Wo Kon Ha Series Dekho Suno Jano ( Faisal Warraich ) UrduHistory of America Read In Urdu Article And Watch Play History

Who was Karl Marx Urdu | کارل مارکس کون تھا؟

Who was Karl Marx Urdu | کارل مارکس کون تھا؟

کارل مارکس کے دفتر کے سامنے ایک فوجی چوکی تھی۔ ایک بار اس نے اپنے اخبار میں فوج میں ہونے والی ایک کرپشن پر ایک تحقیقی آرٹیکل چھاپ دیا۔ اس آرٹیکل کے چھپنے پر کچھ فوجی اہلکار ناراض ہوئے اور اسے دھمکانے کے لیے اس کے دفتر آن دھمکے۔ انھوں نے کارل مارکس کو آرڈر دیا کہ جس نے بھی یہ آرٹیکل لکھا ہے اسے ہمارے حوالے کردو ورنہ تمہاری خیر نہیں۔ کارل مارکس نے اس فوجی دھمکی کا کیا جواب دیا؟ مارکس کی زندگی میں اس کے نظریات کے مطابق کہاں انقلاب آیا؟ اس کے آخری لمحات اور آخری الفاظ کیا تھے؟سیریز ’کارل مارکس کون تھا‘ کے آخری حصے میں ہم آپ کو یہی سب دیکھیں گے مائی کیوریس فیلوز جنوری اٹھارہ سو اڑتالیس، ایٹین فورٹی ایٹ میں اٹلی کے جزیرہ سسلی سے حکومت کے خلاف بغاوت کی ایک لہر اٹھی اس لہر نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

Who was Karl Marx Urdu | کارل مارکس کون تھا؟

اگلے ماہ فروری میں پیرس میں عوام نے بغاوت کر کے بادشاہ لوئیس فلپ ون کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور اس کی جگہ ایک عوامی حکومت قائم کر دی۔ حتیٰ کہ برطانیہ سمیت کئی اور یورپی ممالک میں بھی جمہوری اصلاحات کیلئے مظاہرے شروع ہو گئے۔ ہر جگہ عوام اپنے قومی پرچم اٹھائے مظاہرے کر رہے تھے، فوج سے مقابلہ کر رہے تھے اور بادشاہت کی علامتوں کو یعنی تاج و تخت کو آگ لگا رہے تھے۔ ایسے حالات میں کارل مارکس کی ایک ہی خواہش تھی کہ وہ جتنا جلدی ہو سکے اپنے آبائی ملک جرمنی واپس چلا جائے اور وہاں انقلاب کے لیے کام کرے۔ کیونکہ جرمنی میں بھی انقلابی ماحول بن چکا تھا۔

جرمنی کے مرکزی شہر برلن میں عوام اور فوج میں جھڑپیں جاری تھیں۔ جرمنی کا ایک اور اہم شہر میونخ بھی انقلابیوں کا مرکز ہی بن چکا تھا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جرمن قوم کی سب سے طاقتور ریاست یعنی پروشیا اس کے حکمران بھی بیک فٹ پر جا چکے تھے۔ حکمرانوں نے عوام کو خوش کرنے کیلئے جرمنی میں الیکشن کروا کر ایک قومی اسمبلی بھی قائم کر دی تھی۔ لیکن یہ اسمبلی صرف آئین بنانے کیلئے قائم ہوئی تھی اس کے پاس حکومتی اختیارات نہیں تھے۔ اسمبلی نے ایک آزاد اور متحد جرمنی کیلئے آئین کی تیاری بھی شروع کر دی تھی۔ لیکن یہ اسمبلی صرف آئین بنانے کیلئے قائم کی گئی تھی اس کے پاس حکومتی اختیارات نہیں تھے۔

یہاں دوستو آپ کو یہ وضاحت کر دیں کہ جرمنی اس دور یعنی ایٹین فورٹی ایٹ میں کئی ریاستوں میں تقسیم تھا۔ تو یہ ان ریاستوں کی مشترکہ پارلیمنٹ جو بن رہی تھی یہ جرمنی کو متحد کرنے کی ایک کوشش تھی۔ جرمنی کے یہ حالات مارکس کیلئے سازگار تھے۔ ادھر فرانس کی نئی انقلابی حکومت بھی کارل مارکس کو اپنے ہاں بلانے کیلئے دعوت نامے بھیج رہی تھی۔ لیکن اس سے پہلے کہ کارل مارکس فرانس جاتا ایک اور واقعہ ہو گیا۔ بیلجئم کی حکومت نے بھی اپنے ملک میں عوامی مظاہروں کو دیکھتے ہوئے مارکس سمیت انقلابی ذہن رکھنے والے تمام غیر ملکیوں کو ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مارکس کو اس کی بیوی سمیت، ایک دو روز کیلئے جیل میں بھی بند رکھا گیا۔

اس کے بعد پوری فیملی کو پولیس کے کڑے پہرے میں فرانس میں دھکیل دیا گیا۔ بیلجیم سے ڈیپورٹ ہو کر جب پریشان حال مارکس فرانس کے دارالحکومت پیرس پہنچا تو وہاں ماحول ہی کچھ اور تھا۔ پیرس میں جگہ جگہ انقلاب کے پرچم لہرا رہے تھے جنہیں دیکھ کر مارکس کی ہمت اور بڑھ گئی۔ اب وہ جلد سے جلد جرمنی جانے کیلئے پر تولنے لگا تاکہ وہاں بھی پیرس جیسا انقلابی ماحول بنا سکے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جرمنی میں انقلابی تحریک زوردار ضرور تھی لیکن جرمن معاشرہ ابھی کمیونسٹ انقلاب کیلئے تیار نہیں تھا۔ چنانچہ فرانس میں اپنے مختصر قیام کے دوران مارکس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ خود جرمنی جا کر انقلاب کے لیے کوشش کرے گا۔ لیکن احتیاطاً وہ پہلے مرحلے میں کمیونسٹ انقلاب کے بجائے جمہوری انقلاب کے لیے راہ ہموار کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا تا کہ دولت مند طبقے کو زیادہ اعتراض نہ ہو۔

مارکس نے اپنے کمیونسٹ مینی فیسٹو میں کچھ تبدیلیاں کر کے ایک نیا چارٹر تیار کیا جسے اس نے ’’دا ڈیمانڈز آف دا کمیونسٹ پارٹی اِن جرمنی‘‘ کا نام دیا۔ ان ڈیمانڈز میں صرف ایک اسٹیٹ بینک کا قیام، انکم ٹیکس نظام کی بہتری جیسی کچھ ڈیمانڈز شامل تھیں۔ ان ڈیمانڈز میں کارل مارکس کی اصل ڈیمانڈ یعنی وراثت کے حق کو مکمل ختم کیا جائے شامل نہیں تھا بلکہ صرف وراثت کے حق کو محدود کرنے کی بات کی گئی تھی۔ جبکہ زمین کو قومی ملکیت میں لینے کی بھی کوئی بات ان ڈیمانڈز میں شامل نہیں تھی۔ البتہ صرف شہزادوں کی جاگیریں ضبط کرنے کیلئے ایک جملہ لکھا گیا تھا۔ یہ ڈیمانڈز دراصل بورژوا کو ذہن میں رکھ کر تیار کی گئیں تھیں، نہ کہ سوشلسٹ یا کمیونسٹ انقلاب کو مد نظر رکھ کر۔

ان ڈیمانڈز کے ذریعے مارکس اصل میں جرمنی کے خوشحال طبقے اور مزدوروں دونوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس لئے اس نے کمیونزم کے سخت فلسفے پر کچھ دیر کیلئے کمپرومائزکر لیا۔ اس کمپرومائز کے ساتھ یعنی ڈیمانڈز آف دا کمیونسٹ پارٹی کے ڈاکیومنٹ کو ساتھ لے کر مارکس جرمنی کے شہر کولون چلا آیا۔ یہاں اس نے ایک نیا اخبار ’’نیو زائی تونگ‘‘ شائع کرنا شروع کر دیا۔ اس اخبار نے سوشلسٹ ریپبلک یا مزدوروں کی ریاست کی تبلیغ نہیں کی۔ اس کے برعکس اس اخبار کا پروگرام یا تھیم یہ تھا کہ تمام جرمن عوام کو ووٹ کا حق دیا جائے، براہ راست الیکشن کروائے جائیں اور جاگیرداری نظام میں عوام پر جو ٹیکس وغیرہ لگائے جاتے ہیں

وہ ختم کر دیئے جائیں اخبار میں جرمن حکومت پر تنقید تو کی جاتی تھی مگر اس طرح کہ اس سے حکومت زیادہ ناراض بھی نہ ہو اور انقلاب کا پیغام بھی پہنچ جائے۔ مارکس کی اس حکمت عملی کی وجہ سے حکومت کھل کر اخبار کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے رہی تھی۔ ایسے میں جرمن فوج نے اس کے خلاف ایک ایکشن لیا۔ ہوا یہ کہ ایک روز مارکس نے اخبار میں ایک آرٹیکل چھاپ دیا جو کہ پروشیئن فوج کے خلاف تھا۔ اس آرٹیکل میں فوج کے ایک افسر کے بارے میں بات کی گی تھی جسے اسلحہ بیچنے کے الزام میں سزا ہوئی تھی۔ اس آرٹیکل کے چھپنے پر دو وردی والے مارکس کے دفتر آن دھمکے۔

مارکس ذرا بھی نہیں گھبرایا بلکہ اسے افسروں کی آمد کا علم ہوا تو اس نے ایک خالی پستول اپنے گاؤن کی جیب میں ڈال لیا اس کا دستہ جیب سے باہر رہنے دیا تا کہ سامنے سے جو بھی دیکھے اسے اس پستول کا دستہ نظر آئے اس کے بعد وہ افسروں سے ملنے چلا گیا۔ افسروں نے مارکس سے کہا کہ اس آرٹیکل کی وجہ سے ان کے یونٹ کی بہت بدنامی ہورہی ہے۔ اس لئے اگر آرٹیکل لکھنے والے کو ان کے حوالے نہیں کیا گیا تو پھر وہ اپنے لوگوں کو روک نہیں پائیں گے اور اس کا نتیجہ کارل مارکس کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔ کارل مارکس نے اس دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں ہے۔

دونوں فوجی افسر اس کی جیب میں پڑے ہوئے پستول کا دستہ دیکھ چکے تھے سو وہ بڑبڑاتے ہوئے واپس چلے گئے۔ انھوں نے مارکس کے پاس پستول دیکھ لیا تھا۔وہ اس کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ اب انھیں غالباً یہ خدشہ تھا کہ انقلابی اخبار کے دفتر پر حملے میں خون خرابہ ہو گیا تو باہر جو انقلابی موجود ہیں شہر میں ہزاروں کی تعداد میں وہ مشتعل ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اخبار کے دفتر پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی کارل مارکس کو کوئی نقصان پہنچایا۔ حالانکہ اخبار کا دفتر جو ایک فوجی چوکی کے سامنے تھا اس کے پیچھے ایک فوجی چھاؤنی بھی موجود تھی۔ فریڈریک اینگلز نے لکھا تھا کہ بہت سے لوگ اس بات پر حیران تھے کہ ہم آٹھ ہزار فوجیوں کے گیریژن کی موجودگی میں ان کی مرکزی چوکی کے عین سامنے اپنا کام کرنے میں کیسے کامیاب ہورہے ہیں۔

لیکن دوستو کچھ شہر کا انقلابی ماحول اور کچھ مارکس کی چالاکی کام کر گئی اور فوجی افسر پھر دوبارہ کارل مارکس کو دھمکی لگانے نہیں آئے۔ یہ شاید پہلا اور آخری موقع تھا جب مارکس نے دکھاوے کیلئے ہی سہی لیکن انقلاب کیلئے ہتھیار کا سہارا لیا تھا۔ جرمنی کا یہ انقلابی ماحول دوستو زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ آپ جانتے ہیں کہ جرمنی اس دور میں ایک متحدہ انتا بڑال ملک نہیں تھا بلکہ کئی ریاستوں میں تقسیم تھا۔ جرمنی کو متحد کرنے کے لیے ایک جمہوری ریاست بنانے کیلئے ضروری تھا کہ جرمن ریاست پروشیا کا حکمران فریڈرک ولیم فور پورے جرمنی کا بادشاہ بن جائے۔ اگر ایسا ہو جاتا تو جرمن ریاستوں نے آئین بنانے کیلئے جو مشترکہ پارلیمنٹ بنائی تھی وہ جرمنی کی وفاقی فیڈرل پارلیمنٹ بن جاتی۔

اس پارلیمنٹ نے جرمنی کا آئین کا ایک مسودہ یا ڈرافٹ بھی تیار کر لیا تھا جس میں بادشاہ کے اختیارات بہت کم کر دیئے گئے تھے۔ لیکن جب ولیم فور کو جرمنی کا تاج پیش کیا گیا تو اس نے انکار کر دیا۔ اسے ایسا تاج نہیں چاہیے تھا جس کے اختیارات بہت محدود ہوں۔ ولیم فور کے اس انکار سے جرمن قوم کے متحد ہونے اور جمہوریت نافذ کرنے کا یہ خواب یہ موقع ضائع ہو گیا۔ بادشاہ کے انکار پر جرمن ریاستوں کی مشترکہ پارلیمنٹ کی طاقت بھی ختم ہو گئی اور اس کے اراکین جو مختلف جرمن ریاستوں سے تعلق رکھتے تھے انہیں ان کی آبائی ریاستوں میں واپس بلا لیا گیا۔ یعنی پارلیمنٹ ختم ہو گئی۔ ویسے بھی یہ پارلیمنٹ دوستو صرف اسی صورت میں کام کر سکتی تھی جب جرمنی ایک متحد ملک بن جاتا۔

یوں مختلف ریاستوں میں بٹا ہوا نہ ہوتا اب ایسا نہ ہو سکا تو پارلیمنٹ بھی ناکارہ ہو گئی۔ یوں جرمنی کا انقلاب اپنے ابتدائی مرحلے ہی میں دم توڑ گیا۔ اس کے بعد جرمن ریاستوں نے انقلاب کے حامیوں سے گن گن کر بدلے لینا شروع کر دیے۔ کارل مارکس کو بھی اپنی بیوی سمیت ایک بار پھر جلاوطنی پر مجبور کر دیا گیا۔ فیض کے الفاظ میں وہ کہہ سکتا تھا کہ کہ ہوا پھر سے حکم صادر کہ وطن بدر ہوں ہم تم دیں گلی گلی صدائیں کریں رخ نگر نگر کا کہ سراغ کوئی پائیں کسی یار نامہ بر کا ہر اجنبی سے پوچھیں جو پتا تھا اپنے گھر کا سر کوئے ناشنایاں ہمیں دن سے رات کرنا، کبھی اس سے بات کرنا، کبھی اس سے بات کرنا یعنی ۔۔۔ ایک بار پھر مارکس کا اخبار بند کر دیا گیا اور اسے پروشیاچھوڑ دینے کا حکم دے دیا گیا۔

انیس مئی اٹھارہ سو انچاس، ایٹین فورٹی نائن کو نیو زائی تونگ کا کا آخری شمارہ شائع ہوا جو سیاہ کے بجائے سرخ رنگ کی روشنائی سے چھاپا گیا۔ اس کے پہلے صفحے پر ایک نظم لکھی تھی جس کے ابتدائی اشعار کچھ اس طرح تھے کہ مجھے کھلی جنگ میں کھلے عام نہیں مارا گیا بلکہ مجھے طعنوں سے تنگ کیا گیا ہے مجھے مغرب کے وحشیوں نے دھوکے سے قتل کر دیا ہے اور میں اپنی طاقت کے فخر کے ساتھ اس طرح لیٹا ہوں جیسے ایک بہادر باغی کی لاش۔ سرخ رنگ کے علاوہ اس آخری شمارے کی ایک خاص بات ایک دھمکی آمیز آرٹیکل بھی تھا۔ یہ آرٹیکل کارل مارکس نے لکھا تھا اور اس میں اس نے اپنا محتاط رویہ ختم کر دیا تھا۔

اس نے کھل کر انقلاب کی حمایت میں باتیں لکھیں۔ اس نے ایلیٹ کلاس کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ہم انقلابی نہ رحم مانگتے ہیں اور نہ رحم کریں گے۔ دیکھنا جب ہمارا دور آئے گا تو ہم بھی بلاعذر ٹیرر پھیلائیں گے دہشت پھیلائیں گے۔ شاہی دہشت گرد جنہیں خدا اور قانون کی مدد حاصل ہے وہ عملی طور پر ظالم، گھٹیا، بزدل، دوغلے اور بدنام لوگ ہیں۔ یہ کارل مارکس نے اس آرٹیکل میں لکھا۔ اس سرخ شمارے کی بیس ہزار کاپیاں فروخت ہوئیں اور جلد ہی اس شمارے کی قیمت اپنی اصل قیمت سے دس گنا زیادہ ہو گئی۔ کچھ لوگوں نے تو اس شمارے کو فریم کروا کر اپنے گھروں میں محفوظ بھی کر لیا۔ اس آخری شمارے کے بعد مارکس نے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور پروشیا کی حدود سے باہر ایک اور جرمن شہر فرینکفرٹ چلا گیا۔

لیکن یہاں بھی وہ زیادہ دن ٹک نہیں سکا۔ کیونکہ سیکیورٹی ادارے اسے مسلسل پریشان کر رہے تھے کبھی اسے ڈراتے دھمکاتے اور کبھی عارضی طور پر گرفتار کر لیتے۔ انھی حالات میں صرف ایک سال کے قریب جرمنی میں رہنے کے بعد اسے پولیس کے کڑے پہرے میں جرمنی کی حدود سے نکال دیا گیا اور وہ ایک بار پھر فرانس میں داخل ہو گیا۔ دو جون اٹھارہ سو انچاس، ایٹین فورٹی نائن کو مارکس ایک بار پھر پیرس میں تھا۔ لیکن اب یہ ایٹین فورٹی ایٹ والا انقلابی پیرس نہیں تھا۔ یہاں ایک تبدیلی آ چکی تھی۔ چارلز لوئیس بونا پارٹ جو سابق شہنشاہ نپولین بونا پارٹ کا بھتیجا تھا وہ فرانس کا صدر بن چکا تھا۔ صدر بننے کے بعد اس نے بڑے منظم انداز میں فرانس کو پھر سے بادشاہت کی طرف لے جانا شروع کر دیا تھا۔

اس نے انقلابیوں کے خلاف سخت کارروائیاں بھی شروع کر دیں اور اخبارات کے لیے سنسرشپ سخت سے سخت تر کرتا جا رہتا تھا یہ حالات دیکھے تو کارل مارکس نے اپنا ایک فرضی نام ’ایم ریمبُوز‘ رکھ لیا اور اسی نام سے وہ پیرس میں چھپ کر رہنے لگا۔ وہ فرانس کی انقلابی تنظیموں سے خفیہ رابطے کر کے انہیں انقلاب پر اکسا رہا تھا۔ لیکن جرمنی کی طرح یہاں بھی اس کی دال نہیں گلی اور فرانسیسی انقلاب کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ بلکہ الٹا یہ ہوا کہ اسے چند ماہ بعد ہی پیرس چھوڑنے کا حکم مل گیا۔ چنانچہ اٹھارہ سو انچاس میں ہی مارکس نے ایک بار پھر فرانس چھوڑ دیا اور لندن میں ڈیرے ڈال لئے۔ انگلینڈ کا یہ شہر لندن اس کا آخری پڑاؤ ثابت ہوا اور پھر وہ آخری دم تک یہیں رہا۔ جب مارکس انگلینڈ پہنچا تو اس کے مالی حالت بدتر ہو چکے تھے۔ حد تو یہ تھی کہ اس کی گھڑی اور کپڑے بھی مہاجن کے پاس گروی تھے جنہیں چھڑانے کیلئے اینگلز کو خط لکھ کروہ پیسے منگوا کرتا تھا۔

اینگلز کی مدد کےباوجود مارکس اپنے قرض خواہوں سے مکمل جان نہیں چھڑا پا رہا تھا اور قرض خواہوں کے تقاضے روز بروز شدید تر ہوتے جا رہے تھے۔ اور ان کا رویہ سخت ہوتا جا رہا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گیا تھا۔ حتیٰ کہ وہ ایک اچھے گھر جیسی نعمت سے بھی محروم ہو گیا تھا، کیونکہ وہ اب کرایہ بھی افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ سو سستے کی تلاش میں کارل مارکس اپنے سات بچوں کے ساتھ لندن کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں مارا مارا پھرنے لگا۔ ایک وقت میں اسے لندن کے علاقے چیلسی میں دو کمروں کا فلیٹ مل گیا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس چھوٹے سے فلیٹ کا کرایہ ادا کرنے کے قابل بھی نہیں تھا۔ سو جب وہ کرایہ نہ دے سکا تو مالکان نے اسے بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا۔ لینڈ لارڈز نے گھر کا بہت سا سامان بھی ضبط کر لیا، حتیٰ کہ بچوں کے کھلونے اور جھولے تک وہ لوگ اٹھا کر لے گئے۔

مارکس کی مالی حالت اتنی خراب ہو گئی تھی کہ دکانداروں کا حساب چکانے کیلئے گھر کے بستر تک بیچنا پڑے۔ چیلسی سے علاقہ بدر ہونے کے بعد کارل مارکس “سوہو” کے علاقے میں منتقل ہو گیا۔ لندن کے اس علاقے میں زیادہ تر مزدور تارکین وطن تھے۔ یہ علاقہ بھی اسے راس نہیں آیا۔ یہاں بھی وہ گھر پر گھر بدلتا رہا اور اپنی غربت سے جنگ لڑتا رہا۔ اس جنگ میں اس کے تین بچے بھوک اور بیماری سے ناکام جنگ کرتے ہوئے مر گئے۔ بچوں کی موت کا غم جگر پاش تھا، لیکن مارکس نے اس کی زیادہ پرواہ نہیں کی اور اپنی جیب کا آخری سکہ تک انقلاب کی راہ میں لٹا دیا۔ اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس کا ایک بیٹا شدید بیمارہو گیا اسے ڈاکٹر اور دوا کی ضرورت تھی لیکن مارکس کی جیب خالی تھی۔

مارکس اٹھا اور سردی اور بارش میں پیدل چلتا ہوا ایک مہاجن کے پاس گیا اور اس کے پاس اپنا کوٹ گروی رکھ کر کچھ پیسے حاصل کیے۔ لیکن دوستو کارل مارکس نے اس رقم سے اپنے بیٹے کی دوا پر خرچ نہیں کی بلکہ مقدمات میں پھنسے اپنے کچھ انقلابی دوستوں کے حق میں ایک پمفلٹ چھپویا اور اسے تقسیم کر دیا۔ دوا نہ ملنے کے باوجود اس کا بیٹا وقتی طور پر ٹھیک تو ہوگیا لیکن کچھ عرصہ بعد ہی بہتر توجہ نہ ہونے کی وجہ سے بیمار ہوا اور زندگی کی بازی ہار گیا۔ آپ کارل مارکس کے اس رویے کو دوستو آپ انتہا درجے کی سنگدلی کہیے یا انقلاب سے محبت، لیکن کارل مارکس ایسا ہی تھا۔

شاید وہ ایسی قربانیاں دے کر اپنے انقلابی دوستوں کیلئے مثال قائم کرنا چاہتا تھا۔ لیکن ان قربانیوں کے باوجود وہ اپنے دوستوں سے خط و کتابت میں اپنی مفلوک الحالی کی اپنی غربت کی شکایت کرتا رہتا تھا۔ ایک بار اٹھارہ سو انسٹھ، ایٹین ففٹی نائن میں اس نے اقتصادیات پر ایک کتاب تنقیدِ معاشیات لکھی۔ لیکن یہ مسودہ پبلشر کو بھیجنے کیلئے اس کے پاس ٹکٹ کے پیسے بھی نہیں تھے۔ ایسے میں اس نے اپنے بہترین دوست فریڈرک اینگلز کو لکھا کہ شاید ہی کوئی مصنف ہو دنیا میں جس نے دولت پر کتاب لکھی ہو اور اس کے پاس ایک پیسہ بھی نہ ہو۔ اس نے لکھا کہ مجھے ٹکٹوں کیلئے پیسے بھیج دو تاکہ میں کتاب کا مسودہ پبلشر کوارسال کر سکوں۔ فریڈرک اینگلز نے اسے کچھ رقم بھیج دی جس سے کارل مارکس نے کتاب کا مسودہ پبلشر کو بھیجا۔ مارکس غربت سے نکلنے کیلئے کبھی ریلوے کمپنی میں ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کرتا کبھی سوچتا کہ اپنی دو بیٹیوں کو کسی امیر آدمی کے گھر ملازم رکھوا دے اور خود اپنی بیوی کے ساتھ کسی خیراتی ادارے میں چلا جائے۔

ایک بار کارل مارکس نے اینگلز کے ساتھ امریکہ ہجرت کرنے کا منصوبہ بھی بنایا۔ اس نے تو امریکہ میں اپنی نئی کتابیں چھپوانے کیلئے زمین بھی ہموار کرنا شروع کر دی تھی۔ اس کی وہاں بات چیت کئی پبلیشر سے کئی لوگوں سے چل رہی تھی۔ شاید اسی لیے وہ امریکہ منتقل ہونا چاہتا تھا۔ اس کے بعد اس نے امریکہ جانے کیلئے ٹکٹس کی قیمت بھی معلوم کروائی۔ لیکن ٹکٹس بہت ہی مہنگے تھے۔ اس لئے کارل مارکس امریکہ اس وقت نہ جا سکا۔ مائی کیوریس فیلوز آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ شدید ترین مالی تنگی، بچوں کی اموات اور بیماریوں نے اسے انقلابی سرگرمیوں سے دور کر دیا ہو گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ کارل مارکس کی اپنے مشن کے ساتھ کمٹمنٹ بے لوث تھی۔ اس نے لکھنے کا کام بھی جاری رکھا اور شراب خانوں میں شام کے وقت انقلابی دوستوں کے ساتھ محفلیں بھی جماتا رہا۔

کارل مارکس مطالعے اور ریسرچ کیلئے باقاعدگی سے برٹش لائبریری بھی جاتا تھا۔ وہ لائبریری کھلنے سے پہلے ہی وہاں پہنچ جاتا اور عام طور پر وہ لائبریری میں داخل ہونے والا پہلا اور وہاں سے نکلنے والا آخری شخص ہوتا تھا۔ لندن میں ہی کارل مارکس نے اپنی شہرہ آفاق کتاب داس کیپیٹل مکمل کی۔ اس کتاب کا پہلا والیم اٹھارہ سو سڑسٹھ، ایٹین سکسٹی سیون میں برلن سے شائع ہوا جبکہ اس کے باقی دو والیمز اس کی موت کے بعد اس کے دوست اینگلز نے تھوڑی بہت ایڈیٹنگ کے بعد شائع کروائے۔ دوستو یاد رہے کہ داس کیپیٹل، کارل مارکس کے کمیونسٹ فلسفے کا نچوڑ سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب میں مارکس نے یہ بتایا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کیسے ناکام ہو گا اور مزدور طبقہ ایک دن کیسے حکومت پر قبضہ کرے گا۔ کارل مارکس نے یہ تھیوری بھی پیش کی تھی کہ سرمایہ دارنہ نظام یعنی کیپیٹل سسٹم کی تباہی اس نظام کے اندر ہی چھپی ہوئی ہے۔

کارل مارکس نے پیش گوئی کی کہ سرمایا دارانہ نظام کے تسلسل کا نتیجہ ایک دن یہ نکلے گا کہ معاشرہ واضح طور پر امیر اور غریب طبقے میں تقسیم ہو جائے گا۔ ایک طرف مٹھی بھر امیر لوگ ہوں گے اور دوسری طرف بے تحاشا غریب ترین لوگ۔ جیسے جیسے سرمایہ داروں میں مقابلے بازی بڑھے گی، کئی بورژوا یعنی سرمایہ دار بھی غریب ہو کر مزدور طبقے کا حصہ بن جائیں گے۔ اس طرح غریبوں کی تعداد بڑھتی جائے گی۔ کارل مارکس کا خیال تھا کہ مزدور طبقہ تعداد میں بھی بہت زیادہ ہو گا اور اس کے پاس کھونے کو بھی کچھ نہیں ہو گا۔ چنانچہ ایک دن یہ مزدور طبقہ سرمایہ دارانہ نظام کی بساط لپیٹ دے گا۔ جس کے بعد مزدور طبقے یا ’’پرولی ٹے ریٹس‘‘ کی حکومت قائم ہو جائے گی۔

داس کیپیٹل بلاشبہ کارل مارکس کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی اور مشہور کتاب ہے۔ اسے مزدوروں کی بائبل بھی کہا جاتا ہے۔ اور دوستو آپ کو بتائیں کہ اسی کتاب نے اسے شہرت کے ساتھ پھر دولت بھی دی۔ جی ہاں وہ انقلابی فلاسفر جو لندن کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں ٹھوکریں کھاتا پھر رہا تھا کچھ ہی عرصے میں خاصا امیر آدمی بن گیا۔ وہ کیسے؟ دوستو آپ جانتے ہیں کہ فریڈرک اینگلز مارکس کا نظریاتی دوست تھا اور دولت مند خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ بھی اکثر کارل مارکس کی مالی مدد کرتا رہتا تھا۔ اس کے علاوہ مارکس کا ایک اور ذریعہ آمدن بھی کھل گیا۔ اسے لندن میں رہتے ہوئے امریکی اخبار ’’نیویارک ڈیلی ٹریبیون‘‘ میں یورپین نمائندے کے طور پر لکھنے کا کام مل گیا یہ اخبار اس زمانے میں دنیا کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا اخبار تھا۔ اس اخبار میں وہ ہر ہفتے دو آرٹیکلز لکھتا تھا اور ایک آرٹیکل کے اسے دو پاؤنڈز ملتے تھے۔

اس آمدنی کے علاوہ اسے اپنی والدہ کی طرف سے بھی چھے ہزار فرانکس اور ایک دوست ولہیلم وولف کی طرف سے تقریباً نو سو پاؤنڈز کی رقوم وراثت میں ملی تھیں۔ ان سب ذرائع سے اور کتابوں کی رائلٹی سے مارکس کے پاس اتنی دولت بہرحال پھر آ گئی کہ اس کی زندگی کے آخری دن کچھ بہتر انداز سے گزرے۔ اس نے “سوہو” کا غریب علاقہ چھوڑ دیا اور لندن کے خوشحال حصے میں شفٹ ہو گیا۔ اب اس کے پاس دو کمروں کا فلیٹ نہیں بلکہ ایک بڑا گھر تھا۔ اپنی خوشحالی کی وجہ سے وہ اپنی دو بیٹیوں کی شادیاں کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن مائی کیوریس فیلوز انقلابی جدوجہد کی تھکن اور بچوں کی موت کے غم نے اسے خوشحالی کے دنوں میں بھی چین نہیں لینے دیا۔ وہ بے حد کمزور ہو گیا تھا۔ نیند کی دوائی کھائے بغیر سو بھی نہیں سکتا تھا۔ سگریٹ اور شراب نوشی نے بھی اس کی صحت کا بیڑہ غرق کر دیا تھا۔

اس دوران اسے یکے بعد دیگرے دو ایسے صدمے ملے جنہوں نے اس کی زندگی کا چراغ جیتے جی گُل کر دیا۔ پہلا صدمہ تو یہ تھا کہ اٹھارہ سو اکاسی، ایٹین ایٹی ون میں اس کی محبوب بیوی جینی کا انتقال ہو گیا۔ جینی نے بدترین حالات میں بھی مارکس کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ اس نے اپنے بچوں کی موت کا غم سہا تھا، اپنا زیور اور گھر کا سامان بیچ کر مارکس کی مدد کی تھی۔ بہرحال جینی کی موت کے بعد جو دوسرا صدمہ مارکس کو ملا وہ تھا اس کی بیٹی کی موت۔ جینی کی وفات کے محض دو برس بعد اس کی شادی شدہ بیٹی جینی کیرولائن بھی کینسر کا شکار ہو کر چل بسی۔ یہ کارل مارکس کی چوتھی اولاد تھی جو اس کی آنکھوں کے سامنے موت کا شکار ہوئی تھی۔ تین بچوں اور بیوی کے بعد اب بیٹی کی موت مارکس کیلئے تباہ کن ثابت ہوئی۔ وہ ایک زندہ لاش بن گیا تھا۔

وہ بس اپنے سونے کے کمرے سے پڑھنے کے کمرے تک سفر کرتا تھا۔ اس کی بیٹی کے حادثے کے تقریباً دو ماہ بعد چودہ مارچ اٹھارہ سو تراسی کو چونسٹھ سالہ مارکس روٹین کے مطابق اپنے بیڈ سے اٹھا اور اپنے مطالعے کے کمرے میں چلا گیا۔ اس کی ملازمہ جانتی تھی کہ کارل مارکس بیماری سے نڈھال ہے۔ اس نے مارکس سے کہا آپ بہت بیمار ہیں کیا کوئی آخری بات آپ کہنا چاہتے ہیں؟ ملازمہ کی یہ بات سن کر کارل مارکس تقریباً چیخ پڑا۔ اس نے کہا تم یہاں سے نکل جاؤ، گیٹ آؤٹ آخری الفاظ وہ بیوقوف کہتے ہیں جو اپنی زندگی میں اپنی بات پوری طرح نہیں کہہ پائے ہوتے۔ یہ آخری بامعنی الفاظ تھے جو کارل مارکس کے منہ سے سنے گئے۔

اس وقت مارکس کا دوست اینگلز اور کچھ اور لوگ بھی اس کے پاس اس کے گھرمیں موجود تھے۔ لیکن پھر وہ کسی وجہ سے تھوڑی دیر کیلئے کارل مارکس کے پڑھنے کے کمرے سے باہر نکلا۔ صرف دو منٹ بعد اینگلز کمرے میں واپس آیا تو کارل مارکس اپنے پڑھنے کی کرسی پر ہمیشہ کی نید سو رہا تھا۔ مارکس کو لندن کے ہائی گیٹ قبرستان میں دفن کیا گیا۔ لیکن یہاں بھی اسے چین نہ ملا۔ جیسے زندگی میں وہ دربدر ہوتا رہا، اسی طرح مرنے کے بعد بھی اس کی ہڈیاں ایک جگہ نہ رہ سکیں۔ اپنی موت کے تہتر برس بعد نومبر انیس سو چھپن کو کارل مارکس اور اس کے گھر والوں کی قبروں کو کھود کر ان کی باقیات نکالی گئیں۔ انہیں پہلی قبروں سے کچھ دور اس نئی جگہ پر دفن کر دیا گیا۔

چہرے کے بالکل نیچے کیمونسٹ مینوفیسٹو کے یہ تاریخی الفاظ کندہ ہیں کہ ’’دنیا بھر کے مزدورو ایک ہو جاؤ۔‘‘ ان الفاظ کے نیچے ایک اور کتبہ ہے۔ جس پر یہاں دفن مارکس اور اس کے اہل دلچسپ بات یہ ہے کہ مارکس کی خواہش تھی کہ اس کی قبر پر کوئی یادگار تعمیر نہ کی جائے۔ لیکن اس کی قبر پر یادگار تعمیر کی گئی ہے۔ اس یادگار پر کارل مارکس کے چہرے کا بڑا سا مونومنٹ بناخانہ کے نام لکھے ہیں۔ اس کے مزید نیچے یہ الفاظ لکھے ہیں کہ “فلسفیوں نے تو دنیا کی تشریح اپنے اپنے انداز سے کر دی ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کو بدلا کیسے جائے؟ دوستو کارل مارکس کا جسم تو اٹھارہ سو تراسی میں مر گیا، لیکن اس کے نظریات نے اسے لازوال زندگی عطا کر دی۔

اس کی موت کے کچھ ہی عرصے بعد پوری دنیا میں انقلابی تحریکوں نے جنم لیا۔ ولادیمیر لینن نے سوویت روس اور ماؤ نے عوامی جمہوریہ چین کے نام سے کمیونسٹ ریاست کے تصور کو عملی شکل دے ڈالی۔ پھر شمالی کوریا سے لے کر جنوبی امریکہ تک کئی ایسی ریاستیں وجود میں آئیں جنہوں نے ظاہری طور پر ہی سہی، لیکن کارل مارکس کے فلسفے کو نافذ کرنے کی کوششیں کی۔ اگرچہ انیس سو اکانوے، نائنٹین نائنٹی ون میں سوویت روس ٹکڑے ٹکڑے ہوچکا ہے اور چین نے بھی کمیونزم کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے۔

لیکن دوستو جدید دنیا کے تمام ممالک میں مزدوروں کے تحفظ کیلئے جو قانون سازی کی گئی ہیں اور انھیں جو سہولیات آج تک دستیاب ہو سکی ہیں اس کے پیچھے کارل مارکس کا بھی ہاتھ ہے۔ مزدوروں کے حقوق کی تحریکیں آج بھی پوری دنیا میں موجود ہیں اور کارل مارکس ان سب کا ہیرو ہے۔ دوستو کارل مارکس کی کہانی یہاں مکمل ہوتی ہے۔ امید ہے آپ کو یہ منی سیریز ہماری باقی سیریز کی طرح ضرور پسند آئی ہو گی۔ جن دوستو نے کارل مارکس کی کہانی شروع سے نہیں دیکھی وہ یہاں کلک کرسکتے ہیں۔

Read More :: History of Pakistan Read In Urdu Article And Watch Play History

Part 1 :: Who was Karl Marx Urdu | کارل مارکس کون تھا؟

▷❤▷❤ Watch Historical Series English Subtitles And Urdu Subtitles By Top20series

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Adblock Detected

Please Turn off Your Adblocker. We respect your privacy and time. We only display relevant and good legal ads. So please cooperate with us. We are thankful to you