Who was Karl Marx Urdu | کارل مارکس کون تھا؟

0
4

Who was Karl Marx Urdu | کارل مارکس کون تھا؟

یہ رائن لینڈ کے گھنے جنگلات میں سے ایک ہے۔ اٹھارہ سو تنتالیس، ایٹین فورٹی تھری سے پہلے ان جنگلات پر امیر لوگوں کا قبضہ تھا۔ رائن لینڈ کے غریب لوگ کسی درخت سے ایک ٹہنی بھی نہیں توڑ سکتے تھے لیکن انھیں سخت سردی کا موسم گزارنے کے لیے زمین پر گری لکڑیاں چننے کی بہرحال آزادی تھی۔ لیکن اٹھارہ سو چالیس کی دہائی کے شروع میں یہ ہوا کہ ایک جنگل کا قانون پاس ہوا۔ اس قانون کے مطابق جنگل کے مالکان کے علاوہ کوئی شخص زمین پر گری لکڑیاں بھی نہیں چن سکتا۔ جرمن قوم کے علاقے رائن لینڈ میں قانون کی حکومت کے نام پر غریبوں کو جیتے جی مار دیا گیاتھا۔ لیکن اپنے گھروں کو گرم رکھنے اور کھانے پینے کی ضروریات پوری کرتے ہوئے کئی فاقہ کش جنگل کے کالے قانون کی بھینٹ چڑھ گئے۔

Who was Karl Marx Urdu | کارل مارکس کون تھا؟

کچھ مارے گئے اور کچھ کی زندگیاں جہنم بن گئیں۔ لیکن اس جنگل کے قانون نے ڈاکٹر مارکس میں سے کارل مارکس کو جنم دیا۔ ان جنگلات نے کارل مارکس کو ہمیشہ کے لیے کیسے بدل کر رکھ دیا؟ مارکس نے اپنی سبز آنکھوں والی محبوبہ سے بے وفائی کیوں کی؟ منی سیریز کارل مارکس کون تھا کے دوسرے حصہ میں ہم آپ کو یہی سب دکھا رہے ہیں۔ مارکس نے اٹھارہ سو اکتالیس، ایٹین فورٹی ون میں یونیورسٹی آف جینا سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی تھی۔ ڈاکٹریٹ کے بعد اس نے ملازمت کیلئے جرمن شہر کولون کا رخ کیا تھا جہاں اس کے کچھ لبرل دوست ایک اخبار رھائنیش زائی تونگ نکال رہے تھے۔ اخبار کا ایڈیٹر ایڈولف روٹن برگ بھی اس کا دوست تھا اور وہ ایک ادبی تنظیم ڈاکٹرز کلب کا رکن بھی رہ چکا تھا جس کا مارکس بھی ممبر رہا تھا۔ روٹن برگ کے علاوہ بھی مارکس کے ان دنوں بہت سے مداح تھے۔

جو فلسفے پر اس کی گرِپ اور اس کے انقلابی خیالات کے دیوانے بہر حال تھے۔ مارکس میں ایک تبدیلی ان دنوں یہ آئی تھی کہ اس نے یونیورسٹی کے دوران داڑھی بڑھا لی تھی۔ اس داڑھی نے اس کی شخصیت میں ایک رعب سا پیدا کر دیا تھا اور دیکھنے والے فوراً ہی اس سےمرعوب ہو جایا کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مارکس کی زبان میں تھوڑی سی لکنت بھی تھی لیکن اس کی بارعب شخصیت اور مضبوط دلائل کے سامنے بڑے بڑوں کے پِتے پانی ہو جاتے تھے۔ کئی لوگ تو اس کی پرسنیلٹی سے باقاعدہ خوف بھی کھانے لگے تھے۔ وہ جس محفل میں بیٹھتا تھا اکثر وہاں اپنی دبنگ آواز اور دالائل کی بنیاد پر چھا جاتا تھا۔

کولون میں کارل مارکس نے اخبار رھائنیش زائی تونگ کے لیے کچھ آرٹیکلز وغیرہ بھی لکھے۔ جس کے کچھ ہی عرصے بعد اسے اخبار میں ایڈیٹرشپ کی آفر ہو گئی۔ اس آفر کو کارل مارکس نے قبول کر لیا۔ مارکس کا ایڈیٹر بننا تھا کہ اخبار نئی بلندیوں کو چھونے لگا۔ اس کی اشاعت جلد ہی سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جلد ہی یہ اخبار جرمنی کے تمام لبرل حلقوں کا پسندیدہ اخبار بھی بن گیا۔ مارکس کی ایڈیٹرشپ میں زائی تونگ اخبار کامیابی کے جھنڈے تو گاڑ رہا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ مسائل بھی پیدا ہو رہے تھے۔ ان مسائل کی وجہ یہ تھی کہ کارل مارکس، اخبارات پر پابندیوں کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ وہ ایک فلسفی تھا، اسے آزاد رہ کر سوچنا، اپنی بات کہنا اور آزادی سے دوسروں تک پہنچانا زیادہ پسند تھا۔ آزادیِ اظہار پر کسی طرح کی پابندی اسے گوارہ ہی نہیں تھی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جرمنی میں تو سنسرشپ کے سخت قوانین نافذ تھے۔

حکومت نے ایسے افسر ملازم رکھے ہوئے تھے جو ہر اخبار کو سنسرشپ کی چھلنی سے گزارتے تھے اور اس دوران جو خبر یا آرٹیکل انھیں پسند نہیں آتا تھا، اسے نکال باہر کرتے تھے۔ یعنی اسے شائع ہی وہ نہیں ہونے دیتے تھے۔ لیکن مارکس کے لیے سنسرشپ سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ سرکار نے جن افسروں کو سنسرشپ کیلئے مقرر کر رکھا تھا وہ بالکل جاہل تھے۔ وہ اخبارات اور ان میں چھپے آرٹیکلز کو سرے سے سمجھ ہی نہیں سکتے تھے۔ فلسفے کی باریکیاں بھی ان کی ذہنی اپروچ سے باہرکی چیز تھیں۔ اس سب کا دوستو ایک دلچسپ نتیجہ نکلتا تھا۔ وہ یہ کہ وہ کم پڑے لکھے سنسر افسران ایسی خبروں کو چھپنے دیتے تھے جنھیں روکنے کے لیے انھیں بھیجا جاتا تھا اور ان خبروں کو روک دیتے تھے جنھیں دراصل چھپنا ہوتا تھا۔ اب مزے کی بات یہ تھی کہ سنسرشپ کے یہ افسران اگر جاہل تھے تو ان کے اوپر کے افسران ان سے بڑے پڑھے لکھے احمق تھے۔

یہ لوگ جب دیکھتے کہ اخبار میں وہ خبریں چھپ گئیں ہیں جنھیں روکنا مقصود تھا تو وہ سنسر کی ڈیوٹی کسی سمجھدار کو دینے کے بجائے سیدھا اخبار ہی بند کروا دیتے تھے۔ مارکس کے ایک دوست آرنلڈ روج کا بھی ایک اخبار اسی طرح کچھ عرصہ پہلے بند ہو چکا تھا۔ زائی تونگ پر بھی سنسرشپ کی کڑی نگرانی تھی لیکن اب اخبار کو چلتا رکھنے کی ذمہ داری نوجوان کارل مارکس پر تھی۔ چنانچہ مارکس کیلئے حکومتی سنسرشپ اور سنسر افسروں سے مقابلہ کرنا بھی ایک چیلنج تھا۔ لیکن وہ اپنی شرارتی طبعیت سے بھی باز نہیں آتا تھااور بہانے بہانے سنسر افسروں کو زچ بھی کرتا رہتا تھا۔ یونہی ایک بار اس نے سنسر آفس سے جان بوجھ کر یہ خبر چھپا لی کہ اگلے دن کسی وجہ سے اخبار شائع نہیں ہو گا۔ اب سنسر افسر رات گئے تک اپنے دفتر میں کارل مارکس کے اخبار کے مسودے کا انتظار کرتا رہا۔ کہ وہ آئے اور یہ اسے سنسر کر سکے لیکن جب بہت دیر تک اخبار نہیں آیا تو تھک ہار کر وہ خود مارکس کے گھر پہنچ گیا اور مسودے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اسے سنسر کر سکے اور اپنی ڈیوٹی پوری کر سکے۔

مارکس نے اس کیلئے دروازہ کھولنے کے بجائے کھڑکی سے ہی جواب دیا کہ کل تو ہم اخبار شائع ہی نہیں کر رہے اور اس کے بعد اس نےکھڑکی بند کر دی بغیر جواب سنے۔ افسر بیچارہ سر پیٹتا گھر لوٹ آیا۔ جہاں سنسر شپ کی پابندیوں سے کارل مارکس پریشان رہتا تھا وہیں دوستو سنسر افسران کی جہالت اس کے کام بھی بہت آتی تھی۔ کیونکہ وہ کبھی کبھار ان کے مورکھ پن کا فائدہ اٹھا کر ایسے مضامین بھی چھاپ دیتا تھا جنھیں پڑھے لکھے سنسر افسران کبھی شائع نہ ہونے دیتے۔ مثال کے طور پر یہ کم پڑے لکھے سنسر افسران عام سی خبروں کو سنسر کر جاتے اور کارل مارکس کے سنسر شپ ہی کے خلاف لکھے گئے مضامین شائع ہونے دیتے۔ بقول قتیل شفائی ۔۔۔ معذرت کے ساتھ کہ تمہاری ’لاعلمی‘ نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی ذرا تم ’پڑھے لکھے‘ ہوتے تو پیمانے کہاں جاتے مارکس کہتا تھا کہ عوامی تنقید ہی سچی اور اصل سنسر شپ ہے۔

حکومتی سنسرشپ ایک عطائی جراح، ایک اناڑی حکیم کی طرح ہوتی ہے جو علاج کے نام پر جسم کاایک ایک حصہ کاٹتا چلا جاتا ہے۔ اس نے اپنے آرٹیکلز میں پریس کی آزادی کے نام نہاد حمایتیوں پر بھی سخت تنقید کی جو اپنے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر پریس کی آزادی پر لیکچر تو دیتے تھے لیکن عملی طور پر پریس کو آزاد کروانے کے لیے کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ مارکس کی شرارتوں، سنسر افسران کے مورکھ پن کے درمیان، کسی نہ کسی طرح یہ اخبار زائی تونگ چھپتا ہی رہا۔ لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ کارل مارکس جسے جدید کمیونزم کا بانی سمجھا جاتا ہے وہ اس وقت تک یعنی اخبار کی نوکری کے دوران تک کمیونزم کی الف بے سے بھی واقف نہیں تھا۔ یا پھر یوں کہہ لیجئے کہ اس کے پاس اس حوالے سے بہت کم معلومات تھیں۔ یاد رکھیں دوستو کہ کمیونزم کا تصور یا اس کی ٹرم مارکس کی ایجاد نہیں تھی۔ کمیونزم، سوشلزم ہی کی ایک شکل ہے اور یہ ٹرم اسی دور کے قریب استعمال ہونا شروع ہوچکی تھی جب مارکس زائی تونگ کا ایڈیٹر تھا۔

آپ جان چکے ہیں کہ سوشلزم کے حامی ایک مزدور دوست حکومت کے قیام کی باتیں کیا کرتے تھے ان دنوں۔ لیکن مارکس سوشلزم یا کمیونزم کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔ یہاں تک کہ چند ایک بار جب اس نے اس حوالے سے اپنے دوستوں سے بحث کی کوشش تو اسے منہ کی کھانا پڑی۔ پھر یہ ہوا کہ اس دوران کچھ ایسے قوانین وہاں بنے جنہوں نے مارکس کو کمیونزم کی طرف دھکیل دیا بلکہ وہ کمیونزم کو انسانیت کا نجات دہندہ بھی سمجھنے لگا۔ یہ تھے جنگل کے قوانین یا جنگل لاز جنہوں نے مارکس کی سوچ کا دھارا اور دنیا کی تاریخ بھی آپ کہہ لیں بدل کر رکھ دی۔ مائی کیوریس فیلوز آپ جانتے ہیں کہ مارکس جرمن ریاست پروشیا کے علاقے رائن لینڈ سے تعلق رکھتا تھا اور اس کا خاندان بھی رائن لینڈ کے شہر ٹریئر میں رہتا تھا۔ رائن لینڈ میں جنگلات کی بہتات تھی۔ ہر شہر، قصبے یا گاؤں کے گرد جنگل موجود تھے۔

یہ جنگلات عام طور پر دولت مند طبقے کی پراپرٹی ہوا کرتےتھے۔ جہاں وہ زیادہ تر انگور کاشت کرتے اور وائن تیار کرتے تھے عام لوگوں کو یہاں درخت وغیرہ کاٹنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ لیکن ایک حق انہیں ان دنوں تک بہرحال حاصل تھا۔ وہ یہ کہ درختوں کی جو شاخیں قدرتی طور پر ٹوٹ کر نیچےگر جاتی تھیں انہیں عام لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اٹھا لیا کرتے تھے۔ اس سے جنگل کی صفائی بھی ہو جاتی اور عام لوگوں کی مدد بھی ہو جاتی تھی۔ یہ نظام رائن لینڈ میں صدیوں سے جاری تھا اور اس پر کبھی کسی نے کو کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ لیکن ایٹین فورٹیز کے شروع میں یہ ہوا کہ رھائن لینڈ کے دولت مند طبقے کو اچانک یہ لگنے لگا کہ غریب لوگ ان کے جنگلات سے لکڑیاں چوری کر رہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ جو لکڑیاں درختوں سے ٹوٹ کر گرتی ہیں وہ بھی امیروں ہی کی ملکیت ہیں کسی غریب کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ لکڑی اٹھا کر چلتا بنے۔ چنانچہ طاقتور لوگوں نے کچھ ایسے ضابطے پاس کروائے جو بعد میں جنگل کے قوانین کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ انہیں جنگل لاز بھی کہہ سکتے ہیں۔

ان قوانین میں یہ طے کیا گیا تھا کہ جو غریب کسی امیر کے جنگل میں گری ہوئی ایک لکڑی بھی اٹھائے گا اسے قید خانے میں ڈال دیا جائے گا۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ جنگل کا مالک اس غریب سے اپنی لکڑی کی قیمت بھی وصول کر سکتا تھا اور یہ قیمت مالک کی مرضی کے مطابق تہہ ہوتی تھی۔ یعنی امیر آدمی جو طے کرنا چاہے وہ کردے غریب کو وہ ادا کرنا پڑے گا یہ قوانین لفظی اور معنوی، ہر اعتبار سے جنگل کے قانون تھے اور ان قوانین نے رائن لینڈ کے عوام میں سخت غصہ پیدا کر دیا تھا لیکن حکومت کو بھلاغریبوں کے غم و غصے کی کیا پروا تھی انھوں نے جنگل کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کروانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ جو بھی ان قوانین کی خلاف ورزی کرتا اسے تھانے کچہری کے چکر کاٹنا پڑتے تھے۔ ہوتے ہوتے یہ ہوا کہ کچھ ہی عرصے میں غریب طبقے کے خلاف کوئی ڈیڑھ لاکھ کے قریب مقدمات درج ہو گئے۔

مائی کیوریس فیلوز یہ جنگل کے قوانین یا جنگل لاز کی منظوری ہی تھی جہنوں نے کارل مارکس کو کمیونزم کے زیادہ قریب کر دیا۔ ویسے امیر اور غریب کے فرق کو تو وہ تب سے نوٹ کر رہا تھا جب وہ ٹریئر شہر میں رہتا تھا۔ جس کے گرد انگوروں کے باغات تھے جن کے مالک امیر لوگ ان سے وائن پرڈیوس کرتے تھے اور امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے تھے جبکہ ان انگوروں کے باغات میں کام کرنے والےغریب لوگ غریب غریب سے غریب تر ہوتےجا رہےتھے اس کے شہر میں لوگوں کی اکثریت غریب تھی بلکہ بھیک مانگنے اور جسم فروشی پر مجبور تھی۔ ان لوگوں کی حالت کو مارکس نے بہت قریب سے دیکھا تھا لیکن اس وقت وہ یہ نہیں جان پایا تھا کہ ان لوگوں کی اس حالت کا ذمہ دار کون ہے؟ یاں کون سا فیکٹر اس کا ذمہ دار ہے؟ لیکن اب ایک صحافی کی حیثیت میں جبکہ وہ زیادہ باخبر تھا تو اب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ کس طرح جرمنی کے دولت مند لوگ غریبوں کا خون قانون اور اصول کے نام پر نچوڑ رہے ہیں۔ مارکس اس ظلم پر خاموش نہ رہ سکا۔ اس نے قلم اٹھایا اور جنگل کے ان قوانین کے خلاف کچھ آرٹیکلز لکھ ڈالے۔

ان آرٹیکلز میں مارکس نے ان ضابطوں پر شدید تنقید کی بلکہ اس قانون کی حمایت کرنے والے حکومتی عہدیداروں پر طنز کے تیر بھی برسائے۔ حکومتی سنسرشپ کی نااہلی کی وجہ سے یہ آرٹیکلز بھی شائع ہو گئے لیکن اعلیٰ حکومتی عہدیدار ان آرٹیکلز پر سخت ناراض ہوئے جب یہ ان تک پہنچے۔ مارکس نے ان آرٹیکلز پر اپنا نام تو نہیں لکھا تھا لیکن ظاہر ہے اخبار کا ایڈیٹر تو وہی تھا۔ اس لیے سرکار نے نامعلوم مصنف اور اخبار کے خلاف ایکشن لیا۔ رائن لینڈ کے گورنر نے پروشیا کی وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ یہ آرٹیکل لکھنے والے نامعلوم مصنف کے خلاف حکومتی اداروں کی توہین کا مقدمہ چلایا جائے۔ رائن لینڈ کے گورنر نے اخبار زائی تونگ کو گستاخانہ رویے کا مرتکب قرار دیا۔

گورنر کے اس جارحانہ رویے پر مارکس نے ایک قدم پیچھے ہٹایا اور محتاط طرز عمل اختیار کیا۔ اس نے گورنر کو ایک ڈپلومیٹک سا خط بھی لکھا۔ اس نے لکھا کہ جیسے پورا جرمنی بادشاہ سلامت کیلئے دعا گو ہے ویسے ہی ہم بھی ان کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب ظاہر ہے وہ خود کو اور اخبار کو بچانے کے لیے زندہ رکھنے کے لیے کر رہا تھا۔ لیکن اس تعریفی خط کے باوجود حکومت اور اخبار کے درمیان پیدا ہونے والا تناؤ کم ہونے کے بجائے وقت کےساتھ ساتھ بڑھتا ہی چلا گیا۔ پھر اکیس جنوری اٹھارہ سو تینتالیس کو ایک گھڑ سوار پروشیا کے دارالحکومت برلن سے گھوڑا دوڑاتا کولون پہنچا۔ اس کے پاس ایک سرکاری حکم نامہ تھا۔ اس حکم نامے میں لکھا تھا کہ حکومت نے رھائنیش زائی تونگ اخبار کا لائسنس کینسل کر دیا ہے اور اب مارچ کے بعد یہ اخبار شائع نہیں ہو سکے گا۔

زائی تونگ اخبار کے پرانے لائسنس کی مدت مارچ میں ختم ہو رہی تھی اور حکومت نے واضح کر دیا تھا کہ وہ یہ لائسنس ری نیو اب نہیں کرے گی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ حکم براہِ راست پروشیا کے بادشاہ فریڈرک ولیم فور نے دیا تھا۔ یہ شاہی فرمان مارکس اور اس کے ساتھیوں کیلئے بہت حیرت انگیز تھا۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر اچانک ایسا کیا ہو گیا ہے کہ بادشاہ نے خود اخبار بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ ان دنوں اخبار میں کسانوں کی حمایت میں کچھ آرٹیکلز شائع ہوئے تھے۔ مارکس کا اندازہ تھا کہ شاید ان آرٹیکلز سے حکومت ناراض ہو گئی ہے۔ مارکس اور اس کے ساتھی نہیں جانتے تھے کہ پردے کے پیچھے ایک اور ہی گریٹ گیم چل رہی ہے۔ اخبار بند کرنے کا حکم برلن سے نہیں دوستو بلکہ براہِ راست روس سے آیا تھا۔ جی ہاں مارکس کے اخبار کو بند کرنے کا حکم پروشیا کے بادشاہ نے نہیں بلکہ روس کے بادشاہ، زار روس نکولس ون نے دیا تھا۔

ہوا یہ تھا کہ زائی تونگ میں چار جنوری اٹھارہ سو تینتالیس، ایٹین فورٹی تھری کو ایک ایسا آرٹیکل شائع ہوا تھا جس میں روسی حکومت پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ اب پروشیا اس زمانے میں یعنی ایٹین فورٹیز میں روس کا اتحادی تھا۔ جب روسی حکومت کو اس آرٹیکل کے متعلق معلوم ہوا تو روس میں پروشیئن سفیر کی طلبی ہو گئی۔ روسی حکومت نے سفیر سے سوال کیا کہ آپ کی سخت سنسرشپ کے باوجود جرمن پریس ہماری توہین کیسے کر سکتا ہے؟ پروشیئن سفیر نے برلن میں اپنی حکومت کو اس واقعے کے بارے میں بتایا۔ چنانچہ یہ اخبار بند کر دیا گیا۔ بہرحال یہ بات مارکس کو بہت دیر بعد معلوم ہوئی کہ اس کا اخبار روسیوں نے بند کروایا تھا۔ تاریخ کا ستم دیکھئے کہ اس وقت کون جانتا تھا کہ اسی کارل مارکس کے نظریات ایک دن زار روس کا تختہ ہمیشہ کے لیے الٹ دیں گے اور اس کے خاندان کا خاتمہ کر دیں گے۔

اگر زار روس کو اس کا ادنیٰ سا خطرہ بھی ہوتا تو اخبار ایک طرف، کارل مارکس ہی شاید زندہ نہ رہتا۔ بہرحال دوستو نکولس ون کی فرمائش یا حکم پر اخبار ’زائی تونگ‘ بند ہو چکا تھا۔ اس اخبار کی بندش کے بعد جرمن پریس میں ایک پولیٹیکل کارٹون شائع ہوا جس میں کارل مارکس کو اپنے آئیڈیل یونانی دیوتا پرومیتھئس کے انداز میں دکھایا گیا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ پرومیتھئس تو ایک چٹان کے ساتھ لیکن مارکس ایک پرنٹنگ پریس سے بندھا ہوا تھا اور ایک عقاب اس کا پیٹ چیر کر اس کا جگر نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یوں دوستو مارکس اپنے آئیڈیل دیوتا کی کہانی کی عملی تصویر بھی کسی حد تک بن گیا۔ زائی تونگ اخبار بند ہونے پر جہاں جرمنی کے آزاد خیال طبقے پریشان تھے وہیں حیرت انگیز طور پر کارل مارکس خوش تھا۔ جی ہاں وہ دل ہی دل میں شکر ادا کر رہا تھا کہ سنسرشپ کے کڑے قوانین میں کام کرنے سے نجات ملی اور اب وہ کوئی اور راستہ تلاش کرنے میں آزاد ہے۔

اس نے اپنے دوست آرنلڈ روج سے کہا کہ اس ماحول میں میرا دم گھٹتا جا رہا ہے اطاعت اور پابندی کی فضا میں کام کرنا اور آزادی کے لیے تلوار کے بجائے سوئی کی نوک استعمال کرنا ایک فصول سی بات لگتی ہے۔ حکومت نے میری آزادی مجھے واپس کر دی ہے۔ اخبار کی بندیش کے بعد واقعی کارل مارکس خود کو کافی ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔ ساتھ میں وہ یہ بھی سمجھ چکا تھا کہ جرمنی میں رہ کر وہ اپنی بات آزادی سے نہیں کہہ سکتا۔ وہ جان گیا تھا کہ جرمنی میں سنسر شپ جس حد تک سخت ہو چکی ہے یہ کسی انقلاب کے بغیر اب ختم نہیں ہو سکتی۔ سو اب وہ ایسی جگہ جانا چاہتا تھا جہاں اسے لکھنے اور کہنے کی آزادی میسر ہو اور جہاں جرمن حکومت کا بس بھی نہ چلتا ہو تا کہ وہ بے فکر ہو کر اپنا انقلابی ایجنڈا کو آگے بڑھا سکے۔ ویسے بھی جرمنی میں اب اس کا تھا ہی کون؟ اس نے کئی قریبی رشتے اور دوست بہت پہلے ہی کھو دیئے تھے۔

اس کے والد ہینرچ مارکس جو اس کے سب سے زیادہ قریبی دوست بھی تھے جو اس سے علمی مباحثہ میں بھی حصہ لیا کرتے تھے، عرصہ ہوا انتقال کر چکے تھے۔ ان کی وفات کے بعد اپنی والدہ سے بھی کارل مارکس کی اَن بن ہو چکی تھی۔ مارکس کی والدہ کو شکوہ تھا کہ وہ گھر کا خرچ چلانے کے بجائے انقلابی سرگرمیوں میں وقت ضائع کر رہا ہے۔ چنانچہ انہوں نے کبھی مارکس سے اب سیدھے منہ بات بھی نہیں کی تھی اور مارکس بھی زیادہ تر ان سے دور ہی رہتا تھا۔ یعنی اس نے عملی طور پر اپنی ماں کو بھی کھو دیا تھا۔ ماں باپ کے علاوہ مزید نقصان یہ ہوا کہ کارل مارکس نے اپنی سخت گیر طبیعت کی وجہ سے اپنے دوستوں کو بھی اپنا دشمن بنا لیا تھا۔ وہ اپنے قریب ترین دوستوں پر بھی ایسی سخت علمی تنقید کرتا تھا کہ وہ اس سے بدظن ہو جایا کرتے تھے۔ کل تک جو اس کی شخصیت سے مرعوب تھے اب اسے دیکھ کر راستہ بدلنے لگے تھے۔

جرمنی کی ایلیٹ کلاس اور سرکاری ملازمین پہلے ہی اسے بادشاہت کا دشمن سمجھ کر اس سے کھچے کھچے رہتے تھے۔ تو مختصر یہ کہ جرمنی کے بھرے شہروں میں کارل مارکس تنہا ہو گیا۔ اگر اس کا کوئی حقیقی دوست اور چاہنے والا رہ گیا تھا تو وہ صرف ایک ہستی تھی۔۔۔ مارکس کی سبز آنکھوں والی منگیتر جینی۔ جینی ان مشکل تر حالات میں بھی اس کے ساتھ تھی اور اس کا انتظار کر رہی تھی۔ لیکن مارکس کے رویے نے اسے تکلیف پہنچانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ جینی سے اس کی منگنی کو سات سال گزر چکے تھے اور یہ سات سال ان دونوں پر ہی بہت بھاری گزرے تھے بلکہ دونوں میں بہت بڑی غلط فہمیاں بھی پیدا کر گئے تھے۔ دوستو مارکس نے یونیورسٹی کی تعلیم اور اس کے بعد کولون میں ایڈیٹرشپ کی نوکری کے دوران جینی سے بہت کم تعلق رکھا تھا۔ اب اس زمانے میں فون یا انٹرنیٹ تو تھے نہیں۔

دونوں صرف خط کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ رکھ سکتے تھے اور خطوط میں بھی ظاہر ہے ہفتوں اور مہینوں کا وقفہ ہو جاتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں لو برڈز کے درمیان کچھ غلط فہمیاں پیداہو گئیں۔ جینی ایک دولت مند خاندان کی لڑکی تھی اور اس کیلئے رشتوں کی تو کوئی کمی نہیں تھی۔ ادھر مارکس نے کولون میں جو انقلابی سرگرمیاں شروع کر رکھی تھیں اور اخبار میں وہ جس طریقے سے حکومت کے خلاف سخت مضامین لکھ چکا تھا اس نے ایلیٹ کلاس میں اس کے کئی دشمن پیدا کردیئے تھے۔ ان دشمنوں میں جینی اور مارکس کے کئی رشتے دار بھی شامل تھے جو ان دونوں کو ایک ساتھ نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ جینی کو ٹریئر میں رہ کر ان سب مخالفین سے تنہا ہی لڑنا پڑتا تھا۔ جینی اپنے رشتے داروں کے طعنے سنتی اور دل ہی دل میں کڑھتی رہتی۔ لیکن جب وہ مارکس کو خط لکھ کر اپنی پریشانیوں کا ذکر کرتی تو مارکس الٹا اس سے ناراض ہو جاتا۔

اسے لگتا کہ جینی اب اس سے بیزار ہو گئی ہے اور جان چھڑانا چاہتی ہے۔ وہ جینی کے شکووں کے جواب میں اپنا جواب شکوہ لکھ بھیجتا۔ جسے پڑھ کر بیچاری جینی اور بھی پریشانی کا شکار ہو جاتی۔ جینی کو شکوہ تھا کہ مارکس اس کی محبت پر شک کر رہا ہے اور مارکس سمج ھتا تھا کہ جینی اس سے بیزار ہوچکی ہے اس سے اکتا گئی ہے۔ اس دوران مبینہ طور پر مارکس نے جینی سے بیوفائی بھی کی۔ اس نے اپنی ماں کی عمر کی ایک جرمن شاعرہ سے عشق لڑایا۔ ستم تو یہ ہے دوستو کہ وہ ایک بار اس خاتون کو لے کر اپنے شہر ٹریئر آیا اور اسے جینی سے اس شاعرہ کی ملاقات کروائی۔ یہ ملاقات جینی پر یقیناً قیامت بن کر گزری ہو گی۔ لیکن اس واقعے کے باوجود جینی، مارکس سے محبت کرتی رہی اور اس سے بریک اپ اس نے نہیں کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بار جینی نے اپنے ایک خط میں مارکس کو اس کی بے حسی کا احساس دلانے کیلئے لکھا

’’اوہ کارل ۔۔۔ تمہیں میرے حالات اور دکھ کا ذرا بھی احساس نہیں کاش ایسا ہو سکتا کہ تم کچھ دیر کے لیے میرے جیسی عجیب و غریب لڑکی بن سکتے تو ممکن تھا کہ تمہیں میرا کچھ احساس تو ہوجاتا۔ بہرحال سات برس کے عرصے میں جدائی اور غلط فہمیوں کی بھٹی تپتی رہی مارکس کی جرمن شاعرہ سے دوری ہو گئی اور جینی بچھڑی ہوئی محبت کی طرح ایک بار پھر اس کے رگ و پے میں سما گئی۔ جب مارکس نے جرمنی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو سب سے پہلے جینی کے گھر پہنچا اور اس سے شادی رچا لی۔ اس شادی میں اس کے صرف چند ایک دوست اور سسرالی رشتے دار ہی شریک ہوئے۔ مارکس کی والدہ یا اس کے گھر سے کوئی نہیں آیا۔ مارکس کی ساس نے اپنی بیٹی کو جہیز میں زیور اور چاندی کی ایک پلیٹ دینے کے علاوہ نوٹوں سےبھرا ایک صندوق بھی تحفے میں دیا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ اس رقم سے یہ جوڑا اپنی نئی زندگی شروع کرے۔ لیکن ہوا یہ کہ مارکس اور جینی نے اپنے ہنی مون ٹرپ میں ایک ہفتے کے دوران ہی یہ ساری دولت اڑا دی۔

جینی کو جہیز میں جو چاندی کی پلیٹ اور زیور ملا تھا وہ بھی اگلے کئی برس تک مہاجنوں کے پاس گروی رکھا جاتا رہا۔ شادی کے بعد کارل مارکس چھے ماہ تک گھر داماد بن کر رہا۔ اس کے سامنے سوال یہ تھا کہ وہ جرمنی چھوڑ کر کہاں جائے۔ بہت سوچ بچار کے بعد اس نے فرانس کے دارالحکومت پیرس جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہاں اس کا پرانا دوست آرنلڈ روج پہلے سے موجود تھا۔ اس نے بھی جرمنی میں سنسرشپ سے تنگ کر آ کر ملک چھوڑ دیا تھا اور پیرس سے ایک نیا اخبار نکالنے کی تیاری کر رہا تھا۔ روج نے پیرس جانے سے پہلے مارکس کو اپنے اس نئے اخبار میں ایڈیٹرشپ کی بھی آفر کر دی تھی اور مارکس اسے قبول بھی کرلیا تھا۔ مارکس نے طے کر لیا تھا کہ اب وہ زندگی بھر انقلاب کیلئے کام کرے گا اور ایک ایسا نظام بنائے گا جس کے ذریعے دنیا سے امیر اور غریب کا یہ جو فرق ہے یہ مٹ جائے گا۔

چنانچہ اٹھارہ سو تینتالیس کے آخر میں مارکس اپنی بیوی جینی سمیت اپنے انقلابی سفر پر روانہ ہو گیا جو تاریخ کا رخ موڑنے والا تھا۔ کارل مارکس کو جلا وطنی میں کیا کچھ سہنا پڑا؟ اسے اپنی زندگی کا بہترین انقلابی ساتھی کیسے ملا اور وہ کون تھا؟ مارکس کے تین سوالات کا جواب کیا تھے؟وہ سوال جو وہ بچپن سے خود سے اور دوسروں سے پوچھ رہا تھا اس نے کیمونسٹ مینی فیسٹو کیسے تیار کیا؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن کارل مارکس کون تھا کی منی سیریز کی اگلی قسط میں۔ اس دوران اگر آپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کارل مارکس ایک پھڈے باز شرابی سے انقلابی کیسے بنا تو یہاں کلک کیجیے

Read More :: History of Pakistan Read In Urdu Article And Watch Play History

Part 3 :: Who was Karl Marx Urdu | کارل مارکس کون تھا؟

▷❤▷❤ Watch Historical Series English Subtitles And Urdu Subtitles By Top20series

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here