History of America Read In Urdu Article And Watch Play History

History of America Urdu ( Part 1 ) Free 

Now ♥ History of America Urdu ( Part 1 ) Free Of Cost | History of America Read Urdu Article And Watch Play YouTube Video By Famous YouTube Channel Dekho Suno Jano ( Faisal Warraich )

History of America Urdu ( Part 1 )

ہماری نیلی زمین پر پانچ بار ایسا وقت گزر چکا ہے جب اس پر برف ہی برف اور سخت سردی کا موسم رہا تھا۔ ایسے پیریڈز کو، ادوار کو آئس ایجز یا برفانی دور کہا جاتا ہے۔ ان آئس ایجز کا وقت سیکڑوں اور ہزاروں برس پر محیط ہوتا تھا۔ ہماری زمین پر آخری آئس ایج بھی کئی ہزار سال تک قائم رہی۔ اس آخری برفانی دور کا انسان غاروں میں رہتا تھا اور شکار کے لیے ٹولیوں میں باہر نکلتا تھا۔ اسی آخری آئیس ایج کے دوران تقریبًا بیس سے پچیس ہزار سال پہلے، سائبیریا سے ایک شکاری ٹولی شکار کی تلاش میں نکلی ‌ادھر‌ ‌ادھر‌ ‌دیکھتے،‌ ‌جھاڑیوں‌ ‌اور‌ ‌چٹانوں‌ ‌کی‌ ‌کھوؤں‌ ‌ میں‌ ‌کریدتے ہوئے‌ ‌یہ‌ ‌ٹولی‌ ‌کسی‌ ‌وقت‌ ‌بھٹک‌ ‌گئی‌ ‌اور‌ ‌ایک‌ ‌ایسے‌ ‌راستے‌ ‌پر‌ ‌چل‌ ‌نکلی‌ ‌جو‌ ‌انھیں‌ ‌انجانے‌ ‌میں‌ ‌ایک‌ ‌نئی‌ ‌دنیا‌ ‌میں‌ ‌لے‌ جا‌ ‌رہا‌ ‌تھا۔‌

یہ‌ ‌شکاری‌ ‌ٹولی‌ ‌بالکل‌ ‌نہیں‌ ‌جانتی‌ ‌تھی‌ ‌ کہ‌ ‌جس‌ ‌برف‌ ‌زار‌ ‌پر‌ ‌وہ‌ ‌گرتے‌ ‌پھسلتے‌ ‌سنبھلتے‌ ‌چلے‌ ‌جا‌ ‌رہے‌ ‌ہیں دراصل‌ ‌دو‌ ‌عظیم‌ ‌براعظموں‌ ‌کے‌ ‌درمیان‌ ‌ایک‌ ‌عارضی‌ ‌سا‌ ‌مختصر‌ ‌سا‌ ‌راستہ‌ ‌ہے۔‌ ‌یہ‌ ‌راستہ‌ ‌محض‌ ‌اس‌ ‌لیے‌ ‌ابھر‌ ‌آیا‌ ‌تھا‌ ‌کہ‌ ‌ برفانی‌ ‌دور‌ ‌میں‌ ‌آئس‌ ‌ایج‌ ‌میں‌ ‌سمندروں‌ ‌کے‌ ‌جم‌ ‌جانے‌ ‌سے،‌ ‌فریز‌ ‌ہو‌ ‌جانے‌ ‌سے ان میں پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی تھی۔ سمندروں میں جگہ جگہ ٹیلے، چھوٹے بڑے جزیرے اور جزیروں کے درمیان راستے ابھر آئے تھے۔ یہ بھی ایک ایسا ہی راستہ تھا۔ یہ شکاری ٹولی اپنے ساتھ پرانی دنیا کے جینز لیے، اس تنگ راستے کو کراس کر کے نئی دنیا میں آن بسی اور پھر یہیں کی ہو کر رہ گئی۔ گیارہ ہزار سال پہلے ہماری زمین پر یہ آخری آئس ایج ختم ہوئی سمندروں کی سطح پھر بلند ہوئی اور وہ تنگ سا خشک راستہ پھر گہرے پانیوں میں ڈوب گیا وہی راستہ جسے کراس کر کے یہ شکاری ٹولی نئی دنیا میں آئی تھی۔

یوں پرانی دنیا اور نئی دنیا کے درمیان زمینی راستہ کٹ گیا، رابطہ ختم ہو گیا۔ اس جگہ کو ہم بیرنگ سٹریٹ کہتے ہیں۔ اسی سٹریٹ یا آبنائے میں ایک مقام ایسا بھی ہے جہاں سے نئی دنیا اور پرانی دنیا میں فاصلہ صرف پچاسی کلومیٹر ہے۔ لیکن اس پچاسی کلومیٹر کے مختصر سےفاصلے کو طے کرنے میں پرانی دنیا کے انسان کوساڑھے دس ہزار سال لگ گئے۔ نئی دنیا میں یہ ہزاروں سال کیسے تھے؟ یہ دنیا کس نے اور کیسے دریافت کی؟ یہاں کے اصل باسیوں کے ساتھ کیا ہوا؟ اور یہاں کا ایک ملک آج دنیا کی سپر پاور کیسے بن گیا؟

نئی دنیا میں جانے والے لوگ وہ شکاری ٹولی صدیوں اور ہزاروں برس میں اس بہت ہی بڑے خشکی کے ٹکڑے میں پھیلتے چلے گئے۔ ان لوگوں نے عظیم تہذیبوں کی بنیاد بھی رکھی اور بے شمار چھوٹے بڑے جزائر میں پرامن بستیاں بھی قائم کیں۔ آپ اس نقشے کو ذرہ دیکھیں۔ یہ اس نئی دنیا یعنی براعظم امریکہ کا بہت ہی قدیم نقشہ ہے۔ جس جگہ آج میکسیکو ہے وہاں اس جگہ پر ایک عظیم سلطنت ایزٹیک ایمپائر ہوا کرتی تھی۔ تقریباً دو لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلی اس ایمپائر میں پانچ سو کے لگ بھگ ریاستیں شامل تھیں اور یہاں ساٹھ لاکھ انسان رہتے تھے۔ ایزٹیک ایمپائر کے جنوب میں نیچے کی طرف اس جگہ تک کا علاقہ مایا تہذیب کا گڑھ تھا۔ یہ تہذیب تقریباً چار ہزار برس پرانی تھی۔ آرٹ اور کلچر میں اس نے بہت نام پیدا کیا تھا۔

مایا کے بعد یہاں ایک بہت بڑی تہذیب، بہت بڑی سویلائزیشن انکا ایمپائر کی صورت میں موجود تھی۔ یہ ایمپائر آج کل کے حساب سے دیکھیں تو امریکی ملک ایکواڈور سے شروع ہو کر چلی اور ارجنٹینا کے علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ انکا سلطنت کی آبادی تقریبا ایک کروڑ بیس لاکھ تھی۔ ان تین بڑی تہذیبوں کے علاوہ اوپر نیچے اس پورے براعظم میں بہت سی چھوٹی بڑی آبادیاں بھی تھیں۔ ویسٹ انڈیز کے جزائر میں آراواک نسل کے لوگ آباد تھے۔ اسی طرح پورے امریکہ میں کینیڈا سے لے کر برازیل اور ارجنٹائن تک جگہ جگہ مختلف نیٹیو، مقامی امریکی قبائل آباد تھے۔ یہ زیادہ تر چھوٹی چھوٹی بستیوں یا آپ انھیں دیہات کہہ سکتے ہیں، ان میں رہتے تھے۔ مکئی ان کی من پسند خوراک تھی جسے وہ بڑے پیمانے پر اگاتے تھے۔ مکئی پسند کرنے والے یہ نئی دنیا کے لوگ کروڑوں میں تھے۔

History of America Urdu ( Part 1 ) Free - Pakistanwap

اسی وقت پرانی دنیا میں بھی پانچ کروڑ کے لگ بھگ لوگ آباد تھے۔ لیکن یہ دونوں طرف کے لوگ کروڑوں لوگ ایک دوسرے سے بالکل ناواقف تھے۔ بلکہ ان کیلئے تو کوئی اور دنیا ایگزسٹ ہی نہیں کرتی تھی نہ کہانیوں میں، نہ کسی نقشے پر اور نہ کسی کی یادداشت میں۔ کیونکہ دنوں کا رابطہ گیارہ ہزار سال پہلے سے کٹ چکا تھا۔ ہاں ایسا ضرور ہے، کہ کچھ کہانیاں ہیں جن کے مطابق پرانی دنیا سے چند بھولے بھٹکے لوگ غلطی سے کبھی کبھار نئی دنیا کے جزائر پر پہنچ گئے تھے۔ اور ان میں سے کچھ لوگوں نے اس بارے میں لکھا بھی۔ تیسری صدی یعنی آج سے کوئی سترہ سو برس پہلے کی چائنیز شاعری میں ایک دور دراز اجنبی زمین کا ذکر ملتا ہے۔ چائنیز شاعری میں اس زمین کو فیوزینگ لکھا گیا تھا۔ جس کا مطلب ہے آؤٹ آف دس ورلڈ، اس دنیا سے باہر کی کوئی جگہ۔

شاعر نے لکھا کہ مشرقی سمندر کے مشرق میں فیوزینگ کے ساحل ہیں۔ اگر وہاں لینڈ کرنے کے بعد مشرق کی طرف پانچ ہزار کلومیٹر کا مزید سفر طے کیا جائے تو ایک اور سمندر آ جاتا ہے جو نیلے رنگ کا ہے، بہت پھیلا ہوا ہے اور لامحدود ہے۔ ہو سکتا ہے یہ فیوزینگ امریکہ ہی ہو کیونکہ براعظم امریکہ چین کے مشرق ہی میں ہے اور اسے پار کر کے ایک اور سمندر یعنی بحراوقیانوس، اٹلانٹک اوشن واقعی شروع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح چار سو اٹھاون میں ایک افغان بدھ بھکشو ’ہوئی شین‘ نے چین سے اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ مشرق کی طرف سفر شروع کیا۔ وہ چالیس سال ایک اجنبی سرزمین میں رہ کر واپس آیا جسے اس نے بھی قدیم چینی روایت کے مطابق ’فیوزینگ‘ کا ہی نام دیا۔ اس نے اپنا سفرنامہ بھی لکھا جس میں وہاں کے حالات لکھ۔

ہوئی شین کے پانچ سو برس بعد شمالی یورپ کے وائکنگز قبائل بھی امریکہ پہنچے اور جس جگہ آج کینیڈا ہے وہاں انہوں نے نیو فاؤنڈ لینڈ کے علاقے میں اپنی بستیاں بھی قائم کیں تھیں۔ ان بستیوں کے ماڈلز آج بھی وہاں موجود ہیں۔ چینیوں اور وائی کنگز کی طرح کچھ مسلمان بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بھی دسویں صدی میں سپین کے اموی حکمران عبدالرحمان سوئم کے دور میں امریکہ پہنچے تھے۔ بلکہ انہوں نے تو وہاں آبادیاں بھی قائم کی تھیں، مساجد بنائی تھیں اور اسلام کی تبلیغ بھی کی تھی یہ ان کا دعویٰ ہے۔ ہندوؤں کے بھی ایسے ہی دعوے ہیں کہ ان کے دیوتاؤں کو نیٹیو امریکنز بھی پوجتے تھے۔ یعنی ان کے خیال میں کبھی انڈیا سے کوئی ہندو وہاں پہنچا تھا امریکہ گیا تھا اسی وجہ سے قدیم امریکی قبائل انہی جیسے خداؤں کو پوجتے تھے۔

تو دوستو اس طرح دعوے تو اور بھی بہت سے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ دعوے ٹھیک ہوں یا غلط اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فرق اس چیز سے پڑنا تھا کہ کس نے اس جزیرے کو اس دنیا کو دریافت کیا ۔ اور وہ صحیح سمجھا کہ یہ ایک نئی دنیا ہے اوراس نے اس نئی دنیا کا پرانی دنیا سے رابطہ قائم کیا ہو۔ لوگوں نے آںا اور جانا شروع کیا ہو؟ تو دوستو یہ رابطہ نہ تو چینیوں کی دریافت سے ممکن ہوا، نہ بدھ پٹھان کے سفر سے نہ ہی کسی مسلم یا ہندو جہاز راں کی مہم جوئی سے دونوں دنیاؤں میں رابطے قائم ہوئے اور اسے صیح سمجھا گیا۔ دونوں جگہ جو اجنبیت ہزاروں برس سے پرانی دنیا اور نئی دنیا میں جو اجنبیت موجود تھی ہزاروں برس سے وہ موجود رہی۔ پرانی دنیا کے لوگ یہی سمجھتے رہے کہ یورپ اور افریقہ کے ساحلوں پر دنیا ختم ہو جاتی ہے۔

اور امریکی قبائل بھی یہی سمجھتے تھے کہ ان کے ساحلوں سے آگے پانی ہی پانی ہے۔ اور کچھ بھی نہیں آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کی طرح یہ دوری ہزاروں سال اور بھی قائم رہ سکتی تھی لیکن پھر یہ ہوا کہ پندرہویں صدی آ گئی۔ ففٹینتھں سنچری اس صدی میں انٹرنیشل پاور ڈائنامیکس میں، طاقت کے عالمی کھیل میں ایک ایسا شفٹ آیا کہ اس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ پرانی دنیا کا انسان اور خصوصاً یورپ کا انسان اتنا مجبور ہو گیا کہ اسے اپنے کمفرٹ زون سے اپنی جغرافیائی حدود سے باہر نکل کر نئے راستے اور نئی زمینیں تلاش کرنا پڑیں۔ یہ بدلاؤ یہ شفٹ مسلم فاتحین کی وجہ سے آیا تھا۔ یہ شفٹ کیا تھا؟ تو مائی کیورئیس فیلوز ہوا یوں کہ یہ پرانی دنیا جسے نیٹیو امریکنز پچیس ہزار سال پہلے چھوڑ کر آئے تھے وہاں پندرہویں صدی سے پہلے تک یورپ ایک بڑی طاقت تھی،

ایک ڈامیننٹ فورس تھی۔ یورپ کا رومن ایمپائر سینکڑوں برس تک دنیا کی واحد سپرپاور رہا تھا۔ اور ایشیا کے کئی علاقوں تک اس کی حکومت قائم رہی تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ رومن ایمپائر کمزور ہوتی چلی گئی اور آخر میں اس کی آخری علامت بیظنٹائن ایمپائر ہی باقی بچی تھی۔ یہ ایمپائر بھی اب کیا ایمپائر تھی محض ایک شہر قسطنطنیہ تھا۔ جسے پرانے وقتوں کی یاد میں اور طاقتور دیواروں کے آسرے پر ابھی ایمپائر یا سلطنت کہا جاتا تھا پھر یوں ہوا کہ چودہ سو ترپن میں رومن ایمپائر کی آخری نشانی کو ترکوں نے نیست و نابود کر دیا۔ نوجوان ترک سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کر کے رومن ایمپئار کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔ شہر کا نام بھی قسطنطنیہ سے بدل کر استنبول رکھ دیا گیا۔ پندرہویں صدی میں یورپ کی طاقت مر گئی تھی اور اب وہاں صفِ ماتم بچھی چکی تھی۔

‌کیونکہ قسطنطنیہ صرف ایک اہم فوجی اڈہ ہی نہیں تھا بلکہ یورپ کا ایک مقدس شہر بھی تھا یہ آرتھوڈوکس عیسائیت کا مرکز تھا۔ اسے رومن ایمپائر کے پہلے مسیحی شہنشاہ کونسٹینٹائن نے آباد کیا تھا۔ کونسٹینٹائن نے یہاں ایک شاندار چرچ ہیگا صوفیہ بھی تعمیر کرایا تھا اس لئے یورپ بھر کے عیسائی اس شہر سے خاص عقیدت رکھتے تھے۔ لیکن عقیدت کے علاوہ اس شہر کی ایک اور اہمیت بھی تھی کیونکہ یہ شہر ایشیا اور خاص طور پر چین سے یورپ کی تجارت کی ایک لائف لائن تھا۔ سینڑل ایشیا کی منڈیوں سے چین کا ریشم، مصالحہ جات قیمتی پتھر، سونا، چاندی اور نجانے کیا کیا کچھ اسی راستے سے یورپ آیا کرتا تھا۔ اب قسطنطنیہ ترکوں کے ہاتھوں میں چلے جانے سے یہ راستہ بند ہو گیا اس شکست سے یورپ کے لوگ معاشی اور روحانی دونوں طرح سے ایک اذیت میں مبتلا تھے۔

معاشی طور پر یوں کہ تجارتی راستے بند ہونے سے یورپ میں روزگار کے مواقع بہت کم ہو گئے تھے، لوگ غریب ہونے لگے تھے اور اس حد تک غریب ہونے لگے تھے کہ کھانے پینے کے لالے پڑ گئے تھے۔ بھوک سے مجبور لوگ اپنے بچوں کو گندگی کے ڈھیر پر پھینک جاتے تھے۔ کسان خودکشیاں کرنے لگے تھے یا سود پر قرض لے لے کر ایک غلامانہ سی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ پھر دوستو یوں بھی ہونے لگا کہ بھوکے ننگے لوگ اپنی جانیں بچانے کیلئے لوٹ مار پر اتر آئے۔ کچھ ہی عرصے میں جرائم اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ یورپ کی گلیوں میں چلنے والے اپنی نگاہیں زمین کے بجائے آسمان کی طرف اٹھا کررکھتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ گھروں میں چھپے مجرم کھڑکیوں سے پتھر گرا کر راہ چلنے والوں کے سر کچل دیتے تھے اور پھر ان لاشوں کے کپڑوں سے جو ہو سکتا چرا لیتے تھے۔

چنانچہ خیریت اسی میں تھی کہ سر اٹھا کر دیکھ بھال کر چلا جائے۔ دولت مند لوگوں نے تو گارڈز رکھ لئے تھے لیکن عام لوگ سرعام مر رہے تھے۔ سرکاری محافظ بھی اس صورت حال میں بے بس ہو چکے تھے۔ تو دوستو یہ تو یورپ کی معاشی تباہی تھی جو کہ قسطنطنیہ کے چھین جانے سے اور تجارتی راستے بند ہونے سے یورپ پر نازل ہوئی تھی۔ دوسری تباہی روحانی تھی، یورپ کے کٹر مذہبی عیسائی سمجھ رہے تھے کہ یورپ جو کہ کرسچینٹی کا گڑھ تھا اس کے علاقے ایک ایک کر کے مسلمانوں کے قبضے میں جا رہےہیں۔ تو اب ان لوگوں کا خیال تھا کہ یہ عیسائیت کیلئے ایک مشکل وقت ہے۔ مسیحی علاقے روز بروز کم ہو رہے ہیں، جغرافیے کے اعتبار سے گھٹ رہے ہیں۔ انھیں لگتا تھا کہ اگر یونہی سلسلہ جاری رہا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کرسچینیٹی ہی ختم ہو جائے یا اس کی طاقت ور حیثیت ختم ہو جائے۔

تو یہ وہ وجوہات تھیں جن کی بنیاد پر یورپینز کو، ان کے مذہبی اور تجارتی طبقے کو ایک نئی دنیا کی تلاش تھی۔ لیکن ایک ایسی دنیا انہیں بھلا کہاں مل سکتی تھی؟ وہ تو نہیں جانتے تھے کہ ان کے مغرب میں بس چار، پانچ ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ایک ایسی دنیا موجود ہے جس کا رقبہ اس پرانی دنیا کے تقریباً برابر ہی ہے اور جو قدرتی وسائل سونے، چاندی، تیل وغیرہ سے بھی مالا مال ہے۔ انہیں تو صرف اس دنیا کا پتا تھا جس میں مشرق کی سمت سفر کر کے چین اور جاپان تک پہنچا جا سکتا تھا۔ ان دونوں ملکوں یعنی چین اور جاپان کا ذکر ان دنوں یورپ کے ایک ایک گھر میں ہو رہا تھا۔ وہ بھلا کیوں؟ وہ اس لیے کہ مارکوپولو کا سفرنامہ اب ہر جگہ یورپ میں پہنچ چکا تھا۔ مارکوپولو نے چین کو کیتھے اور جاپان کو سیپانگو لکھا تھا۔

جاپان کے بارے میں اس نے لکھا تھا کہ یہاں شاہی محل کی چھتیں سونے کی ہیں، دروازے اور کھڑکیاں بھی سونے سے سجے ہوئے ہیں اور اکثر کمروں کے فرش پر سونے کی دو، دو انچ موٹی پلیٹس لگی ہیں۔ اس طرح اس نے چین اور اس کے منگول حکمران قبلائی خان کی دولت کے قصے بھی بڑھا چڑھا کر مبالغہ آرائی سے بہت ایگزیجیریشن سے پیش کیے تھے اگرچہ مارکوپولو کا سفرنامہ کم از کم ڈیڑھ سو سال پہلے کا لکھا ہوا تھا۔ لیکن ان برے حالات میں اب غریب یورپینز کیلئے مارکوپولو کا سفرنامہ ہی امید کی واحد کرن تھا۔ یہ مارکو پولو کا سفرنامہ یورپی نوجوانوں میں تحریک پیدا کر رہا تھا کہ وہ کسی طرح چین اور جاپان تک پہنچے کوئی راستہ تلاش کریں اور وہ دولت حاصل کرنے کی کوشش کریں جس کی کہانیاں مرچ مصالحہ لگا کر مارکوپولو نے لکھی تھیں۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ زمینی راستہ تو اب ترکوں نے بند کر دیا تھا۔ دوسرا راستہ میڈیٹرینین سی کے پار مصر سے ہوتا ہوا جاتا تھا۔

یہ راستہ بھی جیسا کہ آپ نقشے میں دیکھ رہے ہیں مملوکوں کی مسلم سلطنت کے قبضے میں تھا۔ ویسے بھی پورے میڈیٹرینین سی میں بحریہ روم میں مراکش سے مصر تک چھوٹی بڑی اسلامی ریاستیں قائم تھیں جو یورپی تجارتی جہازوں پر حملے کرتی رہتی تھیں۔ یورپ کو وہاں سے بھی کوئی سیف پیسج کوئی محفوظ راستہ نہیں مل سکتا تھا۔ یوں یورپ ایک طرح سے مسلمانوں کے محاصرے میں آ گیا تھا۔ ایک اور راستہ جو بارٹولومیو ڈیاز جیسے مہم جوؤں نے دریافت کیا تھا افریقہ کے گرد گھوم کر ایشیا پہنچنے کا تھا۔ لیکن یہ راستہ بہت طویل تھا بہت لینتھی تھا ایک طرفہ راستہ بھی مہینوں میں طے ہوپاتا تھا۔ اب یورپینز کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ایشیا پہنچنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کریں جو ان کے مفاد میں بھی ہو اور مختصر بھی ہو۔ تا کہ وہ اس راستے سے ایشا پہنچ کر تجارت کریں اور اپنی غربت کا خاتمہ کر سکیں۔ اس مایوسی کے عالم میں ایک غیر معروف اطالوی جہاز ران سامنے آیا۔

اس نے یہ دعویٰ کر دیا کہ اسے ایشیا میں چین اور جاپان جانے کا سب سے مختصر راستہ معلوم ہے۔ یہ اس کے خیال میں ایسا راستہ تھاجو بالکل سیدھا اٹلانٹک اوشن، یعنی بحر اقیانوس کو پار کرتے ہوئے طے ہوتا تھا اور اس راستے میں کوئی بڑا ملک ان کے لیے خطرہ بھی نہیں بن سکتا تھا۔ یہ بہت بڑا دعویٰ تھا جو یورپینز کی قسمت بدل کر رکھ سکتا تھا۔ یہ دعویٰ کرنے والا نوجوان کرسٹوفر کولمبس تھا اٹلی کے شہر جنیوا سے تعلق رکھنے والا کولمبس اپنی زندگی کا بڑا حصہ سمندروں میں گزار چکا تھا۔ یہ بھی اپنے دور کے باقی نوجوانوں کی طرح مارکوپولو کے سفرنامے سے بہت متاثر تھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ سورج اور چاند ستاروں کی مدد سے راستہ تلاش کرنے کا ماہر ہے۔ اس دور میں پڑھے لکھے لوگ اتنا تو جان چکے تھے کہ زمین گول ہے کولمبس بھی یہی سمجھتا تھا۔

اس لیے اس کا آئیڈیا تھا کہ چونکہ دنیا گول ہے اس لئے اگر یورپ سے مغرب میں بھی سیدھا سفر کیا جائے تو بس کوئی چار ساڑھے چار ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر سیپانگو یعنی جاپان آ جائے گا۔ جاپان کا مختصر راستہ مل گیا تو سمجھو چین بھی مل گیا، ایشیا پورا ہی مل گیا۔ کولمبس کے خیال میں ایشیا کا مل جانا ایسے تھا جیسے کسی سونے کی کان کا پتہ مل جانا۔ جہاں سے جتنا چاہے سونااٹھاؤ اور یورپ میں لے آؤ۔ لیکن کولمبس کا خواب صرف سونا اور دولت ہی نہیں تھا۔ وہ خود کو کرائیسٹ بیئرر بھی کہتا تھا۔ دراصل مسیحی تاریخ میں کرسٹوفر نامی ایک شخص کی لیجنڈ مشہور تھی جس نے جیسز کرائسٹ کو اپنی کمر پر بٹھا کر دریا پار کروایا تھا۔ اس کرسٹوفر کو کرسچین ورلڈ میں کرائسٹ بیرئر کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔

تو اس جہاز راں کرسٹوفر کولمبس کا بھی خواب تھا کہ جیسے تاریخ کے اس لیجنڈری کردار کرسٹوفر نے جیسز کرائسٹ کو دریا پار کروایا تھا وہ بھی عیسائیت کی ڈوبتی کشتی کو پار لگائے گا۔ اس کے خیال میں ایسا اس طرح ممکن تھا کہ عیسائیت کے پھیلاؤ کے لیے ایک نئی دنیا تلاش کی جائے جہاں رومن ایمپائر کی طرح ایک عظیم کریسچن ایمپائر قائم کی جا سکے۔ تو یوں دوستو یورپ کو سونے سے مالا مال کرنے اور ایک کریسیچن ایمپائر قائم کرنے کا خواب لئے کرسٹوفر کولمبس یورپی درباروں کی خاک چھاننے لگا۔ وہ اٹلی سے پرتگال گیا، پرتگال سے انگلینڈ گیا۔ ہر جگہ اپنے مغرب کی طرف سفر کے آئیڈیے کو پیش کرتا رہا اور انویسٹمنٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اب یورپ کے تو ان دنوں برے حال تھے۔

غربت سے پہلے ہی ان کی کمر ٹوٹی ہوئی تھی۔ اور بھی وجوہات تھیں لیکن واقعہ یہ تھا کہ کسی بادشاہ یا ملکہ نے اس کی مدد کرنے کی حامی نہیں بھری۔ کولمبس ڈٹا رہا اور اس نے اپنا آئیڈیا نہیں چھوڑا۔ چودہ سو پچاسی میں وہ سپین پہنچا۔ اس وقت سپین پر فریڈیننڈ سیکنڈ اور کوئین آئزابیل کی حکومت تھی۔ سپین میں کولمبس سات سال تک ملکہ سے ملنے کی کوشش کرتا رہا۔ لیکن ملکہ کے پاس ملاقات کا وقت نہیں تھا۔ کیونکہ بادشاہ اور ملکہ اس وقت سپین سے مسلمانوں کو نکالنے میں مصروف تھے۔ آخر جب چودہ سو اکانوے میں سپین میں مسلمانوں کا آخری گڑھ غرناطہ بھی شکست کے قریب تھا تو ملکہ نے کولمبس کو اپنے دربار میں بلا لیا۔ کولمبس نے ملکہ سے اپنا آئیڈیا شئیر کیا اور اسے یقین دلایا کہ اس کا پلان ایک سپر پلان ہے جو ہر صورت کامیاب ہو گا۔

س نے بتایا کہ جن زمینوں کو وہ دریافت کرنے جا رہا ہے یعنی چین اور جاپان وہاں سے اتنا گولڈ، اتنا سونا آئے گا کہ سپین مال مال ہو جائے گا۔ یہی نہیں بلکہ ایشیا کی جن نئی زمینوں پر کولمبس جائے گا اس نے کہا وہاں کے لوگوں کو عیسائی بنایا آسان ہو گا اور پھر سپین کی حکومت ایک کریسچن ایمپائر وہاں تک پھیل جائے گی۔ ملکہ ایزابئل نے کچھ لالچ میں اور شاید کچھ مذہبی جذبات کی رؤ میں بہہ کر کولمبس کو اس بحری سفر کی اجازت اور مالی مدد فراہم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اسپین کے دربار میں کولمبس کو پہلی کامیابی مل گئی تھی۔ لیکن ملکہ آئزابیل نہیں جانتی تھی کہ جس کولمبس کی باتوں پر وہ یقین کر رہی ہے وہ اس سے ایک دھوکا کر رہا ہے۔ صرف ملکہ ہی سے ہی کیوں؟ کولمبس نے تو ان ملاحوں اور عملے سے بھی دھوکا کیا جو اس کے شریک سفر ہونے والے تھے۔

یہ دھوکا ایسا دھوکا تھا جس کی وجہ سے ان سب لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں تھیں۔ وہ دھوکا کیا تھا؟ کولمبس کے سفر میں اس کے ساتھیوں نےا سے قتل کرنے کا پروگرام کیوں بنایا؟ اطالوی جہاز راں ایشیا پہنچنے کے جنون میں اپنے عملے سے کیا کیا وعدے کرتا رہا؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن ہسٹری آف امریکہ کی دوسری قسط میں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Adblock Detected

Please Turn off Your Adblocker. We respect your privacy and time. We only display relevant and good legal ads. So please cooperate with us. We are thankful to you