Wo Kon Ha Series Dekho Suno Jano ( Faisal Warraich ) Urdu

Who was join of Arc Urdu | جون آف آرک کون تھی؟

Who was join of Arc Urdu | جون آف آرک کون تھی؟

ہم آپ کو جون آف آرک کی اسی داستان کا دوسرا اور آخری حصہ دکھا رہے ہیں۔ فرانس کا شہر روآں، بہت خوبصورت اور قدیم شہر ہے۔ اس کا یہ بازار سیدھا سا نفیس سا چلتا جاتا ہے لیکن اس کے بیچوں بیچ یہاں یہ عجیب سے پتھر نصب ہیں۔ یہ جگہ ناں پارک ہے اور پارکنگ۔ پھر یہ چلتی سڑک کے بیچ میں کیوں ہے؟ دراصل یہاں چھ سو سال کی تاریخ دفن ہے۔ دراصل یہاں ایک انیس سالہ لڑکی کی ناقابل فراموش داستان زندہ ہے۔ جون آف آرک نے بادشاہ کو بتائے بغیر رضاکاروں کی ایک چھوٹی سی فوج تیار کی اور اسے لے کر پیرس پر چڑھائی کر دی۔ بادشاہ جون کے اس اقدام کی قطعاً حمایت نہیں کرتا تھا لیکن وہ چونکہ حال ہی میں اسی کی مدد سے تو بادشاہ بنا تھا، سو وہ بھی اس کی کھلی مخالفت نہیں کر سکتا تھا، اس لیے فوج لے کر اس کے پیچھے چلاگیا۔ لیکن اس نے دل سے حملے میں حصہ نہیں لیا۔

Who was join of Arc Urdu | جون آف آرک کون تھی؟

سو جیسے ہی جنگ کے دوران ایک بار جون زخمی ہوئی تو اس نے برگنڈیوں سے صلح کر لی۔ جون کو علم ہوا تو چاروناچار اسے بھی خاموش ہونا پڑا اور وہ بادشاہ کے ساتھ ہی واپس آ گئی۔ لیکن کچھ دیر بعد چودہ سو تیس میں برگنڈیوں اور انگریزوں نے مل کر ایک اور فرانسیسی شہر پر چڑھائی کردی تو بادشاہ نے اس شہر کو بچانے کے لیے ایک بار پھر جون آف آرک کو چند سو سپاہیوں کے ساتھ لڑنے کے لیے بھیجا۔ نکلنے سے پہلے اس نے پیش گوئی کی کہ وہ سینٹ جونز کےمسیحی تہوارسے پہلے گرفتار ہو جائے گی۔ سینٹ جانز ڈے، مسیحی برادری حضرت عیسیٰ کے قریبی ساتھی سینٹ جونز دا بیپٹیسٹ کی سالگرہ کے طور پر مناتے ہیں۔ دوستو ایک بات کی وضاحت یہاں ضروری ہے کہ جون آف آرک خود تیر تلوار کی ماہر نہیں تھی۔

وہ بس لڑکوں جیسے بال کٹوا کر زرہ پہن کر سپاہیوں کو جوش دلواتی تھی۔ میدان جنگ میں بے خوف ہو کر آگے آگے ہوتی تھی۔ پھر چونکہ وہ ایک مذہبی روحانی شخصیت کا درجہ بھی اختیار کر چکی تھی اس لیے سپاہی اسے دیکھ کر بہت پرجوش ہو جاتے تھے اور جی جان سے لڑتے تھے۔ تو یہ ہوا کہ اس شہر کو بچاتے ہوئے ایک حملے کے دوران جون آف آرک قلعے کے باہر رہ گئی اور محافظوں نے اندر سےدروازہ بند کر دیا۔ وہ تلوار بازی کی اتنی ماہرتو تھی نہیں سو اسی لیے وہ زیادہ دیر مقابلہ بھی نہ کر سکی اور برگنڈیوں کے ایک تیرانداز نے اسے گھوڑے سے گرا کر اپنے کمانڈر کے حوالے کر دیا۔ وہ گرفتار ہو چکی تھی۔ یہ تئیس مئی چودہ سو تیس کا دن تھا۔

اس کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد سینٹ جونز کا تہوار تھا، یعنی جون آف آرک اپنی پیش گوئی کے مطابق اس تہوار سے پہلے گرفتار ہو گئی تھی۔ برگنڈیوں نے جون کو ایک ٹاور میں قید کر دیا۔ جون جانتی تھی کہ اب اسے زیادہ سے زیادہ تکلیف دی جائے گی۔ اس لئے ایک دن وہ اونچے ٹاور کی کھڑی سے باہر کود گئی۔ باہر وہ ایک کھائی میں گری لیکن وہاں کی نرم زمین ہونے کے باعث اسے زیادہ چوٹ تو نہیں آئی لیکن وہ گر کر بیہوش ہو گئی۔ سپاہیوں نے جلد ہی اسے تلاش کر لیا اور اس پر سخت نگرانی قائم کر دی جون برگنڈیوں کی قید میں تھی اور برگنڈیوں کا سردار ڈیوک آف برگنڈی اس قیدی کو بیچنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس اٹھارہ سالہ لڑکی کے تین متوقع خریدار، پوسیبل بائیرز تھے۔ ایک فرانس کا بادشاہ چارلز سیون، جو اس کا سب سے بڑا اور اہم ساتھی تھا

پیرس کا چرچ اور پادری جو سمجھتے تھے کہ جون آف آرک شیطان کی پروکار ہے اور اس کا مقدس ہستیوں سے بات کرنے کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ اسے ہیرسے یعنی مذہب کے خلاف بغاوت کرنے بدعت اور کفر کی سخت سزا دی جائے۔ تیسرا فریق انگریز تھے۔ وہ اسے زندہ جلا دینا چاہتے تھے کیونکہ اس دور میں جس لڑکی یا عورت کے بارے میں یہ تاثر عام ہو جائے کہ وہ جادوگرنی ہے اسے زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ تاکہ اس کی پاک روح کو اس کے جسم سے نکالا جا سکے یورپ اور امریکہ کے تاریک زمانوں میں لاتعداد معصوم خواتین جو کسی نفسیاتی بیماری یا اس طرح کے عارضے کا شکار ہوتیں، انھیں جادوگرنی کہہ کر زندہ جلا دیا جاتا تھا۔

تو یہ تین پارٹیاں تھیں جن سے برگنڈی، جون آف آرک کے لیے بارگیننگ کر رہے تھے۔ سب سے پہلے تو جون کے سرپرست، فرانس کے بادشاہ چارلز سیون نے جون سے دھوکا کیا اور برگنڈیوں سے اسے آزاد کروانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ مورخین کہتے ہیں کہ بادشاہ جون سے جان چھڑانا چاہتا تھا کیونکہ تخت پر بیٹھنے کے بعد سے جون اس کے لیے ایک درد سر بن چکی تھی۔ وہ بادشاہ کی فیوچر پلاننگ، مستقبل کی منصوبہ بندی میں فٹ نہیں بیٹھتی تھی۔ دوسرے نمبر پر پیرس کے پادریوں اور انگریزوں نے قیمت لگائی۔ پادریوں نے جون کیلئے چھے ہزار فرانک اور انگریزوں نے دس ہزار فرانک کی بولی دی۔ ڈیوک آف برگنڈی نے جون کو زیادہ بولی دینے والے انگریزوں کے حوالے کر دیا۔ انگریز، جون کو روئین میں لے گئے جو فرانس میں ان کا ہیڈکوارٹر تھا۔ اور پیرس سے سو کلو میٹر سے بھی زیادہ دور تھا یہاں جون کو قید خانے میں ڈال دیا گیا۔

انگریز چاہتے تو اسی وقت جون کی گردن اڑا دیتے۔ مگر وہ ایک ایسا کام کرنا چاہتے تھے جس سے فرانس کی بادشاہت پھر سے ان کے قبضے میں آ جائے۔ وجہ یہ تھی کہ فرانس میں یہ تاثر عام تھا کہ چارلز سیون کو خدا کی ایک پیش گوئی کے تحت بادشاہت ملی ہے اور یہ پیش گوئی جون آف آرک جیسی ایک مقدس معصوم ہستی نے کی ہے۔ تو اب انگریزوں نے طے کیا کہ وہ بھری عدالت میں جون آف آرک کو مقدس ہستی نہیں بلکہ ایک جھوٹی جادوگرنی ثابت کریں گے، جو خدا کی نہیں شیطان کی پروکار ہے۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی دکھانا چاہتے تھے کہ جون آف آرک مذہب کی توہین کر رہی ہے اس لیے اسے توہین مذہب کے الزام میں زندہ جلا دینا چاہیے۔ توہین مذہب کے لیے ان کے پاس جو دلائل تھے ان میں بڑے بڑے دلائل یہ تھے کہ وہ مردانہ لباس پہنتی ہے اور مردوں کی طرح چھوٹے بال رکھتی ہے اور یہ چرچ کے سخت خلاف بات ہے۔

اگر وہ بظاہر ایک شفاف عدالتی کارروائی سے یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو ہی وہ فرانسیسی عوام پر یہ تاثر قائم کر سکتے تھے کہ ایک جادوگرنی کی مدد سے بادشاہ بننے والا چارلز سیون حقیقی بادشاہ نہیں بلکہ اصل بادشاہ انگلینڈ کا ہنری سکس ہی فرانس کا بھی بادشاہ بھی ہے۔ سو یہ سب ثابت کرنے کے لیے انگریزوں نے پادریوں کے ساتھ مل کر ایک مقدمے کا ڈھونگ رچایا۔ اس اٹھارہ سالہ زخمی لڑکی کے لیے نہ تو کوئی وکیل تھا، نہ کوئی گواہ اور نہ اس کی حمایت میں بولنے والا کوئی بلایا گیا۔ وہ اکیلی ملزم، وکیل اور گواہ تھی اور وہ بھی ان لاتعداد لوگوں کے درمیان جو اسے بہرصورت عبرت کا نشان بنا دینا چاہتے تھے۔ لوگوں کی نظروں میں عدالت کو غیرجانبدار دکھانے کیلئے انگریز جج کی جگہ ایک فرانسیسی بشپ ’پیری کوچن‘ کو جج بنایا گیا۔ پیری کوچن درحقیقت انگریزوں کے ساتھ ملا ہوا تھا اور انہی کی خوشنودی کے لیے کام کرتا تھا۔

عدالت، اس کے پادری ججز اور انگریز یہ چاہتے تھے کہ جون کو مجبور کر دیا جائے کہ وہ عدالت کے سامنے خود ہی اقرار کر لے کہ وہ جھوٹ بول رہی ہیں، اسے کوئی مقدس شخصیات نظر نہیں آتیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر یہ ٹین ایج لڑکی ارادوں کی بہت مضبوط ثابت ہوئی۔ اس نے کوئی بھی جرم قبول کرنے سے انکار کر دیا سو انگریزوں اور ان کے ساتھی پادریوں نے ایک اور پلان بنایا۔ عدالت لگنے سے پہلے جون کی ہمت توڑنے کیلئے اس کے سیل میں پانچ مرد گارڈز تعینات کر دیئے گئے۔ جو اسے گالیاں بکتے اور ریپ کی دھمکیاں دیتے ۔ جون کے متعلق مشہور ہو گیا تھا کہ وہ اڑ سکتی ہے اور پھر اس کے پیروں میں زنجیریں ڈال کر اسے بستر سے بیڈ سے باندھ دیا گیا۔

نگریز افسر بھی شراب کے نشے میں دھت ہو کر قید خانے کے باہر آ کر جون پر پھبتیاں کستے۔ کچھ لوگوں نے تو اسے قتل کرنے کی کوشش بھی کی۔ لیکن یہ سب اس کی ہمت نہیں توڑ سکے اور فروری چودہ سو اکتیس میں جون کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہوا۔ جون کا ٹرائل ایک دکھاوے کا مقدمہ تھا۔ جون کے خلاف ستر الزامات کی جو فہرست تھی وہ جج صاحب نے خود ہی تیار کی تھی۔ یعنی جو الزام لگانے والا تھا وہی جج تھا۔ لیکن کیا کریں ایسا ہوتا آیا ہے ایسا ہو رہا ہے۔ جون پر الزامات کی جو فہرست تھی ان میں مردوں جیسا لباس پہننے، مقدس ہستیوں سے بات کرنے کے جھوٹے دعوے اور گھوڑے چُرانے کے الزامات بھی شامل تھے۔ جج پیرے ایک گھاگ جج تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ اس ان پڑھ دیہاتی لڑکی کو باتوں کے جال میں اس طرح پھنسائے گا کہ وہ خود ہی اپنے جرم کا اقرار کر لے گی، کنفیشن کر لے گی۔

جس کے بعد اسے سزا دینا کچھ بھی مشکل نہیں ہو گا۔ لیکن اس ان پڑھ اٹھارہ سالہ لڑکی نے می لارڈ کو قانون کا ایسا سبق پڑھایا کہ کئی مواقعوں پر جج کو دن میں تارے نظر آتے رہے۔ ایسا ہم اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ اس بدنام زمانہ تاریخی مقدمے کا ریکارڈ آج بھی محفوظ ہے۔ جج نے جون سے پوچھا تم نے فرشتے مائیکل کو دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے کیا تم بتا سکتی ہو کہ اس نے کپڑے پہن رکھے تھے یا نہیں؟ جون نے جھٹ سے کہا، کیا آپ کو لگتا ہے خدا اپنے فرشتے کیلئے لباس بھی حاصل نہیں کر سکتا؟ جج نے پوچھا تمہیں جو مقدس ہستیوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں وہ کس زبان میں بات کرتے تھے۔ جون نے جواب دیا، وہ آپ سے بہتر فرانسیسی بول رہے تھے۔ ایک موقع پر ناکام ہوتے ہوئے جج پیرے نے اپنا ماسٹر سٹروک کھیلا۔ اس نے جون سے پوچھا، تم جنت میں جاؤ گی یا جہنم میں؟ یہ بڑا ٹرِکی قسم کا، مکارانہ سوال تھا۔ اس کا جواب ہاں اور ناں دونوں میں ہی غلط تھا۔

کیونکہ کوئی جنت میں جائے گا یا جہنم میں یہ تو صرف خدا کو معلوم ہو سکتا ہے۔ مذہب کے مطابق چرچ کے مطابق کوئی انسان خدا کی مرضی جاننے کا دعویٰ ہرگز نہیں کر سکتا تھا اس لیے اس سوال کے جواب میں جون ہاں کہتی یا ناں، دونوں طرح توہین مذہب ہوسکتی تھی۔ جس کی سزا سزائے موت تھی۔ مگر جون نے جواباً کہا، اگر میں جنت میں نہیں جا رہی تو خدا مجھے وہاں بھیج دے اور اگر میں جنت میں جا رہی ہوں تو خدا مجھے وہیں رکھے۔ جون آف آرک نے ایسے کئی جوابات دئیے جن پر جج پیرے اپنے بال نوچنے پر مجبور ہو گیا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھی کہ وہ کس طرح اس لڑکی پر فرد جرم عائد کرے۔ دشمنوں کی قید میں ایک جانبدار عدالت کے اندر بھی یہ انیس سالہ لڑکی بڑے بڑے جغادریوں کو لاجواب کر رہی تھی۔

اس پر لگا ہر الزام غلط ثابت ہو رہا تھا۔ جون کا ٹرائل فروری میں شروع ہوا تھا اور مئی کا مہینہ آنے تک الزامات کی تعداد ستر سے کم ہو کر صرف بارہ رہ گئی تھی۔ جن میں سب سے خطرناک الزامات یہ تھے کہ وہ جادوگرنی ہے، مردوں جیسا لباس پہنتی ہے اور توہین مذہب کرتی ہے۔ جب جج پیرے اور انگریز کسی طرح جون آف آرک کو اقرار جرم کرنے پر تیار نہ کر سکے تو انھوں نے تھرڈ ڈگری کے استعمال کا فیصلہ کیا۔ نو مئی چودہ سو اکتیس کو جون آف آرک کو روآں کے گریٹ ٹاور میں لے جایا گیا۔ یہ جگہ چرچ کے اس بدنام زمانہ ادارے کے کنٹرول میں تھی، جو سائنسدانوں، مذہبی باغیوں اور مخالفین پر ناقابل بیان تشدد کرتے تھے۔ یہاں انسانوں کو جھکڑنے والے شکنجے تھے، چیر پھاڑ ڈالنے والے آلات تھے اور میخیں ٹھونک ٹھونک کر اذیت ناک موت دینے والی مشینیں بھی پادریوں نے یہیں رکھیں تھیں۔ جون کو یہ سب دکھایا گیا کہ اگر وہ اقرار جرم نہیں کرے گی تو اسے یہاں بھیج دیا جائے گا۔

لیکن جون اس پر بھی نہیں مانی۔ اب پیرے نے ایک اور چال چلی۔ چوبیس مئی چودہ سو اکتیس کو جون کو روئین میں ایک قبرستان میں لے جایا گیا اورایک چبوترے پر کھڑا کر دیا گیا۔ اس کے ہاتھ اس کی کمر پر بندھے ہوئے تھے۔ پیرے نے اسے کہا اگر تم زندہ جلنے سے بچنا چاہتی ہو تو اپنے گناہ قبول کر لو ورنہ آج، ابھی اور اسی وقت تمہیں زندہ جلا دیا جائے گا۔ ہاں اگر تم اپنے جرم قبول کر لو گی تو تمہیں عمر قید کی سزا ملے گی۔ تم زندگی بچا پاؤ گئی موت کو اپنے سامنے دیکھ کر پہلی بار جون آف آرک کے اعصاب جواب دے گئے۔ وہ اپنے جرائم قبول کرنے پر تیار ہو گئی۔ پیرے نے جھٹ سے ایک اعترافی بیان والا کاغذ نکالا جو اس نے پہلے ہی لکھ رکھا تھا اس پر جون کے دستخط لینا چاہتا تھا۔ ان پڑھ جون دستخط کرنا نہیں جانتی تھی اس لئے اس نے دستخط کے خانے میں کراس یعنی صلیب بنا دی۔ پیرے اپنی ذہانت سے تو جون کو نہیں ہرا سکا تھا مگر تشدد کی دھمکی دے کر اب کامیاب ہو گیا تھا۔

اس نے جون کا سر منڈوا کر اسے جیل میں واپس بھیج دیا۔ اعترافی بیان کے تین روز کے اندر ہی جون کی ہمت واپس آ گئی وہ اعترافی بیان پر پچھتانے لگی۔ اس نے ایک بار پھر مردانہ لباس پہن لیا اور اپنے گارڈز سے کہا کہ وہ جج سے بات کرنا چاہتی ہے۔ جج اور عدالت کے اراکین جون کو جیل میں ملنے آئے۔ جون نے ان کے سامنے کہا کہ مقدس ہستیوں نے اس سے کہا ہے کہ اس نے اعترافی بیان پر دستخط کر کے بہت غلط کیا ہے۔ اب انگریز پہلے ہی چاہتے تھے کہ وہ جون کو کسی طرح جادوگرنی قرار دیں۔ سو اقراری بیان سے مکرنا ان کے لیے ایک بہترین بہانہ بن گیا۔ عدالت نے جون آف آرک کو جلا کر مارنے کی سزا سنا دی۔ جون نے عدالت سے ایک آخری اپیل کی۔ اس نے کہا کہ اسے زندہ جلانے کے بجائے اس کی گردن اڑا دی جائے۔ اس کی یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔ تیس مئی کے دن جون کو سیاہ لباس پہنا کر اس کے سر پر ایک نوکدار ٹوپی رکھ دی گئی۔ جب جون کو قید خانے سے نکالا گیا تو اس نے عدالت کے جج پیرے سے کہا میری موت کے ذمہ دار تم ہو۔ پھر جون کو ایک چھکڑے میں اس چبوترے تک لے جایا گیا جہاں اس جلایا جانا تھا۔

چھکڑے کو برطانوی سپاہیوں نے گھیر رکھا تھا۔ چبوترے پر چڑھ کر جون گھٹنوں پر جھک گئی اور خدا سے اپنی غلطیوں، کوتاہیوں کی معافی مانگی۔ پھر اس نے ہجوم کی طرف دیکھا اور کہا میں تم سب کو معاف کرتی ہوں۔ ایک انیس سال کی تنہا کمزور لڑکی، خشک لکڑیوں پر بندھی ہوئی تھی آگ جلنے والی تھی لیکن جس اعتماد سے وہ بات کر رہی تھی اس نے ہجوم میں کچھ لوگوں کی رائے بدل دی، ان کی آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے۔ لیکن زیادہ تر لوگ اب بھی جون کو مارنا ہی چاہتے تھے۔ انھیں اتنی جلدی تھی کہ ایک شخص نے چیخ کر جج پیرے سے کہا ’کیا تم چاہتے ہو کہ ہم رات کا کھانا یہیں کھائیں۔ جلدی کرو۔‘ جون نے آخری لمحات میں صلیب مانگی تو اسے دو چھڑیاں دے دی گئیں جنہیں اس نے صلیب کی طرح جوڑ کر سینے سے لگا لیا۔ پھر اسے ایک ستون سے باندھ دیا گیا۔ چبوترے کے نیچے خشک لکڑیوں کے ڈھیر کو آگ دکھا دی گئی۔

تماشائیوں میں سے ایک شخص نے ایک صلیب بلند کی تاکہ جون اسے دیکھ سکے۔ شعلے بلند ہونے لگے اور جون کا جسم جلد ہی ان میں غائب ہو گیا ہاں اس کی آواز کچھ دیر تک سنائی دیتی رہی۔ وہ آخری وقت تک جیسز جیسز پکار رہی تھی۔ مجمع جو آگ جلنے پر خوشی سے جھوم رہا تھا اب خاموش ہوتی جون کی آواز کے ساتھ ساتھ غمگین ہوتا چلا جا رہا تھا۔ کوئی کہتا ہے کہ اس نے جون کے سینے سے ایک فاختہ نکل کر آسمان کی طرف جاتے دیکھی ہے تو کوئی کچھ اور ایسی ہی بات کہتا ہوا پایا گیا۔ یہاں تک کہ ایک انگریز کی گواہی بھی تاریخ میں موجود ہے کہ اس نے آگ بجھنے پر چیخ کر کہا ہم نے ایک سینٹ، ایک مقدس انسان کو جلا دیا ہے۔ پیرے نے جون کی راکھ کو دریائے سِین میں اس جگہ بہایا جہاں آج یہ تختی لگی ہے اور لکھا ہے کہ یہاں جون آف آرک کی راکھ بہای گئی تھی۔ اب انگریز سمجھ رہے تھے کہ جون کی موت کے ساتھ اس کی کہانی ختم ، مگر ایسا نہیں ہوا۔

جون کی کہانی فرانس میں ہر طرف پھیلنے لگی پھر اس میں ایک ٹین ایج مقدس سمجھی جانی والی لڑکی کی مظلومیت بھی شامل تھی، آخری لمحے تک بہادی دکھانے کا لافانی واقعہ بھی تھا، اس لیے یہ سانحہ فرانسیسیوں کے جوش میں بے پناہ اضافے کا باعث بنا۔ وہ انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ جون کی موت کے بائیس سال بعد چودہ سو تریپن میں انگریزوں کو فرانسیسی قصبے کیستیلین میں آخری شکست ہوئی اور انہیں فرانس سے نکل جانا پڑا۔ لیجنڈ ہے کہ یہ پیش گوئی بھی جون آف آرک ہی نے کی تھی کہ اس کی موت کے بائیس سال بعد فرانس آزاد ہو جائے گا۔ چارلز سیون جب پورے فرانس کا حکمران بن گیا اور انگریز ہار گئے تو اس نے چرچ سے درخواست کی کہ جون کا مقدمہ دوبارہ کھولا جائے۔

Read More :: History of America Read In Urdu Article And Watch Play History

یہ مقدمہ دوبارہ کھلا اور چرچ نے جون آف آرک کو سزا دینے کا فیصلہ کالعدم یعنی نل اینڈ وائڈ کر دیا۔ جون پر چلائے گئے مقدمے کے کاغذ بھی پھاڑ دیئے گئے۔ اسے بے گناہ قرار دینے کا فیصلہ اسی جگہ عوام کو پڑھ کر سنایا گیا جہاں اسے جلایا گیا تھا۔ یہ ماڈرن بلند عمارتوں اور مہنگی گاڑیوں کے درمیان جو چبوترا سا آپ دیکھ رہے ہیں، عین اسی جگہ چھ سو سال پہلے جون آف آرک کو جلتے شعلوں کی نذر کیا گیا تھا۔

جون کی موت کے تقریباً پانچ سو برس بعد انیس سو بیس میں، آج سے ٹھیک ایک سو سال پہلے پوپ بینیڈیکٹ ففٹین نے جون آف آرک کو سینٹ کا درجہ دے دیا۔ یعنی وہ مسیحیوں میں انتہائی مقدس شخصیت قرار پاگئی۔ آج پیرس کے نوٹری ڈیم کیتھڈرل سمیت فرانس میں کئی جگہوں پر جون آف آرک کے مجسمے نصب ہیں۔ آرلیانز شہر میں آٹھ مئی کو اس کی فتح کا جشن منایا جاتا ہے۔ جون آف آرک کے بالوں کا سٹائل بھی باب کٹ فیشن کے نام سے خواتین میں مقبول ہے۔

یکن دوستو آج بھی ایک سوال بہرحال اٹھتا ہے کہ کیا جون آف آرک کا واقعی مقدس شخصیات سے کوئی رابطہ تھا۔ ماڈرن سائنس اس کا جواب دیتی ہے۔ اس کے مطابق یہ ایک ذہنی عارضہ ہوتا ہے جو غالباً جون کو لاحق تھا۔ اس نے جو کچھ دیکھا وہ اس کا اپنا تصور تھا، کیونکہ انسان جن باتوں کو بہت زیادہ سوچتا ہے تو اسے ایسے واقعات دکھائی دینے لگتے ہیں جن کے دھوکے میں اس نے خود کو مبتلا کر رکھا ہوتا ہے۔

اسے یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس سے بات کر رہا ہے لیکن اصل میں وہ اپنے ہی ذہنی تصور سے بات کر رہا ہوتا ہے۔ باقی رہی بات اس کی پیش گوئیوں اور دیگر معجزوں کی، تو ان کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ ممکن ہے اس کی مظلوم موت کے بعد اس کی ہمددری میں بنائی جانے والی کہانیوں میں سے یہ کچھ کہانیاں ہوں۔ لیکن جہاں تک اس کی اپنے ملک کے لیے لڑنے اور بہادری سے جان دینے کی بات ہے تو یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جو تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے۔

دوستو آپ کے خیال میں جون آف آرک کی المناک موت کا فرانس کی آززادی میں کتنا حصہ تھا؟ ہمیں کانٹس میں ضرور بتائیں۔ اور ہاں کیا آپ جانتے ہیں کہ آج سے تقریباً اڑھائی ہزار سال پہلے ایک عظیم فلسفی، سقراط نے آخر کس سچ کے لیے اور کیوں زہر کا پیالہ حلق میں اتار لیا تھا؟ یہی زبردست اور دلچسپ کہانی دیکھنے کے لیے یہاں ٹچ کیجئے اور یہاں دیکھئے کہ محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملوں کی سنسنی خیز کہانی کیا تھی اور یہ رہی وہ سیریز جس میں آپ آج کے بڑے بڑے ممالک کی کمزوریاں اور طاقتیں جان سکتے ہیں۔

دوستو کیا آپ کے ذہن میں کبھی کوئی ایسا خیال آیا جو کسی پہلے سے موجود ٹیکنالوجی کو بالکل نئی شکل دے دے؟ یقیناً آیا ہو گا، ہمیں کمینٹس میں ضروربتائیں۔

Part 1 :: Who was join of Arc Urdu | جون آف آرک کون تھی؟

Read More :: History of America Read In Urdu Article And Watch Play History

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Adblock Detected

Please Turn off Your Adblocker. We respect your privacy and time. We only display relevant and good legal ads. So please cooperate with us. We are thankful to you