The History Of Bengal Urdu Episode 5 | Siraj-ud-Daulah’s Last Moments

The History Of Bengal Urdu Episode 5 | Siraj-ud-Daulah’s Last Moments | نواب سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی

دوستو یہ جو کھنڈر نما دیواریں، عظیم الشان راہداری اور سرخ اینٹوں پر چڑھتی سبز بیلیں آپ دیکھ رہے ہیں یہ ایک تکلیف دہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہ کھنڈر نما عمارت دراصل اٹھارہویں صدی کا ایک شاندار محل ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب اس محل کو ’’نمک حرام ڈیوڑھی‘‘ کے طور پر محفوظ ہے۔ اس محل کا یہ نام کیسے پڑا؟ یہاں تاریخ کا کون سا ناقابل فراموش واقعہ پیش آیا تھا؟ جنگ پلاسی کی شکست کے بعد سراج الدولہ پر کیا بیتی اور ان کے آخری دن کیسے تھے؟ منی سیریز سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی کی اس قسط میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گے۔

The History Of Bengal Urdu Episode 5 | Siraj-ud-Daulah's  Last Moments

نوب سراج الدولہ کو جب جنگِ پلاسی میں شکست ہوئی تو اس وقت شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور رات ہونے والی تھی۔ لارڈ کلائیو اور ان کی فوج تو پلاسی کے میدان میں ہی ٹھہر گئی لیکن سراج الدولہ وہاں نہیں روکے۔ وہ ایک اونٹ پر سوار ہو کر ہر ممکن تیز رفتاری کے ساتھ مرشد آباد کی طرف بڑھنے لگے۔ انہیں احساس تھا کہ موت سائے کی طرح ان کا تعاقب کر رہی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر انہوں نے فوری طور پر مرشد آباد پہنچ کر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا تو ان کی سلطنت اور زندگی دونوں ختم ہو جائیں

گی۔ اس لئے وہ رات بھر سفر کرتے رہے۔ چوبیس جون سترہ سو ستاون کی صبح آٹھ بجے وہ مرشد آباد کے نواحی علاقے منصور گنج، اپنے محل میں پہنچ گئے۔ سراج الدولہ جان چکے تھے کہ پلاسی کی شکست کے بعد ان کی حکومت ختم ہو چکی ہے اور اب انہیں تیز رفتاری سے کوئی ایکشن لینا ہو گا۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ان کی فوج تتربتر ہو چکی ہے اور اس فوج کو مرشد آباد پہنچنے میں کافی وقت لگے گا۔ اب اس شہر کو انگریزوں سے بچانے کی ایک ہی صورت تھی کہ عام شہری ان کے ساتھ مل کر حملہ آوروں کا مقابلہ کریں۔

چنانچہ جیسے ہی وہ اپنے محل میں پہنچے انہوں نے ملازمین کو اکٹھا کر کے ایک عجیب وغریب حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ محل کے جس کمرے میں خزانہ رکھا ہے اس کے دروازے کھول دیئے جائیں۔ ہر درباری اور شہری جتنا چاہے خزانہ لے جائے۔ سراج الدولہ کا خیال تھا کہ جب وہ عوام میں خزانہ بانٹیں گے تو عوام بھی ان کا ساتھ دیں گے۔ چنانچہ خزانہ عوام کیلئے کھول دیا گیا اور لوگ جھولیاں بھر بھر کر خزانہ لے گئے اور پھر ساتھ دینے ۔۔۔۔ کوئی نہیں آیا۔ اس روز شام تک سراج الدولہ انتظار کرتے رہے کہ لوگ ان کی مدد کو آئیں گے لیکن خزانہ لے جانے والے شاید خزانہ چھپانے میں مصروف تھے۔

مسئلہ یہ تھا کہ مرشد آباد کے لوگوں کے دل تو سراج الدولہ کے ساتھ تھے لیکن ان کی تلواریں سراج الدولہ کی حمایت میں اٹھنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ جب رات ہوئی اور سراج الدولہ عوامی حمایت سے مایوس ہو گئے تو انہوں نے مرشد آباد چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ آدھی رات کے وقت انہوں نے اپنی بیوی لطف النساء اور حرم کی دوسری خواتین کو ساتھ لیا کچھ زیورات اور بچا کھچا خزانہ گاڑیوں میں رکھوایا اور مرشد آباد سے نکل گئے۔ اب انہیں دوبارہ حکومت ملنے کی کوئی امید نہیں رہی تھی۔

اب دیکھئے کہ ایک طرف تو سراج الدولہ مرشد آباد چھوڑ رہے تھے تو دوسری طرف پلاسی کے میدان میں انگریز اور سراج الدولہ سے دھوکا کرنے والے ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے تھے۔ وہ اب بیٹھے بنگال کی بندربانٹ کے منصوبے بنا رہے تھے۔ لارڈ کلائیو جو ابھی پلاسی کے میدان میں ہی ٹھہرے تھے انہوں نے میر جعفر کو ایک خوشامدی سا پیغام بھیجا۔ اس پیغام میں کہا گیا تھا کہ میں آپ کو اس فتح پر مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ فتح میری نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو نواب بنانے کا اعلان کرنے کا اعزاز مجھے حاصل ہوگا۔ پلاسی کی لڑائی کے اگلے روز میر جعفر برطانوی کیمپ میں پہنچے لیکن ان کے چہرے پر ایک فاتح جیسی چمک دمک نہیں تھی۔

وہ گھبرائے ہوئے تھے اور یہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ انگریز اس کامیابی کے بعد انہیں حکومت دینے کا وعدہ پورا بھی کریں گے یا نہیں۔ انگریز فوجیوں نے بڑی مشکل سے انہیں سمجھا بجھا کر ان کا خوف دور کیا اور انہیں لارڈ کلائیو کے خیمے میں بھیج دیا۔ لارڈ کلائیو نے بڑے پرجوش اور خوشامدی انداز میں میر جعفر کا استقبال کیا اور انہیں صلاح دی کہ وقت ضائع کرنا ٹھیک نہیں ہے وہ فوری طور پر مرشد آباد کا کنٹرول سنبھال لیں۔ لار ڈ کلائیو کا مشورہ سن کر میر جعفر ایسٹ انڈیا کمپنی کے کرنل واٹس کے ساتھ مرشد آباد روانہ ہو گئے۔ جب میر جعفر مرشد آباد پہنچے تو انہیں علم ہوا کہ نواب سراج الدولہ اپنے خاندان سمیت مرشد آباد سے نکل چکے ہیں یعنی مزاحمت کرنے والا شہر میں کوئی نہیں۔

چنانچہ میر جعفر نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا۔ چند روز کے بعد لارڈ کلائیو کی فوج بھی مرشد آباد پہنچ گئی۔ میر جعفر نے انگریزی فوج کو بہت شاندار ریسیپشن دیا۔ شہر کو جھنڈیوں سے سجایا گیا، ڈھول بجائے گئے اور لارڈ کلائیو کو بـڑی شان و شوکت کے ساتھ شاہی محل میں لے جایا گیا۔ لارڈ کلائیو نے میر جعفر کو خود تخت پر بٹھایا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اب میر جعفر بنگال کے حکمران ہیں انگریزوں کی مدد کے ساتھ۔ میر جعفر کی حکمرانی کا اعلان ہوتے ہی ہر طرف سے مبارک سلامت کا شور برپا ہوا۔ جگت سیٹھ جنہوں نے میر جعفر کو حکمران بنوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا انہوں نے بھی میر جعفر کو مبارکباد دی۔ لارڈ کلائیو لکھتے ہیں کہ میں نے میر جعفر کو مشورہ دیا کہ تمام اہم معاملات میں جگت سیٹھ سے مشاورت ضرور کیا کرو۔

میر جعفر نے حکومت سنبھالتے ہی ایسٹ انڈیا کمپنی اور لارڈ کلائیو کیلئے ان سارے انعامات کا اعلان کر دیا جس کا ذکر انہوں نے اپنے وعدوں میں کیا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کو بنگال میں تجارت کرنے اور زمینیں خریدنے کا حق دے دیا گیا لیکن اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ذاتی طورپر لارڈ کلائیو نے۔ لارڈ کلائیو کو اس فتح کے بدلے میں دو لاکھ چونتیس ہزار پاؤنڈز کی رقم ادا کی گئی۔ اس کے علاوہ میر جعفر نے انہیں ایک جاگیر بھی دی جس کی سالانہ آمدنی ستائیس ہزار پاؤنڈز تھی۔ یوں محض تینتیس برس کی عمر میں لارڈ کلائیو کا شمار یورپ کے امیر ترین لوگوں میں ہونے لگا۔

تو اب دیکھئے کہ میر جعفر کو حکومت مل چکی تھی اور لارڈ کلائیو کو دولت لیکن یہ فتح اب بھی ادھوری تھی۔ ایک شخص تھا جسے گرفتار کئے بغیر یہ کامیابی کسی بھی وقت ناکامی میں بدل سکتی تھی، بازی پلٹ سکتی تھی۔ اور یہ شخص تھے نواب سراج الدولہ۔ نواب سراج الدولہ مرشد آباد سے نکل کر پہلے بھگوان گولا کے علاقے میں گئے پھر وہاں سے کشتیوں میں سوار ہو کر مغرب کی طرف سراج محل کو روانہ ہو گئے۔ سراج الدولہ اس سفر میں مسلسل اپنے فوجی عہدیداروں کو خطوط لکھ رہے تھے اور اپنی فوج کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ عظیم آباد یعنی موجودہ پٹنہ سے ایک فرانسیسی فوج بھی ان کی مدد کیلئے روانہ ہو چکی تھی۔

اگر وہ کچھ دن اور دشمنوں کی گرفت میں نہ آتے تو ان کے پاس اچھی خاصی فوج جمع ہو سکتی تھی جس کے ساتھ وہ میر جعفر اور ان کے ساتھیوں پر دوبارہ حملہ آور ہو سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ میر جعفر اور ان کے بیٹے میر مدن نے نواب سراج الدولہ کو ڈھونڈنے کیلئے دن رات ایک کر دیا۔ میر جعفر نے اپنے داماد میر قاسم کو ایک فوجی دستے کے ساتھ سراج الدولہ کو ڈھونڈنے کیلئے بھیجا۔ اس کے علاوہ بنگال بھر میں میر جعفر اور انگریزوں کے جاسوس بھی نواب کی تلاش پر لگ گئے۔ سب تلاش کر رہے تھے لیکن کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ سراج الدولہ کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ پھر ایک روز میر قاسم کے پاس ایک خفیہ پیغام پہنچا۔ اور سراج الدولہ کا پتا چل گیا۔

سراج الدولہ مرشد آباد سے نکلنے کے بعد تین روز تک سفر کرتے رہے۔ اس دوران انہیں کھانے پینے تک کا ہوش نہیں تھا۔ جب وہ سراج محل پہنچے تو اس پورے قافلے کا بھوک سے برا حال تھا۔ جب وہ دریا کے کنارے اترے تو سراج الدولہ نے سب لوگوں کیلئے کھچڑی پکوانے کا حکم دیا۔ یہ وہ موقع تھا جب چند ملازمین کے علاوہ اب ان کے ساتھ کوئی نہیں رہا تھا۔ حتیٰ کہ ان کے سسر ایرج خان بھی ان کا ساتھ چھوڑ کر جا چکے تھے۔ سراج الدولہ کے ملازمین بھی ایک، ایک کر کے کھسک رہے تھے اور نواب آف بنگال ہر گزرتے دن کے ساتھ تنہا ہوتے جا رہے تھے۔ مصیبت کے اس عالم میں انہوں نے ایک بار پھر اپنے پاس موجود خزانے کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے اپنے ملازمین اور قریبی لوگوں میں اپنا خزانہ بانٹ دیا تاکہ یہ لوگ انہیں چھوڑکر نہ جائیں۔ لیکن مرشد آباد کی طرح یہاں بھی یہ ترکیب کام نہ آئی۔ لوگوں نے سونا، چاندی تو لیا لیکن نواب کو سہارا نہیں دیا۔ چنانچہ جب نواب سراج محل میں دریا کے کنارے اترے تو ان کے زیادہ تر ساتھی انہیں چھوڑ کر جا چکے تھے اور اب کوئی بھی ان کی مدد کرنے والا نہیں رہا تھا۔ سراج محل میں کشتیوں سے اتر کر سراج الدولہ نے اپنے بچے کھچے ملازمین کو ہی کھچڑی پکانے کا حکم دیا تھا۔ اس وقت ایک فقیر، ایک صوفی شاہ دانا وہاں موجود تھے، انھوں نے سراج الدولہ کو پہچان لیا اور کسی پرانی رقابت کا بدلہ لینے کے لیے یا انعام کے لالچ کے لیے مخبری کر دی۔

ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ شاہ دانا نے ہی سراج الدولہ کو کھانا کھلایا تھا اور اس کے بعد انہیں آرام کرنے کیلئے کہا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے سراج الدولہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں پیغام میر قاسم تک پہنچایا۔ میر قاسم یہ خبر ملتے ہی آندھی طوفان کی طرح موقع پر پہنچا اور نواب کو ان کے گھر والوں اور ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا۔ ان کی گرفتاری کے ساتھ ہی بنگال اور ہندوستان کی آزادی کی یہ امید بھی ختم ہو گئی۔ نواب آف بنگال اب زنجیروں میں جکڑے ہوئے میر قاسم کے سامنے پیش کر دئیے گئے۔ وہی میر قاسم جو اس سے پہلے ان کے سامنے آداب بجا لاتا تھا اور ان کی موجودگی میں ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے تھے

اب سراج الدولہ کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے تھے۔ ہسٹورین محمد عمر لکھتے ہیں کہ سراج الدولہ نے آخر وقت تک اس صورتحال کو بدلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے میر قاسم کی بہت منت سماجت کی کہ انہیں زندہ چھوڑ دیا جائے اور گزارے کیلئے کچھ زمین دے دی جائے۔ یعنی سراج الدولہ حکومت کا دعویٰ چھوڑ کر پرامن رہنے کیلئے تیار تھے۔ لیکن سازشیوں کے خیال میں سراج الدولہ کو زندہ چھوڑ دینا بہت بڑا خطرہ تھا۔ وہ یہ خطرہ مول لینے پر تیار نہیں تھے۔ سراج الدولہ کی گرفتاری کے بعد ان کے حرم کی خواتین کو بھی جی بھر کے لوٹا گیا۔ میر قاسم نے سراج الدولہ کی بیوی لطف النساء بیگم کے زیورات سے بھرا صندوق قبضے میں لے لیا۔

حرم کی باقی خواتین کے پاس بھی جو زیورات وغیرہ تھے انہیں باقی سپاہیوں نے لوٹ لیا۔ یوں نواب آف بنگال اور ان کے حرم کی خواتین کسمپرسی کے عالم میں زنجیروں میں جکڑ کر مرشد آباد لے جائے گئے۔ عظیم آباد سے آنے والی فرانسیسی فوج کو بھی جب معلوم ہوا کہ نواب گرفتار ہو گئے ہیں تو وہ بھی واپس چلی گئی سو اب سراج الدولہ مکمل طور پر اپنے دشمنوں کے رحم و کرم پر تھے۔ سراج الدولہ کو دو جولائی سترہ سو ستاون، سیونٹین ففٹی سیون کو گرفتار کر کے مرشد آباد منتقل کیا گیا یعنی جنگِ پلاسی میں شکست کے صرف آٹھ روز بعد وہ گرفتار ہوچکے تھے۔

کہتے ہیں کہ جس وقت سپاہی انہیں مرشد آباد لا رہے تھے تو ان کی حالت اتنی خراب ہو چکی تھی کہ دیکھنے والے کانپ اٹھے۔ شہر میں جس نے بھی انہیں دیکھا اس کے دل میں ہمدردی کے جذبات امڈنے لگے۔ بلکہ جب انہیں سپاہیوں کی ایک چوکی کے سامنے سے گزارا گیا تو سپاہی اپنے سابق نواب کو اس حالت میں دیکھ کر بغاوت پر اتر آئے لیکن ان کے افسروں نے معاملے کو سمجھا بھجا کر سنبھال لیا۔ سراج الدولہ کو جعفر گنج میں میر جعفر کے محل میں لے جایا گیا۔ میر جعفر وہ شخص تھا جس کے سامنے سراج الدولہ ہمیشہ ایک حکمران کی حیثیت سے ہی آئے تھے۔ لیکن اس بار وہ ایک قیدی کی حیثیت سے ان کے سامنے لائے جا رہے تھے

اور ان کی زندگی خطرے میں تھی۔ جب وہ محل میں لائے گئے تب آدھی رات کا وقت تھا۔ پھر یہاں جو کچھ ہوا اس کے تاریخ میں دوستو دو ورژن ہیں۔ پہلا ورژن یہ ہے کہ جب انہیں محل میں لایا گیا تو میر جعفر اس وقت سو چکے تھے۔ لیکن ان کا بیٹا میر میرن ابھی جاگ رہا تھا۔ میرن کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ انتہائی ظالم و جابر انسان تھے۔ وہ قتل و غارت گری پر فخر کرتے تھے۔ جب سراج الدولہ کو ان کے سامنے لایا گیا تو انہوں نے سراج الدولہ کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ سراج الدولہ کو فوری طور پر قتل کر دیں۔

لیکن کوئی شخص بھی اس پر راضی نہ ہوا کیونکہ بہت سو کے نزدیک یہ ناحق خون تھا۔ لیکن میر میرن کی کوششوں سے آخر ایک شخص محمدی بیگ، سراج الدولہ کو قتل کرنے پر تیار ہو گیا۔ سراج الدولہ کے لیے تکلیف دہ بات یہ تھی کہ محمدی بیگ، نواب سراج الدولہ اور ان کے نانا علی وردی خان کا وفادار ساتھی رہ چکا تھا۔ اس کی شادی بھی علی وردی کی بیگم اشرف النساء نے کروائی تھی۔ لیکن اس سارے تعلق کو نظر انداز کرتے ہوئے نجانے کس وجہ سے اس شخص نے نواب سراج الدولہ کو قتل کرنے کی حامی بھر لی۔ وہ ایک خنجر لے کر گرفتار نواب کے پاس گیا۔ سراج الدولہ نے جب اس کے تیور دیکھے تو سمجھ گئے کہ ان کا آخری وقت آ گیا ہے۔

انہوں نے محمدی بیگ سے پوچھا کہ کیا تم مجھے قتل کرنے آئے ہو۔ جب ہاں میں جواب ملا، تو نواب نے اپنا سر جھکا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔ پھر انہوں نے قاتل سے کہا کہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ انہیں کسی کونے میں پڑا رہنے دیا جائے اور وہ پنشن پر اپنی باقی زندگی گزار لیں۔ لیکن قاتل نے کوئی جواب دینے کے بجائے ان پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ محمدی بیگ نے ان کے چہرے، ان کے سینے اور کمر پر اتنے وار کیے کہ سراج الدولہ منہ کے بل گرے اور پھر کبھی نہ اٹھے۔ اس واقعے کے مطابق سراج الدولہ کو جعفر گنج کی اسی نمک حرام ڈیوڑھی میں قتل کیا گیا۔

اس واقعے کا ایک دوسرا ورژن بھی ہے کہ نواب سراج الدولہ کو جعفر گنج میں نہیں یعنی نمک حرام ڈیوڑھی جہاں ہے وہاں نہیں بلکہ ان کے اپنے شاہی محل منصور گنج میں میر جعفر کے سامنے پیش کیا گیا۔ سراج الدولہ نے مبینہ طور پر میر جعفر کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے، کانپتے ہوئے اپنی جان کی امان مانگی۔ اس کے بعد سپاہی انہیں محل کے ایک دوسرے کونے میں لے گئے۔ اس دوران میر جعفر اپنے درباریوں سے مشورہ کرتے رہے۔ بعض لوگوں نے مشورہ دیا کہ سراج الدولہ کو جیل میں ڈال دینا چاہیے،مارنا نہیں چاہیے۔ لیکن میر جعفر کے بیٹے میر میرن، سراج الدولہ کو زندہ چھوڑنے کے سخت خلاف تھے۔

میر جعفر اپنے بیٹے کی رائے سن کر خاموش تھے اور اپنی رائے ظاہر نہیں کر رہے تھے۔ اس پر میر میرن نے اپنے والد کی خاموشی کو رضامندی سمجھتے ہوئے انہیں کہا کہ وہ آرام کریں اور معاملے کو وہ خود سنبھال لیں گے۔ میر جعفر نے دربار برخاست کیا اور اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد سراج الدولہ کو مارنے کیلئے محمدی بیگ کے ساتھ ایک اور شخص لال محمد کو بھیجا گیا۔ سراج الدولہ نے ان دونوں سے درخواست کی کہ وہ انہیں وضو کیلئے پانی دے دیں تاکہ وہ موت سے پہلے آخری بار نماز ادا کر سکیں۔

لیکن قاتلوں کو جلدی تھی انہوں نے وضو کیلئے پانی دینے کے بجائے پانی سے بھرا ہوا ایک برتن نواب سراج الدولہ پر انڈیل دیا۔ جب سراج الدولہ نے دیکھا کہ قاتل بہت جلدی میں ہیں اور انہیں نماز بھی نہیں پڑھنے دیں گے تو انہوں نے پینے کیلئے پانی مانگا۔ لیکن انھیں پانی دینے کے بجائے محمدی بیگ نے خنجر کے وار کرنا شروع کر دئیے لال محمد نے نہتے سراج الدولہ پر تلوار چلانا شروع کی اور بنگال کا نواب خون میں نہا کر زمین پر گر گیا۔ انھیں آخری سانسیں لینے کی مہلت بھی کم ہی ملی تھی۔ کیونکہ ان کی جان فوری طور پر نکل گئی دوستو تاریخ کے اس دوسرے ورژن سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ میر جعفر سراج الدولہ کو قتل نہیں کروانا چاہتے تھے۔

لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میر جعفر کے متعلق تاریخ کا یہ ورژن سو فیصد درست ہے۔ ہو سکتا ہے بعد میں میر جعفر کو سراج الدولہ کے قتل میں بری الذمہ قرار دینے کیلئے یہ تاریخ لکھوائی گئی ہو یا تبدیل کروائی گئی ہو۔ اس لئے ہم یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں کہ آپ تاریخ کے کس ورژن کو درست مانتے ہیں۔ سراج الدولہ کو قتل کرنے کے بعد بھی سازشی درباریوں کو تسلی نہیں ہوئی۔ وہ سراج الدولہ کو عبرت کا نشان بنانا چاہتے تھے تاکہ عوام ان کے خلاف بغاوت کا سوچ بھی نہ سکیں۔ چنانچہ سراج الدولہ کی لاش کو ایک ہاتھی پر رکھ کر پورے مرشد آباد میں گھمایا گیا۔

یہ منظر دیکھنے کیلئے شہر کے ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکلنے لگے۔ لوگ جوق در جوق آ رہے تھے اور حیران کن طور پر نواب کی لاش کو دیکھ کر دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ اتفاق دیکھئے کہ سراج الدولہ کی موت کے وقت ان کی والدہ امینہ بیگم زندہ تھیں۔ وہ گوشہ نشین ہو چکی تھیں اور باہر کی دنیا کی خبروں میں بہت کم دلچسپی لیتی تھیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے بیٹے پر کیا بیت چکی ہے۔ لیکن جب سراج الدولہ کی لاش لے جانے والا ہاتھی امینہ بیگم کے محل کے سامنے سے گزرا تو شاید ہجوم کی وجہ سے وہیں بیٹھ گیا۔

اس دوران کسی نے امینہ بیگم کو خبر کر دی۔ امینہ بیگم عام طور پر سخت پردہ کرتی تھیں لیکن بیٹے کی موت کی خبر سن کر ننگے سر، ننگے پاؤں دوڑتی ہوئی باہر آئیں اور بیٹے کی لاش سے لپٹ کر دیوانہ وار اسے چومنے لگیں اور رونے لگیں۔ ایک بوڑھی ماں کو جوان بیٹے کی لاش گود میں رکھ کر روتے ہوئے دیکھنا ایک ایسا منظر تھا جس نے وہاں موجود ہجوم پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ ایک لمحے کے لیے فضا میں خاموشی کا کہرام برپا ہوا اور پھر امینہ بیگم کے ساتھ سارا مجمع دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ یوں لگتا تھا کہ ابھی یہ لوگ سراج الدولہ کے قاتلوں کو مارنے کے لیے نکل کھڑے ہوں گے۔

یہ صورتحال ان کے قاتلوں کے لیے غیر متوقع تھی۔ سو میر جعفر کے سپاہیوں نے مداخلت کی اور ہجوم پر لاٹھیاں چلا کر انھیں منتشر کر دیا۔ سپاہیوں نے امینہ بیگم کو بھی زبردستی ان کے محل میں واپس دھکیل دیا اور ہاتھی کو اٹھا کر سراج الدولہ کی لاش لے گئے۔ تین جولائی سترہ سو ستاون، سیونٹین ففٹی سیون کے روز سراج الدولہ کی لاش کو مرشد آباد کے قریب خوش باغ نامی باغ میں دفن کر دیا گیا۔ موت کے وقت ان کی عمر بمشکل چوبیس یا پچیس سال تھی۔ یہ قبر دوستو سراج الدولہ کی آخری آرام گاہ ہے۔ سراج الدولہ کی موت کے بعد ان کے حرم کی خواتین کا بھی افسوسناک انجام ہوا۔

حرم کی ستر خواتین کو ایک کشتی میں بٹھا کر دریائے ہگلی کے وسط میں لے جایا گیا اور وہاں یہ کشتی ڈبو دی گئی۔ پھر ان خواتین کی لاشوں کو نکال کر اسی خوش باغ میں سراج الدولہ کی قبر کے آس پاس دفن کر دیا گیا۔ کچھ خواتین کو زہر دے کر بھی ہلاک کیا گیا۔ سراج الدولہ کے حرم کی خواتین میں سے صرف ان کی بیگم لطف النساء کو زندہ چھوڑا گیا کیونکہ میر جعفر اور ان کے بیٹے میر میرن دونوں ہی اس خاتون سے شادی کے خواہشمند تھے۔ لیکن لطف النسا نے ان دونوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے کہا ہاتھی پر سواری کرنے کے بعد اب میں گدھے کی سواری نہیں کریں گی۔

لطف النساء بیگم مرتے دم تک سراج الدولہ سے وفادار رہیں۔ سترہ سو نوے میں ان کا انتقال ہوا اور اس بہادر خاتون کو بھی خوش باغ میں سراج الدولہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ سراج الدولہ کے حرم کی خواتین کو ختم کرنے کے بعد میر میرن نے سراج الدولہ کے دیگر رشتے داروں کو بھی قتل کروایا۔ سراج الدولہ کے چھوٹے بھائی مرزا مہدی کو لکڑی کے دو تختوں کے درمیان رکھ کر پیس دیا گیا۔ میر میران نے اس قتل کو جائز قرار دینے کے لئے شیخ سعدی کی ایک کہاوت کو دوہرایا کہ سانپ کو مارنے کے بعد اس کے بچے کو چھوڑنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔

سراج الدولہ کے خاندان کے علاوہ ان کے وفادار درباریوں کو بھی چن چن کر قتل کیا گیا اور ان میں وہ جنرل مہاراجہ موہن لال بھی شامل تھے جو میر مدن کی ہلاکت کے بعد فوج کے کمانڈر بنائے گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ میرن کے پاس ایک فہرست ہوتی تھی جس میں وہ سراج الدولہ کے مارے گئے رشتے داروں کے نام درج کرتے رہتے تھے۔ اس فہرست کے مطابق تین سو سے زائد ایسے لوگوں کو قتل کیا گیا جن کا سراج الدولہ سے کوئی بھی قریبی تعلق نکلتا تھا۔ سراج الدولہ کو آج صرف مغربی بنگال میں ہی نہیں بلکہ موجودہ بنگلہ دیش اور پاکستان سمیت پورے برصغیر میں ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے۔ مغربی بنگال میں ان کے کئی مجسمے نصب ہیں۔

پلاسی کے میدان میں جہاں انہوں نےا نگریزوں کا مقابلہ کیا تھا وہاں بھی ان کا ایک مجسمہ اور جنگ کے یادگاری مینار تعمیر کئے گئے ہیں۔ سراج الدولہ کی زندگی پر بنگلہ دیش اور مغربی بنگال میں فلمیں بھی بن چکی ہیں۔ جس محل میں انہیں مبینہ طور پر قتل کیا گیا اور جہاں میر جعفر کی رہائش تھی اس محل کو نمک حرام ڈیوڑھی کہا جاتا ہے۔ یہ نام بھی اس محل کو اسی وجہ سے دیا گیا ہے کیونکہ یہیں میر جعفر کی غداری کی وجہ سے نواب سراج الدولہ قتل ہوئے تھے۔

ہسٹورین محمد عمر کے مطابق علامہ اقبال نے سراج الدولہ کے متعلق کہا تھا کہ سراج الدولہ کو ابھی ہندوستان نے پہچانا نہیں۔ نہیں تو مرشد آباد دوسرا اجمیر شریف بن جانا تھا یعنی علامہ اقبال کے مطابق سراج الدولہ ایک پیر یا ولی کا درجہ اختیار کر سکتے ہیں اور ان کے مزار کی زیارت کے لیے لوگ قافلوں کی شکل میں سفر بھی کر سکتے ہیں۔ دوستو حقیقت یہ ہے کہ سراج الدولہ کے آخری سانس کے ساتھ ہندوستان کی آزادی کا چراغ بھی بجھ گیا۔

دوستو وہ سازشی ٹولہ جس نے اپنے نواب کو انگریزوں کے آگے چارے کے طور پر پیش کردیا تھا ان کا انجام بہت تکلیف دہ ہوا لیکن یہ انجام کیا تھا؟ کیا غداروں نے بھی اس کے بعد انگریزوں سے کوئی لڑائی لڑی تھی؟ مغل بادشاہ نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف ایسٹ انڈیا کمپنی سے ہاتھ کیوں ملا لیا تھا؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن نواب سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی کی آخری قسط میں۔ یہاں کلک یا ٹچ کیجئے۔ یہاں دیکھئے

Read More :: Urdu Islamic Books Pdf And Online Read – Pakistanwap

Part 6 :: The History Of Bengal Urdu Episode 6 | The End Of Mir Jafar

▷❤▷❤ Watch Historical Series English Subtitles And Urdu Subtitles By Top20series

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: