سے ان کی زمینیں ہوشیاری سے چھیننا اور انھیں وہاں سے نکالنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ اٹھارہ سو نو میں یہاں کا بارہ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ امریکیوں نے نیٹیو سے فورٹ وین معاہدے کے ذریعے چھین لیا۔ یہ علاقہ خوبصورت جھیل، مشی گن لیک کے نیچے وہاں تھا جہاں آج امریکی ریاستیں الانائے اور انڈیانا موجود ہیں۔

فورٹ وین وہ معاہدہ تھا جس نے قبائلی نوجوانوں کو یقین دلا دیا کہ اب وہ آباد کاروں کے، وائٹ سیٹلرز کے غلام بن چکے ہیں۔ اسی غلامی کے احساس نے ایک غصے کو جنم دیا اور اس غصے نے اس وقت آگ پکڑ لی جب اسے نیٹیوز کے لیجنڈری ہیرو تیکامسا نے لیڈ کرنا شروع کر دیا

۔ تیکامسا نارتھ ویسٹ کے شاؤنی قبیلے کا سردار تھا۔ اس کا قبیلہ ان جگہوں پر آباد تھا جہاں آج امریکی ریاستیں اوہائیو، کینٹیکی اور انڈیانا ہیں۔ تیکامسا نے فورٹ وین معاہدے کی شدید مخالفت کی۔ انڈیانا کے امریکی گورنر ولیم ہیریسن نے ایک دو بار تیکامسا سے ملاقات کر کے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اس معاہدے کی مخالفت نہ کرے کیونکہ یہ معاہدہ جن زمینوں سے متعلق ہے وہ تو اس کے شاؤنی قبیلے سے باہر کا حصہ ہیں۔ اور یہ کہ وہاں کے مقامی قبائل زیادہ تر امریکیوں سے معاہدے کے حق میں ہیں۔

ان دلائل کے باوجود تیکامسا نہیں مانا۔ بلکہ لیجنڈ کے مطابق ایک بار تو اس نے ولیم ہیریسن سے مذاکرات کے دوران غصے میں اپنی کلہاڑی بھی نکلا لی اور بلند کر لی تھی۔ جس پر ولیم نے بھی تلوار نکال لی۔ یہاں تاہم کوئی لڑائی نہیں ہوئی اور معاملہ خوش اسلوبی سے رفع دفع ہو گیا۔ اب یہ تو سچ تھا کہ تیکامسا کے قبیلے شاؤنی کا براہ راست تعلق فورٹ وین معاہدے سے نہیں تھا۔ لیکن تیکامسا تمام مقامی قبائل کو ایک قوم سمجھتا تھا۔

وہ سمجھتا تھا کہ سفید فام رفتہ رفتہ سب مقامی قبائل کو الگ الگ ڈیل کر کے آخرکار ایک دن ان کی ساری زمین پر قابض ہو جائیں گے۔ جیسا کہ ہو بھی رہا تھا۔ اس لیے وہ نارتھ ویسٹ میں تمام نیٹیو ٹرائبز کو متحد کر کے مقامی لوگوں کے لیے ایک وطن کی جدوجہد کر رہا تھا۔ جس جگہ کو وہ مقامی لوگوں کا آزاد ملک بنانا چاہتا تھا وہ نارتھ ویسٹ کا یہ حصہ ہے جس اب گریٹ لیکس کا ایریا کہا جاتا ہے۔

یہ حصہ کینیڈا اور امریکہ کے درمیان میں آتا ہے۔ اس انقلابی جدوجہد میں تیکامسا کے ساتھ اس کا بھائی بھی شامل تھا جو قبیلے کا مذہبی پیشوا بھی تھا اس کا بھائی ’لالاویتھیکا‘ خود کو پیغمبر، پراؤفٹ کہتا تھا۔ اس کو اکثر دورے پڑتے رہتے تھے اور وہ بیٹھا بیٹھا غنودگی میں چلا جاتا یا پھر کبھی گر بھی جاتا۔ لیکن جب وہ اٹھتا تو کہتا کہ دنیا پر حکمران مقدس روحوں نے اسے فلاں اور فلاں پیغام بھیجا ہے۔ یک بار اس نے بتایا کہ روحوں نے اسے کہا ہے کہ سفید فام امریکی، نیٹیوز پر قدرت کا عذاب ہیں۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 9)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

کیونکہ نیٹیوز نے اپنے کلچر کو چھوڑ کر، سیٹلرز کے، سفید فاموں کے طور طریقے اپنانا شروع کر دیےہیں اور یہ بات روحوں کو ہرگز پسند نہیں ہیں۔ وہ روحوں کا یہ پیغام بھی دیتا کہ روحوں کے مطابق اگر نیٹیوز متحد ہو جائیں تو نارتھ ویسٹ سے سفید فاموں کا صفایا ہو جائے گا اور پھر نیٹو ٹرائبز اپنی دھرتی پر آزادی سے اپنے طریقے سے زندگی گزار سکیں گے۔ اسی کیمپین کے تحت وہ نارتھ ویسٹ کے تمام قبائل کو ساتھ ملا رہا تھا۔

تیکامسا اور اس کا بھائی ’لالاویتھیکا‘ شاؤنی قبیلے کے ہیڈکوارٹر پرافٹس ٹاؤن میں رہتے تھے جسے یہ نام ’لالاویتھیکا‘ کے پیغمبری کے دعوے ہی کی وجہ سے ملا تھا۔ امریکیوں کے خلاف دوستو ان دونوں بھائیوں کو اور اس قبیلے کو برطانیہ سے بھی بھرپور مدد ملتی تھی۔ لیکن اب آپ پوچھے گئے کہ برطانیہ تو امریکہ پر اپنا قبضہ برسوں پہلے چھوڑ چکا تھا مگر صورتحال یہ تھی کہ برطانیہ اب بھی امریکہ پر ایک سپرپاور کی طرح اپنا دباؤ برقرار رکھے ہوئے تھا۔

یہ دباؤ امریکہ کے مشرق اور مغرب دونوں طرف سے تھا۔ مشرق میں جہاں اٹلانٹک اوشن ہے بحر اوقیانوس وہاں برطانوی بحری جنگی جہاز، امریکی تجارتی جہازوں پر حملے کرتے تھے اور ان کے عملے کو بھی لوٹ لیتے تھے اغوا کر لیتے تھے۔ برطانیہ، امریکہ کو مجبور کرتا تھا کہ وہ اس کے دشمن ممالک جیسا کہ فرانس وغیرہ سے تجارت بالکل بند کردے جب امریکہ انکار کرتا برطانیہ کی ڈیکٹیشن لینے سے تو برطانوی بیڑے امریکہ کی بحری ناکہ بندی کر دیتےتھے۔

یہ سب تو برطانیہ تیرہ کالونیز کے مشرق میں اٹلانٹک اوشن میں بحر اوقیانوس میں کر رہا تھا، اُدھر ان کالونیز کے مغرب میں اپولیچین موئنٹیز کے پار نارتھ ویسٹ کے علاقے میں بھی برطانیہ مسلسل مداخلت کرتا جا رہا تھا۔ برطانیہ نیٹیو ٹرائبز کو ہتھیار دے رہا تھا تاکہ وہ امریکی فورسز سے لڑتے رہیں اور امریکہ کسی بھی لمحے کینیڈا جو اس وقت برطانیہ کے کنٹرول میں تھا، وہاں حملہ نہ کر سکے۔ اسی لیے برطانیہ تیکامسا کے مشن یعنی نیٹیوز کے الگ آزاد ملک کے لیے ان کی مدد کر رہا تھا اسلحے سے۔

بدلے میں تیکامسا کی فورسز کینیڈا کو بچانے کے لیے، امریکہ کے خلاف برطانوی فورسز کی مدد کیا کرتی تھیں۔ یوں برطانیہ نے امریکہ کو مشرق میں سمندر اور مغرب میں نارتھ ویسٹ کے علاقے سے یعنی دونوں طرف سے اپنے شکنجے میں لے رکھا تھا۔ برطانیہ کے اسی دباؤ اور مداخلت کی وجہ سے امریکہ کی تیرہ کالونیز خود کو آزاد محسوس نہیں کرتی تھیں۔ امریکہ میں کئی لوگ سمجھتے تھے کہ اگر انہیں برطانیہ سے حقیقی معنوں میں آزادی چاہیے تو برطانیہ سے ایک اور فیصلہ کن جنگ لڑنا ہو گی۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 9)

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

پھر ایسا ہوا کہ بہت سے لوگوں کی توقع کے خلاف امریکہ کی یہ دوسری جنگِ آزادی بہت پہلے شروع ہو گئی اور اس کی ایک فوری وجہ تھی وہی ٹوٹا ہوا تارہ۔۔۔ تیکامسا وہ انگریزوں کی مدد سے امریکیوں کو اپنے علاقوں سے بھگانے کے لیے ایک فیصلہ کن جنگ کی تیاری کر رہا تھا کہ امریکیوں نے سرپرائز اٹیک کر دیا اور اٹھارہ سو گیارہ میں وہ جنگ شروع ہو گئی جس کی امریکی دانشور کافی دیر سے توقع کر رہے تھے۔ اور اسی جنگ کو امریکہ کی دوسری جنگ آزادی کہا جاتا ہے۔

انڈیانا کا گورنر ولیم ہیریسن جو بعد میں امریکہ کا صدر بھی بنا اس نے گیارہ سو فوجیوں کے ساتھ تیکامسا کے ہیڈکوارٹر پرافٹس ٹاؤن پر چڑھائی کر دی۔ اس وقت تیکامسا وہاں موجود نہیں تھا۔ اس کے چھوٹے بھائی ’لالاویتھیکا‘ نے چھے سو جنگجوؤں کے ساتھ امریکی فوج کا مقابلہ کیا مگر شکست کھائی اور کینیڈا کی طرف جہاں اس کے اتحادی برطانوی حکمران تھے وہاں فرار ہو گیا۔ ولیم کی فوج نے پرافٹس ٹاؤن کو لوٹ مار کے بعد آگ لگا دی۔

لیکن اس لوٹ مار اور تلاشی کے دوران امریکیوں پر ایک اہم راز کا بم پھٹ گیا۔ وہ یوں کہ امریکیوں نے جب پرافٹس ٹاؤن کی تلاشی لی تو وہاں سے بہت سے برٹش ویپنز، برطانوی اسلحہ ملا۔ یعنی اب اس بات کا ثبوت مل گیا تھا کہ برطانیہ نیٹیو ٹرائبز کی بھرپور مدد کر رہا ہےامریکہ کے خلاف۔ یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ امریکی پریس نے تو ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ برطانیہ سے اب بدلہ لیا جائے۔ امریکی حکومت میں تو پہلے سے ہی بہت سے ہارڈلائنرز برطانیہ سے جنگ کی باتیں کر رہے تھے۔

اس واقعے نے ان کے موقف کو اور طاقت دے دی۔ اگلے برس یعنی اٹھارہ سو بارہ میں امریکی کانگریس نے برطانیہ کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ اس جنگ میں امریکہ کا سب سے اہم ٹارگٹ تیکامسا کو شکست دینا نہیں تھا بلکہ اس کا ٹارگٹ برطانیہ کو فیصلہ کن شکست دینے کے لیے کینیڈا کے علاقے پر قبضہ کرنا تھا کیونکہ آپ جان ہی چکے ہیں کہ اس وقت کینیڈا برطانیہ کی کالونی تھی۔

امریکیوں کی یہ چال بہت زبردست اور ٹائملی تھی کیونکہ اس وقت برطانیہ کی فوج یورپ میں فرانسیسی شہنشہاہ نپولین بوناپارٹ سے جنگ میں مصروف تھی۔ اس لیے کینیڈا کے محاذ پر برٹش آرمی زیادہ توجہ نہیں دے سکتی تھی۔ اسی کمزور لمحے کو ذہن میں رکھتے ہوئے امریکیوں نے بار بار کینیڈا میں برطانوی فورسز پر حملے شروع کر دئیے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر برطانوی فوج نے کم تعداد کے باوجود امریکیوں کو ہر بار پیچھے دھکیلا۔

کینیڈا کو بچانے میں برطانوی فورسز کے ساتھ تیکامسا کی فورسز بھی شامل تھیں۔ کیونکہ اس نے اپنے دارالحکومت پرافٹس ٹاؤن کی تباہی کے بعد اعلانیہ انگریزوں سے ہاتھ ملا لیا تھا اور اس نے بھی امریکہ کے خلاف اس کی نئی کالونیز کے خلاف اعلان جنگ کر دیا تھا۔ تیکامسا نے انگریزوں کے ساتھ مل کر کئی محاذوں پر امریکی فورسز کو شکست دی اور ان کے ایک اہم علاقے ڈیٹرائٹ پر قبضہ بھی کر لیا۔ تیکامسا کئی محاذوں پر امریکیوں کے لیے درد سر بنا ہوا تھا۔

امریکی اس کے حملوں اور اس کی ہیروئیک پرسنیلٹی سے بہت پریشان تھے۔ کیونکہ وہ تمام نیٹیو ٹرائبز کے نوجوانوں کے لیے بہادری اور آزادی کا ایک رول ماڈل بن چکا تھا۔ اس کی دلیری اور رحم دلی کی کہانیاں ٹرائبز میں خوب مبالغہ آرائی کے ساتھ پھیلائی جاتی تھیں۔

اس لیے اب امریکی ہر حال میں تیکامسا کو ایک اعلامتی لیڈر کو ختم کرنا چاہتے تھےلیکن کئی بار وہ ان کی گولیوں کا شکار ہو کر بھی بچ نکلتا تھا۔ اٹھارہ سو تیرہ میں تیکامسا امریکیوں سے چھینے ہوئے اسی علاقے ڈیٹرائٹ کے قریب ایک قلعے میں ٹھہرا ہوا تھا۔ یہاں اسے اطلاع ملی کہ اس کا پرانا دشمن ولیم ہیریسن جس نے پرافٹس ٹاؤن کو آگ لگائی تھی ساڑھے تین ہزار فوج کے ساتھ اسی طرف آ رہا ہے۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ

تیکامسا کے پاس اس فورس سے مقابلے کیلئے کوئی چھے، سات سو نیٹو جنگجو اور کچھ اتنی ہی تعداد میں برطانوی فوجی تھے۔ یہ کوئی تیرہ چودہ سو کا کل ملا کے لشکر تھا جو امریکی کمانڈر ولیم ہیریسن کی فوج کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم تھا۔ ان حالات میں امریکیوں سے مقابلہ اب ناممکن سا تھا۔ اس لئے برطانوی فوج اور ان کے نیٹو اتحادی یعنی تیکامسا کے سپاہی ڈیٹرائٹ اور اس کے قریبی قلعوں کو خالی کر کے کینیڈا کی طرف پسپا ہوتے ہوئے دریائے تھیمز کے کنارے تک آ گئے۔

لیکن ولیم ہیریسن ایک ہوشیار کمانڈر تھا۔ وہ خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے تیکامسا اور برطانوی سپاہیوں کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ وہ اسی لمحےان کا تعاقب کرتے ہوئے کچھ ہی دنوں میں دریائے تھیمز کے کنارے پر پہنچ گیا جہاں تیکامسا اور اس کے انگریز اتحادی خیمہ زن تھے۔ جب تیکامسا اور انگریزوں نے دیکھا کہ اب لڑائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تو وہ مقابلے کیلئے ڈٹ گئے۔ پانچ اکتوبر اٹھارہ سو تیرہ کو دریائے تھیمز کے قریب دونوں فوجوں میں گھمسان کا رن پڑا۔

امریکی فوج کی زبردست یلغار کے سامنے انگریز تو مار کھا کر بھاگ نکلے مگر تیکامسا اور اس کے جنگجو یہ جانتےہوئے بھی کہ یہ ایک ہاری ہوئی جنگ ہے لڑتے رہے اور امریکیوں کے مقابلے میں ڈٹے رہے انھوں نے ہتھیار ڈالنے کی ذلت گوارا نہیں کی تاکہ آنے والی نسلیں شرمندہ نہ ہوں۔ تیکا موسا ایک شاعر بھی تھا وہ اپنی انقلابی نظموں میں کہتا تھا کہ اپنی موت کا گیت گاؤ اور ایسے مرو کہ کہ جیسے ایک ہیرو اپنے گھر کو لوٹتا ہے۔

تو اس جنگ میں ایک گولی نے اس ہیرو کو گھر کا راستہ دکھا دیا۔ نیٹیو ٹرائبز کی مزاحمت کی علامت ٹاماہاک کہلاڑی اس کے ہاتھ میں تھی جب گولیوں نے اسے موت کا گیت سنایا اور اپنے لوگوں کے لیے اپنی زمینوں پر الگ وطن کا خواب دیکھنے والا ہیرو ختم ہو گیا۔ لڑائی کے بعد نیٹو جنگجوؤں نے تیکامسا کی لاش کو دریا کے کنارے ہی کسی نامعلوم مقام پر دفن کر دیا۔ دریائے تھیمز کی یہ لڑائی امریکن تاریخ کا ایک فیصلہ کن معرکہ تھی

جسے امریکہ نے اب جیت لیا تھا۔ تیکامسا کی موت کے ساتھ ہی نیٹو جنگجوؤں کی نارتھ ویسٹ میں مزاحمت ہمیشہ کے لیے دم توڑ گئی اس جگہ امریکہ کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ رہا۔ برطانوی فورسز نے اگلے ہی برس امریکیوں پر ایک بہت بڑا سمبالک اٹیک کیا۔ انھوں نے وائٹ ہاؤس پر قبضہ کر لیا۔ اٹھارہ سو چودہ کے مِڈ میں ایک برطانوی بیڑہ امریکی ساحلی شہر بالٹی مور پر حملے کیلئے جا رہا تھا۔ کیونکہ یہاں بالٹی موڑ میں وہ بندرگاہ تھی جہاں سے امریکی جہاز بحری جہاز برطانوی جہازوں پر حملے کرتے تھے

تو اس بحری بیڑے نے راستے میں ناجانے کیوں راستہ بدل کر واشنگٹن پر حملہ کر دیا۔ برطانوی میرین فورسز میری لینڈ میں اتریں اور واشنگٹن کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ امریکی فوجیوں نے انہیں روکنے کی بہت کوشش کی، ان کا مقابلہ کیا مگر برطانوی فوج انہیں مسلسل پیچھے دھکیلتے ہوئے تئیس اگست کو دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی تک جا پہنچی۔ برطانوی فوج کے دارالحکومت پہنچنے سے ایک روز پہلے ہی امریکی صدر جیمز میڈیسن میدان جنگ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے دارالحکومت سے باہر کہیں چلا گیا تھا

لیکن اسے اب واپس آنے کا موقع نہیں مل سکا اور انگریزوں کی پیش قدمی کی خبر پہچنے کے بعد اس نے افراتفری میں ورجینیا کی طرف فرار ہونا مناسب سمجھا۔ اب وائٹ ہاؤس میں جسے اس وقت ایگزیکٹو مینشن کہا جاتا تھا وہاں اس کی بیوی ڈالی میڈیسن اس کا انتظار کر رہی تھی۔ اس انتظار کے دوران ڈالی بار بار وائٹ ہاؤس کی کسی کھڑکی میں کھڑی ہو کر دوربین سے شہر کے باہر دیکھتی۔

اسے اپنا شوہر تو دکھائی نہیں دیا مگر اس نے شہر سے کچھ فاصلے پر برطانوی فوجیوں کی ایک ٹولی کو دیکھ لیا۔ ڈالی خطرہ بھانپ گئی اور اس نے فوری طور پر اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ وہ وائٹ ہاؤس میں موجود سرکاری کا غذات پیک کر کے اس کے ساتھ شہر سے نکل چلیں۔ لیکن اس حکم کے ساتھ اس نے ایک اور عجیب و غریب حکم بھی دیا۔ اس نے کہا کہ جارج واشنگٹن کا وہ پورٹریٹ تصویرجو وائٹ ہاؤس میں نصب ہے اسے اتار کر کسی محفوظ مقام پر چھپا دیا جائے۔

ڈالی میڈیسن نہیں چاہتی تھی کہ امریکی جنگِ آزادی کے ہیرو جارج واشنگٹن کا پورٹریٹ وائٹ ہاؤس سے برطانوی فوج کے ہاتھ لگےاور وہ اس کے ساتھ کوئی برا سلوک کریں۔ چنانچہ امریکی فرسٹ لیڈی کے حکم پر جارج واشنگٹن کے پورٹریٹ کا فریم توڑ کر پینٹنگ نکال لی گئی اور اسے شہر کے باہر ایک فارم ہاؤس میں چھپا دیا گیا جہاں یہ پینٹنگ کئی ہفتوں تک محفوظ رہی۔ اس کے بعد اسے فارم ہاؤس سے نکال کر دوبارہ وائٹ ہاؤس میں پہنچا دیا گیا جب حالات ٹھیک ہو گئے۔

وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں آج یہ جارج واشنگٹن کی جو پینٹنگ نصب ہے کہا جاتا ہے کہ یہ وہی پینٹنگ جس کو ڈالی میڈیسن نے اس وقت بچایا تھا تو جارج واشنگنٹن کے پورٹریٹ کو محفوظ کر کے ڈالی بھی اپنے ملازمین کے ساتھ شہر چھوڑ گئی اور ورجینیا میں اپنے شوہر کے پاس پہنچ گئی۔ ڈالی میڈیسن کے فرار کے بعد چوبیس اگست کو جب برطانوی فوج واشنگٹن ڈی سی میں داخل ہوئی تو شہر میں الو بول رہے تھے

کیونکہ شہر کے تمام باشندے اور امریکی فوجی ایک روز پہلے ہی شہر خالی کر کے نکل گئے تھے۔ برطانوی فوجیوں نے واشنگٹن میں داخل ہو کر یوایس کیپیٹل وہ جگہ جہاں امریکی حکومت کے دفاتر ہیں، وہاں حملہ کر دیا۔ ان دنوں یوایس کیپیٹل ابھی انڈر کنسٹرکشن تھا مکمل نہیں ہوا تھا۔ انگریزوں نے اس نامکمل یو ایس کیپیٹل کو آگ لگا دی۔ اس کے بعد برطانوی فوجی وائٹ ہاؤس میں داخل ہوگئے وہاں انہوں نے امریکی صدر کے برتنوں میں کھانا کھایا

اور عمارت کا سارا سامان لوٹ لیا۔ برٹش کمانڈر ایڈمرل کاک برن نے امریکی صدر کا ہیٹ اور امریکی خاتون اول کی کرسی کا ایک کُشن بھی بطور سووینئر اپنے قبضے میں لے لیا۔ لوٹ مار کے بعد انگریز فوجیوں نے وائٹ ہاؤس کی کھڑکیاں کھول دیں اور باہر نکل کر لان میں جمع ہوئے۔ یہاں انہوں نے مشعلیں جلائیں اور وائٹ ہاؤس کی کھلی کھڑکیوں سے اندر پھینک دیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وائٹ ہاؤس دھڑا دھڑ جلنے لگا اور شعلوں کے ساتھ سیاہ دھواں آسمان کی طرف اٹھنے لگے۔

کہتے ہیں وائٹ ہاؤس میں لگی آگ کے شعلے میلوں دور سے دکھائی دیتے تھے۔ واشنگٹن ڈی سی میں سرکاری عمارتوں کو آگ لگا کر انگریزوں نے اصل میں امریکیوں سے بدلہ لیا تھا کیونکہ امریکیوں نے بھی ایک برس پہلے اپر کینیڈا کے دارالحکومت یارک کو جو کہ اب ٹورانٹو کہلاتا ہے جلا دیا تھا۔ تو جیسے ٹورانٹو اور تیکامسا کا دارالحکومت پرافٹس ٹاؤن جلے تھے وہی کہانی اب امریکی دارالحکومت کے ساتھ بھی قدرت نے دوہرا دی تھی۔

دوستو وائٹ ہاؤس جلانے والے برطانوی لشکر کی اگلی جنگ امریکی تاریخ کی وہ اہم ترین جنگ ہے جس نے امریکی قومی ترانے کو جنم دیا۔ کیسی تھی وہ جنگ؟ برطانوی فوج واشنگٹن ڈی سی میں سرکاری عمارتیں جلانے کے بعد شہر خالی کر کے اپنے جہازوں میں سوار ہوئی اور اپنے اصل ٹارگٹ بالٹی مور کی طرف بڑھ گئی جہاں ایک بڑا چیلنج ان کا انتظار کر رہا تھا۔ بالٹی مور پر قبضہ وائٹ ہاؤس جلانے کی طرح آسان نہیں تھا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ شہر ساحل پر بہت پیچھے بڑی ڈیپتھ میں تھا اور اس کے دونوں طرف ساحلی زمین بہت آگے تک پھیلی ہوئی تھی۔ شہر پر دو ہی جگہوں سے حملہ ہو سکتا تھا۔ ایک سامنے کے رخ بندرگاہ والی طرف سے اور دوسرا اس زمینی راستے سے جو بندرگاہ کو بائی پاس کر کے شہر تک جاتا تھا۔ امریکیوں نے ان دونوں راستوں کو محفوظ کرنے کا پورا بندوبست کر رکھا تھا۔ بندرگاہ والا راستہ ویسے ہی بہت تنگ تھا۔

اس تنگ راستے کے دہانے پر اس جگہ امریکیوں نے ایک بڑا قلعہ جسے فورٹ میک ہنری کہا جاتا تھا وہ بنا رکھا تھا اور اس پر توپیں نصب تھیں۔ بندرگاہ کے بعد زمینی راستے کو محفوظ کرنے کیلئے شہر سے کچھ آگے امریکی فوجیوں اور عوام نے مٹی جمع کر کے مورچے بنا لئے تھے اور ان کے پیچھے توپخانہ تھا۔ تو یہ دنوں راستے یعنی زمینی اور سمندری دونوں کو امریکیوں نے پورے طریقے سے محفوظ کر لیا تھا۔ جب برطانوی بیڑہ بالٹی مور پہنچا تو انگریز کمانڈرز نے بحری راستے سے حملہ کرنے کے بجائے زمینی راستے سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

لیکن یہ کوشش بری طرح ناکام رہی کیونکہ اس کوشش میں برطانوی فوج کا کمانڈر جنرل راس مارا گیا۔ جنرل راس کی موت کے بعد برطانوی فوج کی کمان کمانڈر کرنل آرتھر بروک کے ہاتھ میں آ گئی۔ لیکن یہاں سے جنگ پھر آگے نہیں بڑھی۔ زمینی محاذ پر سٹیل میٹ ہوچکا تھا۔ اس کے بعد برطانوی بحری بیڑہ آگے بڑھا اور اس نے بندرگاہ کے محافظ قلعے فورٹ میک ہنری پر گولہ باری شروع کر دی۔

اگر یہ قلعہ فتح ہو جاتا تو برطانوی فوج آسانی سے بندرگاہ میں داخل ہو کر بالٹی مور کو فتح کر سکتی تھی اور اپنا گول ایچیو کر سکتی تھی۔ تیرہ اور چودہ ستمبر کی رات فورٹ میک ہنری پر قیامت بن کر گزری۔ برطانوی بحری بیڑے سے سینکڑوں گولے قلعے کے آس پاس دائیں بائیں آگے پیچھے اور سمندر میں گر رہے تھے ان کے پھٹنے سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ آسمان پر آتش بازی ہو رہی ہے۔

اور اس آتش بازی کے درمیان قلعے پر ستاروں والا امریکی پرچم لہرا رہا تھا۔ ساحل کے قریب ایک جہاز سے میری لینڈ کا وکیل ’’فرانسس سکاٹ کے‘‘ یہ منظر دیکھ رہا تھا اس نے کاغذ قلم نکالا اور امریکہ کا ایک گیت لکھا اس گیت کو بعد میں ’’اسٹار سپینگلڈ بینر‘‘ یعنی ’’ستاروں سے سجا پرچم‘‘ کا نام دیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر یہ پرچم اگلی صبح بمباری ختم ہونے لہراتا رہااور کوئی گولہ اسے گرا نہ سکا۔

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 9)

چودہ ستمبر کی صبح انگریزوں کا حوصلہ جواب دیا گیا، اور اتنی شدید بمباری کے باوجود وہ فورٹ میک ہنری فتح کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے تمام فوجی دستے واپس بلائے اور بالٹی مور سے چلے گئے۔ برطانوی بحری بیڑے کی بالٹی مور سے پسپائی امریکیوں کی ایک شاندار فتح تھی۔ اس فتح نے ’اسٹار سپینگلڈ بینر‘ نظم کو اتنی مقبولیت دی کہ انیس سو اکتیس میں اس نظم کو امریکی قومی ترانہ بنا لیا گیا۔ دوستو بالٹی مور میں اگرچہ امریکہ کی فتح ہوئی تھی

لیکن اٹھارہ سو بارہ سے اٹھارہ سو چودہ تک دو سالوں کی جنگ میں حاصل وصول دونوں طرف برطانیہ اور امریکہ کی طرف کچھ نہیں تھا۔ برطانیہ نے کینیڈا کا دفاع کامیابی سے کر لیا تھا اور امریکہ نے اپنے اہم علاقوں کو انگریزوں سے بچا لیا تھا۔ اگرچہ برطانیہ نے کینیڈا کی سرحد کے ساتھ امریکی ریاست مین کے بہت سے علاقے فتح کر لئے تھے مگر ان علاقوں کی کوئی خاص سٹریٹجک اہمیت نہیں تھی۔ چنانچہ اب دونوں ملکوں نے اس لاحاصل جنگ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

چوبیس دسمبر اٹھارہ سو چودہ کو بیلجئم کے شہر گھینٹ میں امن معاہدے پر دستخط ہو گئے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے جو بھی تھوڑے بہت علاقے چھینے تھے وہ واپس کر دیئے۔ اس جنگ سے امریکہ کو کوئی نئی زمین تو نہیں ملی مگر ایک فائدہ ضرور ہوا کہ اسے برطانوی دباؤ سے مکمل طور پر آزادی مل گئی۔ برطانیہ نے امریکہ کے تجارتی بحری جہازوں پر حملے بند کر دیئے اور نارتھ ویسٹ میں نیٹو قبائل کی فوجی مدد بھی ختم کر دی۔

اسی لئے اس جنگ کو امریکی اپنی دوسری جنگِ آزادی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ برطانیہ نے امریکہ میں تو مداخلت بند کر دی لیکن انھوں نے امن معاہدے میں نیٹیو ٹرائبز، مقامی امریکی قبائل کے تحفظ کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ انھیں فاتح امریکیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ پھر یوں ہوا کہ اٹھارہ سو تیس میں امریکی صدر اینڈریو جیکسن نے نیٹیو ٹرائبز کو ان کی زمینیوں سے نکالنے کا قانون منظور کیا جسے انڈین ریموول ایکٹ کہا جاتا ہے۔

اس ایکٹ کے مطابق امریکہ کے ہزاروں نیٹو لوگوں کو زبردستی ان کے آبائی علاقوں سے نکال کر سینکڑوں کلومیٹر دور مخصوص علاقوں انڈین ریزرویشنز میں بھیج دیا گیا۔ اس سفر کے دوران راستے میں ہی بہت سے لوگ بھوک اور بیماری سے دم توڑ گئے۔ اس سفر کو آج ٹریل آف ٹیئرز یا آنسوؤں کا راستہ شاہراہ آنسو کہا جاتا ہے۔

اس تباہی سے جو لوگ بچ نکلے ان کی اولادیں انہی انڈین ریزرویشز میں آج بھی آباد ہیں۔ یہی لوگ آج امریکہ کو سٹولن کنٹری یا چوری شدہ ملک کہتے ہیں کیونکہ انہی کے آباؤ اجداد سے باپ دادا سے چھینی ہوئی زمینوں پر آج امریکہ قائم ہے۔

مائی کیوریس فیلوز جب اٹھارہ سو چودہ میں امریکہ کی یہ دوسری جنگِ آزادی ختم ہوئی تو امریکہ اپنے جنوب میں لوزیانا سٹیٹ سے اوپر شمال میں مونٹانا سٹیٹ تک پھیل چکا تھا۔ اس کے بعد اس سے آگے ٹیکساس سے کیلی فورنیا اور ایلاسکا سے ہوائی تک کے علاقے امریکہ میں کیسے شامل ہوئے؟

History Of America Urdu ہسٹری آف امریکہ ( Episode 9)

History Of America Urdu , History Of America Urdu Episode 1 , History Of America Urdu Episode 2 , History Of America Urdu Episode 3 , History Of America Urdu Episode 4 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 5 , History Of America Urdu Episode 6 , History Of America Urdu Episode 7 , History Of America Urdu Episode 8, History Of America Urdu Episode 9

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Adblock Detected

Please Turn off Your Adblocker. We respect your privacy and time. We only display relevant and good legal ads. So please cooperate with us. We are thankful to you