The Story of Bengal Series Dekho Suno Jano ( Faisal Warraich) Urdu

The History Of Bengal Urdu Episode 4 | Siraj-ud-Daulah’s Last Stand in Plassey

The History Of Bengal Urdu Episode 4 | Siraj-ud-Daulah’s Last Stand in Plassey | نواب سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی

یہ چار جون سترہ سو ستاون، سیونٹین ففٹی سیون کا دن تھا۔ بنگال کے دارالحکومت مرشد آباد میں کچھ لوگ ایک پالکی اٹھائے جا رہے تھے جس کے دروازے پردوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔ دیکھنے والے سمجھ رہے تھے کہ یقیناً یہ کسی امیر گھرانے کی پردہ دار مسلمان خاتون جا رہی ہیں چنانچہ لوگ احتراماً راستہ چھوڑتے جاتے تھے۔ پھر پالکی اٹھانے والوں نے میر جعفر کے گھر کے دروازے پر اس پالکی کو اتار دیا۔ پالکی کا پردہ ہٹا اور اس میں بیٹھا ایک انگریز لوگوں کی نظر بچا کر گھر میں داخل ہو گیا۔ گھر کے اندر میر جعفر اور ان کے بیٹے میر میرن موجود تھے جو کچھ گھبرائے ہوئے سے تھے لیکن آنے والے مہمان کو پہنچان کر ان کی جان میں جان آئی۔

PAkistanwap.pk

انگریز کے پاس کچھ کاغذات تھے جس پر اس نے میر جعفر اور میر میرن کے دستخط لئے۔ جب دستخط ہو گئے تو اس انگریز نے ایک عجیب فرمائش کی اس نے کہا قرآن پاک منگوائیے۔ میر جعفر نے قرآنِ پاک منگوایا اور انگریز نے کہا اب اس پر ہاتھ رکھ کر کہیے کہ آپ ان کاغذات میں جو معاہدہ لکھا ہے اس پر عمل کریں گے۔ میر جعفر نے بلاتردد قرانِ مجید پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا میں اس معاہدے کی پاسداری کروں گا۔ اس معاہدے میں کیا لکھا تھا؟ تاریخ کی عجیب و غریب سکرپٹڈ جنگ کیسے لڑی گئی؟

نواب سراج الدولہ کا آخری وفادار جنرل کون تھا؟ منی سیریز سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی کی چوتھی قسط میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گے۔ دوستو بنگال میں تین طاقتور لوگ تھے جو نواب سراج الدولہ کو ہٹا کر ان کی جگہ اپنی مرضی کی حکومت چاہتے تھے۔ ایک تو تھے لارڈ کلائیو جنہوں نے سراج الدولہ سے کلکتہ کا علاقہ واپس چھینا تھا۔ وہ سراج الدولہ کو انگریزوں کا دشمن سمجھتے تھے اور ان کی جگہ کسی ایسے حکمران کو لانا چاہتے تھے جو انگریزوں کا ہر حکم بلا چوں چرا مانے یعنی ایک ایسا ڈمی نواب جو قابض انگریزوں کے مفادات کو نقصان نہ پہنچائے، باقی وہ جو چاہے کرتا پھرے۔

دوسرے طاقتور شخص تھے میر جعفر جو نواب سراج الدولہ کے سپہ سالار تھے انہیں نواب سے یہ شکایت تھی کہ انہوں نے میر جعفر کو نظرانداز کر کے راجہ مانک چند کو کلکتہ کا گورنر بنایا تھا۔ نوجوانی میں میر جعفر کے ساتھ سراج الدولہ کا رویہ بھی بڑا سخت رہ چکا تھا پھر دونوں کے تجربے اور عمر میں فرق بھی زمین آسمان کا تھا۔ سو یہ میر جعفر بھی نواب سراج الدولہ کا تختہ الٹ کر ان کی جگہ خود حکمران بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ طاقت کے اس کھیل کا دوستو تیسرا بڑا کھلاڑی تھا مہتاب رائے جگت سیٹھ خاندان کا سربراہ مہتاب رائے۔ آپ جانتے ہیں کہ نواب سراج الدولہ نے ایک فوجی مہم کیلئے مہتاب رائے یعنی جگت سیٹھ سے تین کروڑ روپے مانگے تھے۔

لیکن جب انہیں یہ رقم نہیں ملی تو انہوں نے جگت سیٹھ کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اسی طرح انہوں نے ایک موقع پر جگت سیٹھ جو کہ ہندو تھے انہیں یہ دھمکی بھی دی تھی کہ وہ ان کے ختنے کروا دیں گے۔ اب جگت سیٹھ سراج الدولہ کی حکومت ختم کر کے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔ پھر دوستو ایک دن یوں ہوا کہ یہ تینوں کھلاڑی سراج الدولہ کے خلاف ایک ہو گئے اور اس کی وجہ تھی معاہدہ علی نگر۔ آپ جان چکے ہیں کہ نواب سراج الدولہ نے معاہدہ علی نگر کے تحت کلکتہ انگریزوں کو سرنڈر کر دیا تھا۔ اس معاہدے کی خبریں پورے بنگال میں پھیل گئی تھیں اور اس کی وجہ سے نواب سراج الدولہ کی شہرت ایک کمزور حکمران کے طور پر پھیل رہی تھی۔

جبکہ اس کے مقابلے میں انگریز بنگال میں ایک بڑی طاقت بن کر ابھرے تھے۔ اس سے پہلے بنگال کی سیاست میں انگریز کا دور دور تک کوئی اسٹیک نہیں تھا۔ انہیں صرف تاجر ہی سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب انہوں نے میدانِ جنگ میں اپنا لوہا منوا لیا تھا۔ انگریزوں کے اس نئے روپ کو نواب آف بنگال سراج الدولہ کے مخالفین ایک سنہری موقع جان رہے تھے۔ وہ دیکھنے لگے تھے کہ اگر انگریزوں کو ساتھ ملا لیا جائے تو نواب کو ہٹانا آسان ہو جائے گا۔ ادھر انگریزوں کو بھی بنگال میں اپنی اس نئی طاقت کا احساس تھا اور وہ اس سے فائدہ اٹھانے کیلئے سراج الدولہ کے سازشی درباریوں سے ہاتھ ملانے پر تیار تھے۔

تو اب یہ ہوا کہ سراج الدولہ کے ان تینوں بڑے دشمنوں یعنی لارڈ کلائیو، میر جعفر اور جگت سیٹھ نے آپسی فائدوں کے لیے اتحاد کر لیا اور ایک دوسرے سے رابطے شروع کر دیئے۔ جگت سیٹھ نے کلکتہ کے ایک مہاجن امین چند کے ذریعے لارڈ کلائیو سے رابطہ کر لیا۔ ادھر میر جعفر کے ایک خاص آدمی امیر بیگ نے بھی لارڈ کلائیو کے ساتھ پیغام رسانی شروع کر دی۔ یعنی یہ دونوں ان کے الیچی بن گئے لارڈ کلائیو نے بھی اپنے ایک آرمینین ایجنٹ کو مقرر کر دیا کہ وہ نواب سراج الدولہ کے دربار میں ہونے والی ہر سازش کی اطلاع اس تک پہنچاتا رہے۔ یوں اپنے قاصدوں کے ذریعے یہ تینوں طاقتور کھلاڑی آپس میں رابطہ کرنے میں کامیاب ہو گئے اور ایک نئی سازش پکنے لگی۔

تو اب ہوا یہ کہ پیغام رسانوں کی مدد سے اس سازش کے تینوں کرداروں یعنی جگت سیٹھ، میرجعفر اور لارڈ کلائیو میں باقاعدہ ایک معاہدہ طے پا گیا۔ اس معاہدے کی شرائط یہ تھیں کہ جگت سیٹھ اور میر جعفر، انگریزوں کو اٹھائیس، ٹوئنٹی ایٹ ملین یعنی دو کروڑ اسی لاکھ روپے فراہم کریں گے۔ یہ کتنی بڑی رقم تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس وقت بنگال کا کل ریونیو یعنی ٹیکسوں کی کل آمدنی بھی اتنی ہی تھی تقریباً۔ اس کے علاوہ یہ بھی طے پایا کہ کمپنی بہادر کی فوج کو ماہانہ ایک لاکھ دس ہزار روپے الگ سے ادا کئے جائیں گے۔

یہ بھی وعدہ کیا گیا کہ کمپنی کی مدد سے حکومت قائم کرنے کے بعد میر جعفر اور جگت سیٹھ کمپنی کو کلکتہ کے پاس بنگالی علاقوں میں زمینیں خریدنے، ٹکسال قائم کرنے اور ڈیوٹی فری ٹریڈ کی اجازت بھی دیں گے۔ کلکتہ پر سراج الدولہ کے حملے سے کمپنی کو جو نقصان پہنچا تھا اس کے بدلے میں کمپنی کو دس لاکھ پاؤنڈز کی مزید رقم بھی الگ سے ادا کی جائے گی۔ چار جون سترہ سو ستاون، سیونٹین ففٹی سیون کو اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی۔ یہ وہی معاہدہ ہے دوستو جس کے بارے میں ہم نے آپ کو ویڈیو کے شروع میں بتایا تھا کہ ایک انگریز افسر میر جعفر کے گھر آ گئے تھے پالکی میں بیٹھ کر اور ان سے دستخط لے لئے تھے۔

انہوں نے میر جعفر کو اخلاقی طور پر مزید پابند کرنے کے لیے اسی وقت قرآن پاک پر حلف بھی لیا تھا کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ اور دیکھئے کہ کیسے غداری کے اس عہد کی پاسداری انہوں نے کی۔ تو اب نواب سراج الدولہ کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے اسٹیج تیار ہو چکا تھا لیکن شیر کے شکار کیلئے ابھی ہانکا کرنا باقی تھا۔ یہ ہانکا کیسے ہوا؟ مائی کیوریس فیلوز ہندوستان میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ جب کسی نواب یا انگریز افسر نے شیر کا شکار کرنا ہوتا تھا تو وہ ہانکا کیا کرتے تھے۔ یعنی ان کے ملازمین شیر کو گھیر گھار کر صاحب کے سامنے لاتے تھے اور صاحب بہادر اسے اپنی بندوق سے نشانہ بنا ڈالتے تھے۔

پھر اس شیر پر ایک پاؤں رکھ کر وہ فخر سے تصاویر بنواتے تھے اور اس کی کھال اپنے کمرے میں سجا کر مہمانوں پر اپنی بہادری کا رعب ڈالا کرتے تھے کہ ہم شیر کے شکاری ہیں۔ جنگِ پلاسی بھی ایک طرح کایہ ہانکا ہی تیار ہو رہا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس میں ہانکا جنگل کے شیر کا نہیں بلکہ بنگال کے نواب سراج الدولہ کا ہونا تھا اور ہانکا کرنے والے ان کے اپنے جنرلز اور درباری تھے۔ ان درباریوں کی ڈیوٹی یہ تھی کہ وہ سراج الدولہ کو گھیر گھار کر پلاسی کے میدان میں لا کھڑا کریں تاکہ لارڈ کلائیو آسانی سے ان کا شکار کر سکے اپنے سازشی اتحادیوں کی مدد سے۔

جی ہاں دوستو پلاسی کی جنگ کوئی باقاعدہ لڑائی ہی نہیں تھی بلکہ ایک اسکرپٹڈ جنگ تھی جس میں ہار جیت کا فیصلہ پہلے ہی لکھا جا چکا تھا۔ نواب سراج الدولہ کے پچاس، ساٹھ ہزار فوجیوں کے مقابلے میں لارڈ کلائیو کے پاس محض تین ہزار سپاہی تھے۔ اتنی کم تعداد کے ساتھ وہ نواب سراج الدولہ سے کلکتہ میں تو عارضی طور پرجیت گئے تھے لیکن یہ فورس پورے بنگال پر قبضہ کرنے اور پھر اسے برقرار رکھنے کیلئے بالکل ناکافی تھی۔ اگر پلاسی کے میدان میں دونوں فوجوں کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ دوبدو لڑنے کا موقع ملتا تو لارڈ کلائیو کی فوج شاید ایک گھنٹہ بھی مقابلہ نہ کر پاتی اور بھاگ کھڑی ہوتی۔ یہی وجہ تھی کہ لارڈ کلائیو مکمل فتح کی گارنٹی کے بغیر اس میدان میں اس جنگ میں اترنے کو تیار نہیں تھے۔

دوستو یہاں یہ وضاحت کر دیں ہم کہ لارڈ کلائیو کو اس جنگ کیلئے ایسٹ انڈیا کمپنی کے لندن آفس کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ لندن آفس سے ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو یہی ہدایت تھی کہ وہ مقامی حکمرانوں کے ذاتی جھگڑوں میں نہ الجھیں اور پوری توجہ صرف تجارت پر رکھیں۔ یہی وجہ تھی کہ لارڈ کلائیو حکومتِ برطانیہ یا ایسٹ انڈیا کمپنی کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنے رسک پر سراج الدولہ سے لڑنے جا رہے تھے۔ انہوں نے ہی ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسروں کو قائل کیا تھا کہ بنگال میں فرانس کا اثر ختم کرنے کیلئے یہ جنگ بہت ضروری ہے۔ اگر انہیں شکست ہو جاتی یا ان کی فوج کو کوئی بڑا نقصان پہنچتا تو لارڈ کلائیو کے کورٹ مارشل کی نوبت آ سکتی تھی۔

اس لئے لارڈ کلائیو محتاط تھے اور فتح کا یقین کئے بغیر آگے بڑھنے پر تیار نہیں تھے۔ جیسے لارڈ کلائیو بڑی جنگ سے ہچکچا رہے تھے ویسے ہی میر جعفر بھی بنگال میں کوئی بڑی تبدیلی کسی بڑی تباہی کے بغیر چاہتے تھے۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ نواب سراج الدولہ کے بعد وہ خود کو اور انگریزوں کو بنگال کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کریں تاکہ عوام ان کی حکومت قبول کریں۔ ایسا اسی صورت میں ممکن تھا جب انگریز فوج بنگال میں کسی بڑے خون خرابے اور لوٹ مار سے باز رہے تاکہ عوام انگریزوں اور ان کے بنائے ہوئے حکمران میر جعفر سے نفرت نہ کریں۔ یعنی وہ چاہتے تھے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ نواب سراج الدولہ کا کانٹا وہ نکلنا چاہتے تھے اور میر جعفر اپنی شہرت خراب کئے بغیر یہ سب کرنا چاہتے تھے۔

انہی باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے میر جعفر اور لارڈ کلائیو نے یہ پلان بنایا کہ سراج الدولہ سے کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی جانی چاہیے۔ پلان کا اہم نکتہ یہ تھا کہ لارڈ کلائیو اپنے تین ہزار فوجیوں کے ساتھ کلکتہ سے بنگال کے دارالحکومت مرشد آباد کی طرف پیش قدمی کریں گے۔ راستے میں وہ کسی مناسب مقام پر پڑاؤ ڈال لیں گے۔ اس دوران ان کے فوجی لوٹ مار وغیرہ سے باز رہیں گے۔ میر جعفر، سراج الدولہ کے ساتھ پورا لاؤ لشکر لے کر میدانِ جنگ میں لارڈ کلائیو سے مقابلے کے لیے اس کے سامنے پہنچ جائیں گے۔ لیکن جب جنگ شروع ہو گی تو میر جعفر لڑائی میں حصہ نہیں لیں گے بلکہ اپنی فوج کے ایک بڑے حصے کو بھی لڑنے سے روک دیں گے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ نواب کے تھوڑے بہت وفادار دستے انگریزوں سے شکست کھا کر بھاگ نکلیں گے اور اس کے بعد میر جعفر اس پوری فوج پر اس علاقے پر بنگال پرٹیک اوور کر لیں گے۔ تو یوں دوستو یہ ساری جنگ ایک سکرپٹڈ وار تھی بس خانہ پُری کیلئے ایک چھوٹی سی جھڑپ، یعنی ہانکا ہونا تھا اور اس کے بعد کھیل ختم۔ اس پلان کے مطابق تیرہ جون سیونٹین ففٹی سیون کو یعنی میر جعفر سے معاہدہ کے محض نو روز بعد لارڈ کلائیو نے سراج الدولہ پر معاہدہ علی نگر کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر اعلان جنگ کر دیا۔ اعلانِ جنگ کیلئے بہانہ یہ بنایا گیا تھا کہ سراج الدولہ نے انگریزوں کے دشمن فرانسیسیوں کو اپنے پاس پناہ دے رکھی تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ انگریزوں نے بنگال میں فرانسیسیوں کی ایک آبادی پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس آبادی سے کچھ فرانسیسی فرار ہو کر سراج الدولہ کے پاس گئے اور نواب نے انہیں پناہ دے دی۔ لیکن دوستو یہ معاہدہ علی نگر کی خلاف ورزی نہیں تھی کیونکہ اس معاہدے کے تحت نواب اس بات کے پابند نہیں تھے کہ وہ فرانسیسیوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دیں گے۔ اس کے برعکس حقیقت یہ تھی کہ فرانسیسی آبادی پر حملہ کر کے الٹا انگریزوں نے معاہدہ علی نگر کی خلاف ورزی کی تھی کیونکہ فرانسیسی آبادی بنگال کی سرزمین پر بنگال کی حکومت کی اجازت سے قائم تھی۔ اس پر کسی غیرملکی طاقت کا حملہ کرنا وہ بھی نواب کی اجازت کے بغیرغیر قانونی تھا۔ انگریزوں نے یہ بہانہ بھی دوستو بنایا کہ نواب نے کلکتہ میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کیلئے جو رقم دینا تھی وہ فوری طور پر نہیں دی۔

تیرہ جون کو لارڈ کلائیو نے تین ہزار فوج اور آٹھ توپوں کے ساتھ مرشد آباد کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ ان کی فوج میں آٹھ سو یورپی فوجی تھے جبکہ دو ہزار دو سو ہندوستانی سپاہی تھے یعنی ہندوستانی سپاہیوں کی تعداد زیادہ تھی جو اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف انگریزوں کے ساتھ مل کر لڑنے جا رہے تھے۔ جب برطانوی فوج کلکتہ سے روانہ ہوئی تو یہ بنگال میں چاول کی بوائی کا موسم تھا۔ کسان کھیتوں میں کام کر رہے تھے اور حیرت اور دلچسپی سے اس فوج کو دیکھ رہے تھے جو مرشد آباد کی طرف جا رہی تھی۔ ان کسانوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ فوج ہندوستان کے گلے میں، آنے والی پانچ نسلوں کے گردن میں تقریباً دو صدیوں کے لیے غلامی کا طوق ڈالنے جا رہی ہے۔

اگر بنگالی کسان یہ بات جان لیتے تو لارڈ کلائیو کو تاریخی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا لیکن ظاہر ہے وہ لوگ اتنا دور کی نہیں سوچ رہے تھے، ان وقتوں میں آئے روز راجوں مہاراجوں کے تخت الٹتے رہتے تھے اور ایک گروہ دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اس کے دشمنوں کا سہارا بھی لیتا رہتا تھا تو اسی لیے وہ یعنی وہ کسان اس سارے کھیل کو بھی ایک ایسی ہی پاور گیم سمجھ رہے تھے، اس کی ناقابل فراموش حیثیت کا انھیں اندازہ تک نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لارڈ کلائیو کی فوج کسی مشکل کا سامنا کئے بغیر آگے بڑھتی چلی گئی۔ یہ سفر لارڈ کلائیو کیلئے کوئی آسان سفر نہیں تھا۔ انہوں نے میر جعفر کو بار بار خطوط لکھے کہ وہ انہیں آگے کی حکمت عملی بتائیں کہ وہ نواب کو ساتھ لے کر کب اور کس جگہ پہنچیں گے اور لڑائی کیسے لڑی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔

لیکن میر جعفر کی طرف سے ان خطوط کا کوئی جواب نہیں آرہا تھا یا بہت کم جواب آ رہا تھا۔ میر جعفر کے اس رویے سے لارڈ کلائیو یہ سوچنے لگے کہ آیا وہ اب کلکتہ لوٹ جائیں واپس یا پھر اپنے بل بوتے پر پیش قدمی مرشد آباد کی طرف جاری رکھیں۔ دوسری طرف میر جعفر دوستو اس لئے محتاط رویہ اختیار کر رہے تھے تاکہ سراج الدولہ کو ان پر شک نہ ہو۔ یہ بہت نازک وقت تھا ان کے لیے میر جعفر کی ذرا سی غلطی بنا بنایا کھیل بگاڑ سکتی تھی۔ وہ آخر وقت تک نواب سراج الدولہ کو اس دھوکے میں رکھنا چاہتے تھے کہ وہ ان کے وفادار جرنیل ہیں دوسری طرف میر جعفر لارڈ کلائیو کو بھی آگے بڑھتے رہنے کی صلاح مسلسل دے رہے تھے۔

اب دوستو لارڈ کلائیو کی پیش قدمی کو جانتے ہوئے اور ان کے اعلان جنگ کو سامنے رکھتے ہوئے نواب سراج الدولہ نے بھی مرشد آباد سےاپنی فوج کو لے کر کلکتہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی نواب کے پاس کم از کم پچاس ہزار فوج تھی۔ لیکن اس فوج کے جنرل میر جعفر تھے اور ان کے ساتھ کئی سازشی درباری ملے ہوئے تھے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ سراج الدولہ کو آخر وقت تک احساس نہیں ہو سکا کہ وہ ایک ٹریپ میں پھنسنے جا رہے ہیں۔ اپنی طرف سے وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ وہ جنگ جیتنے جا رہے ہیں کیونکہ ہتھیاروں اور فوج کی تعداد کے لحاظ سے انہیں لارڈ کلائیو پر واضح برتری حاصل تھی۔

لارڈ کلائیو کی آٹھ توپوں اور محض تین ہزار فوجیوں کے مقابلے میں ان کے پاس پچاس سے زائد توپیں اور پچاس ہزار کے قریب فوج تھی اس فوج میں بھی پندرہ ہزار گھڑ سواراور کچھ فرانسیسی فوجی بھی ان کے ساتھ تھے۔ نواب کے بہت سے پیدل سپاہیوں کے پاس بندوقیں بھی تھیں۔ لیکن ان سپاہیوں کو بندوقوں کے ذریعے کسی جدید فوج سے دوبدو مقابلے کا تجربہ ابھی تک نہیں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ان کا ڈسپلن اور ان کی ٹریننگ بھی انگریز فوجیوں سے کم درجے کی تھی۔ نواب کی اصل طاقت ان کے گھڑ سوار دستے تھے جن کا سب سے اہم ہتھیار تلواریں تھیں۔ تاہم تعداد کے لحاظ سے نواب سراج الدولہ کی فوج کو لارڈ کلائیو پر بہت واضح برتری حاصل تھا۔

لارڈ کلائیو کے ایک فوجی کے مقابلے میں سراج الدولہ کے پاس بیس بیس سپاہی تھے۔ جب نواب سراج الدولہ مرشد آباد سے روانہ ہوئے تو اس لشکر کی شان و شوکت ہی دوستو دیکھنے والی تھی۔ طاقتور بیل بھاری توپوں کو کھینچ رہے تھے گھڑ سوار دستوں کے علاوہ ہاتھیوں کی بڑی تعداد بھی فوج کے ساتھ تھی۔ اتنی طاقتور فوج کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ نواب آف بنگال کو شکست ہو گی۔ نواب سراج الدولہ مطمئن تھے اور ان درباریوں میں گھرے ہوئے تھے جو انہیں مسلسل فتح کا یقین دلاتے جا رہے تھے۔ حالانکہ انہی میں سے بیشتر وہ لوگ تھے جو لارڈ کلائیو سے درپردہ ہاتھ ملا چکے تھے۔

مرشد آباد کے جنوب میں کوئی پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جسے پلاسی کہتے ہیں۔ یہ گاؤں اور اس کے اردگرد کا علاقہ ہی وہ جگہ ہے جہاں ہندوستانی تاریخ کی اہم ترین لڑائیوں میں سے ایک لڑائی لڑئی گئی یعنی جنگِ پلاسی نواب سراج الدولہ اپنی فوج کے ساتھ لارڈ کلائیو سے بھی پہلے اس میدان میں پہنچ گئے تھے۔ نقاروں کی گونج میں انہوں نے یہاں اپنا کیمپ لگا لیا اور دشمن کا انتظار کرنے لگے۔ نواب سراج الدولہ کے میدانِ جنگ میں پہنچنے کے ایک، دو روز کے اندر لارڈ کلائیو بھی وہاں پہنچ گئے۔

انہوں نے جب نواب کی اتنی بڑی فوج کو اپنے مقابلے میں صف آرا دیکھا تو قریب ہی آموں کے ایک باغ میں دفاعی پوزیشن لے لی۔ یہاں ان کی فوج کو بندوقوں اور توپوں سے نشانہ بنانا تھوڑا مشکل تھا۔ لارڈ کلائیو نے اپنی تمام توپوں کو بھی ایسی پوزیشن میں کھڑا کر دیا کہ اگر نواب کی فوج ان کی طرف پیش قدمی کرے تو اس پر بھرپور گولہ باری کی جا سکے۔ تو اب پوزیشن یہ تھی کہ دونوں دشمن آمنے سامنے تھے۔ نوجوان نواب سراج الدولہ کو ان کے غدار گھیر کر لارڈ کلائیو کے سامنے لے آئے تھے لیکن اب بھی کچھ رکاوٹیں موجود تھیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ تو یہ تھی کہ میر جعفر اور لارڈ کلائیو کے درمیان کوئی دوٹوک پیغام رسانی، ڈائریکٹ میسجنگ نہیں ہو پا رہی تھی۔

یعنی کمیونیکیشن گیپ تھا ان دونوں کے درمیان۔ میر جعفر، لارڈ کلائیو کے پیغامات کا بہت کم جواب دیتے تھے۔ اسی لئے ایک موقع پر لارڈ کلائیو نے میر جعفر کو دھمکی بھی دی کہ اگر انہوں نے فوری طور پر کلائیو کو آگے کی حکمت عملی نہیں بتائی تو پھر وہ نواب سراج الدولہ سے معاملات طے کر لیں گے یعنی ان سے صلح کر لیں گے۔ ظاہر ہے اس سے میر جعفر کے اقتدار پر قبضے کی کہانی ختم ہو جانی تھی۔ لیکن دوستو اس صلح کی نوبت نہیں آ سکی دونوں فوجوں میں پہلے ہی جنگ چھڑ گئی۔ پلاسی کی جنگ تئیس جون کی صبح آٹھ بجے کے بعد شروع ہوئی۔ نواب سراج الدولہ کی فوج اس دور کے جنگی تقاضوں کے مطابق تین حصوں میں تقسیم تھی۔

فوج کے دائیں اور بائیں حصوں کی کمان سراج الدولہ نے میرمدن اور میر جعفر کو سونپ رکھی تھی۔ میرمدن ان چند درباریوں میں سے تھے جو سراج الدولہ کے آخری وقت تک وفادار رہے ۔ فوج کے درمیانی حصے کی کمان کچھ دوسرے سردار کر رہے تھے۔ جبکہ کچھ فوجی دستوں کو ریزرو میں بھی رکھا گیا تھا تاکہ بوقت ضرورت استعمال کیا جا سکے۔ سراج الدولہ اپنی مرکزی فوج کے پیچھے ایک محفوظ جگہ پر خیمے میں موجود تھے جہاں سے وہ سردار وں سے رپورٹس لیتے تھے اورانہیں احکامات جاری کرتے تھے۔ تو اب یہ ہوا کہ جب جنگ شروع ہوئی تو میر جعفر نے جن کے زیرِ کمان بیس ہزار فوجی تھے انہوں نے اپنے فوجیوں کو جنگ میں حصہ لینے سے روک دیا۔

نواب نے انہیں بار بار پیغام بھیجا کہ وہ آگے بڑھ کر دشمن کو اٹیک کریں لیکن ہر بار میر جعفر ٹال مٹول سے کام لے جاتے۔ حالانکہ اگر وہ حملہ کر دیتے تو آموں کے باغ میں چھپی لارڈ کلائیو کی چھوٹی سی فوج جنرل میرمدن اور جنرل میر جعفر کے دستوں کے درمیان آ کر پس جاتی۔ لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ میر جعفر کی دھوکہ دہی کے باعث اس جنگ کا سارا بوجھ میرمدن کے تنہا کندھوں پر آن پڑا۔ جنگ کی شروعات نواب سراج الدولہ کی طرف سے ہوئی تھی۔ سب سے پہلے ان کے اتحادی فرانسیسی توپ خانے نے بمباری کی تھی اور اس کے بعد بنگالی توپ خانے نے بھی فائر کھول دیا۔ جواب میں انگریزی توپوں نے بھی گولے برسانا شروع کر دیئے۔ لیکن دونوں طرف کے توپ خانے میں اتنا فاصلہ تھا کہ کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

البتہ انگریزی توپ خانے نے نواب کے گھڑ سوار دستوں کو کچھ نقصان پہنچایا جس پر نواب نے انہیں پیچھے ہٹا لیا۔ اس کے بعد بنگالی فوج کے پیدل دستوں یعنی انفنٹری نے لارڈ کلائیو کی فوج کی طرف مارچ شروع کیا لیکن برطانوی فوج نے ان پر گولیوں اور گولوں کی برسات کر دی۔ کلائیو کے پاس بارود کی ایک خاص قسم تھی جسے گریپ شاٹ کہتے ہیں۔ اس بارود کو جب توپ میں بھر کر چلایا جاتا تھا تو یہ بارود توپ سے نکلنے کے بعد کئی ٹکڑوں میں بٹ کر دشمن پر گرتا تھا اور دشمن کی صفوں میں کافی فاصلے تک نقصان پہنچاتا تھا۔

لارڈ کلائیو کے فوجیوں نے بنگالی فورسز کی پیش قدمی روکنے کیلئے گریپ شاٹس کا بھرپور استعمال کیا اور بنگالیوں کی پیش قدمی رک بھی گئی۔ کہتے ہیں اس موقع پر لارڈ کلائیو نے جگت سیٹھ کے نمائندے امین چند سے جو کہ ان کے ساتھ ہی کلکتہ سے آیا تھا اس سے ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ تو یہ طے ہوا تھا کہ جنگ نہیں ہو گی پھر یہ لڑائی کیوں ہو رہی ہے۔ امین چند نے جواب دیا کہ جناب یہ کچھ لوگ ہیں جو سراج الدولہ کے وفادار ہیں وہ آپ سے لڑ رہے ہیں ان کے علاوہ آپ پر کوئی حملہ آور نہیں ہو گا۔ لارڈ کلائیو کو امین چند کی بات پر یقین آیا یا نہیں لیکن اس موقع پر ایک ایسا کام ہوا کہ جنگ رک گئی۔ ہوا یہ کہ اچانک آسمان پھٹ پڑا۔ یہ مون سون کی بارش تھی اور اس بارش کی وجہ سے لڑائی کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔

دوستو موسم کی اس چھوٹی سی کروٹ نےجنگ کے ایک فریق کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ وہ بھلا کیسے؟ اس بارش میں ظاہر ہو گیا کہ برطانوی فوج کی ٹریننگ اور تجربہ ہندوستانی سپاہیوں سے کہیں زیادہ ہے۔ برطانوی فوج ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کی پوری تیاری کر کے آئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب بارش شروع ہوئی تو لارڈ کلائیو نے فوری طور پر اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے بارود کے ذخیرے کو ترپال کی چادروں سے ڈھانپ دیں۔ فوجیوں نے ایسا ہی کیا اور اس طرح انگریزوں کا گولہ بارود بارش میں بیگنے اور ضائع ہونے سے بچ گیا۔ دوسری طرف بنگالی فوج کے پاس اس برسات سے نمٹنے کا کوئی انتظام نہیں تھا ان کا بارود اور گولے وغیرہ بارش میں بھیگ گئے اور استعمال کے قابل نہ رہے۔

کچھ دیر بعد جب بارش رکی تو بنگالی فوج کا توپخانہ اور بندوقیں بڑی حد تک بیکار ہو چکی تھیں۔ دوسری طرف لارڈ کلائیو کے پاس موجود بارود کا ذخیرہ جوں کا توں محفوظ تھا۔ بارش کے بعد سراج الدولہ کے جنرل میرمدن نے سوچا کہ شاید انگریزوں کا بارود بھی بارش میں بھیگ کر ضائع ہو چکا ہو گا چنانچہ انہوں نے اپنے پانچ ہزار افغان گھڑ سواروں کو لارڈ کلائیو کی پوزیشن پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ گھڑ سوار جیسے ہی آموں کے باغ کی طرف بڑھے انگریزوں نے ان پر توپ خانے کا منہ کھول دیا۔ گولہ باری شروع ہوئی تو دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں بنگالی سپاہی ڈھیر ہو گئے۔ اس بمباری اور فائرنگ میں میر مدن بھی نشانہ بن گئے۔ انہیں زخمی حالت میں سراج الدولہ کے سامنے لایا گیا۔

میرمدن نے سراج الدولہ سے کچھ الوداعی کلمات کہے اور ان کے ہاتھوں میں جان دے دی۔ جنرل میرمدن جیسے وفادار کی موت سراج الدولہ پر بجلی بن کر گری۔ انہیں یہ جنگ اب ہاتھ سے نکلتی نظر آنے لگی۔ انہوں نے فوری طور پر جنرل میرجعفر کو بلانے کا حکم دیا۔ میر جعفر شروع میں تو نواب کے ہر حکم کو ٹالتے رہے اور نہیں آئے لیکن جب نواب کی طرف سے اصرار بڑھا تو میر جعفر نواب کے خیمے میں آگئے۔ میر جعفر اور سراج الدولہ کی اس ملاقات میں جو کچھ ہوا اس نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ اس ملاقات کے متعلق ایک افواہ جسے ہسٹورین غلام حسین نے لکھا ہے وہ یہ تھی کہ جب میر جعفر، نواب سراج الدولہ کے سامنے آئے تو سراج الدولہ نے اپنی پگڑی اتار کر ان کے قدموں میں رکھ دی۔

انہوں نے ماضی میں میر جعفر سے جو کچھ برا بھلا کہا تھا اس پر معافی مانگی اور کہا کہ آئندہ وہ انہیں اپنے نانا نواب علی وردی کی طرح ہی انہیں محترم سمجھیں گے بس اس موقع پر وہ جنگ کو سنبھال لیں۔ دوستو اب غلام حسین چونکہ سراج الدولہ کے دشمنوں کے دور میں تاریخ لکھ رہے تھے اس لیے ہم پورے یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اس میں کتنا سچ ہے۔ لیکن ایک بات جو اس ملاقات میں ہوئی وہ عملی طور پر سچ ثابت ہوئی۔ وہ یہ کہ اس ملاقات میں جنرل میر جعفر نے نواب سراج الدولہ کو ایک ایسا مشورہ دیا جس نے جنگ کا پانسہ ہی پلٹ دیا۔ انہوں نے سراج الدولہ سے کہا کہ اس وقت بنگالی فوج کے جو سپاہی لارڈ کلائیو کی پوزیشن کے قریب پہنچ چکے ہیں انہیں آپ واپسی کا حکم دے دیں۔

جب یہ فوجی واپس آ جائیں گے تو ہم اگلے روز پھر لڑائی شروع کریں گے نئی حکمت عملی کے ساتھ۔ سراج الدولہ نے کہا کہ اگر دشمن نے رات کو حملہ کر دیا شب خون مار دیا تو کیا ہو گا؟ میر جعفر نے جواب دیا کہ یہ ذمہ داری میری ہے میں دشمن کو رات کو حملہ کرنے سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ آپ بس میرے کہنے پر فوج واپس بلا لیجئے۔ مائی کیوریس فیلوز میر جعفر جو مشورہ دے رہے تھے وہ سراسر موت تھی۔ آگے بڑھتی ہوئی فوج کو اچانک واپسی کا حکم دینا تباہ کن ہوتا ہے کیونکہ فوج جب واپس پلٹتی ہے تو اس کی صفحیں برقرار نہیں رہتیں۔ پھر اکثر سپاہی یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں شکست ہو گئی ہے اس لیے واپسی کا حکم ملا ہے سو وہ پیچھے ہٹنے کے بجائے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔

جس سے دشمن کے لیے بہت آسان ہو جاتا ہے کہ بھاگتی ہوئی فوج پر پیچھے سے فائرنگ کر کے اس کا زیادہ سے زیادہ جانی نقصان کر دے۔ اب دوستو یوں تھا کہ جنرل میر جعفر اسی بات کو ذہن میں رکھ کر سراج الدولہ کو یہ مشورہ دے رہے تھے لیکن سراج الدولہ کسی وجہ سے اس چال کو سمجھ نہیں پارہے تھے۔ حالانکہ وفادار جنرل میر مدن کی موت کے بعد سراج الدولہ نے ان کی جگہ راجہ موہن کو فوج کے اس حصے کی کمان دی تھی۔ اور یہ راجہ موہن اس وقت سراج الدولہ سے بحث کر رہے تھے کہ فوج کو اس موقع پر واپس نہ بلائیں ایسا خطرناک ہو گا۔ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے میر جعفر غلط مشورہ دے رہے ہیں۔

انہوں نے میر جعفر کا مشورہ نہ ماننے کی بہت صلاح دی لیکن نہ جانے کیوں سراج الدولہ نے میر جعفر کا مشورہ مان لیا اور اگلے مورچوں پر لڑنے والے اپنے فوجیوں کو واپسی کا حکم دے دیا۔ دوستو یہ وہ وقت تھا جب بنگالی فورسز لارڈ کلائیو کی فوج کے بہت قریب پہنچ چکی تھیں۔ دونوں فوجوں کی تعداد میں اتنا فرق تھا کہ امکان تھا اگر تلواروں سے لڑائی ہو جاتی تو لارڈ کلائیو کی مختصر سی فوج نواب سراج الدولہ کی فورسز کامقابلہ نہ کر پاتی۔ لیکن میر جعفر کے مشورے نے انگریزی فوج کو عین آخری لمحات میں ایک بظاہریقینی شکست سے بچا لیا۔ اس واپسی کا نتیجہ میر جعفر کی توقع کے عین مطابق نکلا۔

جیسے ہی فوج کو واپسی کا حکم ملا سپاہیوں کو لگا کہ انہیں شکست ہو گئی ہے یا کوئی بڑا حادثہ ہو گیا ہے اس لیے واپس بلایا جا رہا ہے سو وہ ادھر ادھر بھاگنے لگے بھگڈر مچ گئی۔ انہیں بھاگتا دیکھ کر نواب کی فوج کے باقی دستے جو اب تک لڑائی میں شریک نہیں تھے وہ بھی واپس محفوظ پوزیشنز کی طرف ڈورنے لگے۔ جب تک نواب سراج الدولہ نے اس گھنوئنے کھیل کو سمجھا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ان کی فوج کا ایک بڑا حصہ فرار ہو چکا تھا اور باقی فوجی بھی بھاگنے کی تیاری کر رہے تھے۔ ادھر لارڈ کلائیو نے دشمن کی فوج کو بھاگتے دیکھا تو انہوں نے اپنی پوزیشن سے باہر نکل کر بھاگتی بنگالی فوج پر زوردار حملہ کیا۔

سب سے پہلے انہوں نے فرانسیسی توپوں کو قبضے میں لیا اور انھی سے نواب کی فوج پر گولہ باری شروع کر دی۔ اس گولہ باری کی وجہ سے سراج الدولہ کی فوج کی پسپائی کا عمل اور بھی تیز ہو گیا۔ ادھر میر جعفر نے بھی اپنے فوجی دستوں کو پیچھے ہٹ کر دریائے ہوگلی کے پار جانے کا حکم دے دیا۔ نواب کے سپہ سالار کو بھاگتے دیکھ کر بچے کھچے بنگالی فوجی بھی فرار ہو گئے اور پھر۔۔۔ نواب سراج الدولہ بھی ایک اونٹ پر بیٹھ کر میدان جنگ سے نکل گئے۔ پلاسی کی جنگ لارڈ کلائیو نے میر جعفر اور جگت سیٹھ کی مدد سے جیت لی تھی بنگال انگریزوں کے کنٹرول میں جا چکا تھا، سراج الدولہ کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

اور ہندوستان کی تاریخ ایک طویل موڑ مڑ چکی تھی۔ مائی کیوریس فیلوز پلاسی کی جنگ دنیا کی چند فیصلہ کن جنگوں میں سے ایک ہے لیکن یہ جنگ ساتھ ہی تاریخ کی عجیب ترین جنگ بھی ہے۔ کیونکہ اس کے ہر مرحلے کو پہلے سے طے شدہ تفصیلات کے مطابق لڑا گیا تھا۔ میر جعفر کی غداری کی وجہ سے جنگ میں کسی بھی مقام پر تلواروں سے دوبدو لڑائی کی نوبت نہیں آئی یہ پوری لڑائی صرف توپ خانے اور بندوقوں کے ذریعے لڑی گئی۔ اس لڑائی میں انگریزوں کا اتنا کم نقصان ہوا جسے سن کر آپ شاید حیران رہ جائیں۔

اس لڑائی میں انگریزوں کے صرف بائیس فوجی مارے گئے اور پچاس سے زائد زخمی ہوئے جبکہ نواب کی فوج کے چھے سو سے زائد سپاہی مارے گئے اور کوئی نو سو کے قریب زخمی ہوئے۔ تقریباً پچاس ہزار کی فوج میں یہ کوئی بڑا نقصان نہیں تھا۔ دوسرا یہ کہ بنگال کے آدھے سے زیادہ فوجی تو لڑائی میں شریک ہی نہیں ہو سکے اور آخر وقت تک تازہ دم رہے۔ لیکن اس سب کے باوجود نواب ہار گئے، بڑی فوج، زیادہ ہتھیار اور کم نقصان کے باوجود ہار گئے۔

دوستو پلاسی کی جنگ میں نواب سراج الدولہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس پر آج کا مورخ متفق ہے کہ سراج الدولہ کو دھوکے اور دھاندلی سے شکست دی گئی جنگِ پلاسی میں ہونے والی دھوکے بازی نے میر جعفر، لارڈ کلائیو اور جگت سیٹھ کو ہندوستانی تاریخ کے سب سے بڑے ولن بنا دیا اور نوجوان ناتجربہ کار نواب سراج الدولہ کو ایک تاریخی عظیم ہیرو۔ دوستو ان تینوں کرداروں میں سے لارڈ کلائیو توغیر ہندوستانی تھے اس لیے مخفوظ رہے جگت سیٹھ پس پردہ تھے وہ بھی تاریخ کے نشتر سے بچ نکلے۔ لیکن اس کھیل میں سب سے زیادہ بدنامی میر جعفر کے حصے میں آئی۔

اتنی بدنامی کہ آج میر جعفر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں متفقہ طور پر غداری کی علامت اور استعارہ بن چکے ہیں۔ سقوط بنگال کے سانحے کو دو سو تریسٹھ سال گزر چکے ہیں لیکن میر جعفر کے نام پر غداری کا لیبل ایسا لگا ہے کہ ان کے بعد ان کی اولادیں بھی اسی طعنے سے محفوظ نہیں رہ سکیں۔ پاکستان کے پہلے صدرمیجر جنرل اسکندر مرزا کو بھی ان کے مخالفین آج تک اسی لئے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کیونکہ وہ بھی میر جعفر کی اولاد میں سے ہی تھے۔

یہ کہانی بھی ہم آپ کو ہسٹری آف پاکستان میں دکھا چکے ہیں۔ تو مائی کیوریس فیلوز اب صورتحال یہ تھی کہ سراج الدولہ شکست کھا کر مرشد آباد کی طرف فرار ہو چکے تھے اور لارڈ کلائیو ان کا تعاقب کرنے کیلئے پرتول رہے تھے۔ لیکن مرنے سے پہلے ایک ملاقات ضروری تھی تاریخ کے ان دونوں بڑے کرداروں، سراج الدولہ اور میر جعفر کی ایک آخری ملاقات ہوئی لیکن اس ملاقات میں کیا ہوا؟ سراج الدولہ کو قتل کرنے کے لیے ایک ایسا شخص آیا جو کبھی ان کا بہت قریبی رہا تھا یہ شخص کون تھا؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی کی اگلی قسط میں , یہاں ملاحظہ کیجئے

Read More :: Urdu Islamic Books Pdf And Online Read – Pakistanwap

Part 5 :: The History Of Bengal Urdu Episode 5 | Siraj-ud-Daulah’s Last Moments

▷❤▷❤ Watch Historical Series English Subtitles And Urdu Subtitles By Top20series

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Adblock Detected

Please Turn off Your Adblocker. We respect your privacy and time. We only display relevant and good legal ads. So please cooperate with us. We are thankful to you