Wo Kon Ha Series Dekho Suno Jano ( Faisal Warraich ) Urdu

Who was Karl Marx Urdu | کارل مارکس کون تھا؟

Who was Karl Marx Urdu | کارل مارکس کون تھا؟

Who was Karl Marx Urdu | کارل مارکس کون تھا؟

اٹھارہ سو پینتالیس وہ سال تھا جب کارل مارکس سٹیٹ لیس ہو گیا۔ وہ کسی ملک کا شہری نہیں رہا تھا۔ کارل مارکس کو اپنے نظریات کی وجہ سے زندگی بھر قرئیے قرئیے کی خاک چھاننا پڑی۔ وہ جرمن ریاست پروشیا سے پیرس، پیرس سے بیلجئم، بیلجیم سے لندن، لندن سے واپس بیلجئم بیلجئم سے پھر ایک مرتبہ پیرس، پیرس سے ایک بار پھر جرمنی، جرمنی سے واپس پیرس اور پیرس سے لندن کی گلیوں تک میں دربدر ہوتا رہا۔ یورپی طاقتیں اس سے تنگ تھیں اور اسے خاموش کروا دینا چاہتی تھیں۔ لیکن اسی سب کے دوران اس نے اپنے بہترین ساتھی فریڈرک اینگلز کے ساتھ مل کر ایک ایسی دستاویز تیار کی جس نے آنے والے وقتوں میں کئی سلطنتوں کو الٹ کر رکھ دیا۔ یہ دستاویز کیسے تیار ہوئی تھی؟ کارل مارکس خانہ بدوش کیوں ہو گیا تھا؟ سوشلزم سے جدید کیمونزم نے کیسے جنم لیا؟

منی سیریز ’’کارل مارکس کون تھا‘‘ کے تیسرے حصے میں ہم آپ کو یہی سب دکھا رہے ہیں اٹھارہ سو تینتالیس، ایٹین فورٹی تھری میں کارل مارکس نے جرمنی چھوڑ دیا تھا اور اپنی دلہن جینی کے ساتھ فرانس کے شہر پیرس میں چلا آیا۔ یہاں وہ اپنے دوست آرنلڈ روج کے ساتھ مل کر ایک المانوی فرانسیسی جریدہ ’’ یوؤبیشو‘‘ نکال رہا تھا۔ دونوں دوستوں نے طے کیا کہ وہ اس کتابچے کی تین ہزار کاپیاں چھپوا کر جرمنی میں اسمگل کر دیں گے۔ اس طرح یہ لوگ حکومتی سنسرشپ سے بچ کر عوام کے ذہنوں تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن اس میں دوستو وہ ایک چھوٹی سی غلط فہمی کا شکار تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ جرمن انٹیلی جنس پیرس میں بھی ان کی نگرانی کر رہی ہے۔

جرمن انٹیلی جنس مارکس اور روج کے منصوبوں کے بارے میں جان چکی تھی اسی لیے انہوں نے جرمنی اور فرانس کی سرحد پر کڑا پہرہ لگا رکھا تھا۔ جب کارل مارکس اور آرنلڈ روج نے یہ کتابچہ جرمنی میں اسمگل کرنے کی کوشش کی تو اس کی دو ہزار کاپیاں بارڈر پر ہی قبضے میں لے لی گئیں۔ بمشکل صرف ایک ہزار کاپیاں ہی جرمنی میں سمگل ہو سکیں۔ اس کے بعد جرمن حکومت نے یہ حکم دے دیا کہ اگر مارکس یا روج یا ان کا کوئی اور قریبی ساتھی جرمنی واپس آنے کی کوشش کریں تو اسے فوراً گرفتار کر لیا جائے۔ اس حکم سے روج خوفزدہ ہو گیا اور اس نے ڈر کے مارے اس رسالے کی اشاعت ہی روک دی اور مارکس کو بھی تنخواہ دینے سے انکار کر دیا۔ آرنلڈ روج اور مارکس کے نظریاتی اختلافات بھی اس دوران بہت شدید ہو گئے تھے۔

یوں اس کتابچے کا پہلا شمارہ ہی دوستو آخری ثابت ہوا۔ یہ رسالہ بند ہو گیا اور مارکس بیروزگار ہو گیا۔ مارکس اور آرنلڈ روج کی دوستی تو اس طرح ختم ہو گئی لیکن دوستی کے دوران ہی ان کے رسالے میں ایک مضمون چھپا تھا۔ یہ مضمون کارل مارکس کی زندگی میں ایک بہت بڑی تبدیلی لے کر آیا۔ نہ صرف تبدیلی لے کر آیا بلکہ ایک ایسا دوست بھی لایا جس نے ساری زندگی کارل مارکس کی معاشی اور اخلاقی مدد جاری رکھی بلکہ اس نے اسکے مرنے کے بعد بھی کارل مارکس کے نظریات کی تشہیر کے لیے کام کیا۔ یہاں تک کہ آج تک ان دونوں کے مجسمے ایک ساتھ بنائے جاتے ہیں۔ کارل مارکس کا یہ دوست کون تھا؟ مائی کیوریس فیلوز یہ دوست فریڈرک اینگلز تھا۔ فریڈرک اینگلز تھا تو جرمن لیکن وہ رہتا برطانیہ میں تھا۔ اینگلز کا باپ ایک دولت مند صنعت کار تھا، ایک انڈسٹریلسٹ تھا۔

وہ چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا اینگلز بھی اسی کی طرح بزنس میں ترقی کرے۔ لیکن اینگلز کا رجحان سیاست کی طرف زیادہ تھا اور وہ معاشرے میں ایک انقلاب لانا چاہتا تھا۔ اینگلز نے اکانومی، معیشت بہت گہرائی سے پڑھی تھی اور اب وہ سوسائٹی میں موجود ناانصافی کو اکانومی کے پوائنٹ آف ویو سے ہی دیکھنےلگ گیا تھا۔ اکانومی اور غربت کے تعلق کے حوالے سے اس کے مضامین اکثر شائع ہوتے رہتے تھے۔ جب کارل مارکس جرمن شہر کولون میں زائی تونگ کا ایڈیٹر تھا تو ایک بار اینگلز بھی کولون آچکا تھا۔ وہاں اس کی مارکس سے ایک سرسری سی ملاقات بھی ہوچکی تھی۔ لیکن اس کے بعد دونوں طرف سے طویل خاموشی چھائی رہی۔ لیکن جب کارل مارکس پیرس آیا تو اس کی اینگلز سے خط و کتابت کافی بڑھ گئی۔ کارل مارکس اینگلز کی تحریروں سے بہت متاثر تھا۔ اسی لیے جب کارل مارکس اور آرنلڈ روج نے اپنا رسالہ نکالا تو اس میں اینگلز کا ایک مضمون بھی چھاپا گیا۔

اس مضمون میں اینگلز نے سائنسی سوشلزم کی روشنی میں سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام، کیپیٹلسٹ اکنامک سسٹم پر تنقید کی تھی۔ اسی مضمون سے متاثر ہو کر کارل مارکس نے سوچا کہ اسے بھی اکانومی کی اچھی خاصی سمجھ ہونی چاہیے۔ سو اس نے پہلی بار اکانومی کو ڈھنگ سے پڑھنا شروع کیا۔ اکانومی کی باریکیوں سمجھتے ہوئے ہی اسے احساس ہوا کہ انسانیت کی بہتری کا راستہ معیشت یعنی اکانومی سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔ امیر اور غریب کا فرق تب ہی مٹ سکتا ہے جب دونوں میں دولت کا فرق ختم کر دیا جائے۔ لیکن سوال یہ تھا کہ یہ فرق، یہ تقسیم آخر کیسے ختم کی جائے اور اس سے بھی پہلے سوال یہ تھا کہ یہ تقسیم اصل میں ہے ہی کیوں؟ اس سوال کے جواب کی تحقیق کارل مارکس کی زندگی بھر کا حاصل ثابت ہوئی۔ اس تحقیق کے دوران کارل مارکس کے ذہن میں ایک سسٹم وجود میں آیا جو اس وقت کے کمیونزم کی جدید شکل بن کر ابھرا۔ دوستو کمیونزم کی اصطلاح لیکن کارل مارکس نے ایجاد نہیں تھی۔

بلکہ یہ پہلے ہی سوشلزم سے نکلی ہوئی ایک شاخ بن چکی تھی۔ انیسویں صدی نائنٹینتھ سنچری میں سوشلزم کا نظریہ بہت مقبول بھی ہو چکا تھا۔ سوشلزم یعنی ایک ایسا معاشرہ جس میں ہر شخص کو اچھی زندگی گزارنے کیلئے تمام معاشی اور سماجی ذرائع تک برابر کی رسائی حاصل ہو۔ یہ آپ اس کی سادہ سی تعریف کہہ سکتے ہیں۔ سو اٹھارہ سو چالیس کی دہائی، ایٹین فورٹیز میں اسی سوشلزم کیلئے ایک نئی ٹرم ’کمیونزم‘ استعمال ہونے لگی۔ لیکن اس نئی ٹرم اور سوشلزم میں بظاہر کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ لیکن جب یہ ٹرم استعمال ہونا شروع ہوئی تو انہی دنوں یورپ کے انقلابی نوجوان مارکس کی انقلابی تحریروں سے متاثر ہو رہے تھے۔ چنانچہ اس فضا میں کمیونزم کو مارکس کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ مارکس نے بھی مسلسل محنت سے تحقیق سے کمیونزم کا ایک ایسا چہرہ متعارف کرایا جو سوشلزم سے قدرے مختلف تھا بلکہ اس کی ترقی یافتہ شکل تھا۔

کمیونزم کو عملی شکل دینے میں مارکس نے جو کردار ادا کیا اس کی وجہ سے بعض لوگ مارکس کے کمیونزم کو مارکس ازم بھی کہتے ہیں۔ دوستو آپ جانتے ہیں کہ کارل مارکس آغازِ جوانی ہی سے تین سوالوں کے جواب کھوج رہا تھا۔ پہلا سوال تھا کہ معاشرے میں مذہب کا کردار کیا ہو گا؟ دوسرا سوال یہ تھا کہ جرمنی سے سنسرشپ کیسے ختم کی جائے؟ اور تیسرا سوال اس کے ذہن میں یہ تھا کہ معاشرے میں محنت کش طبقے کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ پیرس میں رہائش کے دوران اسے ان تینوں سوالوں کے جواب مل گئے۔ جہاں تک معاشرے میں خدا کے کردار کا تعلق تھا تو مارکس نے اس حوالے سے عظیم جرمن فلاسفر ہیگل کو نہایت دھیان سے پڑھا اور کچھ عرصہ اس کا بہت بڑا مداح بھی رہا۔ ہیگل نے تصورِ مطلق یا ایبسولوٹ آئیڈیئے کا نظریہ پیش کیا اس کی پیچیدگیوں میں جائے بغیر آپ سادہ الفاظ میں یہ سمجھ لیں کہ ہیگل کہتا یہ تھا کہ خدا کا وجود تو ہے، لیکن وہ وجود کائنات سے الگ کچھ نہیں ہے۔ بلکہ یہ موجود کائنات ہی اصل میں خدا ہے۔

اس کے ساتھ وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ خدا نے انسان کی کوئی ایسی تقدیر یا قسمت نہیں بنائی جس کا انسان پابند ہوگیا ہو۔ انسان اپنی عقل اور شعور سے زندگی کا راستہ خود بناتا ہے یعنی وہ اپنے اچھے اور برے کا خود ذمہ دار ہوتا ہے بغیر کسی آفاقی مداخلت کے۔ ہیگل کے فلسفے کو کارل مارکس پسند تو بہت کرتا تھا، لیکن اس میں اسے کائنات اور خدا کےایک ہونے کی بات زیادہ متاثر نہیں کرتی تھی۔ بلکہ وہ دوسری بات یعنی انسانی عقل و شعور آزاد ہونے کی بات کو زیادہ منطقی سمجھتا تھا۔ ہیگل کے علاوہ اس نے ایک اور جرمن فلاسفر ’’فیوئر باخ‘‘ کی کتاب ’’دا اسینس آف کرسچیئنٹی‘‘ یعنی عیسائیت کی روح بھی پڑھی۔ اس کتاب میں فوئر باخ نے خدا کے وجود سے ہی انکار کر دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ مذہب اور خدا دراصل انسانی ذہن کی تخلیق ہیں جنھیں انسان نے اپنی ضرورت کے لیے اپنی سوچ سے پیدا کیا ہے۔ اس نے لکھا تھا کہ نیچر اور انسان سے باہر یعنی مادے سے باہر کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہے۔

جو کچھ ہے وہ مادے کا محتاج ہے۔ یہاں تک کہ سوچ بھی۔ انسانی ذہن مادے کی شکل میں موجود ہے تو اس میں سوچ بھی ہے ورنہ خیال یا سوچ کا اپنا الگ سے کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ دوستوآپ سادہ الفاظ میں سمجھ لیں۔ اب ہوا یہ کہ کارل مارکس کو فیوئرباخ کا فلسفہ، ہیگل کی نسبت کچھ زیادہ لاجیکل لگا۔ چنانچہ اس نے ہیگل کے فلسفے سے خدا کے وجود کو چھوڑتے ہوئے، صرف آزاد انسانی شعور والے نکات سے اتفاق کیا۔ اس نے ہیگل کے فلسفے میں اور بھی کافی تبدیلیاں کیں اور اسے معیشت اور پیداواری ذرائع کے ساتھ جوڑ کر اپنے نئے خیالات کو ترتیب دیا۔ اسی لیے مارکس اکثر کہا کرتا تھا کہ ہیگل کا فلسفہ سر کے بل کھڑا تھا، لیکن میں نے اسے سیدھا کر دیا ہے۔ کارل مارکس کو اپنے دوسرے سوال یعنی سنسرشپ کا جواب تو جرمنی میں ہی مل چکا تھا۔ یعنی جب جرمن حکومت نے اس کا اخبار زائی تونگ بند کر دیا تو وہ سمجھ گیا کہ سرمایہ دار طبقہ انقلاب کے بغیر سنسرشپ کے خاتمے پر تیار نہیں ہو گا۔

تیسرا سوال کہ محنت کش طبقہ معاشرے میں کہاں فٹ ہوتا ہے؟ اس کا جواب مارکس کو اکانومی کے مطالعے کے دوران ملا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ معاشرے میں حکومت سرمایہ دار کو نہیں بلکہ مزدوروں کو ملنی چاہیے تبھی معاشرے میں امیر اور غریب کا جو فرق ہے یہ ختم ہو گا۔ اس کے خیال میں اسی صورت انسان برابری کی فضاء میں چین کی بانسری بجاتے ہوئے زندہ رہ سکیں گے۔ یوں دوستو مارکس اپنے نظریات میں روز بروز کلیئر ہوتا گیا اور اس نے چند برس کے دوران ہی اپنے نظریات کو ایک باقاعدہ ڈاکٹرائن کی شکل دینا شروع کی۔ یہ ڈاکٹرائن مارکس کا کمیونزم یا مارکس ازم کہلاتا تھا۔ مارکس کے کمیونزم کو سمجھنے کیلئے دوستو پہلے یہ جان لیجئے کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کیا تھا جس کے خلاف مارکس لڑنا شروع کر رہا تھا۔

دوستو سرمایہ دارانہ نظام جسے کیپیٹل ازم بھی کہتے ہیں اس کی بنیاد بہت سادہ سی ہے۔ کیپیٹل یعنی سرمائے کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی شخص کے پاس اپنے ذاتی استعمال سے زیادہ جو بھی دولت ہے وہ سرمایہ یعنی کیپیٹل ہے۔ اس کیپیٹل کو وہ جب اور جیسے چاہے اپنی مرضی سے انویسٹ کر سکتا ہے۔ اور پھر جب اس انویسٹمنٹ سے منافع آئے گا تو اس کا کیپیٹل اور بڑھ جائے گا۔ اس منافع کو وہ ری انویسٹ کرتا چلا جائے گا اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔ اس طریقے سے انویسٹمنٹ کرنے والوں کے اثاثوں، پراڈکٹس کی فروخت اور منافع کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سرمایہ دار دنیا کے ہر علاقے یا خطے میں سرمایہ کاری کیلئے آزاد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کار پوری دنیا میں اپنی مرضی سے جتنی چاہے انویسٹمنٹ کرے اور دولت کمائے اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

کیپیٹلزم کے پیروکار اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اپنے ذاتی مفاد کو حاصل کرنا اور ذاتی جائیداد بنانا انسان کا اخلاقی اور قانونی حق ہے۔ جبکہ ریاست کا کام یہ ہے کہ وہ فرد کے ان حقوق یعنی سرمایہ رکھنے کے حقوق کا تحفظ کرے۔ دوستو یہ جو آج آپ بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیز جیسا کہ کوکا کولا، گوگل، سام سنگ وغیرہ کے بارے میں سنتے ہیں جانتے ہیں۔ یہ سب کمپنیز کیپیٹل ازم کے اسی اصول پر قائم ہیں یعنی انویسٹمنٹ، پرافٹ اور پھر ری انویسٹمنٹ اور پرافٹ۔ یہ کمپنیاں دنیا بھر میں اپنے منافع کو ری انویسٹ کرتی رہتی ہیں۔ اور دوبارہ سے اسی ری انویسٹمنٹ سے زیادہ منافع کماتی ہیں۔ نئی سے نئی پراڈکٹس بناتی ہیں پھر انہیں پرکشش اشہاروں کے ذریعے عام لوگوں کو بیچتی ہیں اور ان کے منافعے سے اور نئی پراڈکٹس بناتی چلی جاتی ہیں۔ یوں یہ ایک سرکل ہے جس میں پورا کیپیٹلسٹ معاشرہ گھومتا رہتا ہے۔ کیپٹیل ازم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے بیروزگاری ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اس کی ایک سادہ سی مثال یوں دی جاتی ہے کہ فرض کریں ایک زمیندار، ایک کپڑا بننے والے یا ایک جوتا بنانے والے کا منافع اس کی اپنی ضروریات سے بڑھ جاتا ہے۔ اس صورت میں وہ شخص اپنا منافع بڑھانے کیلئے مزید ملازم رکھے گا۔ چنانچہ منافع بڑھتا جائے گااور اتنے ہی مزید ملازم بھرتی ہوتے چلے جائیں گے۔ یعنی کاروباری افراد کا زیادہ منافع مشترکہ دولت اور خوشحالی کی بنیاد بن جاتا ہے ایک معاشرے میں۔ اب یوں تھا کہ کارل مارکس کیپیٹل ازم کے اس آئیڈیا کو مسترد کردیتا تھا۔ ا اس کا ماننا تھا کہ سرمایہ دار طبقے کو جب اپنی انویسٹمنٹ بڑھانے کی اجازت ملتی ہے تو وہ منافع کیلئے مزدوروں کا استحصال کرتا ہے۔ وہ کہتا تھا کہ کیپٹل ازم میں سرمائے سے صرف خام مال خریدا جاتا ہے لیکن اس خام مال میں ایک نئی ویلیو مزدور کی محنت سے جنم لیتی ہے۔ جس سے یہ خام مال ایک نئی پراڈکٹ میں ڈھلتا ہے اور اس کی قیمت خام مال کی نسبت بہت بڑھ جاتی ہے۔

کارل مارکس کے نزدیک یہ بڑھی ہوئی جو ویلیو ہے جو قیمت ہے دراصل وہ سرپلس ویلیو یا قدر زائد ہے جو کہ مزدور کا حق ہے۔ وہ اسے اس قدر زائد کو سرمایا دار کا حق نہیں سمجھتا تھا۔ کارل مارکس کا کہتا تھا کہ سرپلس ویلیو ساری کی ساری سرمایہ دار کھا رہا ہے اور مزدور کے ہاتھ میں بہت معمولی سی تنخواہ آ جاتی ہے۔ یوں سرمایہ دار طبقہ مزدور کی خون پسینے کی کمائی سے امیر سے امیر تر جبکہ مزدور یا عام آدمی غریب سے غریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مزدور کی تیار کردہ پراڈکٹ اس کی نہیں بلکہ سرمایہ دار کی تخلیق سمجھی جاتی ہے۔ اس لئے مزدور محنت سے بیزار ہو جاتا ہے۔ مزدوروں کے محنت سے بیزار ہونے کے اس عمل کو مارکس نے بیگانگی ذات قرار دیا۔ اسے مارکس کا فلسفہ بیگانگی یا تھیوری آف ایلین نیشن بھی کہا جاتا ہے۔ مارکس اس سارے نظام کو ختم کرنا چاہتا تھا جو مزدوروں کا استحصال کر رہا تھا اور انہیں اپنی محنت سے بیگانہ کر رہا تھا۔

مارکس کے نزدیک ایسا صرف اسی صورت میں ممکن تھا جب سرمایہ دارانہ نظام کا مکمل خاتمہ ہو جائے اور اس کی جگہ ورکنگ کلاس یعنی مزدور طبقے کی حکومت قائم ہو جائے۔ لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہی تھا کہ ’’ایسی حکومت بنے گی کیسے؟‘‘ اس سوال کے جواب میں میں کارل مارکس ایک خطرناک نتیجے پر پہنچا۔ اس نے جانا کہ سرمایہ دار معاشرے میں پرامن طریقے سے حکومت کی تبدیلی ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کے خیال میں جمہوریت یا ڈیموکریسی بھی اس مسئلے کا حل نہیں تھی۔ بلکہ مارکس تو جمہوریت کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ جمہوریت وہ نظام ہے جس میں مظلوم طبقہ ہر چند برس بعد اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ ظالم طبقوں میں سے کون سا ظالم طبقہ اس بار بذریعہ پارلیمنٹ ان کا استحصال کرے گا۔ کارل مارکس سمجھتا تھا کہ مذہب بھی سرمایہ داروں کا ایک ہتھیار ہے جسے وہ مظلوم طبقوں کو کچلنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

مذہب کے ذریعے عام لوگوں کو یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر ایک دفعہ خاموش ہو جائیں کیونکہ ایک دن آئے گا جب خدائے لم یزل، میزان عدل سجائے گا تو سب کو انصاف مل جائے گا۔ کارل مارکس کے اپنی کتابوں میں لکھتا ہے کہ مذہب افیون کے نشے کی طرح ہے۔ جو انسان کو سہانے خواب دکھاتے دکھاتا چلا جاتا ہے۔ مارکس سمجھنے لگا تھا کہ مزدور طبقہ جب تک سرمایہ داروں کی حکومت کا تختہ الٹ کر انقلاب نہیں لے آتا تب تک تبدلی ممکن نہیں۔ اس کے مطابق تبدیلی کیلئے جنگ ناگزیر تھی اور ظاہر ہے وہ سمجھتا تھا کہ اس میں خون خرابہ بھی ہو گا۔ اب وہ ایسا کیوں سمجھتا تھا؟

مائی کیورئیس فیلوز مارکس کے دور کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ اس نے خونی تبدیلی کا تصور ہے یہ انقلابِ فرانس سے لیا تھا، کیونکہ وہاں بادشاہت کا خاتمہ ایک خوفناک خونی انقلاب کے بعد ہوا تھا۔ حالانکہ مارکس اچھی طرح جانتا تھا اور مانتا تھا کہ انقلابِ فرانس کا نتیجہ عوام کی توقعات کے مطابق نہیں نکلا تھا۔ ہزاروں ہم وطنوں کا خون بہانے کے بعد بھی فرانسیسی عوام کے ہاتھ میں مایوسی ہی آئی تھی۔ کیونکہ انقلاب کے کچھ ہی عرصے بعد جیسے ہی نپولین کا عہد ختم ہوا ایک بار پھر سے قدیم بوربن شاہی خاندان کی حکومت بحال ہو گئی تھی۔ اور نپیولین بھی تو ایک شہنشاہ ہی تھا وہ کون سا کیمونسٹ یا جمہوری لیڈر تھا۔ کارل مارکس نہیں چاہتا تھا کہ اس کے تصورات کی وجہ سے آنے والے انقلاب کا بھی وہی حشر ہو جو انقلابِ فرانس کا ہوا تھا۔ اس لئے مارکس نے انقلاب کے بعد دو مرحلوں میں ایک آئیڈیل کمیونسٹ معاشرے کے قیام کا تصور دیا۔ اس کے مطابق پہلا مرحلہ یہ ہو گا کہ مزدور طبقہ کمیونسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کر کے اختیار کو اپنے ہاتھ میں لے گا۔ اس مرحلے میں حکومت اور معیشت پر مزدوروں کا مکمل کنٹرول ہو گا۔

یہ حکومت ہر شخص کو اس کی محنت کا جائز معاوضہ دلائے گی۔ یعنی سرمایہ دار طبقہ مزدوروں کو تنخواہیں نہیں دے گا بلکہ حکومت ان کی محنت کے مطابق معاوضے کا تعین کرے گی۔ اس طریقے سے نہ ضرورت سے زیادہ دولت پیدا ہو گی اور نہ کوئی ارب پتی، کھرب پتی، بلین ائر، ٹریلین ائیر بن سکے گا۔ جب یہ مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو جائے گا تو پھر دوسرا مرحلہ شروع ہو گا۔ اس مرحلے میں کمیونزم کو مکمل طور پر حقیقی شکل دے دی جائے گی۔ اس میں ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جائے گا جس میں نہ طبقاتی تقسیم ہو گی اور نہ ہی حکومت کا کوئی وجود ہو گا۔ اس معاشرے میں ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق خودبخود کام حاصل کر رہا ہو گا اور اسے اس کی ضرورت کے مطابق ہی معاوضہ بھی مل رہا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں کسی حکومت، ریاست، قانون،اورعدالت وغیرہ کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ یہ معاشرہ آٹو پائلٹ پر خود ہی چلتا چلا جائے گا۔ تو یہ تھا دوستو مارکس کا کیمونسٹ فلسفہ، جسے مارکس ازم بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نظام مارکس نے اپنے دوست اینگلز کی مدد سے ہی تیار کیا تھا۔

اٹھارہ سو چالیس کی دہائی یعنی ایٹین فورٹیز میں مارکس اور اینگلز نے دنیا بھر کی سوشلسٹ تحریکوں کے ساتھ رابطے بھی کئے تاکہ اس نظام کو متعارف کروایا جائے اور کامیاب بنانے کی کوشش کی جائے۔ لیکن جہاں کارل مارکس سرمایہ داری نظام کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا وہیں انقلاب دشمن طاقتیں بھی اس کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھیں۔ مارکس کی آبائی جرمن ریاست پروشیا کے حکمران ہر وقت اس خوف کا شکار رہتے تھے کہ کارل مارکس جلاوطنی میں ان کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ چنانچہ انہوں نے فرانس کی حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ کارل مارکس کو ملک سے نکال دیں۔ فرانسیسی حکومت خود بھی اس سے بہت تنگ تھی کیونکہ فرانس میں بھی بادشاہت کے خلاف پھر سے انقلابی تحریکیں جنم لینے لگیں تھیں۔ ان حالات میں فرانسیسی حکومت نے اٹھارہ سو پینتالیس، ایٹین فورٹی فائیو میں مارکس کو ملک بدر کر دیا۔ مارکس ایک بار پھر جلاوطن ہو گیا۔ لیکن اس بار وہ اپنے وطن پروشیا واپس جانے کے بجائے فرانس کے شمالی ہمسایے بیلجئم میں داخل ہو گیا۔

لیکن جرمن پولیس نے وہاں بھی مارکس کا پیچھا نہیں چھوڑا اور بیلجئم کی حکومت پر بھی دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ مارکس کو وہ بھی ملک بدر کر دیں۔ مارکس نے دوبارہ ملک بدری سے بچنے کیلئے ایک انوکھا قدم اٹھایا۔ اس نے پروشیا کی شہریت ہی چھوڑ دی۔ اس کے علاوہ اس نے بیلجئم کی حکومت کو یہ تحریری یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ یہاں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے گا۔ اس کے بعد اسے بیلجئم میں رہنے کی اجازت مل گئی۔ پروشیا کی شہریت چھوڑنے کے بعد پھر کارل مارکس کو کسی ملک کی شہریت نہیں مل سکی۔ حالانکہ اس نے ایک بار پروشیا کی شہریت دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن ناکام رہا۔ کارل مارکس نے یہ بھی لکھا ہے کہ مزدور کا کوئی ملک نہیں ہوتا۔ آج بھی دوستو اگر آپ وکی پیڈیا یا کسی اور سائٹ پر کارل مارکس کی نیشنلٹی دیکھیں تو اٹھارہ سوپینتالیس کے بعد اسے اسٹیٹ لیس لکھا گیا ہے۔

اٹھارہ سو سینتالیس میں جب کارل مارکس ابھی بیلجیم میں ہی تھا تو اس دور میں برطانیہ میں جرمن تارکینِ وطن کی ایک خفیہ سوسائٹی کی میٹنگ ہوئی۔ یہ خفیہ سوسائٹی لیگ آف دا جسٹ کہلاتی تھی۔ اس لیگ میں زیادہ تر جرمن تارکین وطن ہی شامل تھے۔ اس خفیہ سوسائٹی نے مارکس کے پاس اپنا نمائندہ بھیج کر اسے اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دی۔ مارکس نے اینگلز کے ساتھ برطانیہ جا کر یہ لیگ جوائن کر لی۔ اس کے بعد اس سوسائٹی کا نام بدل کر کمیونسٹ لیگ رکھ دیا گیا۔ اٹھارہ سو سینتالیس، ایٹین فورٹی سیون میں لیگ آف دا جسٹ کی ایک کانفرنس لندن میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں اینگلز بھی شریک تھا۔ اس کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ تنظیم کو اب کارل مارکس کے اصولوں کے مطابق کمیونسٹ بنایا جائے گا۔ اسی تنظیم کے مطالبے پر کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے اٹھارہ سو اڑتالیس، ایٹین فورٹی ایٹ میں کمیونسٹ مینی فیسٹو لکھا جو دنیا بھر کے کمیونسٹس کیلئے ایک مقدس دستاویز بن گیا۔

اس دستاویز میں سرمایہ دار طبقے یا جیسے وہ ’’بُورژوا‘‘ اور مزدور طبقے یعنی ’’پرولیٹیریٹس‘‘ کے درمیان طبقاتی کشمکش یا کلاس اسٹرگل کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ یہ منشور کہتا ہے کہ انسان نے تاریخی طور پر جو بھی ترقی کی ہے یا دنیا میں جو کچھ بھی ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے وہ صرف ایک چیز کا نتیجہ ہے۔۔۔ طبقاتی کشمکش یا کلاس اسٹرگل کا۔ مینی فیسٹو میں کہا گیا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ ہو کر رہے گا اور اس کی جگہ مزدوروں کا معاشرہ قائم ہو جائے گا۔ کمیونسٹس جو کہ محنت کش طبقے کا ہراول دستہ ہیں وہ پرائیویٹ پراپرٹی ختم کر دیں گے اور مزدوروں یعنی پرولیٹریٹس کو حکومت دلائیں گے۔ اس مینی فیسٹو کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے کہ پرولیٹریٹس کے پاس سوائے اپنی زنجیروں کے کھونے کیلئے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ جبکہ ان کے سامنے ایک دنیا موجود ہے جسے وہ جیت سکتے ہیں۔ اس لئے دنیا بھر کے مزدورو ایک ہو جاؤ۔

یہ مینی فیسٹو سرمایہ دار طاقتوں کے خلاف کھلا اعلانِ جنگ تھا جس نے مستقبل میں سپرپاورز تک کو ہلا کر رکھ دیا۔ لیکن دوستو مارکس کی زندگی کے بارے میں ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے وہ یہ کہ اس نے لکھا تو بہت کچھ لیکن وہ اپنی زندگی میں کوئی انقلاب نہیں لا سکا۔ اس کے نظریات پر جو بھی انقلابات آئے وہ اس کی زندگی کے بعد آئے۔ لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے مارکس کی زندگی میں بھی ایک ایسا موقع آیا تھا جب انقلاب نے اس کے دروازے پر دستک دی اور اس نے اس انقلاب کی آواز پر لبیک کہا۔ یہ کون سا انقلاب تھا؟ وہ کون سا راز تھا جسے کارل مارکس کی موت کے بعد فاش کیا گیا؟ مارکس نے انقلاب کیلئے بندوق کیوں اٹھا لی تھی؟ مارکس کے آخری لمحات کے بارے میں بھی آپ کو دکھائیں گے لیکن کارل مارکس کی منی سیریز کے چوتھے اور آخری حصے میں دوستو اگر آپ نے کارل مارکس کی کہانی کے تمام حصے شروع سے نہیں دیکھے تو یہاں کلک کر لیجیے یہاں جانیے

Read More :: History of Pakistan Read In Urdu Article And Watch Play History

Part 4 :: Who was Karl Marx Urdu | کارل مارکس کون تھا؟

▷❤▷❤ Watch Historical Series English Subtitles And Urdu Subtitles By Top20series

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Adblock Detected

Please Turn off Your Adblocker. We respect your privacy and time. We only display relevant and good legal ads. So please cooperate with us. We are thankful to you