Human Journey To The Red Planet Mars Urdu | انسان مریخ تک کیسے پہنچا؟

Human Journey To The Red Planet Mars Urdu | انسان مریخ تک کیسے پہنچا؟

ہم سرخی مائل اس گول سے پتھر کے سامنے ہیں۔ ہزاروں سال پہلے جب انسان رات کی خاموشی میں آسمان کو دیکھتا تو اسے ستارے ٹھہرے ہوئے لگتے۔ لیکن وہ حیران ہوتا کہ ان اربوں چمکتے ستاروں سے بھرے ٹھہرے ہوئے آسمان میں 5 ستارے ایسے کیوں ہیں جو ٹھہرے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ گھومتےپھرتے رہتے ہیں۔ یہ دراصل ستارے نہیں سیارے تھے۔ لیکن اس وقت کا انسان ستاروں اور سیاروں میں زیادہ تمیز نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے وہ انھیں 5 آوارہ گرد ستارے یا چلتے پھرتے ستارے کہنے لگا۔ لیکن ان آوارہ گرد ستاروں میں سے بھی ایک ستارے کو وہ خاص اہمیت دیتا تھا۔ 4000 سال پہلے دریائے نیل کے کنارے رہنے والے مصری جب اس سیارے کا ذکر کرتے تو کہتے، وہ جو سرخ سرخ چمکتا ہے ناں وہ۔ اس کے صدیوں بعد بابل یعنی وہ علاقہ جہاں آج عراق ہے وہاں، دریائے دجلہ و فرات کے کنارے رہنے والا انسان اسے موت کا ستارہ کہتا تھا کیونکہ اس کا رنگ سرخ تھا۔

Human Journey To The Red Planet Mars Urdu | انسان مریخ تک کیسے پہنچا؟

آج سے2000 سال پہلے رومنز نے اسی آوارہ گرد ستارے کو جنگ کے دیوتا کے نام پر مارس کہنا شروع کیا۔ اور جس مہینے میں وہ اپنی سلطنت کو پھیلانے کے لیے جنگیں کرتے تھے اس مہینے کو جنگ کے اسی دیوتا مارس کے نام پر وہ مارچ کہنے لگے۔ تب سے اب تک سال کے تیسرے مہینے کا نام مارچ ہی ہے۔ ہم اس سیارے کو مریخ کہتے ہیں۔ کیا مریخ پر کبھی کوئی انسان تہذیب آباد تھی؟ کیا مریخ پر بہتے دریا اور سمندر ہیں؟ کل کائنات سیریز دی یونیورس سیریز میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گے انسان ہزاروں سال سے اپنی آنکھوں سے آسمان کے سیارے اور ستارے دیکھ رہا تھا۔ اپنے خیال میں وہاں رہنے والے دیوتاؤں، خداؤں اور دیویوں کی کہانیاں بھی بنا رہا تھا کیونکہ وہ انھیں دور سے دیکھ رہا تھا۔

لیکن پھر یوں ہوا کہ ایک عینک ساز نے، گوگلز بنانے والے نے کچھ ایسا کیا کہ یہی سیارے پہلے سے بڑے نظر آنے لگے۔ 1608 کی بات ہے کہ ایک ولندیزی یعنی ہالینڈ کے رہنے والے عینک ساز نے شیشوں کو ایک ٹیوب میں اس طرح ترتیب دیا کہ ہر چیز 3 گنا بڑی دکھائی دینے لگی۔یہ ٹیلی سکوپ کی ابتدائی شکل تھی۔ اس کے اگلے ہی برس اٹلی کے گلیلیو گیلےلے نے دوربین کو اور بہتر کر دیا۔ اس نے گلاسز کو ذرا بہتر ترتیب دی۔ اس کے سیٹ کیے ہوئے گلاسز کسی بھی چیز کو 3 گنا نہیں 20 گنا بڑا دکھاتے تھے۔ 20 گنا بڑا۔ اب وہ وقت قریب آ گیا تھا جب یہ جانچنا آسان ہوگیاتھا کہ کیا واقعی آسمان کے ستاروں سیاروں پر کوئی دیوی دیوتا ہوتےہیں یا پھر یہ لمبی اندھیر راتوں میں کہی گئی کہانیوں سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ ثابت ہونا تھا لیکن اس میں ایک صدی اور لگ گئی۔

ہوا یہ کہ ایک صدی بعد 1780 کے قریب جرمنی سے ایک میوزیشن ویلیم ہرشل لندن آیا۔ وہ دن میں میوزک کنسرٹس کرتا، موسیقی پڑھاتا لیکن رات بستر پر لیٹ کر ستاروں اور سیاروں پر لکھی کتابیں پڑھتا۔ میوزک اس کا روزگار تھا, لیکن اسٹرانومی اس کا جنون تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ اُس وقت کی ٹیلی اسکوپ کو اور بھی بہتر بنا سکتا ہے۔ سو ویلیم ہرشل نے اس میں گلاسز کی ترتیب اور تیکنیک کو بہت زیادہ بدل دیا۔ اس نے ایک 40 فٹ اونچائی اور 48 فٹ چوڑائی والی نئی ٹیلی سکوپ بنائی۔ اس دیوہیکل ٹیلی سکوپ نے جب کام شروع کیا اور اس سے مریخ کا مشاہد کیا گیا تو ہرشل کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ سرخ دکھائی دینے والے مریخ پر تو سفید سفید برف چمک رہی تھی۔

اس نے دیکھا کہ مریخ کے قطبین، یعنی پولز پر برف کے جزیرے ہیں۔ وہ اپنی جہازی دوبین سے برسوں مریخ کا مشاہدہ کرتا رہا۔ نوٹس لیتا رہا۔ اسے پتا چلا کہ گرمیوں میں یہ برف پگھلنے لگتی ہے اور سردیوں میں پھر فریز جاتی ہے۔ جس سے برف کے جزیروں کا سائز چھوٹا بڑا ہوتا رہتا ہے۔ ان نے مریخ پر اونچے پہاڑ اور دریاؤں جیسی لکیریں بھی دیکھیں۔ وہ سمجھ تو نہ سکا کہ یہ لکیریں کیا ہیں لیکن اسے شک گزرا کہ شاید مریخ پر کوئی انسان نما ذہین جاندار رہتا ہے جس نے کھیتی باڑی کے لیے نہریں بنا دی ہیں۔ اسے تو صرف شک گزار تھا اور بات ختم ہو گئی، لیکن 1911 میں خلائی تاریخ کا ایک بڑا دھماکہ ہو گیا۔ ایک ماہر فلکیات، اسٹرونومر نے مریخ پر انسانوں سے زیادہ ذہین زندگی کی ایک شکل کو دریافت کرنے کا دعویٰ کر دیا۔ 1911

میں ایک میتھیمٹیشن، ماہر فلکیات پروفیسر پرسی ول لوائل نے دعویٰ کر دیا کہ مریخ پر انسانوں سے بھی زیادہ جینئس لوگ رہتے ہیں۔ وہاں ایک پوری تہذیب آباد ہے، ایک سیویلائزیشن وہاں ایگزسٹ کرتی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی اعلان تھا، اور یہ تو اصول ہے کہ اگراعلان غیر معمولی بڑا ہو گا تو اس کا ثبوت بھی غیر معمولی ہی چاہیے۔ قصوں کہانیوں سے اتنے بڑے بڑے دعوے نہیں مانے جا سکتے۔ لیکن پروفیسر پرسیول نے اس کا جو پرووف دیا وہ یہ تھا کہ انھوں نے 2 سال مریخ کی سطح کا مشاہدہ اپنی دور بین سے کیا ہے۔ جس میں انھوں نے دیکھا ہے کہ وہاں 2 لمبی ایسی لکیریں ابھرآئی ہیں جو ان کے خیال میں نہریں ہی ہو سکتی ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ نہریں 20 میل چوڑی اور ہزاروں میل لمبی ہیں۔

ان نہروں سے مریخی انسان کھیتی باڑی اور ٹرانسپورٹ کا کام لیتے ہیں۔ اتنی بڑی نہریں بنانا اور وہ بھی اتنے کم وقت میں ایسا کارنامہ تھا جو ان کے خیال میں انسانوں سے کہیں زیادہ ذہین لوگ ہی سر انجام دے سکتے ہیں۔ اس لیے مریخ پر ہو نا ہو ضرور کوئی ذہین ترین لوگ رہتے ہیں ۔ پروفیسر پرسیول کی اس دریافت نے انھیں شہرت تو بہت دی، ڈرائنگ رومز اور بازاروں میں یہ بات ڈسکس بھی خوب ہوئی۔ ان کا نام بھی پھیلا ، لیکن اس بات کو قبولیت نہیں ملی۔ قبول نہیں ہوئی۔ کیونکہ ان کے نہروں اور ذہین انسانوں والے دعوے باقی سائنسدانوں کی تحقیقات سے ثابت نہیں ہو رہے تھے۔ بلکہ چند ہی سالوں میں پروفیسر پرسیول کی دریافت اور دعوے بالکل غلط ثابت ہو گئے۔ریجیکٹ ہو گئے۔ اور پتا چلا کہ ان کا یہ اندازہ غلط فہمی پر مبنی تھا۔

مریخ پر جو لمبی لمبی لائنز پروفیسر کو نہروں جیسی لگیں تھیں وہ دراصل وہ لکیریں تھیں جو مریخ کی سطح پر برف کے نیچے پانی پگھلنے سے بنیں تھیں۔ یہ لکیریں آج بھی مریخ پر بنتی بگڑتی رہتی ہیں۔ مریخ پر انسانی تہذیب کی کہانی سائنس کی کڑی کسوٹی پر فیل ہو گئی تھی۔ لیکن ناولز اور سینما گھروں یہ کہانی کچھ عرصہ پہلے ہی سے سپرہٹ ثابت ہوچکی تھی۔ یہ آئیڈیا اتنا پاپولر ہوا کہ لوگ ایک دوسرے سے گپ لگاتے کہ مریخ پر کون رہتے ہوں گے؟ وہ کیسے لوگ ہوں گے؟ ان کا مذہب کیا ہو گا؟ اور سب سے بڑھ کر لوگ ایک دوسرے سے یہ پوچھتے کہ کہیں مریخی انسان زمین پر حملہ تو نہیں کر دے گا؟ اسی خیال کو امیرکن ناولسٹ ایچ جی ویلز نے بھی اپنے ناولز کے ذریعے پروان چڑھایا۔

یہ ناول تھا وار آف دا ورلڈز۔ اس میں مریخ سے ایک خلائی مخلوق زمین پر حملہ کر دیتی ہے۔ یہ اس دور کی سپر ہٹ کہانی تھی۔ اس نے مریخ پر انسانی تہذیب کے قصے کو پاپولر کلچر کا حصہ بنا دیا۔ آپ نے ٹارزن کی کہانی تو ضرور پڑھی ہو گی۔ تو ٹارزن کا کردار تخلیق کرنے والے ایڈگر رائس بروئز نے اسی خیال پر ایک سیریزبنا ڈالی۔ جس میں امریکی سول وار کے ہیرو جان کارٹر کو مریخ پر بھیجا جاتا ہے۔ وہ مریخ پر جا کر جنگ کرتا ہے، محبت کرتا ہے اور مریخ کی سیاست میں بھی حصہ لیتا ہے۔ تو یہ اس وقت کی مقبول ترین ناول سیریز بن جاتی ہے۔ مریخ سے متعلق کہانیاں اس دور میں اتنی مقبول ہوئیں کہ پہلے ریڈیو اور پھر سینما سکرین پر چھا گئیں۔ امریکہ اور روس میں اس وقت بھی ایک غیر اعلانیہ مقابلہ ہر چیز میں جاری تھا۔

اور یہ مقابلہ محض ہتھیاروں ہی میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا نہیں تھا۔ بلکہ وہ دونوں طاقتیں روس اور امریکہ سائنس،ریسرچ اور فلم انڈسٹری میں بھی ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کے لیے سر توڑ کوششیں کرتے رہتے تھے۔ تو مریخ پر فلم بنانے کی ریس میں روس نے امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ روسی فلم انڈسٹری نے 1924 میں کوئین آف دا مارس فلم بنائی جبکہ امریکی فلم انڈسٹری ہالی ووڈ نے مریخ پر پہلی فلم 1930 میں بنائی۔ تو یہ تو تھیں کہانیاں۔ لوگ سنتے تھے، انٹرٹین ہوتے تھے اور بھول جاتے تھے۔ لیکن کہانیوں سے آگے نکل کر روس اور امریکہ میں سائنس دان واقعی مریخ پر سپیس کرافٹ بھیجنے کی تیاری کر رہے تھے۔ اور ذہن میں رکھیے کہ یہ دور ہے آج سے ایک سو سال پہلے کا، 1920 کے آس پاس کا جب ابھی ٹیلی ویژن بھی ایجاد نہیں ہوا تھا۔ تو اس وقت کی جاری کوششوں کا نتیجہ یہ ہواکہ امریکہ نے1964 میں پہلی بار ایک ڈیڈیکیٹڈ فلائی بائے مشن جس کا نام میرینر تھری تھا،

اسے مریخ پر بھیجنے کا پروگرام اناؤنس کر دیا۔ فلائی بائی مطلب؟ مطلب ایسا مشن جس میں سپیس کرافٹ نے مریخ پر لینڈنگ نہیں کرنا تھی، اسے مریخ پر اترنا نہیں تھا، مریخ کے گرد چکر بھی نہیں لگانے تھے، بس اس کے قریب سے ہو کر گزر جانا تھا، زن کر کے۔۔۔ لیکن اس دوران اسے قریب سےمریخ کی سطح کی تصاویر لینا تھی اور ان پکچرز کو زمین پر بھیجنا تھا۔ اور پھر خود آگے نکل جانا تھا، بے کراں اور نا ختم ہونے والے خلا میں اس سپیس کرافٹ کوکہیں کھو جانا تھا۔ لیکن پھر کیا ہوا؟

ہوا وہی جو بڑے بڑے خوابوں کے شروع میں اکثر ہو جایا کرتا ہے۔ مشن لانچنگ ہی میں فیل ہو گیا۔ میرینر تھری نے پرواز تو کی لیکن اتنی کم سپیڈ سے کہ اگر یہ اڑتا رہتاتو لاکھوں کلو میٹر کے حساب سے مریخ کو مس کر جاتا پھر اس کے پارٹس نے بھی شروع ہی میں سگنلز بھیجنا بند کر دئیے۔ یہ مشین لانچنگ کے 8 گھنٹے بعد ہی ٹرمینیٹ کر دیا گیا، ختم کر دیا گیا۔ لیکن وہ انسان ہی کیا جو ہار مان کر بیٹھ جائے۔ آخر انسان نے صدیوں برفانی غاروں میں رہ کر برفنای دور کو شکست دی تھی، وہ افریقہ کے صحراؤں کو عبور کر آیا تھا، وہ سمندروں کو پار کر چکا تھا، تو یہ سپیس یہ خلا آخر کب تک اس کے سامنے ٹھہرتی۔ ناسا نے اُسی سال نومبر میں میرینر فور بھیجنے کا پروگرام اونس کر دیا۔اور یہ مشن کامیاب رہا۔

انسان پہلی بار مریخ کو کروڑوں کلومیٹر دور سے نہیں بلکہ 10,000 کلومیٹر قریب سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی تصاویر بنا رہا تھا۔ میرینر فور نے اپنے مشن میں21 تصاویر زمین پر بھیجیں اور آگے لامتناہی خلا میں نکل گیا۔ یہ تصاویر جو آپ سکرین پر دیکھ رہے ہیں اسی مشن نے1965 اور 1966 کے درمیان میں مختلف اوقات میں بھیجیں ۔ یہ تصاویر تو کامیابی تھیں۔ لیکن ان تصاویر نے ایک مسئلہ بھی پیدا کر دیا۔ وہ یہ کہ سائنس فکشن اور کہانیوں اور ہزاروں سال کی دیومالائی داستانوں کی وجہ سے انسان کے ذہن میں جو امید جاگی تھی کہ شاید مریخ وہ سیارہ ہو جہاں ہم جیسا کوئی رہتا ہو یا زندگی کی کوئی شکل موجو ہو؟ یہ امید ٹوٹ گئی۔

مریخ سے آنے والی ان تصاویر میں گڑھے تھے، گھاٹیاں تھیں، سرخ سیارے پر اٹھتے طوفان تھے، لیکن زندگی کی کوئی علامت نہیں تھی۔ لیکن ہو سکتا ہے امریکی سپیس شٹل کو مریخ پر زندگی نہ ملی ہو تو روسی خلائی شٹل کو مل جاتی۔ سویت روس نے اس سے پہلے یہی جاننے کے لیے 1960 میں فلائی بائی مشن مریخ پر بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن یہ فیل رہا تھا۔ یہ بھی لانچنگ پر ہی ناکام ہو گیا تھا۔ مگر روس نے بھی ہمت نہیں ہاری تھی۔ اس نے دوسرا مشن بھیجا۔ یہ بھی ناکام رہا، تیسرا بھی فیل ہوا۔ چوتھا، پانچواں، چھٹا، ساتواں، آٹھواں، نواں اور پھر دسواں۔ دسواں بھی ناکام ہی رہا۔ پھر سال آیا 1971 اور مہینہ تھا مئی کا۔ مریخ کی طرف2 سپیسکرافٹس تیزی سے اڑتے چلے جا رہے تھے۔

دونوں میں مقابلہ تھا کہ کون مریخ کے گرد چکر لگانے کے لیے پہلے پہنچتا ہے۔ ایک روس کا مارس ٹو تھا اور ایک امریکہ کا میرینر نائن تھا۔ یہ ریس امریکہ جیت گیا۔ امریکی سپیس کرافٹ، سویت روس کے سپیس کرافٹ سے صرف 2 ہفتے پہلے مریخ کے قریب جا پہنچا۔ یہ انسان کا پہلا مشن تھا جسے مریخ کے پاس سے نہیں گزرنا تھا بلکہ مریخ کے گرد چکر لگانا تھے۔ یعنی یہ فلائی بائی نہیں آربیٹر مشن تھا۔ لیکن دیکھئے کہ کس طرح مریخ انسانوں کی ایڈونچرس نیچر کا امتحان لے رہا تھا۔ ہوا یہ کہ جب روس اور امریکہ کے خلائی مشنز سرخ سیارے کے گرد چکر لگانے کے لیے تیار تھے تو مریخ پر گرد کا طوفان اُٹھ کھڑا ہوا۔ ایک ایسا طوفان جس نے کچھ ہی دیر میں پورے مریخ کو گھیر لیا تھا۔

سرخ نارنجی اور سیاہ گرد کی ایک موٹی تہہ مریخ سے لپٹ چکی تھی۔ اور اس کی وجہ سے میرینر نائن اور مارس ٹو ۔۔۔ دونوں سپیس کرافٹس، مریخ کی سطح کی سرفیس کی کوئی تصویر نہیں بنا سکتے تھے۔ دونوں کو طوفان کے تھمنے کا انتظار کرنا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ دونوں کے پاس تواتنا وقت تھا ہی نہیں کہ وہ طوفان کے روک جانے کا انتظار کریں۔ کیونکہ دونوں میں پاور محدود وقت کے لیے تھی۔ لیمیٹڈ بیٹریز تھی۔ اگر طوفان ہفتوں تک جاری رہتا تو یہ دونوں مشنز بھی اپنے بنیادی مقصد یعنی مریخ کی تصاویر لینے اور وہاں زندگی کی تلاش میں ناکام رہتے۔ تو پھر کیا ہوا؟ کیا یہ دونوں ناکام رہے؟ ہوا یہ کہ امریکی سپیس کرافٹ نے اپنے انسٹرومنٹس بند کر دئیے اور پاور سیو کر لی تا کہ جب طوفان تھمے تو تصاویر بنائی جا سکیں۔

لیکن روسی سپیس کرافٹ ایسا نہ کر سکا۔ چنانچے اس کی پاور مریخ پر طوفان تھمنے سے پہلے ہی تھم گئی۔ کئی ہفتوں بعد طوفان تھما، میرینر نائن نے اپنے آلات پھر سے ایکٹیو کیے اور جو تصاویر بنائیں انھوں نے پہلے دیکھے گئے مناظر سے بھی زیادہ شاندار منظر دکھایا۔ مریخ پر واقعی بہتے دریاؤں جیسی لمبی لمبی لکیریں بچھی ہوئی تھیں۔ مریخ کی سطح پر ایک بہت بڑا پہاڑ بھی تھا جس کی بلندی، جس کی ہائیٹ زمین پر موجود سب سے بڑے پہاڑ موونٹ ایورسٹ سے اڑھائی گنا زیادہ تھی۔ ایورسٹ کی بلندی 8,848 میٹر ہے جبکہ مریخ جو زمین سے تقریباً آدھا سیارہ ہے اس پر موجود اس پہاڑ کی بلندی 22,000 میٹر ہے۔ اسے موؤنٹ اولمپِس یا اولمپِس مانز کا نام دیا گیا۔

اسی مشین نے مریخ پر بہت بڑی بڑی گھاٹیوں کی تصاویر بھی بنائیں، یہ گھاٹیاں میلوں تک پھیلتی چلی گئی تھیں۔ یہ دکھنے میں بالکل ایسی تھیں جیسے امریکی ریاست ایریزونا میں گرینڈ کینن۔ مرینر نائن مریخ پر انسان کے خواب کا پہلا کامیاب تجرِبہ تھا۔ میرینیر نائن ایک طرح اندازوں سے زیادہ کامیاب رہا اور ایک طرح ناکام۔ کامیاب یوں کہ اس نے اپنے مشن کے دوران مریخ کے گرد چکر لگاتے ہوئے 7,300 تصاویر زمین پر بھیجیں۔ یہ اتنی زیادہ تصاویر تھیں جن سے مریخ کی پوری سطح کا انیشئل میپ، ابتدائی نقشہ سا بن گیا۔ لیکن ناکام اس طرح کہ یہ اپنے اہم ترین آبجیکٹیو، یعنی مریخ پر زندگی کی تلاش میں ناکام رہا تھا، اسے مریخ پر کسی زندگی کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔ لیکن انسان اب بھی ناامید نہیں تھا۔اس نے مریخ کے اور بھی قریب ہونے کی ٹھانی۔

اس کے پاس سے گزرنے یا اس کے گرد چکر لگانے سے بھی زیادہ قریب۔ اب انسان مریخ پر اترنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ تا کہ مریخ پر زندگی کی تلاش اور اچھے طریقے سے کر سکے۔ اور پھر 1975 میں انسان کا یہ خواب پورا ہوا مگر کیسے؟ آپ نے سکینڈیوین کنٹریز کے ان وائیکنگز کی کہانیاں ضرور سنی ہوں گی یا ہسٹری ٹی وی کی وائیکنگ سیریز دیکھی ہو گی، جس میں شمالی یورپ کے حملہ آوور نیچے کی طرف نئی آباد دنیاؤں کی تلاش میں آتے تھے۔ تو اسی نام پر یہ سپیس کرافٹ وائیکنگ ون اور ٹو بنائے گئے۔ انھیں مریخ پر اترنا تھا، لینڈ کرنا تھا، زندگی کو تلاش کرنا تھا اور یہ دیکھنا تھا کہ کیا ہم مریخ پرکبھی رہ سکتے ہیں، کیا یہ ہمارا دوسرا گھر ہو سکتا ہے؟ یا پھر کیا یہاں کبھی کوئی انسان نما زندگی یاکوئی بھی جاندار رہتا تھا؟

20 اگست 1975، امریکی ریاست فلوریڈا سے وائیکنگ مشن مریخ کی طرف لانچ کیا گیا۔ اور 11 ماہ بعد 19 جولائی کو وائیک ون مریخ کے قریب پہنچ گیا۔ وہ سرخ سیارے کی سطح پر اترنے کے قریب تھا۔۔۔ کہ اسے روک دیا گیا۔ کیونکہ وائکنگ مشن کے کیمرے دکھا رہے تھے کہ جس جگہ وہ لینڈ کرنے والا ہےوہاں پتھر بہت ہی زیادہ ہیں یہاں لینڈ ہونے کے بعد وائیکنگ کی وہ کار نما گاڑی نہیں چل پائے گی جس نے مریخ پر تجربات کرنے ہیں۔ اس لیے ایک دن تلاش کے بعد نئی جگہ ڈسکور کی گئی۔ 20 جولائی1976، چاند پر انسان کے اترنے کے ٹھیک7 سال بعد وائیکنگ ون نے نارتھ پول کے قریب مریخ کی سطح پر قدم رکھ دئیے۔ وائکنگ کا مریخ کو چھونا تھا کہ نیچے زمین پر ناسا کے وہ سائنس دان جو 8 سال سے اسی ایک لمحے کے لیے محنت کر رہے تھے، خوشی سے ناچنے لگے۔ یہ انسان کے ایک عظیم تر خواب کی تکمیل تھی۔

آج وائیکنگ اس زمین پر اترا تھا جسے انسان کبھی دیوتا سمجھتا تھا۔ وائیکنگ نے مریخ پر اترتے ہی پہلی تصویر کون سی بنائی؟ اس میں کیا تھا اور کیا وائکنگ کو مریخ پر زندگی کے آثار ملے؟ ہم مریخ پر کب جا رہے ہیں اور آخر انسان مریخ پر جانا کیوں چاہتا ہے؟ مریخ پر بننے والی پہلی انسانی بستی کیسی ہو گی کب بنے گی انسان وہاں کیسے زندہ رہے گا؟کیا اگائے گا کیا کھائے گا؟ یہ زبردست کہانی ہمارے سفر کے اگلے حصے میں ہے۔

Read More :: History of Pakistan Read In Urdu Article And Watch Play History

Part 5 :: The Exploration and Colonization of Mars Urdu | مریخ پر ہم کیسے رہیں گے؟

▷❤▷❤ Watch Historical Series English Subtitles And Urdu Subtitles By Top20series

1 thought on “Human Journey To The Red Planet Mars Urdu | انسان مریخ تک کیسے پہنچا؟”

  1. Pingback: History of Great Nigeria | The History of Nigerian (1100 BC)

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: