The Exploration and Colonization of Mars Urdu | مریخ پر ہم کیسے رہیں گے؟

The Exploration and Colonization of Mars Urdu | مریخ پر ہم کیسے رہیں گے؟

یہ ایک کومٹ ہے، ایک دم دار ستارہ۔ لیکن یہ کوئی عام کومٹ نہیں ہے۔ اس کے اندر زندگی کے بیج ہیں۔ اس میں زندہ خلیے ہیں اور یہ تاریخ میں کسی وقت خلا سے اڑتا ہوا زمین کی طرف آیا اور پوری قوت سے ٹکرا گیا۔ اس کے اندر جو زندگی کے خلیے تھے انھی سے زندگی نےزمین پرجنم لیا اور پھر ایک خلیے سے بڑھتے بڑھتے یہ زندگی پورے کرہ ارض پر چاروں طرف پھیل گئی۔ یہ ایک سائنٹیفک تھیوری ہے۔ اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ کچھ سائنسدانوں کے مطابق ہماری زمین پر شروع میں زندگی کے لیے مکمل ضروری ماحول نہیں تھا۔

The Exploration and Colonization of Mars Urdu | مریخ پر ہم کیسے رہیں گے؟

اس لیے ضرور زندگی یہاں پیدا نہیں ہوئی بلکہ کہیں اور سے یا زیادہ امکان ہے کہ مریخ سے یہاں آئی ہو۔ کیونکہ مریخ پر 3 ارب سال پہلے ایسے حالات تھے کہ وہاں زندگی پیدا ہو سکے۔ اگر یہ تھیوری ثابت ہو جاتی ہے تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہم سب مریخی ہیں، یا کم از کم ہم اس زمین پر پردیسی ہیں۔ یہ تو جب ثابت ہو گا تب ہو گا لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ 2024 میں انسان مریخ پر جا رہا ہے۔ لیکن مریخ پر تو درجہ حرارت منفی 50 یا 60 ڈگری کے قریب ہوتا ہے۔ وہاں آکسیجن بھی نہ ہونے کے برابر ہے،

جان لیوا ریڈیشنز ہیں وہاں انسان رہے گا کیسے؟ جہاں نہ کچھ بویا جا سکتا اور نہ کاٹا۔۔ تو پھر وہاں انسان کھائے گا کیا؟ ہم یہ سب اندازے لگائیں گے اور کہانی کو آگے بڑھائیں گے اسی سپیس کرافٹ وائیکنگ کے ساتھ جو مریخ پر پہنچ چکا ہے۔کل کائنات، دا یونیورس سیریز میں ہم آپ کو انسان کے مریخ پر رہنے کی کہانی دکھائیں گے وائیکنگ نے مریخ پر اترتے ہی جو پہلی تصویر زمین پر بھیجی تھی وہ یہ تھی۔ اس میں وائکنگ کا ایک پاؤں بھی نظر آ رہا ہے۔ یہ انسان کی کسی بھی دوسرے سیارے پر پہلی کامیاب لینڈنگ تھی۔ تو یہ تھی پہلی تصویر اور یہ رہی دوسری تصویر۔ مریخ پر پتھر بالکل اسی طرح بکھرے ہوئے ہیں جیسے ہماری نیلی زمین کے کسی بھی پتھریلے خشک علاقے میں بکھرے ہوتے ہیں۔

تصویروں کے بعد اب وائکنگ کا امتحان تھا زندگی تلاش کرنے کا۔ انھی پتھروں پہ چلتے ہوئے وائیکنگ کو اسی پتھریلی زمین اور ہوا سے نمونے لینا تھے اور اپنی ننھی منی لیبارٹری میں ان پر تجربات کرنا تھے۔ اسے دیکھنا تھا کہ کیا ان ذرات میں کہیں کوئی ایسا کیمیکل ہے جس سے پتا چلے کہ یہاں زندگی موجود ہے؟ یا کبھی پہلےتھی؟ کیا یہاں لاکھوں کروڑوں سال پہلے یا اب کوئی جاندار شے، بھلے ایک خلیہ ہی کیوں نہ ہو وہ موجود ہے یا نہیں؟ کیا پانی موجود ہے جو زندگی کی پہلی علامت ہوتا ہے؟ لیکن ٹھہریئے یہاں رکیے اور پوچھئیے کہ آج سے 43 ائرز بیک جب ٹکنالوجیز اتنی سمارٹ نہیں تھیں،

جتنی آج ہیں اس وقت زمین سے ساڑھے 15کروڑ کلومیٹر دور ایک چھوٹی سی مشین خودبخود کیسے تجربات کرتی ہو گی؟ اس سوال کا جواب ہے۔ وائکنگ کے یہ دو کیمرے اور ایک بازو۔ ان دو کیمروں سے وائکنگ لینڈرز نے ہزاروں تصاویر بنائیں۔ جنھیں اس اینٹینے کی مدد سے وائیکنگ کے دوسرے حصے یعنی وائیکنگ آربیٹر تک ٹرانسمٹ کیا جاتا تھا، بھیجا جاتا تھا۔ جہاں سے یہ زمین پر موجود اس ڈیپ سپیس نیٹ ورک اور پھر ناسا کے متعلقہ آفس تک پہنچتی تھیں۔ اور یہاں انھیں ان ٹیپس میں محفوظ کر لیا جاتا تھا۔

جبکہ یہ بازو وائیکنگ کی لیبارٹری کا وہ حصہ ہے جو مریخ کی سطح سے مٹی کے نمونے، سیمپلز اٹھا کر پیچھے بنی اس چھوٹی سی لیبارٹی میں ڈال دیتا تھا۔ اس لیبارٹی میں خاص سینسرز تھے۔ جو مریخ کی مٹی میں زندگی کی علامات کو ڈیٹکٹ کرنے، معلوم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اور یہ ہے وہ منا سا انٹینا جس سے مریخ پر موسموں کے اتار چڑھاؤ کا پتا چلایا جاتا تھا اور ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔ یہ سب کچھ اسی 72 کلوگرام کے سپیس کرافٹ وائیکنگ کا حصہ تھا۔ وائیکنگ ون کا مشن صرف 90 دن کا تھا۔ لیکن اس نے اس سے بہت زیادہ کام کیا۔ یہ 6 سال 4 ماہ تک مریخ پر تجربات کرتا رہا۔

اس نے 50,000 سے زائد تصاویر زمین پر بھیجیں۔ جن میں سرخ مٹی تھی، میلوں تک پھیلے بنجر میدان اور ان میں بکھرے پتھر تھے، گھاٹیاں اور پہاڑ تھے۔سب کچھ تھا، لیکن زندگی؟ نہیں، زندگی وائیکنگ کو مریخ پر نہیں ملی نومبر1982 تک کام کرنے کے بعد وائیکنگ ون ریٹائر ہو گیا۔ وہ ٹیکنیکلی تھک گیا تھا، وہ اپنی ساری توانائی کھو چکا تھا اور اب مریخ پر پتھروں کی طرح ایک پتھر بنا پڑا ہے۔ لیکن اس کے بعد بھی مریخ پر زندگی کی تلاش کا سفر ختم نہیں ہوا۔ وائینگ ون نے اپنی تلاش کے دوران ایک ایسی تصویر بھیجی تھی، جس سے مریخ پر زندگی کی تھوڑی بہت امید ابھی باقی تھی۔ اور یہ تھی وہ تصویر۔

اس میں یوں لگتا ہے کہ چٹانوں کے درمیان برف کی ایک پتلی سی تہہ جمی ہوئی ہے۔ یہ برف جما ہوا پانی بھی ہو سکتا ہے اور فروزن کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی۔ اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے تو مطلب یہاں اس جگہ تو زندگی نہیں، لیکن اگر یہ برف پانی کی ہے تو زندگی کا چانس ابھی باقی ہے۔ سو اس کے لیے ٹیسٹ ضروری تھے۔ لیکن وہ ٹیسٹ یہ سپیس کرافٹ وائکنگ اب نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے لیے ایک نئی قسم کا سپیس کرافٹ چاہیے تھا۔ ایک کان کن سپیس کرافٹ۔ لمبی چونچ والا۔۔۔ اسی بگلے جیسا سمجھ لیں بس۔ کتنا مشکل کام لگتا ہے۔ لیکن کہانی میں آگے بڑھنے سے پہلے سوچئیے کہ آپ 2008 میں کیا کر رہے تھے؟

تو 2008 میں ایک ایسا ہی سپیس کرافٹ فینیکس، مریخ پر اترنے والا تھا۔ فینیکس نے مریخ کی زمین کوکرید کر دیکھنا تھا کہ کیا اس کی سطح کے نیچے پانی یا پانی والی برف موجود ہے؟ اور صرف دیکھنا ہی نہیں تھا بلکہ لیبارٹری ٹیسٹ میں ثابت بھی کرنا تھا۔ فینیکس لینڈر ناسا کے چند اہم ترین مشنز میں سے ایک تھا۔ 25 مئی 2008 کو فینیکس مریخ پر اترا۔ چند لمحوں بعد ہی اس کے فولڈنگ آرم نے حرکت کی، مریخ کی سطح ایک پرندے کی چونچ کی طرح کریدی اور یہ دیکھئیے یہ کیا۔

مریخ کی سرخ مٹی کے نیچے سفید سفید برف چمک رہی ہے۔ اس مٹی اور برف کے ذرات کو جب فینکیس نے اپنی لیبارٹری میں چیک کیا تو یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ نہیں،بلکہ پانی تھا۔ لیبارٹری ٹیسٹ میں اس پانی کے بخارات بھی بنے۔ یہ پہلی بار تھا کہ ٹیلی سکوپس کے بعد براہ راست تجربے سے ثابت ہو گیا تھا کہ مریخ پر پانی موجود ہے اور وہ بھی بہت بڑی مقدار میں۔ مریخ پر پانی کے جمے ہوئے سمندر دریافت ہو گئے تھے۔ فینیکس ایک کامیاب مشن ثابت ہوا تھا۔ مریخ پر پانی بھی مل گیا تھا۔ زمین کی طرح اس کے پولز، قطبین پر برف بھی موجود تھی۔

مریخ کا دن 24 گھنٹے 37 منٹ کا ہوتا ہے یہ بھی ہمارے علم میں آ چکا تھا۔ زمین کی طرح مریخ بھی چاند رکھتا ہے اور وہ بھی ایک نہیں دو دو چاند۔ تو جب اتنا کچھ زمین جیسا ہے تو اب اگلا خواب کیا ہونا چاہیے تھا؟ کیوں نہ مریخ پر قدم رکھ دیا جائے؟ کیوں نہ مریخ پر جا کر ایک بستی بسائی جائے۔ لیکن کیسے۔ ایلان مسک کی ایجنسی سپیس ایکس نے مریخ پر انسانی بستی بسانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے لیے دو سٹیپس میں پلاننگ ہو رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں یہ ہو گا کہ 2 سال بعد 2022 میں پہلا مارس مشن روانہ کیا جائےگاجو مریخ پر انسانوں کو بسانے کے لیے ضروری انتظامات کرے گا۔ اس مشن میں کوئی انسان نہیں ہو گا، صرف ایک سپیس کرافٹ کو مریخ پر اتارا جائے گا۔

دوسرے مرحلے میں دوسرا سپیس کرافٹ 2 سال بعد 2024 میں مریخ پر جائے گا۔ صرف سپیس ایکس ہی نہیں آپ حیران ہوں گےکہ دنیا میں اس وقت ایک سپیس ریس ہےمارس ریس ہے۔ کہ کون مریخ پر پہلے اورسب سے بڑی کالونی بناتا ہے۔اس ریس میں ناسا ہے، سپیس ایکس ہے، روس اور یورپی سپیس ایجنسیز ہیں اور تو اور یو اے ای بھی ہے۔ جی ہاں یو اے ای نے تو مریخ پر سب سے بڑی انسانی بستی بسانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اور یو اے ای میں تو اس کی تیاری کے لیے ایک مصنوعی مریخ بھی بنایا جا رہا ہے۔ جس میں سب کچھ ویسا ہی ہو گا جیسا کہ مریخ پر ہے۔ اور یہاں مریخ پر بھیجنے والوں کو تریبت دی جائے گی۔

اگلی بار ٓآپ یو اے ای جائیں تو جتنا یہ بن گیا ہے اتنا ضرور دیکھیں۔ تو سپیس ایکس، ناسا، یو اے ای، روس، یورپ یا بوئنگ میں سے کوئی بھی مریخ پر پہنچے بہرحال یہ انسانیت ہی کی ایک اور بلند چھلانگ ہوگی خلا میں۔ جیسے جولائی 1969 میں چاند پر قدم رکھا گیا تھا۔ لیکن اس بار شاید دو چیزیں فرق ہوں۔ ایک یہ کہ چاند پر پہلا قدم ایک مرد نے رکھا تھا تو ممکن ہے کہ اس بار مریخ پر پہلا قدم ایک عورت کا پڑے دوسرا یہ کہ چاند پر انسان پہلی بار محض چند گھنٹے ہی ٹھہرا تھا، لیکن مریخ پر پہنچنے والے یہ انسان لمبے عرصے کے لیے وہاں رکیں گے۔

وہاں انسانوں کی پہلی بستی بسائیں گے یہ لوگ ۔ پھر دو سال بعد ایک اور راکٹ مزید انسانوں کو لے کر مریخ پر جا سکے گا۔ اور یوں دو دو سال بعد یہ شفٹس چینج ہوتی رہا کریں گی۔ لیکن یہ دو دو سال کا فرق کیوں؟ وہ اس لیے کہ یہ دیکھئیے یہ وہ چانس ہے جب مریخ ہماری نیلی زمین سے قریب ترین یعنی صرف ساڑھے 5 کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر ہوتا ہے۔ اگر یہ چانس نکل جائے تو مریخ ہم سے اور پرے اور پرےچلا جاتا ہے، اتنا پرے کہ یہ ہوتے ہوتے زمین سے 40 کروڑ کلومیٹر دور ہو جاتا ہے۔ اور اسے پہلے والے، یعنی قریب ترین مقام ساڑھے 5 کروڑ کلومیٹر تک آنے میں پھر 2 سال چاہیے ہوتےہیں۔

اس لیے ہر ایک کے بعد دوسرا مشن، 2سال کے فرق سے ہی بھیجا جا سکتا ہے اس سے پہلے نہیں۔ لیکن یہاں ایک اور مزے کی بات بتائیں آپ کو؟ وہ یہ کہ جو پہلا مشن یا پہلے مشن مریخ پر جائیں گے یہ سیدھے مریخ پر نہیں اتریں گے۔ بلکہ ان کا ایک پڑاؤ، راستے کا ایک اسٹیشن، ایک جنکشن چاند پر ہو گا۔ مون بیس بنے گی۔ ۔جی ہاں انسان ایک بار پھر چاند پر جا رہا ہے۔ اور اس بار صرف چند گھنٹوں یا دنوں کے لیے نہیں بلکہ ایک لمبے عرصے کے لیے۔بلکہ مستقل بیس کے لیے یہ ناسا کا مشن مون ہے جس میں چاند پر ایسی مستقل بیس بنائی جائے گی جو زمین اور مریخ کے راستے میں ایک اسٹیشن کاایک پڑاؤکا کام کرے گی۔

جیسے ایک لمبی فلائیٹ کے لیے درمیان میں ایک پڑاؤ ہوتا ہے بالکل اسی طرح۔ مون بیس بنانے کے بعد مریخ پر ٹونٹی ٹونٹز میں جو مشن روبوٹس بھیجے جائیں گے وہ مریخ پر ایسی جگہ کا انتخاب کریں گے جہاں انسانی بستی بنانا ممکن ہو۔ یہ روبوٹس وہاں ضروری تعمیرات کریں گے، کنسٹرکشنز وغیرہ کریں گے اور سب سے اہم یہ کہ وہ انرجی پیدا کرنے کے لیے بجلی گھر بنائیں گے۔ لیکن بجلی گھرکیسے؟ بجلی تو پانی کے ڈیمز پر ٹربائینز لگا کر بنائی جاتی ہے؟ اور مریخ پر فی الحال کوئی ایسا ڈیم تو ہے نہیں۔ پھر کیا سورج کی روشنی سے بجلی بنائی جائے گی؟ نہیں مریخ پر سورج کی روشنی اتنی تیز نہیں جتنی زمین پر ہوتی ہے۔

کیونکہ سورج زمین کی نسبت مریخ سے کروڑوں کلومیٹر زیادہ فاصلے پر ہے۔ اس لیے یہاں سورج کی تپش بہت کم ہوتی ہے۔ بلکہ مریخ پر تھِن اٹماسفئیر، یعنی بہت لطیف آب وہوا کی وجہ سے مٹی کے طوفان بھی گردش میں رہتے ہیں اور کئی کئی دن، ہفتے یا بعض اوقات مہینوں تک گرد کے طوفان مریخ کو لپیٹے رکھتے ہیں۔ ایسے میں مریخ پر سورج کی روشنی نہیں پہنچتی۔ تو پھر کیا فاسل فیول سے، پٹرول یا گیس سے بجلی پیدا کی جائے گی؟ ہو سکتا ہے، لیکن مریخ پر اتنا فیول آئے گا کہاں سے؟ کئی سال کی ضرورت کا آئل یا کوئی بھی فوسل فیول زمین سے بھیجنا تقریباً ناممکن ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے؟

حیرت انگیز بات ہے کہ ہمیں مریخ پر وہ کرنا ہو گا جو ہم زمین پر کرنے سے ڈرتے ہیں۔ مریخ پر ایٹمی بجلی گھر بنائے جائیں گے۔ تو 2020 میں جو پہلا مشن مریخ پر جائے گا وہ زمین سے ایٹمی بجلی گھر کا سارا سامان جیسے ایٹمی ری ایکٹر اورنیوکلئیر فیول وغیرہ ساتھ لے کر جائے گا اگر یہ مشن کامیاب رہا تو اس بجلی گھر سے مریخ کی پہلی انسانی بستی کو کم از کم 3 سال تک بجلی مل سکے گی اور وہ بھی بالکل فری۔ کوئی بل نہیں آئے گا اس کا۔لیکن بل اگر بھیجنا بھی ہو تو کس کو؟ بل تو تب آئے گا ناں جب وہاں انسان زندہ رہیں گے؟ زندہ کیوں نہیں رہیں گے؟ وہ اس لیے کہ مریخ پر ایوریج ٹمپریچر مائنس 60 ڈگری ہوتا ہے۔ اور وہاں کا ایٹماسفیر ایسا ہے کہ وہاں پانی مائنس ون ڈگری سینٹی گریڈ پر کھولنےلگتا ہے۔

یعنی اس کو یوں سمجھیں کہ اگر انسان مریخ پر کھڑا ہو تو اس کے ساتھ تین کام بیک وقت ہوں گے۔ ایک تو اسے اتنی سردی لگے گی کہ وہ جم کر رہ جائے گا۔ دوسرا یہ کہ ویرے تھن ایٹماسفر، بہت لطیف فضا کی وجہ سے اس کا خون کھولنا، ابلنا شروع ہو جائے گا، بالکل ویسے جیسے زمین پر100 ڈگری پر پانی برتن میں کھولنے لگتا ہے۔ تیسرا کام یہ ہو گا کہ مریخ پر تو آکسیجن ایک فیصد سے بھی کم ہے، اس لیے انسان سانس ہی نہیں لے پائے گا۔ اور چوتھا کام یہ ہو گا کہ اسے مریخ کی خطرناک ریڈیشنز ہی مار دیں گی۔ کیونکہ مریخ پر کوئی ایسا میگنیٹک فیلڈ نہیں ہے جیسا زمین کے گرد ہے، اس لیے مریخ پر خلا اور سورج سے خطرناک ریڈیشزنس براہ راست پڑتی ہیں۔

ہمیں زمین کے میگنیٹک فیلڈ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ہم اسی کی وجہ سے زمین پر حفاظت سے چل پھر رہے ہیں۔ تو اگر انسان نے مریخ پر رہنے کا پلان بنا ہی لیا ہے تو ان چاروں مسائل پر وہ کیسے قابو پائے گا؟ ان چاروں کا حل ہے ان دو چیزوں میں ۔ یہ سوٹس اور یہ اگلوز جیسے گھر، انسان کو ایٹماسفیرک پریشر، انتہائی سردی اور خطرناک ریڈیشنز سے بچائیں گے۔ اور آکسیجن پہنچائیں گے۔ اور انسان مریخ پر اس طرح کی بیسز اور پھر اس طرح کا شہر بسائے گا جس کے اندر زمین جیسا ایٹماسفئیر کرئیٹ کیا جائے گا، ایک مصنوعی ماحول بنایا جائے گا۔ یعنی تقریباً اتنی ہی آکسیجن اور سردی ان گلوز جیسے گھروں میں، اور ان سوٹس میں ہو گی جتنی انسان کو ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بیسز بھی اس طرح بنائی جائیں گی کہ ان میں ریڈیشنز اور مریخ پر موجود انتہائی خطرناک چھوٹے چھوٹے ذرات اندر نہیں آ سکیں گے۔ ان بیسز کو بنانے اور بچانے کے لیے سب سے اہم دو چیزیں مریخ پر پہلے سے ہی بہت بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ ایک جمی ہوئی، فروزن کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسرا سرخ مٹی کی موٹی تہہ۔ سو یہ سب تو کر دیا ان دو چیزوں نے۔ لیکن انسان وہاں کھائے گا کیا؟ مریخ پر تو کچھ اگانا ممکن ہی نہیں؟ تو اس کے لیے ایکواپونزک ٹکنیک استعمال کی جائے گی۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں مچھلیاں اور سبزیاں ایک خاص انداز میں ساتھ یوں رکھی جاتی ہیں۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں۔

اب ہوتا یہ ہے کہ مچھلیوں کی ویسٹ سے پودے فائدہ اٹھاتے ہیں اور مچھلیوں کا پانی پودے صاف کرتے ہیں۔ یوں یہ سائیکل چلتا رہتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ طریقہ اس وقت دنیا میں کئی جگہوں پر بھرپور استعمال ہو رہا ہے۔ مریخی انسان یہاں سے کھائے گا اور مریخ پر موجود برف کو پگھلا کرپانی پئے گا۔ یوں کھانے پینے کا بھی ایک حل نکالا جا چکا ہے۔ تو اب وہاں رہنے، کھانے اور پینے کے مسائل کا حل ہمارے پاس آ گیا۔ لیکن ابھی ایک اہم نفسیاتی مسئلہ باقی ہے وہ یہ کہ وہاں رہنے والے روز ایک سی شکلیں دیکھ دیکھ کراور ایک جیسے تجربات اور کام رپیٹ کر کر کے بور ہو جائیں گے،

ایک دوسرے کو زہر لگنے لگیں گے سب۔ اس سے نئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ جو مریخ پر پہلے راکٹ بھیجے جائیں گے وہ مریخ پر بھی ایک ایسی بیس تیار کریں گے جس سے مریخ سے زمین کی طرف ایک راکٹ لانچ کیا جا سکے، تا کہ انسان کو مریخ سے دوبارہ واپس زمین پر بھیجاجا سکے۔ ہر 2 سال بعد مریخ کی بستی سے لوگوں کو زمین پر واپس بھیجا جائے گا اور ان کی جگہ نئے لوگ مریخی بستی میں کام کریں گے۔ یوں بوریت کا ایک حل نکالا گیا ہے لیکن وہاں رہنے والوں کو ان 2 سال کے درمیان اگرکوئی مسلئہ درپیش آگیا تو ؟ وہ یہ کہ مریخ کی اس بستی کے ساتھ یہ مسلئہ رہے گا کیونکہ انہیں جو بھی مسلئہ درپیش ہوگا اس کی جو بھی مدد ملنا ہو گی وہ 2 سال کے وقفے سے ہی مل سکے گی۔

اتنی سلو ایمبولینس تو شاید کوئی نہ ہو، لیکن فی الحال مریخ پر یہی ممکن ہو گا۔ اگر یہاں رہنے والے انسانوں کو کوئی حادثہ یا ایمرجنسی پیش آ گئی تو اس کے لیے ایک سہولت ہے وہ صرف 8 منٹ میں زمین پر پیغام بھیج سکیں گے اور جواب بھی انھیں تقریباً 8 ہی منٹ میں آ جائے گا،بس یہ مدد۔۔۔ لیکن اصل مدد ہیومن ایڈ۔ اس کے لیے انھیں 2 سال انتظار کرنا ہو گا۔ اور اس ونڈو کا انتظار کرنا ہو گا جب مریخ زمین کے قریب ترین فاصلے پر آ جاتا ہے۔ اس کے بعد ایوریج 7 ماہ کا وقت ہے جو زمین سے مریخ پر جانے میں سپیس کرافٹ کو لگے گا۔

تو مریخی بستی پر مدد پہنچتے پہنچتے اگر وہ سروائیو کر گئے، بچ گئے تو ٹھیک ورنہ وہی ہو گا جیسا کہ احمد فراز کہہ چکے ہیں کہ اب بھی آئے ہو تو احسان تمہارا لیکن وہ قیامت جو گزرنی تھی گزر بھی گئی دوست تو خیریہ ڈر تو رہے گا لیکن اگر انسانیت کو بچانا ہے تو اتنا رسک ٹھیک ہےلے لینا چاہیے۔ آخر زمین کے علاوہ بھی تو انسان کو رہنے کی جگہیں تلاشنا چاہیں ناں۔ تو یہ تو تھے انسان کے مریخ پر جانے اور رہنے کے شارٹ ٹرم پلان۔ یعنی انسان مریخ پر اترتے ہی زندہ کیسےرہےاور کیاتجربات کیسے کرے اورکیسے بستی بنائے لیکن کیا انسان خلا میں ہمیشہ انھی بند سوٹوں اور ڈبوں میں رہے گا؟ نہیں۔

لانگ ٹرم پلان یہ ہے کہ مریخ کو زمین ہی کی طرح نیلا اور سرسبز بنا دیا جائے۔ کیونکہ ایسے پروفس ہیں کہ کبھی مریخ زمین جیسا یا اس سے بھی اچھا تھا۔ تو مریخ کو زمین جیسا یا اس سے اچھا بنانے کے لیے ہمیں بہت سی ایسی فیکٹریاں لگانا پڑے گی جو پیدا تو شاید کچھ نہ کریں لیکن آلودگی پھیلا پھیلا کر مریخ کے ماحول کو گرم کرتی رہیں گی۔ جیسا کہ ہم زمین کو گرم کر چکے ہیں۔ ہمیں اچھا خاصاً تجربہ ہو چکا ہے اس کاپھر ایک مصنوعی میگنیٹک فیلڈ پیدا کیا جائے گا، پھر مریخ پر موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بم مار مار کر یا کسی اور طریقے سے پگلایا جائے گا تا کہ اسے ہوا میں شامل کیا جاسکے۔

اس سارے پراسس کو ٹیرافارمنگ کہتے ہیں۔ اس پر بہت سے شکوک و شبہات ہیں اگر یہ پلان کامیابی سے چلا تو صرف چند سو یا ہزار سال میں مریخ زمین جیسا بن جائے گا۔ ہےناں بے حد بے پناہ ایمبیشیس پلان۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک مشن ایسا ہے جو مشن مارس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ مریخ پر انسانی بستی کا قیام انسانی تہذیب اور تاریخ کا شاید سب سے مشکل مشن ہے۔ اس سے مشکل صرف ایک مشن ہے جو زمین پر انسان کو درپیش رہا ہے اور وہ یہ کہ کیسے ایک دوسرے کو اور ایک دوسرے کے خیالات کو برداشت کیا جائے۔ کیسے ایک دوسرے کو قبول کر کے کُو ایگزسٹ کیا جائے؟

امن سے رہا جائے۔ ہو سکتا ہے ماریخ پر بستی بسانے کا مشن آج سے 5 ، 10سال بعد کامیاب ہو جائے، کوئی زیادہ دور کی بات تو نہیں اور پھر ہو سکتا ہے زمین پر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا خواب بھی ایک دن پورا ہو ہی جائے۔ مریخ پر ایک خواب کو زندہ چھوڑتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں۔۔۔ ہمیں کائنات کے سفر میں کہیں نہیں رکنا۔ ہمیں کائنات کے آخری معلوم مقام تک جانا ہے۔ اب ہمارے سامنے یہ خوبصورت سپیس کرافٹ جونو ہے جسے جلد از جلد اس گیس کے دیو کے پاس جانا ہے۔ یہ گیس کا دیو کیا ہے؟ اور یہ اس سپیس کرافٹ کو جونو کا نام ہی کیوں دیا گیا؟

آئیے اس کے ساتھ ساتھ جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، آخری یہ گیس کا دیو ایسا کیوں ہے کہ اس کی تہہ کا بلکہ اس کی سطح کاکوئی اتا پتا ہی نہیں۔۔۔ بہت ہی دلچسپ کہانی ہے یہ۔ ہزاروں سال پہلے انسان اسے کیا سمجھتے تھے آج اسے کیا سمجھا جاتا ہے اور کیوں؟ کون کون یہاں گیا ہے؟ کون کون جا رہا ہے؟ یہ زبردست تاریخی، الف لیلوی اور سائنسی کہانی بھی آپ کو دکھائیں گے لیکن کل کائنات کی اگلی قسط میں۔ اور ہاں ایک بات اور ہم نے اس قسط میں ایک بات بتائی کہ زمین سے کروڑوں کلومیٹر دور روبوٹس زمین پر کیسے تصاویر اور پیغامات بھیجتے ہیں۔ ہم نے آپ سے ڈیپ سپیس نیٹ ورک کا بھی ذکر کیا۔ یہ کیا ہوتا ہے اور کیسے کام کرتا ہے یہ جاننے کے لیے یونیورس سیریز کی قسط نمبر 2 ضرور دیکھیں۔ یہاں جانئیے کہ انسان چاند پر کیسے پہنچا اور یہ رہی وہ سچی کہانی جس میں انسان سورج کو چھونے کے لیے نکلا تھا اور یہ ابھی کل کی بات ہے۔

Read More :: History of Pakistan Read In Urdu Article And Watch Play History

Part 6:: Unforgettable Story of Spacecraft Urdu | ایک سیارہ جو سورج بننا چاہتا تھا، لیکن۔۔۔

▷❤▷❤ Watch Historical Series English Subtitles And Urdu Subtitles By Top20series

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: