Space Journey From Earth to Moon in Urdu | چاند پر کس کا نام لکھا ہے؟

Space Journey From Earth to Moon in Urdu | چاند پر کس کا نام لکھا ہے؟

یہ زمین جو ہمیں بہت بڑی لگتی ہے۔ جس میں ہزاروں ریاستیں، اربوں انسانوں، ان گنت مذاہب اور لاکھوں نظریات بستے ہیں دراصل بہت ہی چھوٹی ہے۔ کسی بھی اندازے سے چھوٹی۔ ہم آپ کو کائنات کی وہ سطحوں کے سفر پر لے جا رہے ہیں۔ جوں جوں ہم اپنی زمین اور نظام شمسی سے دور ہوتے چلے جائیں گے اتنا ہی یہ سفر ماضی کا سفر بنتا چلا جائے گا۔ یہاں تک کے ہم آپ کو زمین اور آسمان کے اس نقطے تک لے جائیں گے جہاں سے یہ سب کھیل شروع ہوا تھا۔ ہمارے راستے میں ایسے ایسے مقامات آئیں گے کہ شاید ہم سے بہت سو نے ان کا تصور بھی نہ کیا ہو۔ ہم دیکھیں گے کیا اس کائنات میں کسی جگہ کوئی ہم سا بھی کوئی رہتا ہے۔ اس راستے میں وہ بھی آئے گا جو ہم سے کروڑوں کلومیٹر دور تو ہے، لیکن ہماری تمام زبانیں بولتا ہے، جی ہاں واقعی بولتا ہے، دکھائیں گے آپ کو۔ کیونکہ یہ ہمارے اسی سفر کے راستے میں آئے گا۔

Space Journey From Earth to Moon in Urdu | چاند پر کس کا نام لکھا ہے؟

ہم اس سفر میں وہ سیارے دیکھیں گے جو ہمارے مستقبل کے گھر ہو سکتے ہیں۔ برینڈ نیو سیریز ۔کل کائنات۔ آج آپ اسی دلچسپ الف لیلوی سفر کے لیے ہمارے ساتھ پہلی اڑان بھریں گے۔ ہم سفر کا آغاز کریں گے تین لاکھ چوراسی ہزار کلومیٹر دور پہلے پڑاؤ سے۔ کیونکہ سب سے قریب یہی جگہ ہے جہاں ہم لینڈ کر سکتے ہیں۔ اسے چاند کہتے ہیں۔ یہ ہم سے قریب ترین آسمانی جسم ہے۔ اتنا قریب کہ تین سے چار دن میں سپیس کرافٹ ہمیں وہاں پہنچا سکتا ہے۔ لیکن اتنا دور کہ اگر نظام شمسی کے تمام سیارے زمین اور چاند کے درمیانے فاصلے میں رکھنا چاہیں تو رکھ سکتے ہیں۔ یا تیس زمینیں اس فاصلے میں سما سکتی ہیں۔ یہ وہ گول پتھر ہے جو لاکھوں سال سے انسان کا سب سے حسین تصور ہے۔

ہمارے بچپن میں یہاں کبھی بڑھیا چرخا کاتا کرتی تھی۔ لیکن بیس جولائی انیس سو انہتر کو جب نیل آرمسٹرانگ اور بز ایلڈرن نے چاند پر قدم رکھا تو اسے کوئی بڑھیا نہیں ملی۔ بلکہ اس کے بعد بھی چھے مرتبہ جو مشن چاند پر گئے انھیں بھی نہیں ملی۔ سائنس نے قدیم زمانےکی ایک خوبصورت کہانی ہم سے ہمیشہ کے لیے چھین لی۔ جاپانی ابھی پچھلی صدی تک اپنے بچوں کو نصاب میں ایک کہانی پڑھایا کرتے تھے۔ ایک بہت کمزور اور بہت بیمار بوڑھا چادر اوڑھے جنگل میں لکڑیاں جلا کر ہاتھ سینک رہا تھا۔ اس کی نظر سامنے کی جھاڑی پر پڑی۔ جس کے پاس گیدڑ، خرگوش اور بندر ایک ساتھ کھیل رہے تھے۔ بوڑھے نے کچھ سوچا اور انھیں آواز دی۔اور کہا کہ اسے کچھ کھانے کے لیے لا دو۔

ورنہ وہ بھوک سے مر جائے گا۔ بندر چھلانگیں لگاتا ندی پر گیا اور مچھلی پکڑ لایا۔ سدا کے بدھو اور سست گیدڑ نے بیوقوفی کی اور ایک چھپکلی مار کر بوڑھے کے آگے رکھ دی۔ بے چارے خرگوش کے ساتھ بہت برا ہوا، اسے کچھ بھی ایسا نہ ملا جو وہ بھوکے بوڑھے کے لیے لے جائے۔ لیکن اس نے عاجزی کی انتہا کر دی اور خود کو ہی خواراک کے طور پر بوڑھے کے سامنے پیش کر دیا۔ خرگوش نے کہا’’ اے اچھے بزرگ، مجھے اور تو کچھ نہیں ملا آپ مجھے کھا کر اپنی بھوک مٹا لیجے۔‘‘ یہ کہہ کر خرگوش آگ میں کود گیا۔ خرگوش کا کودنا تھا کہ بوڑھے نے چادر اتار پھینکی۔ اس نے فوراً خرگوش کو آگ سے نکالا اور بتایا کہ وہ ایک بھوکا لاچار نہیں، بلکہ وہ تو آسمانوں کا دیوتا ’ساکا ‘ہے۔ اور اب زمین پر رہنے والوں کا امتحان لینے کیلئے جنگل میں بھیس بدلے پھر رہا ہے۔ کہتے ہیں ساکا نے خرگوش کو اس کی قربانی کا انعام دینے کے لیے اس کی تصویر چاند پر نقش کر دی۔

تا کہ رہتی دنیا کے لیے اچھائی کی مثال ہو جائے۔ یہ اور اس قسم کی کئی دوسری کہانیاں دنیا کے ہر کونے میں مشہور تھیں۔ آج بھی تحقیق اور جستجو سے جی چرانے والے افراد بہت سی ایسی داستانوں پر یقین رکھتے ہیں۔ آج بھی بہت سوں کو چاند کے چہرے میں اپنے مطلب کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ لیکن یہ تصویر اصل میں ہے کسی کی؟ یہ کسی کی تصویر نہیں ہے۔ بلکہ چاند پر پھیلا ہوا لاوا اور راکھ ہے۔ انچاس سال پہلے نیل آرمسٹرانگ کی ٹیم اپنے ساتھ اسی جمے ہوئے سرد لاوے کے ٹکڑے لائی تھی۔ جس پر تحقیق سے پتا چلا کہ تین سے ساڑھے تین ارب سال پہلے چاند پر ان گنت آتش فشاں پھٹے تھے۔ جن کا لاوا ہزاروں میل تک پھیل گیا۔ یہ جما ہوا ٹھنڈا لاوا زمین سے دھبوں کی طرح نظر آتا ہے۔

سائنس دان انھیں چاند کے سمندر یا ماریہ کہتے ہیں۔ اور ہر سمندر کو ایک مخصوص نام دیتے ہیں۔ جیسے سی آف نالج، سی آف کرائسس، سی آف کولڈ وغیرہ۔ اور جو جگہیں چاند پر ان سیاہ دھبوں کے علاوہ ہیں اور زیادہ روشن نظر آتی ہیں، انھیں آپ صحرا سمجھ لیں۔ یہ دراصل وہ راکھ ہے جو چاند پر آتش فشاں پھٹنے سے پیدا ہوئی اور پہاڑوں پر برفباری کی طرح چاند پر پھیل گئی۔ جب سورج کی روشنی اس راکھ پر پڑتی ہے تو یہ اور دمک اٹھتی ہے، چاند میں چمک پیدا ہوتی ہے اور ہر طرف چاندنی پھیل جاتی ہے۔ نیل آرمسٹرانگ نے جب چاند پر قدم رکھا تو اس کا پاؤں بھی اسی نرم راکھ پر پڑا تھا۔ اور اسی وجہ سے وہ نشان اتنا واضح اور گہرا ثبت ہوا تھا۔ چاند پر انسان نصف صدی پہلے پہنچا تھا۔

إ لیکن اِس پہلے انسان کے قدموں کے نشانات آج بھی چاند پر جوں کے توں ثبت ہیں۔ بالکل ایسے جیسے ابھی کل کی بات ہو۔ آپ کیا جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند پر ہوا، بادل اور بارش نہیں ہوتی۔ کیونکہ چاند کے گرد ہماری زمین کی طرح گیسوں کا ہالہ یا غبارہ نہیں ہوتا۔ یعنی چاند کا کوئی ایٹماسفیر نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاند پر انسان کے قدموں کے نشان لاکھوں برس تک قائم رہیں گے یا شاید کروڑوں یا اربوں سال تک بھی۔ لیکن اربوں سال تک نسل انسانی اس شکل میں کہیں موجود بھی ہو گی یا نہیں؟ یا عمل ارتقا اسے کچھ اور شکل دے چکا ہو گا؟ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ انسان کی جنگجو فطرت ہی اس کا خاتمہ کر چکی ہو۔ کچھ بھی ہو ایک بات تو طے ہے کہ انسان رہے نہ رہے چاند پر انسان کے قدموں کے نشان ان گنت زمانوں تک قائم رہیں گے۔

لیکن صرف نیل آرمسٹرانک کے قدموں کے نشان ہی ایسے نشان نہیں ہیں جو چاند پر ہمیشہ رہیں گے۔ یہاں بارہ مزید خلا نوردوں کے نشانات بھی موجود ہیں۔ جو اپالو الیون کے بعد اپالو ٹویلو، تھرٹین، فورٹین، سکسٹین، اور سیونٹین کے ذریعے چاند پر پہنچے تھے۔ ان میں گالفر اسٹرونمر، شیفرڈ کی سمیش کے نشان بھی موجود ہیں جس نے چاند پر گالف کھیلی تھی۔ چاند کی ریت پر نقش و نگار بناتی چاند گاڑیوں کے نشانات بھی ان گنت زمانوں تک رہیں گے۔ لیکن ان سب کے ساتھ ایک نام بھی ہے، جناب، کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک خوبصورت لڑکی کا نام بھی چاند پر نقش کیا تھا؟ افسانوں میں بہت سے عاشق اپنے محبوب سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم تمہارے لیے چاند توڑ لائیں گے لیکن ظاہر ہے ایسا ہو نہیں سکتا۔ لیکن ایک شخص تھا جس نے اپنی بیٹی سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا نام چاند پر لکھوں گا۔ اور اس نے یہ وعدہ پورا کیا۔

جی ہاں یہ چاند پر جانے والے آخری مشن اپالو سیونٹین کا کمانڈر یوجین سرنن تھا۔ وہ انیس سو بہتر میں تین دن چاند پر رہا اور جب اپنے ساتھی اسٹرونومر کے ساتھ واپس آنے لگا تو اس نے ایک عجیب حرکت کی۔ وہ جھکا اور اس نے چاند کی چمکتی نرم زمین پر اپنی بیٹی ٹریسی کا نام لکھا۔ یہ اس کی بیٹی کے لیے ایک لازوال تحفہ تھا۔ اور یقیناً وہ اس پر بہت خوش تھا، لیکن اس میں ایک میٹھا سا دکھ شامل ہو گیا۔ اسے مرتے دم تک یہ دکھ رہا کہ وہ اس چاند پر لکھے نام کی تصویر نہیں بنا سکا۔ حالانکہ کیمرہ وہاں موجود تھا اور ریکارڈنگ بھی ہو رہی تھی۔ یوجین کا اپولو سیونٹین مشن چاند پر جانے والا آخری مشن تھا۔ اس کے بعد کوئی انسان آج تک چاند پر نہیں گیا۔ یہ تصویر جو زمین کی سب سے خوبصورت تصویر کا اعزاز رکھتی ہے، اسی مشن کی واپسی پر لی گئی تھی۔ نیل آرمسٹرانگ یعنی چاند پر جانے والا پہلا انسان اور یوجین سرنن یعنی چاند پر اترنے والا اب تک کا آخری انسان، یہ دونوں اب دنیا میں نہیں رہے۔ لیکن تاریخ ایک بڑا موڑ لینے والی ہے۔

ایک بار پھر انسان چاند پر نہ صرف جانے بلکہ مستقل اسٹیشن بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ سب اگلے دس سالوں میں آپ ہوتا ہوا دیکھ لیں۔ اور اس کے فائدے بھی دیکھ لیں۔ کیونکہ چاند پر مستقل بیس بنانے کا مقصد یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ انسان چاند کے وسائل سے کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ فائدہ تو جب اٹھایا جائے گا تب اٹھایا جائے گا، لیکن فی الحال تو ہم زمین سے چاند کی ایک خوبصورت سمت ہی دیکھ سکتے ہیں۔ جی ہاں صرف ایک ہی سمت۔ سچ بتائیے آپ میں سے کتنوں نے کبھی غور کیا کہ ہم لاکھوں سال سے چاند کی صرف ایک ہی سمت کیوں دیکھ رہے ہیں؟ چودھویں کا چاند ہر بار ایک ہی طرح کا کیوں ہوتا ہے۔ دھبوں والا، چمک دار سا اور دھبے بھی ہمیشہ ایک ہی جیسے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند زمین کے گرد گردش کرنے کے علاوہ اپنے محور گرد بھی گردش کرتا ہے،

لیکن اپنے محور کے گرد ایک چکر پورا کرنے اور زمین کے اطراف ایک چکر پورا کرنے میں اسے ایک سا وقت لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان زمین پر بیٹھ کر چاند کی دوسری سمت نہیں دیکھ پاتا۔ اس عمل کو ’فیس لاک‘ کہتے ہیں۔ لیکن حضرت انسان بہت ترقی کر چکا ہے۔ اس نے چاند کی دوسری سمت بھی کھوج ڈالی ہے۔ چاند کے دوسری سمت جسے فارسائیڈ آف موون بھی کہتے ہیں، کی تصاویر برسوں پہلے بنا اور دیکھ چکے ہیں۔ لیکن اب چین کا ایک ربوٹک مشن چاند کی اس دوسری سمت لینڈ بھی کر چکا ہے اور اس وڈیو کی اپ لوڈنگ ڈیٹ تک مختلف تجربات میں مصروف بھی ہے۔ ممکن ہے ہمیں یہاں سے چاند اور زمین کی تخلیق کے بارے میں مزید معلومات ملیں لیکن جو معلومات اب تک ہیں ان کے مطابق چاند کی دوسری سمت سامنے والی سمت سے بہت ہی زیادہ خوبصورت اور چمک دار ہے۔

کیونکہ یہاں سیاہ دھبے بہت کم ہی۔ اگر اردو شاعر اس سمت کو دیکھ لیں تو اپنے محبوب کو ہمیشہ چاند کی دوسری سمت سے تشبیہ دیا کریں۔ ہو سکتا ہے چاند سے ہماری محبت کی ایک تاریخی سائنسی وجہ بھی ہو۔ کیونکہ چاند کبھی ہماری زمین ہی کا حصہ تھا۔ لیکن کوئی چار ارب سال پہلے کسی بہت بڑے شہاب ثاقب کے ٹکرانے سے زمین کا ایک بڑا حصہ اس سے الگ ہو گیا۔ اور کائنات کے لا آف گریویٹیشن کے تحت اپنے سے بڑے جسم یعنی زمین کے گرد، دائرے میں حرکت کرنے لگا۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ تھوڑا تھوڑا دور ہوتا چلا گیا۔ یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ چاند ہر سال ہم سے تین اعشاریہ آٹھ سینٹی میٹر دور ہو جاتا ہے۔ لیکن لیکن لیکن۔

ایک منٹ ٹھہریے اور پوچھیے کہ ہم یہ بات کیسے جانتے ہیں؟ تو جناب انیس سو انہتر میں چاند پر جانے والے پہلے دو خلا نورد نیل آرمسٹرانگ اور بزایلڈرن واپس آنے لگے تو انھوں نے ایک آخری کام کیا۔ ایک ایسا کام جو اس بات کا ثبوت تھا کہ ہاں انسان نے چاند پر قدم رکھ دیا ہے۔ انھوں نے چاند کی ریت پر ایک ریٹروریفلیکٹر رکھا۔ یعنی ایک ایسا آئینہ جس پر اگر زمین سے لیزر لائٹ ٹکرائے تو یہ اسے واپس زمین پر منعکس ریفلکٹ کر دے گا۔ بالکل ایسے جیسے آپ کسی سامنے والی دیور پر لگے آئینے میں موبائل یا لیزر کی لائٹ پھینکیں تو یہی شعاع آپ کی طرف واپس آئے گی۔ لیکن صرف ان دونوں نے ہی ریفلیکٹر نصب نہیں کیے تھے۔

بلکہ ان کے بعد چاند پر جانے والے دو مشنز نے بھی مختلف مقامات پر ایسے ہی ریفلیکٹرز نصب کیےتھے۔ ریفلکٹر آج نصب ہیں انھی ریفلیکٹرز کی مدد سے ہم جانتے ہیں کہ چاند ہم سے کتنے فاصلے پر ہے۔ اور انھی کی مدد سے ہم جانتے ہیں کہ چاند ہم سے ہر سال تھری پوائنٹ ایٹ سینٹی میٹر دور ہو رہا ہے۔ اگر یہی رفتار جاری رہی تو پچاس ارب سال بعد کا چاند زمین سے نظر ہی نہیں آئے گا۔ لیکن فکر نہ کریں اس سے پنتالیس ارب سال پہلے ہمارا سورج اپنی عمر پوری کر کے سرد ہو چکا ہو گا۔ اور زمین پر انسانی زندگی ایک ایسا قصہ بن چکی ہو گی جسے شاید نہ کوئی سنانے والا ہو اور نہ کوئی سننے والا۔

اگر ہم یعنی نسل آدم ایسا نہیں چاہتے تو ہمیں اپنی تباہی کے سامان پیدا کرنے کے بجائے کسی دوسرے سیارے یا خلا میں رہنا سیکھنا ہو گا۔ اور وہ بھی محبت سے، کیونکہ محبت فاتح عالم ہے۔ چلیے آگے بڑھتے ہیں اور سورج کی طرف چلتے ہیں۔ کہتے ہیں قیامت سے پہلے سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہو گا۔ تو ہمارے اور سورج کے درمیان ابھی ایک ایسی دھرتی ہے جہاں روز قیامت اترتی ہے۔ جی ہاں ہم ایسی جگہ جا رہے ہیں جہاں روزانہ سورج مغرب سے ہی طلوع ہوتا ہے۔ اس پڑاؤ کی کہانی بھی آپ کو دکھائیں گے لیکن کل کائنات کی اگلی قسط میں۔

چنگیز خان نے ایک طاقتور مسلمان سلطنت پر کیوں حملہ کیا؟ مسلمان زیادہ تعداد کے باوجود کیوں مقابلہ نہ کر سکے؟ اور وہ ایک سپہ سالار کون تھا جو چنگیز خان کے لیے برسوں تک درد سر بنا رہا؟ اور آخر سر توڑ کوششوں کے باوجودآج تک چنگیز خان کی قبر کا سرُاغ کیوں نہیں مل سکا؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن چنگیز خان کون تھا کی اگلی اور آخری قسط میں۔ اس دوران آپ ہمیں کامنٹس میں ضرور لکھیں کہ یہ وڈیو دیکھتے ہوئے آپ کے جذبات چینی محصوریں کے ساتھ تھے یا چنگیز خان کی فوج کے ساتھ؟ چنگیز خان منی سیریز کی پہلی دو اقساط دیکھنے کیلئے یہاں اور یہاں کلک کیجئے

Read More :: History of Pakistan Read In Urdu Article And Watch Play History

Part 2 :: Journey to Venus and Mercury in Urdu | جہاں سورج مغرب سے نکلتا ہے

▷❤▷❤ Watch Historical Series English Subtitles And Urdu Subtitles By Top20series

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: