The History Of Bengal Urdu Episode 1 | Nawab Siraj ud-Daulah’s Coronation

The History Of Bengal Urdu Episode 1 | Nawab Siraj ud-Daulah’s Coronation | نواب سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی

چودہ سو بانوے میں جب امریکہ کی دریافت عام ہوئی اور یورپی طاقتوں نے اسے اپنی کالونیز میں بانٹ لیا تو اس سے عالمی سطح پر طاقت کی ایک نئی گریٹ گیم شروع ہو گئی۔ یورپی طاقتوں نے دنیا بھر میں ایسے علاقے اور اقوام تلاش کرنا شروع کیں جہاں وہ قبضہ کر سکیں اور وہاں کی دولت سے اپنی ایمپائرز کو طاقتور بنائیں۔ اس فوجی اور تجارتی مقابلے کی لڑائی میں یورپ کی دوطاقتیں یعنی برطانیہ اور فرانس سب سے آگے تھیں۔ دنیا کے ہر دوسرے محاذ پر یہ دونوں طاقتیں ایک دوسرے کے گریبان تک پہنچی ہوئی تھیں۔

The History Of Bengal Urdu Episode 1 | Nawab Siraj ud-Daulah's Coronation

سترہ سو پچاس، سیونٹین ففٹیز کے عالمی نقشے کو دیکھیں تو آپ کو ان دونوں کی افواج ہر اہم جگہ پر لڑتی ہوئی نظر آئیں گی۔ امریکہ اور کینیڈا کے برف پوش پہاڑوں اور میدانوں میں دونوں ایک دوسرے سے کو نیچا دکھانے کے لیے بارود پھونک رہے تھے تو یہاں ہندوستان کے گرم میدانوں میں بھی ان کی تلواریں ٹکرا رہی تھیں۔ خاص طور پر ہندوستان کے سانولے بنگال کے سنہرے سونے پربھی دونوں یورپی طاقتوں کی لالچی نظریں ٹکی ہوئی تھیں۔ دونوں کے جاسوس بھی ایک دوسرے کے خلاف ہر علاقےمیں متحرک تھے انھی حالات میں سترہ سو پچپن کے قریب ایک نامعلوم شخص نے انگریزوں کو ایسی معلومات دیں جس نے آگے چل کر بنگال سے اس کی آزادی چھین لی۔

یہ معلومات کیا تھیں؟ نواب سراج الدولہ اور ان کے سپہ سالار جنرل میر جعفر کی وہ کہانی کیا تھی جو آج ایک استعارہ ہے سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی کی پہلی قسط میں آپ یہی سب جانے گے نومبر سترہ سو پچپن میں برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کو فرانس سے ایک نامعلوم شحص نے بہت اہم انٹیلی جنس فراہم کی۔ تاریخ میں گم شدہ یہ شخص نئی نئی ایجاد ہونے والی ٹیلی سکوپ سے کچھ شغل کر رہا تھا۔ یونہی دیکھتے دیکھتے اس نے فرانس کے دریائے ’’سکورف‘‘ کی طرف ٹیلی سکوپ کا رخ کیا تو وہاں اس کے لیے ایک غیر متوقع منظر تھا۔ اس نے دیکھا کہ دریائے سکورف کے قریب اسلحے سے لدی پھندی فرانسیسی فوج موجود ہے۔

یہ منظر دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ فوجی کسی مہم کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس گمنام ٹیلی سکوپ والے نے ان جہازوں میں بڑی تعداد میں اسلحہ اور توپوں بھی دیکھ لیں۔ یہ نظارہ اس کے لیے بہت دلچسپ تھا اسی لیے اس نے اس منظر کی جزیات تک جاننے کی کوشش کی۔۔۔ یعنی اس نے اندازہ لگایا کہ فوجیوں کی تعداد کیا ہے اور ساز و سامان کیا ہے اور کتنا ہے۔ اب دوستو یہاں تک تو سب ٹھیک تھا کہ اس نے اپنے کیورئیس مائنڈ کو تسکین دی۔ لیکن تاریخ کا دھارا اس وقت پلٹا جب یہ بظاہر سادہ سی معلومات ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھ لگیں اور سادہ نہیں رہیں۔

یہ دراصل سٹریٹیجک نوعت کی معلومات تھیں جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے بہت ہی اہم تھیں۔ یہ معلومات فرانس میں موجود اس نوجوان سے ایسٹ انڈیا کمپنی تک کیسے پہنچیں؟ ہم وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ٹیلی سکوپ والا یہ نوجوان تاریخ کے دھارے میں کہیں فراموش ہو چکا ہے۔ اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں اور کوئی کریڈیبل معلومات بھی ایسی نہیں کہ ہم اس راز کا پتہ چلا سکیں؟ بہرحال یہ انتہائی غیر معمولی معلومات تیرہ فروری سترہ سو چھپن کے دن لندن میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسران کے سامنے سب سے اہم موضوع تھا۔ لیڈن ہال سٹریٹ پر واقع اپنے ہیڈکوارٹر میں بیٹھے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹرز پریشان تھے اور تجسس سے رپورٹ پڑھ رہے تھے۔

انھیں لگتا تھا کہ فرانسیسی فوج برطانیہ کے خلاف کوئی نیا محاذ کھولنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کیونکہ جو معلومات اس گمشدہ شخص سے ملیں تھیں وہ کسی معمول کے سفر والی نہیں تھیں۔ بلکہ ڈائریکٹرز کو شک ہو رہا تھا کہ فرانسیسی فوج ہندوستان میں برطانوی مفادات کے خلاف کوئی بڑی کاروائی کرنے کی پلاننگ کر رہی ہے۔ پھر یہ کہ اگر یہ پلاننگ ہو رہی ہے تو فرانسیسی ہندوستان میں انگریزوں کے دو اہم ترین پوائنٹس میں سے کس پوائنٹ پر حملہ کرے گا؟ مدراس پر یا کلکتہ؟ یہ بھی انگریزوں کو سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اب دیکھئے کہ فرانس کا ایک گورنر جنرل جوزف ڈوپلیکس ہندوستان کے جنوبی علاقوں کا نگران تھا اور وہ انگریزوں کو ہندوستان سے بھگا دینا چاہتا ہے۔

کمپنی بہادر اس فرانسیسی گورنر سے پریشان بہرحال رہتی تھی۔ کیونکہ صرف دس سال پہلے سترہ سو چھالیس میں یہی فرانسیسی گورنر انگریز فوج کو جنوبی ہندوستان کے علاقے مدراس میں دھول چٹا چکا تھا۔ اس گورنر کی قیادت میں فرانسیسی فوج نے قریب قریب مدراس سے انگریزوں کا صفایا کر دیا تھا کیونکہ صرف ایک قلعے کے سوا مدراس میں انگریزوں کے پاس کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ یہ قبضہ واپس لینے کے لیے انگریزوں کو بہت بھاری قیمت فرانیسیوں کو ادا کرنا پڑی تھی۔ یعنی مدراس واپس لینے کے لیے انگریزوں نے کینیڈا کا ایک علاقہ “لیوس برگ” انہیں دے دیا تھا۔

سو یہ تاریخ کمپنی بہادر کے ڈائریکٹرز کو یاد تھی اس لیے وہ اس گورنر سے خوفزدہ تھے اور پریشان بھی تھے۔ اس کے بعد کلکتہ کو دیکھئے کہ وہ بھی انگریزوں کے لیے مرکز کا درجہ رکھتا تھا۔ یہیں انگریزوں کا ہندوستان میں اہم ترین قلعہ ’’فورٹ ویلیم‘‘ تھا۔ یہ قلعہ سولہ سو چھیانوے میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی اجازت سے تعمیر کیا تھا، لیکن ۔۔۔ تجارت کی غرض سے۔ جنگی مقاصد کے لیے نہیں۔ مگر اب نصف صدی کے بعد یہی تجارتی قلعہ ان کی طاقت اور ہندوستان ہر قبضے کا مرکز بنتا جا رہا تھا۔

یہیں انگریز گورنر ’’روجر ڈریک‘‘ انچارج تھے اور کمپنی بہادر کا یعنی انگریزوں کا کاروبار چلاتے تھے۔ سو انگریز ان دونوں شہروں کو مدراس اور کلکتہ کو بچانے کے لیے پریشان تھے لیکن سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ فرانیسی حملہ کہاں سے کریں گے۔ اسی کشمکس میں انھوں نے طے کیا کہ وہ اس دوربین والے کی انٹیلی جنس کو سنجیدگی سے لیں گے اور چاہے کچھ کرنا پڑے وہ فرانسیسیوں سے اس بار کوئی ہزیمت نہیں اٹھائیں گے۔

چنانچہ کمپنی کے ڈائریکٹرز نے لندن سے ہندوستان میں، یعنی بنگال کے قلعے، فورٹ ویلیم میں اپنے گورنر “روجر ڈریک” کو اطلاع بھیجی۔ انھیں بتایا گیا کہ فرانس کی طرف سے حملے کا خدشہ ہے سو جنگ کی مکمل تیاری رکھی جائے کسی بھی وقت، کسی بھی طرف سے فرانسیسی فوج اچانک حملہ کر سکتی ہے۔ انگریز گورنر کو یہ انٹیلی جنس بھی دی گئی کہ ’’فرانسیسی کمپنی کے گیارہ جہازوں کابیڑا تین ہزار فوجیوں کو لے کر روانہ ہوچکا ہے اور عین ممکن ہے کہ اس بیڑے کی منزل جنوب مشرقی ساحل یا پھر بنگال ہو۔ روجر ڈریک کو یہ ہدایت بھی کی گئی کہ وہ اپنے “نبوب” یعنی بنگال کے نواب علی وردی خان سے بھی رابطہ کریں

اور ان سے کہیں کہ بنگال میں انگریزوں اور فرانسیسوں کے درمیان متوقع جنگ رکوانے کی کوشش کریں اور اگر کوئی تنازعہ ہو جائے تو وہ کسی ایک گروپ کا ساتھ نہ دیں کیونکہ اسی میں ان کا فائدہ بھی ہے۔ اس کے بعد دوستو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے سب سے اہم مرکز کلکتہ میں اپنی حفاظت کے لیے انتظامات کرنا شروع کر دئیے۔ یہاں ان کے پاس پہلے سے فوج اور اسلحہ موجود تھا لیکن اب مزید انچاس توپیں کلکتہ منگوا لی گئیں۔ گورنر روجر ڈریک نے کلکتہ کی حفاظت کے لیے گرداگرد قلعہ بندی یعنی اونچی دیواریں تعمیر کرنے کا حکم بھی دے دیا۔

اب یہ وہ کام تھا قلعہ بندی کا جس کی بنگال کے نواب اجازت دینے کو تیار نہیں تھے کیونکہ قلعہ بندی کی تعمیر باہمی معاہدے کی خلاف بات تھی۔ چنانچہ اس پر بنگال کے نواب علی وردی نے شدید اعتراض کیا اور انگریزوں کو خبردار کیا کہ وہ ایسی تعمیرات نہ کریں جو جنگ کی غرض سے کی جاتی ہیں۔ دوستو یہ وہ موقع تھا جب انگریزوں اور برصغیر کی سب سے امیر ریاست بنگال کے نواب میں کھٹ پٹ شروع ہو گئی۔ وہ کھٹ پٹ جس نے ہندوستان کی تاریخ بدل دی۔ اور یہ اِس کہانی کا وہ موڑ ہے جس کے سب سے اہم کھلاڑی نواب علی وردی ہیں۔

مائی کیورئیس فیلوز نواب علی وردی کون تھے؟ دراصل سترہ سو چالیس کی دہائی، یعنی سیون ٹین فورٹیز میں جب مرہٹوں نے دہلی پر لشکر کشی کی اور مغل سلطنت کمزور ہو گئی تو نواب علی وردی نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے بنگال کو مغل سلطنت سے الگ کر لیا۔ انہوں نے دہلی میں مغل دربار کو سالانہ محصولات بھجینا بھی بند کر دیے جو وہ اس سے پہلے مغلوں کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے بھیجا کرتے تھے۔ نواب علی وردی کے دور میں کلکتہ سے دو سو کلومیٹر دور ’’مرشد آباد‘‘ بنگال کا دارالحکومت تھا۔

یہ اس وقت کا بہت ہی اہم شہر تھا ٹکسٹائیل کی صنعت کا بہت بڑا مرکز تھا اس کی آبادی تب کے لندن سے بھی زیادہ تھی۔ تو اسی مرشد آباد میں نواب علی وردی دربار لگاتے تھے اور دم توڑتی مغل سلطنت کے سب سے امیر صوبے بنگال پر راج کرتے تھے۔ لیکن یہ راج انھیں ورثے میں نہیں ملا تھا۔ انھوں نے بنگال کا تخت سابق حکمران شجاع الدین محمد خان کے جانشینوں سے بغاوت کر کے چھینا تھا۔ جبکہ نواب شجاع الدین کی زندگی میں نواب علی وردی ان کے ساتھی بھی رہ چکےتھے۔ لیکن اس کامیاب بغاوت کے پیچھے ان کے ساتھ بنگال کی اسٹیبلمشنٹ بھی تھی۔

اب یہ کیا تھی؟ دراصل بغاوت کےلئے علی وردی کو بنگال کے جگت سیٹھ بینکرز نے بھر پورمدد فراہم کی تھی۔ جگت سیٹھ ایک ہندو ساہوکار خاندان تھا جس کے پاس ایک اندازے کے مطابق لندن کے بینکرز سے بھی زیادہ دولت تھی۔ یہ خاندان محلاتی اور درباری سازشوں میں پیش پیش رہتا تھا اور بڑی دولت خرچ کر کے اپنی مرضی کے لوگوں کو اقتدار میں لاتا تھا۔ بنگال میں اس خاندان کی مرضی یا ان کی حمایت کے بغیر کسی کا حکومت کرنا یا پرسکون حکومت کرنا ناممکن تھا۔ یہ خاندان اپنی پسند کے لوگوں کو اقتدار میں لا کر پھر ان سے مالی فائدے حاصل کرتا تھا۔

اور اس کے لیے یوہ بدنام تھا۔ علی وردی کو بھی یہی لوگ اقتدار میں لائے تھے تاکہ معاشی فائدے اٹھا سکیں۔ آپ اس خاندان کو اٹھارہویں صدی، ایٹینتھ سنچری کے بنگال کی اسٹیبلشمنٹ بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ساتھیو نواب علی وردی کو اقتدار بھلے ہی بغاوت کے نتیجے میں ملا تھا لیکن انھوں نے خود کو ایک قابل حکمران ثابت کیا۔ انہوں نے اپنے دور میں بنگال کو درپیش چیلنجز کا فاتحانہ مقابلہ کیا۔ اس وقت ہندوستان میں سب سے بڑی اور طاقتور ایمپائر مرہٹوں کی سلطنت تھی۔ یہ طاقتور مرہٹہ سلطنت، بنگال کے ہمسائے میں تھی۔ مرہٹوں کے لشکر آئے روز بنگالی علاقوں پر ٹوٹے پڑتے تھے۔

جن کو روکنے کے لئے بھرپور طاقت چاہیے ہوتی تھی۔ پھر آپ جانتے ہیں کہ انگریز اور دوسری یورپی قومیں بھی بنگال میں اپنے تجارتی مراکز قائم کر کے اپنی طاقت بڑھا رہی تھیں۔ نواب علی وردی نے بنگال کو درپیش ان تمام خطرات کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ انہوں نے پہلے تو دہلی کے مغل دربار سے خود کو الگ کیا اور بنگال کو ایک خودمختار ریاست بنایا۔ پھر انہوں نے مرہٹوں کے خطرے پر توجہ دی۔ شروع میں تو انہوں نے مرہٹوں کا میدان جنگ میں مقابلہ کیا اور انہیں کسی حد تک روکا بھی لیکن وہ دیکھ رہے تھے کہ مرہٹوں کو فیصلہ کن شکست دینا ممکن نہیں۔

چنانچہ انھوں نے ایک معاہدے کے تحت اڑیسہ کا صوبہ اور ایک طے شدہ خراج مرہٹوں کو دے کر طاقتور ہمسایہ سلطنت سے امن قائم کر لیا۔ اس کے بعد انہوں نے انگریزوں، فرانسیسیوں اور پرتگالیوں سمیت تمام کاروباری اقوام کو بنگال میں پرامن رہتے ہوئے تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دے دی۔ یوں انہوں نے ڈپلومیسی اور معاہدوں کے ذریعے بنگال کو محفوظ ریاست بنا لیا۔ علی وردی نے سترہ سو چالیس سے سترہ سو چھپن تک تقریباً سولہ برس بنگال پر حکومت کی۔ ان کے دور میں بنگال اتنا خوشحال ہو گیا تھا کہ دیکھنے والے رشک کرتے تھے۔

خاص طور پر علی وردی کے دورِ حکومت کے آخری سالوں کو’’سنہرا دور‘‘ گولڈن ایرا آف بنگال بھی کہا جاتا تھا۔ بنگال کی خوشحالی کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ دنیا بھر میں بنگالی پراڈکٹس کی مانگ بڑھ گئی تھی۔ دس لاکھ سے زائد مزدوروں کا روزگار ٹیکسٹائل انڈسٹری سے جڑا ہوا تھا۔ بنگال سے گنے اور افیون کی ایکسپورٹ بھی بڑے پیمانے پر ہوتی تھی۔ کیونکہ افیون ان دنوں غیر قانونی نہیں تھی۔ بنگال کی اس خوشحالی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ علی وردی خان نے بنگال کے گلی محلوں سے لے کر سرحدوں تک امن قائم کردیا تھا۔

علی وردی کے دور میں ہی ایک انگریز نے لکھا تھا کہ بنگال میں امن کا یہ عالم ہے کہ ایک تاجر سونے ،چاندی اور جواہرات بنگال کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بغیر کسی خطرے کے صرف دو، تین خدمتگاروں کی مدد سے پہنچا سکتے ہیں۔ جس وقت کی ہم بات کر رہے ہیں ان دنوں، یعنی سترہ سو پچاس کی دہائی میں بنگال کے مقابلے میں باقی پورے برصغیر میں جنگ و جدل اور لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ نواب علی وردی کے بنگال پر قبضے سے صرف ایک برس پہلے ایران کے حکمران نادر شاہ ایرانی نے دہلی پر قبضہ کیا اور اسے اجاڑ کر رکھ دیا۔

نادر شاہ ایرانی نے دہلی کو اس بری طرح سے لوٹا کہ مغل دربار کی شان و شوکت خاک میں مل گئی۔ نادر شاہ کے لشکر نے دہلی کو ایسا اجاڑا کہ پھر وہ پہلی بہار دوبارہ دیکھنے کو نہیں ملی۔ مزید نقصان یہ ہوا کہ مغل دربار سے وابستہ بہت سے فوجی افسران اور فنکار مستقبل سے مایوس ہو کر بنگال چلے آئے کیونکہ یہاں امن تھا۔ یہ فنکار اور جہاندیدہ لوگ علی وردی کے درباریوں میں شامل ہو گئے۔ نواب نے ان لوگوں کو کھلے بازؤں سے خوش آمدید کہا اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر بنگال کی شان و شوکت میں اور بھی اضافہ کیا۔

دوستو جہاں نواب علی وردی کے دور میں بنگال ترقی کی منازل طے کر رہا تھا وہیں ایک اور ڈویلپمنٹ بھی ہو رہی تھی۔ وہ ڈویلپمنٹ یہ تھی کہ یورپی کمپنیاں تیزی سے بنگال میں قدم جماتی جا رہی تھیں۔ ہم نے ویڈیو کے شروع میں آپ کو دکھایا ہے کہ کلکتہ میں انگریزوں کا اہم ترین قلعہ فورٹ ولیم قائم تھا۔ اس کے علاوہ فرانس سمیت کئی دیگر یورپی ممالک کی کمپنیوں نے بھی تجارت کے نام پر بنگال کے ساحلی علاقوں میں اپنے قلعے اور چوکیاں وغیرہ قائم کر رکھی تھیں۔ بنگال کے دارالحکومت مرشد آباد کے قریب قاسم بازار کے علاقے میں بھی ان کی فیکٹریاں قائم تھیں۔

لیکن پھر بھی یہ کمپنیز اس وقت تک اتنی طاقتور نہیں تھیں کہ وہ بنگال کے نواب کو چیلنج کر سکیں۔ یا ان کا مقابلہ کر سکیں۔ اس لئے یہ کمپنیاں اپنے تحفظ کیلئےعلی وردی کو بھاری ٹیکس دیتی تھیں۔ ٹیکس کی اس رقم کو نواب آف بنگال اپنی فوجی طاقت بڑھانے کے لیے خرچ کرتے تھے۔ مگر کہیں اندر ہی اندر نواب علی وردی کو اس بات کا احساس بہرحال تھا کہ یہ یورپین کمپنیز کسی وقت ان کے اقتدار کیلئے خطرہ بھی بن سکتی ہیں۔ اس لئے وہ جان بوجھ کر ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے تھے کہ کہیں یہ اپنی دولت کے ذریعے ان کے خلاف سازشیں نہ شروع کر دیں۔ یہ بات انھوں نے اپنے ایک فوجی کمانڈر سے بھی کہی تھی۔

انھوں نے کہا تھا کہ یورپی اقوام کی مثال شہد کی مکھیوں کی سی ہے۔ آپ ان کے چھتوں سے جتنا چاہیں شہد نچوڑ لیں، لیکن انہیں تنگ نہ کریں۔ کیونکہ اگر آپ نے انھیں تنگ کیا تو یہ شہد کی مکھیاں بھنبھناتی ہوئی موت بن کر آپ کی دہلیز تک آئیں گی۔ دوستو جس جنرل کو نواب علی وردی یہ مشورہ دے رہے تھے وہ ترقی کرتے ہوئے بنگال کے سپہ سالار کے عہدے تک پہنچے۔ بنگال کے اس جنرل کا نام سید میر جعفر تھا۔ جنرل میر جعفر خاندانی طور پر بنگالی نہیں تھے ان کا خاندان عرب خطے سے آ کر بنگال میں آباد ہوا تھا۔

سترہ سو چھپن، سیونٹین ففٹی سکس کا دور وہ وقت تھا جب نواب علی وردی کی عمر ستر برس ہو چکی تھی۔ انھیں اپنی موت اور اپنی سلطنت کے استحکام کی فکر ہر وقت دامن گیر رہتی تھی۔ وہ اپنی زندگی میں کسی طاقتور شخص کو اپنا جانشین مقرر کردینا چاہتے تھے۔ یہ جانشین ان کی نظر میں ان کے نواسے سراج الدولہ تھے۔ انہیں اپنا جانشین بنانے کی وجہ یہ تھی کہ نواب علی وردی کا اپنا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ ان کی تین بیٹیاں تھیں اور ان بیٹیوں کے بچوں میں سے بھی صرف ایک ہی لڑکا سراج الدولہ نوجوان تھا۔ اس لئے انہیں اپنا جانشین بنانا نواب علی وردی کی مجبوری بھی تھی۔

دوستو سراج الدولہ، علی وردی کی بیٹی امینہ بیگم کے بیٹے تھے اور اپنے نانا علی وردی کے بہت لاڈلے تھے۔ سراج الدولہ کے والد زین الدین احمد خان بنگال کے صوبہ عظیم آباد جو کہ اب پٹنہ کہلاتا ہے اس کے گورنر تھے۔ سراج الدولہ سترہ سو تینتیس، سیونٹین تھرٹی تھری میں مرشد آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ جب ان کے نانا علی وردی نے اپنے نواسے کو پہلی بار دیکھا تو فرط محبت سے بے خود ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ اکثر ننھے نواسے کو اپنے قریب رکھا کرتے تھے۔ جب سراج الدولہ کچھ بڑے ہوئے تو علی وردی انہیں اپنے ساتھ جنگوں میں بھی لے جانے لگے۔

مرہٹوں کے خلاف کئی معرکوں میں سراج الدولہ اپنے نانا کے شانہ بشانہ لڑے تھے۔ ایک مرتبہ تو علی وردی نے مرہٹوں کے خلاف ایک فوجی مہم میں سراج الدولہ کو کمانڈر بنا کر بھی بھیجا۔ سراج الدولہ نے مرہٹوں کو شکست دے کر انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ ایک مرتبہ مرہٹوں سے لڑائی کے دوران بنگالی فوج کے افغان افسر اپنے ایک سردار کے قتل کی وجہ سے نواب علی وردی سے ناراض ہو گئے۔ اس پر علی وردی نے سراج الدولہ کو اپنے ساتھ لیا اور افغان سپہ سالار کے خیمے میں پہنچ گئے۔

انہوں نے افغان سپہ سالار سے کہا کہ اگر وہ اپنے سردار کی موت کا بدلہ لینا چاہتے ہیں تو علی وردی اور سراج الدولہ کو بے شک قتل کر دیں۔ لیکن اگر وہ افغان سردار دل سے علی وردی کے ساتھ ہیں تو پھر مرہٹوں کا مقابلہ کریں۔ سپہ سالار نے علی وردی اور سراج الدولہ کو معاف کر دیا اور مرہٹوں سے جم کر لڑائی کی۔ اس لڑائی میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سراج الدولہ اور علی وردی اپنے لشکر سے کٹ کر دشمن کے گھیرے میں آ گئے۔ لیکن اس موقع پر نواب علی وردی کی فوج کے دو ہاتھی جو اتفاق سے ان کے قریب ہی کھڑے تھے، بپھر گئے۔ جس سے مرہٹوں کے کئی سپاہی ان بدمست ہاتھیوں کے قدموں تلے آ گئے اور کچلے گئے اور جو باقی بچے وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔

دشمن تو کچلا گیا لیکن علی وردی اور سراج الدولہ اس افراتفری میں حیران کن طور پرمحفوظ رہے اور بنگالی فوج کا پلہ ایک بار پھر بھاری ہو گیا۔ دوستو یہ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ سراج الدولہ شروع سے ہی نواب علی وردی کے زیرِ تربیت تھے اور مشکل وقت میں نانا کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ نواب علی وردی کو ان پر بے پناہ اعتماد تھا اور انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سراج الدولہ کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ سراج الدولہ کی جانشینی کا باقاعدہ اعلان سترہ سو باون میں کر دیا گیا تھا جب ان کی عمر محض انیس یا بیس برس تھی۔

ہسٹورین محمد عمر کے مطابق علی وردی نے اپنی نگرانی میں انہیں تمام حکومتی اختیارات سونپ دیئے تھے جس کے بعد علی وردی کی موت تک نظامِ حکومت وہی چلاتے رہے۔ یعنی حکومت چلانے کا جو تجربہ انہیں حاصل ہوا وہ نواب علی وردی کی زیر سرپرستی حاصل ہوا۔ تو دوستو جب سراج الدولہ جانشین بنے تو نواب علی وردی موت کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔ اپنی آخری عمر میں ان کا پورا دن دو کاموں میں گزرتا تھا یا تو وہ مرغوں کی لڑائی دیکھتے یا پھر سراج الدولہ کو حکومت کرنے کے گُر سکھاتے رہتے۔ وہ سراج الدولہ کو سمجھاتے تھے کہ حکومت کرنے کیلئے مفاہمت ہی بہترین راستہ ہے۔

لڑائی جھگڑوں سے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے تو حکومت کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ جب نواب علی وردی خان اپنے نواسے کو حکومت کرنے کے گُر سکھا رہے تھے تو اسی وقت بنگال میں موجود یورپی طاقتوں نے اپنی پاور گیمز شروع کر دی تھیں۔ بنگال میں موجود انگریز افسر سراج الدولہ سے خوش نہیں تھے کیونکہ سراج الدولہ بھی اپنے نانا علی وردی کی طرح انگریزوں کی قلعہ بندیوں اور حفاظتی انتظامات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ وہ بھی سمجھتے کہ بنگال میں انگریزوں کی بڑھتی ہوئی طاقت ان کے اقتدار کیلئے خطرہ ہو سکتی ہے۔

یہی وجہ تھی کہ انگریزوں کا خیال تھا کہ سراج الدولہ اقتدار میں آ گئے تو یہ انگریزوں کیلئے خطرے کی گھنٹی ہو گی۔ اب انگریزوں کی پہلی ترجیح یہ تھی کہ علی وردی کے انتقال کے بعد کسی طرح سراج الدولہ کو حکمران بننے سے روکا جائے۔ اس کیلئے انہیں سراج الدولہ کے متبادل کی تلاش تھی۔ ایسا ایک متبادل موجود تو تھا لیکن یہ متبادل۔۔۔ جنرل میر جعفر ہرگز نہیں تھے بلکہ یہ تھے نواب علی وردی کے داماد نوازش خان۔ اسی لیے انگریزوں نے نوازش علی خان سے رابطے کئے اور انہیں اکسایا کہ وہ علی وردی کے انتقال کے بعد حکومت پر قبضہ کر لیں۔

انگریز افسروں کو یقین تھا کہ سراج الدولہ کی عوام میں بری شہرت کی وجہ سے ان کے نواب آف بنگال بننے میں رکاوٹ پیدا تو ہو گی۔ اسے اب استعمال کرنے کا وہ سوچ رہے تھے۔ اب ایک طرف انگریز نوازش علی کو سپورٹ کر رہے تھے تو دوسری طرف دوستو انگریزوں کے دشمن فرانسیسی سراج الدولہ کو ہی نواب آف بنگال بنتا دیکھنا چاہتے تھے۔ فرانسیسی افسران سراج الدولہ کی جی حضوری اور خوشامد کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ اس دور میں فرانس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’’سراج الدولہ کا جھکاؤ ہماری جانب ہے۔ انھیں خوش رکھنے میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔

تو دوستو جب بنگال کے اسٹیج پر انگریزوں اور فرانسیسیوں کی سرد جنگ جاری تھی انھی دنوں ان دونوں کے درمیان امریکہ اور کینیڈا میں باقاعدہ جنگ چھڑ چکی تھی۔ انھی حالات میں نو اپریل سترہ سو چھپن کو نواب آف بنگال علی وردی کا انتقال ہو گیا۔ بنگال میں نئے تخت کے وارث کی جنگ میں انگریزوں کے ممکنہ اتحادی نوازش علی خان ناکام ہوئے اور چوبیس سالہ سراج الدولہ جو فرانسیسیوں کے قریب تھے انگریزوں سے دور تھے وہ تخت نشین ہو گئے۔ اس تخت پر جو برصغیر کی سب سے امیر ریاست کی مسند تھی۔

نوجوان سراج الدولہ نے حکومت سنبھالتے ہی اپنے مخالفین کو تیزی سے کچلنے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ اس دور میں ہر نئے حکمران کے بنتے ہی کچھ بغاوتیں علاقوں میں سر اٹھایا کرتی تھیں جہیں کچلنا فوری طور پر ضروری ہوتا تھا۔ تو اپریل میں انہیں حکومت ملی اور اگلے ہی ماہ مئی میں وہ اپنے ہزاروں سپاہیوں اور پانچ سو ہاتھیوں کو لے کر اپنے ایک باغی کزن کے مقابلے پر روانہ ہو گئے۔ لیکن وہ اس وقت منزل پر نہیں پہنچ سکے کیونکہ راستے میں ایک ایسا واقعہ ہو گیا جس نے سراج الدولہ کو ہندوستان دونوں کی تاریخ کا ناقابل فراموش کردار بنا دیا۔۔

اس مہم کے دوران سراج الدولہ کی ملاقات ان کے نانا علی وردی کے قریبی ساتھی نارائن سنگھ سے ہوئی۔ نارائن سنگھ کلکتہ سے واپس آ رہے تھے۔ انہوں نے سراج الدولہ کو بتایا کہ کلکتہ میں فورٹ ولیم کے گورنر ڈریک نے اسے بہت بے عزت کر کے شہر سے نکال دیا ہے۔ انہوں نے نواب سراج الدولہ کو اکسایا کہ انگریز ان کے سفیروں کو بدنام کر رہے ہیں بے عزت کر رہے ہیں اس لئے ان سے بدلہ لیا جائے۔ نواب سراج الدولہ کا نوجوان خون یہ باتیں سن کر کھول اٹھا۔

چنانچہ انہوں نے اپنے کزن سے لڑائی کو کچھ وقت کیلئے ٹال دیا اور پھر فوج لے کر قاسم بازار کی طرف چل پڑے جو ان کے دارالحکومت مرشد آباد کے قریب ہی تھا۔ یہاں یورپی تاجروں کی فیکٹریاں اور تجارتی مراکز تھے لیکن اس علاقے میں انگریزوں کی بھی ایک بہت بڑی فیکٹری تھی۔ سراج الدولہ نے فیکٹری کا محاصرہ کر کے گولہ باری شروع کر دی۔ کچھ روز یہ گولا باری جاری رہی جس کے بعد انگریزوں نے نواب سراج الدولہ کے سامنے سرنڈر کر دیا۔

فیکٹری کا سربراہ ولیم واٹس ہتھیار ڈالنے کیلئے خود سراج الدولہ کے سامنے گیا اور ان کے قدموں میں گر کر کہنے لگا تمہارا غلام تمہارا غلام۔ کہا جاتا ہے کہ سراج الدولہ نے ولیم واٹس کو برا بھلا کہا اور فیکٹری میں موجود انگریزوں کو گرفتار کر کے ان کی پشتوں پر کوڑے لگوائے۔ پھر انھوں نے انگریزوں کا اسلحہ اور توپیں وغیرہ قبضے میں لےکر انہیں جانے دیا۔ انگریزوں کے خلاف کامیابی نے سراج الدولہ کا اعتماد بہت بڑھا دیا۔ اب انہوں نے کلکتہ پر توجہ دی اور وہاں انگریز گورنر روجر ڈریک کو پیغام بھیجا کہ اگر انگریزوں نے میرے ملک میں رہنا ہے تو انہیں اپنے قلعے گرانا ہوں گے اور انگریزوں کو صرف تاجر بن کر رہنا ہو گا فوجی بن کر نہیں۔

انہیں نے خبردار کیا کہ اگر انگریزوں نے ان کا حکم نہ مانا تو وہ انہیں اپنے علاقوں سے نکال باہر کریں گے۔ گونر روجر ڈریک کو یہ پیغام ملا لیکن انہوں نے اس پیغام کا جواب دینے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی حالانکہ وہ نواب سراج الدولہ کی فوجی طاقت سے اچھی طرح واقف تھے وہ یہ جانتے تھے کہ نواب سراج الدولہ غصے میں ہیں اورقاسم بازار میں انگریزوں کی فیکٹری پر قبضہ بھی کر چکے ہیں۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی انہوں نے نواب سراج الدولہ کے پغام کو کوئی اہمیت نہیں دی۔

۔ اب نواب سراج الدولہ تو ایسے سلوک کی بلکل توقع نہیں کر رہے تھے۔ روجرڈریک کے نظرانداز کرنے پر وہ بہت زیادہ برہم ہوئے اور انہوں نے ستر ہزار فوج کے ساتھ کلکتہ پر چڑھائی کر دی۔ روجر ڈریک کے پاس محض پانچ سو سپاہی تھے جو نواب کے بڑے لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ جب سراج الدولہ کی فوج نے کلکتہ پر بمباری شروع کی تو روجر ڈریک اپنے افسروں اور ان کے اہل خانے کے ساتھ دریائے ہگلی کے راستے فرار ہو گئے۔

کلکتہ کے مرکزی قلعے فورٹ ویلیم میں موجود انگریز سپاہیوں نے چند روز مقابلہ کیا لیکن سراج الدولہ کی فوج نے بمباری کر کے قلعے کو شدید نقصان پہنچایا۔ جب انگریزوں کا گولہ بارود ختم ہو گیا اور ان کے ہندوستانی سپاہی اور ملازم بھی انہیں چھوڑ کر بھاگ گئے تو انہون نے ہتھیار ڈال دیئے۔ کلکتہ پر اب نواب سراج الدولہ کا قبضہ ہو چکا تھا۔ قلعے کو محفوظ کر لینے کے بعد کلکتہ کی حدود میں موجود تمام آبادیوں کو بھیا نہوں نے اپنے قبضے میں لے لیا

اسی شام نواب سراج الدولہ نے فورٹ ولیم کے اندر اپنا دربار لگایا اور کلکتہ کا نام بدل کر علی نگر رکھ دیا۔ لیکن فتح کی رات ایک ایسا واقعہ ہوا جسے برطانیہ میں ایک خوفناک مثال کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ یہ واقعہ کیا تھا؟ انگریزوں نے اس شکست کا بدلہ لینے کے لیے جب حملہ کیا تو کیا ہوا؟ لارڈ کلائیو کون تھا اور انہوں نے نواب سراج الدولہ کو کیا دھمکی دی تھی؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی کی دوسری قسط میں دوستو یہ کہانی وہ داستان ہے جو ہندوستان کی تاریخ کا اہم ترین مائل سٹون ہے۔ اسے ضرور دیکھئے

Read More :: Urdu Islamic Books Pdf And Online Read – Pakistanwap

Part 2 :: The History Of Bengal Urdu Episode 2 | Black Hole Of Calcutta and Lord Clive

▷❤▷❤ Watch Historical Series English Subtitles And Urdu Subtitles By Top20series

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: