The Universe -Kul Kainaat Series Dekho Suno Jano ( Faisal Warraich ) Urdu

Unforgettable Story of Spacecraft Urdu | ایک سیارہ جو سورج بننا چاہتا تھا، لیکن۔۔۔

Unforgettable Story of Spacecraft Urdu | ایک سیارہ جو سورج بننا چاہتا تھا، لیکن۔۔۔

یہ اٹلی میں ویٹی کن سٹی سٹیٹ کا شہرہ ئے آفاق میوزیم ہے۔ اس چھت پر عظیم فنکار مائیکلو اینجلو کی وہ شاہکار پینٹنگز ہیں جن کا ثانی بلاشبہ دنیا بھرمیں کوئی بھی نہیں۔ اسی میوزیم میں یہ خوبصورت مجسمہ آپ کی نظروں سے ضرور گزرا ہو گا، تصاویر میں یا پھر فلمز میں آپ نے دیکھا ہوگا۔ یہ رومن دیوی جیونو ہے، اور رومنز مائی تھالوجی میں یہ سب سے بڑے دیوتا جوپیٹر کی بیوی تھی۔ لیجنڈ کے مطابق مائی تھالوجی کے مطابق جیوپٹر شرارتاً گہرے بادلوں میں چھپ جاتا توکوئی اسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔

Unforgettable Story of Spacecraft Urdu | ایک سیارہ جو سورج بننا چاہتا تھا، لیکن۔۔۔

مگر اس کی بیوی جیونو گہرے بادلوں کے نیچے جھانک کر چھپے ہوئے جوپیٹر کو دیکھ لیا کرتی تھی۔ یہ کہانی ہزاروں برس پرانی ہے، دل لبھانے والی ہے لیکن ظاہر ہے کہ ایک لیجنڈ ہی تو ہے۔ لیکن اتنا تو سچ ہے کہ یہ پلانٹ جیوپیٹر، سیارہ مشتری سیکڑوں کلومیٹر گہرے بادلوں کے نیچے واقعی چھپا ہوا ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ خلا میں تین بازو کھولے تیرتا ہوا یہ سپیس کرافٹ انھی بادلوں کے نیچے جھانکنے کے لیے جا رہا ہے اور اس کا نام بھی جیونو ہی ہے۔ مشن جیونو نے ہمیں سیارے کے بارے میں کیا کچھ دکھایا او سنایا؟ اگر آپ جیوپٹر کے بادلوں میں گر جائیں تو کیا دوسری طرف بادلوں سے نکل آئیں گے؟

اور ہاں اسی کے بادلوں کے نیچے گرم ترین مقام پر آپ کی گلیلیو سے ملاقات ہو گی۔ وہ کیسے… کل کائنات کی اس قسط میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گے پلانٹ جیوپیٹر کو تنہا دیکھیں تو ایک رنگین گیند لگتی ہے۔ یہ ایک آرٹ ورک لگتا ہے، جیسے کسی بہت ہی عظیم فنکار کا حسین ترین شاہکارہو۔ لیکن صرف اتنا ہی کیوں؟ ذرا اس کا حجم تو دیکھیں، اس کا سائز تو چیک کیجئے۔ اگر اسے سولر سسٹم کے تمام سیاروں کےساتھ کھڑا کیا جائے تویہ ایک دیو ہے۔ اتنا بڑا دیو کہ اگر ہماری زمین ایک انگور کے دانے جتنی ہو تو جوپیٹرایک فٹبال جتنا ضرور ہو گا۔

یہ اتنا وسیع ہے کہ اس میں ہمارے سولر سسٹم یعنی نظام شمسی کے تمام سیارے، تمام چاند، سارے کے سارے کامٹس، شہابیہ غرض کہ جو کچھ بھی ہے سوائے سورج کےاس میں سما جائے تو بھی اس میں کافی جگہ بچ رہے گی۔ اور ایک ہی بار کیوں؟ وزن کے اعتبار سے بھی اگر یہ تمام سیارے دو بار بھی ایک پلڑے ڈال دئیے جائیں تو مشتری کا پلڑا بھاری ہوگا۔ یہ اتنا بڑا سیارہ ہے کہ ہم اسے سیاروں کا گاڈ فادر بھی کہہ سکتے ہیں۔ بس فرق اتنا ہے کہ زمین پر گاڈ فادرز کوئی اچھے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا لیکن یہ ایسا گاڈ فادر ہے جو ساڑھے چار ارب سال سے، فور پوائنٹ فائیو بلین ائیرز سے ہمارے لیے ایک ڈھال بنا ہوا ہے۔

اگر یہ نہ ہوتا تو شاید آپ اس وقت یہ وڈیو دیکھنے کے لیے اور ہم یہ وڈیو بنانے کے لیے موجود ہی نہ ہوتے نہ کوئی زمین جیسا سیارہ ہوتا اور نہ کوئی رواں دواں زندگی۔ لیکن یہ سب ہمیں کیسے پتا ہے؟ وہ ایسے کہ یہ واقعہ انسان نے ابھی چند ہی برس پہلے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ کیسے۔۔۔ یہ زمین کے اٹماسفئیر سے اوپر خلا میں گردش کرنے والی دوربین ہبل ٹیلی سکوپ ہے۔ اس سے دور خلاؤں میں سیاروں اور کہکشاؤں کو کھوجا جاتا ہے۔ اس نے جولائی1994 میں ایک عجیب وغریب منظر دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک بہت ہی بڑا پتھر اڑتا ہوا آ رہا ہے۔ یہ میلوں تک پھیلا لمبا چوڑا پتھر اگر زمین پر گرتا تو شاید سب کچھ بھسم کر دیتا۔ لیکن زمین اور اس کے درمیان یہ بڑا سیارہ جیوپٹر تھا۔ مشتری تھا۔

اس پتھر کو جیوپٹر نے بے پناہ کشش سے اپنی طرف کھینچا۔ جیوپٹر کی بے مثال گریویٹی نے پتھر کو پہلے تو کئی ٹکڑوں میں توڑ کر رکھ دیا۔ یہ جو خلا میں آپ اکیس پتھروں کی ایک قِطار سی دیکھ رہے ہیں ناں یہ اسی بڑے پتھر کے ٹوٹنے سے بنی ہے اور ہبل ٹیلی سکوپ نے یہ منظر محفوظ کیا تھا۔ پتھروں کے یہی ٹکڑے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی تیز ترین رفتار سے اڑتے ہوئے 16 جولائی 1994 کو جیوپٹر پر گرنا شروع ہوگئے۔ پتھروں کی یہ بمبارمنٹ اتنی شدید تھی کہ جیوپیٹر کے ایٹماسفئیر میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھنا شروع ہو گیا۔ یہاں تک کہ ٹمپریچر30 ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

جیوپیٹر جیسے بڑے سیارے کے لیے بھی یہ چوٹ بہت غیر معمولی تھی۔ اتنی غیر معمولی کہ سیارے سے تین ہزار کلومیٹر اونچے بادل اٹھے اور ہبل ٹیلی سکوپ نے یہ منظر بھی ریکارڈ کر لیا۔ یہی نہیں بلکہ جیوپٹر پر لمبے عرصے کے لیے ایک سیاہ دھبہ اور دائرہ بھی نظر آتا رہا، جس کی ایک امپروڈ پکچر آپ سکرین پر دیکھ رہےہیں۔ یہ سب کچھ امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنسدانوں نے ہبل ٹیلی سکوپ کی مدد سے لیبارٹریز میں دیکھا۔ یہ خلائی تحقیق میں بڑی دریافت تھی، اس پتھر کو ’شومیکر لیوی نائن‘ کا نام دیا گیا کیونکہ اسے دو اسٹرانومرز شومیکر اور لیوی نے دریافت کیا تھا۔

اس سارے مشاہدے سے آبزرویشن سے یہ بات صاف ہو گئی کہ جیوپیٹر، سیارہ مشتری زمین پر زندگی کا گیٹ کیپر ہے۔ کیونکہ یہ زمین کی طرف بڑھنے والے بے شمار خلائی پتھروں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے یا پھر بعض اوقات غُلیل کی طرح گھما کر پرے بھی دھکیل دیتا ہے۔ اور مشتری ایسا اس وقت سے کر رہا ہے جب سے یہ وجود میں آیا تھا۔ یعنی کم از کم کم ساڑھے چار ارب سال پہلے سے۔ مگر یہ وجود میں آیا کیسے؟ تو آپ حیران ہوں گے کہ یہ سیارہ مشتری، یہ پلانٹ جیوپیٹر دراصل تھوڑا تھوڑا سورج ہے۔ کچھ ایکسپرٹس جوپیٹر کو یہ بات ظنز کہتے ہیں کہ یہ دراصل بڑا ہو کر سورج بننا چاہتا تھا لیکن ناکام رہا اور بڑا سا سیارہ بن کر چھوٹے سیاروں پر رعب جمانے لگا۔

مذاق ہی میں سہی لیکن ایسا کیوں کہا جاتا ہے؟ آپ کو ایک دلچسپ سائنٹیفک کہانی دکھاتے ہیں۔ جس میں ان دونوں باتوں کا جواب مل گیا۔ پانچ ارب سال پہلے ہمارے گلیکسی ملکی وئے میں ایک ستارہ پھٹتا۔ ستارے پھٹنے کا عمل، یعنی ہائپرنوا یا سپر نوا، کہکشاؤں میں گلیکسیز میں ہر وقت جاری رہتا ہے۔ یہ بھی اسی طرح کا ایک عمل تھا۔ سو اس ستارے کے پھٹنے سے جو گیس اور دھول وجود میں آئی وہ ایک دائرے کی شکل میں گھومنے لگی۔ اس دائرے کا مرکز اس عمل سے گرم سے گرم تر ہوتا چلا گیا۔ اور آخر کار ہمارا تمہارا زندگی آمیز سورج وجود میں آ گیا۔

ہم اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ ہمارے سورج کی عمر پانچ ارب سال سے کچھ ہی کم ہے۔ لیکن ہوا یہ کہ سورج بننے کے بعد بھی اس کے گرد بہت سی گیسوں اورڈسٹ کے بادل حرکت کر رہے تھے یعنی ستارہ پھٹنے سے جو مادہ وجود میں آیا تھا اس کا بہت سا میٹیرئل بچ رہا تھا۔ سو یہ بھی دائرے میں گھومتا گھومتا ایک بڑے جسم میں بدل گیا، جس کا سائز تو چھوٹا تھا لیکن باقی سب کچھ سورج جیسا تھا۔ یہ جیوپیٹر تھا، یہ مشتری تھا، لیکن یہ سورج نہیں تھا، ستارہ نہیں تھا یہ ایک ہیووج پلانٹ تھا۔

ہاں یہ ضرور تھا کہ اس میں سورج ہی کی طرح ہائیڈروجن اور ہیلیم کی مقدار 99 پرسنٹ سے بھی زیادہ تھی ہاں اس کا سائز بھی عام سیاروں سے بہت ہی بڑا تھا۔ لیکن پھر بھی یہ ایک پلانٹ، ایک سیارہ ہی تھا کیونکہ سورج کے میرٹ تک پہنچنے کے لیے جوپیٹر کو اور بڑا ہونا چاہیے تھا۔ اس کو اپنی حرارت بھی خود پیدا کرنا تھی لیکن ایسا ہو نہ سکا اور یہ سیارہ ہی رہا۔ جیوپٹر کے وجود میں آنے کے بعد ایک ارب سال مزید گزرے۔ پھٹے ستارے سے ایک سورج اور ایک بڑا سیارہ وجود میں آ چکا تھا لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ اب بھی سورج اور جیوپیٹر سے بچی ہوئی تھوڑی بہت ڈسٹ اور گیس باقی تھی۔

اسی تھوڑی سی بچی ہوئی ڈسٹ اور گیس سے جانتے ہیں کیا ہوا؟ ہمارے سولر سسٹم کے ہمارے نظام شمسی کے تمام سیارے، چاند، کامٹس، شہابہیے، اسی سےوجود میں آیا۔ اس میں ہمارے تمام چاند بھی شامل ہیں۔ جو مختلف سیاروں کے گرد حرکت کرتے ہیں تو اس ساری بات سے آپ یہ تو سمجھ گئے کہ ہمارے سولر سسٹم میں سیارہ مشتری جیوپیٹر سب سے پہلے وجود میں آیا تھا۔ اس لیے اگر ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ ہمارہ سولر سسٹم کیسےوجود میں آیا؟ تو سب سے پہلے وجود میں آنے والے جیوپیٹرکو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اسی میں یہ راز چھپا ہے۔

اور یہی میشن ہے جیونو کا۔ 2011 میں یہی سب جاننے کے لیے جیونو کو فلوریڈا سے جیوپیٹرکی طرف لانچ کیا گیا۔ جب اسے لانچ کیا گیا تو اس کے انجئینرز کی آنکھوں میں آنسو تھے کیونکہ یہ ان کا محبوب پراجیکٹ تھا اور یہ بجا طور پر جانتے تھے کہ اب جیونو کبھی ان کے پاس واپس نہیں آئے گا۔ تو یہ وہی جیونو ہے تین اطراف بازو پھیلائے خلا میں تیرتا چلا جا رہا ہے۔ اسے جلد از جلد جوپیٹر، مشتری سیارے تک پہنچنا ہے۔ 2011 میں زمین سے اڑنے والا جیونو سپیس کرافٹ جولائی 2016 میں جیوپٹر کے آربٹ تک مدار تک پہنچ گیا۔

پانچ سال میں جیونو نے چھیانوے کروڑ کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ تن تنہا طے کیا تھا۔ شاید آپ کو یہ وقت اور فاصلہ بہت زیادہ لگتا ہو۔ لیکن ایک بار پھر غور کیجئے اگر جیونو ایک کمرشل جیٹ کی رفتار سے اڑتا تو اسے مشتری تک پہنچنے میں 342 ائرز لگتے۔ تب تک اسے بھیجنے والوں کی نجانے کتنی نسلیں گزر چکی ہوتیں۔ تب تک تو ایک جہان بدل چکا ہوتا، ترجیحات بدل چکی ہوتیں۔ اسی لیے سپیس کرافٹ جیونو کو تیز رفتار بنایا گیا تھا۔ خلا میں چونکہ ہوا اور آٹماسفئیر جیسی کوئی رکاوٹ، رززسٹنس نہیں ہوتی، اس لیے وہاں رفتار اور بھی تیز ہو جاتی ہے۔

اس کی رفتار بڑھتے بڑھتے غیر معمولی ہو گئی اور مشتری کے قریب پہنچ کر یہ انسان کی بنائی ہوئی سب سے تیز ترین مشین بن گیا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں جیونو سپیس کرافٹ دو لاکھ پچاس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر چکا تھا۔ صرف سمجھنے کے لیے یوں جانئیے کہ اگر یہی سپیس کرافٹ اسی رفتار سے دہلی سے چلے تو چھے سیکنڈ سے کچھ پہلے لاہور پہنچ جائے گا۔ تو جیونو جہاں پہنچ چکا تھا یہی وہ جگہ تھی جہاں سے اس کا اصل کام شروع ہو رہا تھا۔ اسے جوپیٹر کے گرد 37 چکر لگانے تھے، یہ کل فاصلہ لگ بھگ دو ارب اسی کروڑ کلومیٹر کے قریب بنتا ہے اور جیونو نے یہ چکر بھی لگائے اور فاصلہ بھی ناپا۔

کیا آپ ۔۔ایسا کر سکتے ہیں؟ نہیں ہیومن بائیولوجی ایسی عظیم مہم جوئی کے لیے ایوالو ہی نہیں ہوئی۔ لیکن جو معلومات ہمیں جیوپیٹر کے بارے میں حاصل ہیں اس سے ہم ایک تصور کر سکتے ہیں کہ اگرآپ جیوپٹر پر مشتری پر موجود ہوں تو کیا ہو گا؟ بلکہ کیوں نہ آپ کو جیوپٹر میں گرا دیا جائے۔ جی ہاں آپ کو اگر آپ کی عمر25 سال ہے اور آپ کا وزن 75 کے جی، پچھتر کلوگرام ہے تو جانتے ہیں آپ مشتری پر کتنے برس کے اور کتنے وزن کے ہوں گے؟ مشتری سیارے پر آپ کی عمر محض دو سال ہو گی اور آپ کا وزن ایک سو نوے کلوگرام ہو گا۔

کیونکہ مشتری پر دن بھلے10 گھنٹے سے کچھ کم کا ہوتا ہے لیکن اس کا ایک سال 4333 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے فور تھاؤزنڈ تھری ہنڈرڈ تھرٹی تھری دیز کا۔ وجہ یہ ہے کہ اسے سورج کے گرد زمین کی نسبت کہیں لمبا چکر مکمل کرنا ہوتا ہے۔ جس میں اسے ہزاروں شمسی دن لگتے ہیں۔ جبکہ یہ اپنے گرد ایک چکر صرف 10 گھنٹے میں مکمل کر لیتا ہے۔ اس کی بے پناہ کشش کے باعث وہاں ہمارا وزن بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر آپ یہ وڈیو دیکھ رہے ہیں تو یقیناً آپ کو سائنس سے بے حد دلچسپی ہو گی۔

تو میں آپ کو ایک کھیل بتاتا ہوں۔ وہ یہ کہ آپ اس ویب سائٹ پر جائیے۔ اور اپنی عمر اور وزن لکھ کر یہاں کلک کیجئے آپ کو علم ہو جائے گا کہ کس سیارے یا چاند پر آج آپ کی عمر کیا ہے اور آپ کتنے وزنی ہیں یا ہلکے ہیں؟ یہ دلچسپ کھیل آپ کھیل سکتے ہیں کیونکہ آپ کے پاس انٹرنیٹ اور سمارٹ فون ہے۔ اور اگر آپ کے پاس سپیس کرافٹ بھی ہے تو آپ کسی پتھریلے سیارے پر اتر بھی سکتے ہیں۔ ہاں زندہ رہنا یا نہ رہنا ایک الگ کہانی ہے۔ لیکن اگر آپ کے پاس سپیس کرافٹ بھی ہے تو بھی آپ پلانٹ جیوپٹر پر لینڈ نہیں کر سکتے۔

کیونکہ اس کی سطح پتھریلی یا چاند کی طرح ریت جیسی نہیں ہے بلکہ گیس کے گہرے بادلوں میں ڈھکی ہوئی ہے۔ پھر بھی فرض کریں آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ نے جیوپیٹر پر اترنا ہے تو جان لیں کہ وہاں آکسیجن ہے ہی نہیں۔ اس لیے چھلانگ لگانے سے پہلےمشتری میں کود نے سے پہلے آپ کو ایک ایسا سپیس سوٹ چاہیے جس میں ان لیمیٹڈ آکیسجن ہو کیونکہ جیوپیٹر کا ڈائمیٹر ایک لاکھ بیالیس ہزار کلومیٹر ہے۔ تو جب آپ اس کی سطح سے نیچے اتریں گے اس کی کشش آپ کو ایک لاکھ ستتر ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کھینچے گی۔

ایک سو چھپن کلومیٹر نیچے اترنے کے بعد جو کہ آپ چند سیکنڈز ہی میں اتر جائیں گے آپ کو گلیلیو کی برابری کا شرف حاصل ہو جائے گا۔ وہ کیسے؟ وہ یوں کہ 1995 میں امریکی مشن میں شامل گلیلیو پروب بھی یہاں تک آ چکا ہے۔ یہ ایک گھنٹے تک جیوپٹر کے آٹماسفئیر سے معلومات بھیجتا رہا لیکن پھر اسے گرم اور سخت جیوپیٹر نے نگل لیا اور لامتناہی گیسوں میں کہیں چھپا لیا۔ ہاں مگر آپ ابھی اور نیچے جا سکتے ہیں کیونکہ آپ تو صرف امیجن ہی کر رہے ہیں ناں۔ تو ابھی مزید رفتار میں گرتے گرتے تقریباً بارہ گھنٹوں میں آپ 4000 کلومیٹر نیچے جا پہنچیں گے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں کا دباؤاور گرمی کوئی بھی چیز برداشت نہیں کر سکتی۔

جیوپیٹر کے اس مقام پر معلوم کائنات کی سب سے زیادہ سخت دھات، ملٹنگ پواائنٹ کے اعتبار سے، ’ٹنگسٹن‘ بھی یہاں پگھل جائے گی۔ لیکن رکئے نہیں ابھی اور نیچے جائیے کیونکہ آپ تو فرض ہی کر رہے ہیں ناں۔ اور ابھی تو آپ آدھے بھی نہیں اترے۔ اکیس ہزار کلومیٹر نیچے وہ جگہ ہے جہاں کا درجہ حرارت سورج کی سطح سے بھی زیادہ گرم ہے۔ لیکن یہاں بھی نہیں رکنا اور نہ ہی جیوپٹر کی کشش آپ کو رکنے دے گی۔ اور نیچے جائیے۔ کچھ ہی دیر بعد آپ جیوپٹر میں ایک ایسی جگہ پہنچیں گے جسے آپ حد کہہ لیں۔ یہ آپ کے جیوپٹر میں گرنے کی آخری لِمٹ ہے۔

ابھی جیوپٹر کا مرکز نہیں آیا۔ لیکن آپ کو کشش کے پیچیدہ اصولوں کی وجہ سے ایک باؤنس بیک ملے گا۔ آپ اوپر کو اٹھیں گے لیکن کچھ ہی دیر میں ایک بار پھر جیوپٹر کے مرکز کی کشش آپ کو نیچے کھینچ لے گی۔ لیکن چند کلومیٹر بعد پھر باؤنس بیک ملے گا۔ آپ اوپر کو اٹھے گے۔ یعنی جیوپٹر آپ سے باسکٹ بال کی طرح سلوک کرے گا، یا پھر سکوش کی گیند کی طرح۔ کچھ بھی ہے ایک بات یقینی ہے کہ آپ کبھی اس کے مرکز میں اس طرح تو نہیں پہنچ سکیں گے اور سچ بتائیں تو اب آپ باہر بھی نہیں آ سکتے۔ لیکن آپ آ جائیے کیوںکہ آپ تو تصور ہی کر رہے تھے ناں۔

جیسٹ امیجنگ سو جسٹ سٹاپ امیجننگ۔ اور جیوپٹر کی سطح پر واپس اُبھرئیے۔ کیونکہ آپ بہت کچھ دیکھ چکے ہیں۔ اور اب دیکھو سنو جانو کے اصول پر دیکھنے کے بعد کچھ سنیئے بھی۔ یہاں جیوپیٹر کی آواز ہے۔ اگر آپ تین سے چار ہزار کلومیٹر دور سے جیوپیٹر کی آواز سنیں تو آپ کی سماعتوں سے کچھ اس طرح کی آوازیں ٹکرائیں گی۔ مشتری کی آواز دیکھنے اور سننے کے بعد اب جانئیے کہ مشتری کے بادلوں سے باہر یہ رہا ہمارا تمہارا سپیس کرافٹ جیونو وہی جو مشتری کو بادلوں کے باہر کھڑا ہو کراندر سے دیکھنے کا دعویٰ رکھتا ہے۔ ایک لمحہ ہم یہاں ٹھہرتےہیں اور دیکھتے ہیں، جیونو ہی کے کیمرے کی مدد سے دیکھتے ہیں۔

کہ اسے جیوپیٹر کیسا دکھائی دیتا ہے، ایک آربیٹر سپیس کرافٹ تجربات کیسے کرتا ہے۔ قریب بہت قریب اور پھر دور اور پھر بہت ہی دور اور بھی فاصلے پر، اتنے فاصلے پر کہ آپ کو بھی لگے گا کہ اب شاید جیونو دوبارہ جیوپٹر کے پاس کبھی نہ جا سکے گا۔ مگر پھر خلا میں ایک دھبہ بڑا ہونے لگتا ہے۔ یہ جیوپٹر ہی ہونا چاہیے، جیونو قریب ہوتا چلا جاتا ہے اور جیوپیٹر ایک پتھر کی طرح اس کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے، جسے بہت زور سے لگے گا۔ لیکن جیونو اس سے ٹکرانے کے بجائے اس کے گرد ایک دائرہ بناتا ہوا اس کے اوپر سے گزرتا ہے۔

جیونو پر نصب سنسرز، آلات اور کیمرے اپنا اپنا کام لمحوں میں کرتے جاتے ہیں اور تمام معلومات جمع کر لیتے ہیں۔ یوں دائروں کے سفر میں زیادہ سے زیادہ معلومات ڈیپ سپیس نیٹ ورک کے ذریعے نیچے ناسا کے اس سٹیشن میں بھیجتا رہتا ہے۔ سچ بتائیں تو جیونو زیادہ وقت جیوپٹر سے دور ہی رہتا ہے، کیونکہ سیارے مشتری کی کشش ہی اتنی زیادہ ہے کہ یہ اسے تجربے کے لیے بہت کم وقت کے لیے اپنی قریب آنے دیتا ہے۔ بہت ظالم ہے جیوپٹر۔ 2020 کی نیوائر نائٹ تک جیونو اپنے محبوب سیارے جیوپیٹر کے گرد دو سو پچاس ملین مائلز کے دائروں کا سفر مکلمل کر چکا تھا۔

اس کا مشن آخری مراحل میں ہے، پھر اسے کسی وقت اسی سیارے کے انتہائی گرم اور نامعلوم گہرائیوں تک ڈوبے بادلوں میں ڈوب کر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانا ہے۔ لیکن ہماری کیورسٹی، ہمارے تجسس کا سفر ختم نہیں ہو گا۔ ہمیں ابھی بہت دلچسپ بات یہ جاننا ہے کہ آخر جیوپٹر کے ایک ہاتھ پر برف اور ایک پر آگ کیوں ہے؟ یہ سانگ آف آئس اینڈ فائر کیا ہے؟ جیوپیٹر پر زندگی کا کوئی چانس ہی نہیں ہے، لیکن جیوپیٹر کے قریب وہ کیا ہے جس کے اوپر پانی کے بخارات انسان نے ہبل ٹیلی سکوپ سے دیکھے ہیں؟ کیا واقعی ایک چاند کی برف کےنیچے مچھلیاں تیر رہی ہیں؟

وہ کون سا مشن ہے جو اس برف کے نیچے جھانکنے کے لیےجا رہا ہے؟ یہ کیسے جائے گا اور کیسے جھانکے گا؟ جیوپیٹر پر چار سو سال سے نظر آنے والا گریٹ ریڈ سپاٹ کیا ہے؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن دا یونیورس، کل کائنات کی اگلی قسط میں دوستو اک آپ سے چھوٹی سی معذرت ہے۔ پچھلی قسط کل کائنات کی پانچویں قسط میں جس میں ہم نےبتایا کہم مریخ پر انسان کیسے رہے گا؟ اس کے شروع میں ہم نے آپ کو بتایا کہ تاریخ میں کسی وقت ایک کامٹ مریخ سے اڑتا ہوا زمین کی طرف آیا اور پوری قوت سے ٹکرا گیا۔

یہ الفاظ بولنے میں اس طرح ادا ہوئے کہ جیسے یہ کامٹ یہ شہابیہ مریخ سے آیا ہو گا۔ لیکن اصل میں ہم بتانا یہ چاہتے تھے کہ شہابیہ، کومٹ، اوٹر سپیس سے خلا سے آیا تھا، جس میں زندگی کے بیج ہونے کا امکان تھا۔ یعنی خلا کی جگہ مریخ کا لفظ بول دیا گیا۔ یہ ایک غلطی تھی جس کی کرکشن، جس کی تصحیح ہم نے ٹاپ کامنٹ میں کر دی تھی اور سب ٹائٹلز میں بھی اسے ٹھیک کر دیا تھا۔ اور اب اس وڈیو میں بھی آپ کو بتا رہے ہیں۔ کہ اصل بات کیا ہے۔

آئیندہ بھی اگر کوئی مائنر مسٹیک ہو گی تو ہم اسے ٹاپ کمنٹ میں لکھ دیں گے۔زیادہ بڑی غلطی ہو گی تو ویڈیو دوبارہ لوڈ کریں گے۔ تو دوستو کل کائنات سیریز کو بے پناہ پسند کرنے کا بہت شکریہ۔ مئے ون ملین کیوریس فیلوز اگر آپ نے یہ سیریز شروع سے نہیں دیکھی تو یہ جاننے کے لیے کہ چاند پر انسان کیسے پہنچا اور وہاں کس نے کس خوبصورت لڑکی کا نام لکھا تھا یہاں کلک کیجیے، یہاں دیکھئے کہ سورج کو انسان نے کیسے چھو لیا تھا اور یہ رہی وہ فیوچر سٹوری کہ ہم مریخ پر جا تو رہے ہیں لیکن وہاں رہیں گے کیسے؟

Read More :: History of Pakistan Read In Urdu Article And Watch Play History

Part 7:: The Song of Ice & Fire, Planet Jupiter and its Moon Europa Urdu | کڑوروں کلو میٹر دور برف کا ایک سمندر ہے

▷❤▷❤ Watch Historical Series English Subtitles And Urdu Subtitles By Top20series

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Adblock Detected

Please Turn off Your Adblocker. We respect your privacy and time. We only display relevant and good legal ads. So please cooperate with us. We are thankful to you