Who was Thomas Alva Edison Urdu | تھامس ایڈیسن کون تھا ؟

Who was Thomas Alva Edison Urdu | تھامس ایڈیسن کون تھا ؟

تھامس ایلوا ایڈیسن
(انگریزی میں: Thomas Alva Edison)[1]،(انگریزی میں: Thomas Edison ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (فرانسیسی میں: Thomas Alva Edison ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 11 فروری 1847[2][3][4][5][1][6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
میلان، اوہائیو[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 18 اکتوبر 1931 (84 سال)[8][2][3][4][5][1][6]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویسٹ اورنج[9][1]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات ذیابیطس[1]  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نسل امریکی[1]  ویکی ڈیٹا پر (P172) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز،  امریکن فلوسوفیکل سوسائٹی،  اکیڈمی آف سائنس سویت یونین،  سائنس کی روسی اکادمی،  قومی اکادمی برائے سائنس  ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ میری اسٹیلویل (1871–1884)[1]
مینا ملر (1886–1931)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد چارلس ایڈیسن،  تھیوڈور ملر ایڈیسن،  تھامس ایلوا ایڈیسن جونئیر[1]،  ماریون ایسٹیل ایڈیسن اویزر،  میڈلین ایڈیسن سلونی  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد 6   ویکی ڈیٹا پر (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ انجینئر[1]،  موجد[1][10][11]،  ریاضی دان[1]،  کارجو[1]،  منظر نویس[12]،  کاروباری شخصیت،  فلم ہدایت کار،  طبیعیات دان[11]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[13][1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل ایجاد[14]،  برقی ہندسیات[1]،  ہندسیات،  منظر نگاری  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں برقی قمقمہ  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
گرامی ٹریسٹی اعزاز (1977)
فرینکلن میڈل (1915)
تمغا جون فریٹز (1908)
رمفورڈ انعام (1895)
تمغا البرٹ (1892)
Legion Honneur Commandeur ribbon.svg کمانڈر آف دی لیجین آف اونر (1889)
تمغا جون اسکاٹ (1889)
میٹوسی میڈل (1887)
تمغا بنجمن فرینکلن
اسٹار آن ہالی ووڈ واک آف فیم  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Thomas Alva Edison Signature.svg
 
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بجلی کے بلب کو ایک ایک گھر میں پہنچانے والے ایڈیسن کی زندگی اس وقت مایوسی سےاندھیر ہو گئی جب اس کا یہی پراجیکٹ ناکام ہو گیا۔ وہ بجلی کا بلب بنانے کا سہرا تو اپنے سر سجا چکا تھا، لیکن اس بلب کے لیے بجلی کوئی اور بنانے لگا تھا اور ایڈیسن اپنا سب کچھ کھو رہا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ایک موقع پر اس کی زندگی بھر کی کمائی کو اس کی آنکھوں کے سامنے آگ لگ گئی اور سب جل کر راکھ ہو گیا۔ ایڈیسن نے اس ساری صورت حال کا مقابلہ کیسے کیا؟ میں ہوں

Who was Thomas Alva Edison Urdu | تھامس ایڈیسن کون تھا ؟

ہوا یہ کہ ایڈیسن نے الیکٹرک بلب تو بنا لیا تھا لیکن ساتھ ہی اس کے کمپی ٹیٹرز، اس کے مد مقابل دوسرے بزنس مین بھی اس سے بہتر ٹکنالوجی کے لیے کوشش کر رہے تھے۔ وہ اس کوشش میں بہت بڑی انویسٹمنٹ کرنے کو بھی تیار تھے جس میں انھیں ایڈیسن سے بہتر بلب بنانے میں کامیابی حاصل ہو

ہت سے بزنس مین کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھے جو ایڈیسن کی طرح جینئس ہو جس کی مدد سے وہ ایڈیسن سے بہتر ٹکنالوجی بنانے اور بیچنے میں کامیاب ہو سکیں۔ وہ ایڈیسن کو مارکیٹ سے آؤٹ کر کے پاور سپلائی کے بزنس پر مناپلی قائم کرنا چاہتے تھے، مکمل قبضہ کرنا چاہتے تھے جیسا کہ اس وقت ایڈیسن کا نظر آ رہا تھا۔ پھر ہوا یہ کہ انھیں ایڈیسن ہی کی کمپنی سے ایک ایسا جینئس مل گیا جسے وہ ایڈیسن کے مقابلے پر کھڑا کر سکتے تھے۔ اس جینئس کا نام تھا نکولا ٹیسلا کروشیا میں جنم لینے والا سرب سائنسدان نکولا ٹیسلا نیویارک میں ایڈیسن ہی کا ملازم تھا۔ مگر شایڈیسن کی ایک کمزوری نے ٹیسلا کو اس کا دشمن بنا دیا۔ ایڈیسن پر الزام لگتا ہے کہ وہ بھلے بلا کا جینئس تھا لیکن بے خد خودغرض بھی تھا۔

ب مطلب نکل جانے پر آنکھیں پھیر لینا اس کے یے کوئی بات ہی نہیں تھی۔ ایک بار اس نے ٹیسلا سے کہا کہ اگر وہ اس کے سارے جنریٹرز ٹھیک کر دے تو وہ ٹیسلا کو پچاس ہزار ڈالر بونس دے گا ٹیسلا جو کہ اس کا ملازم تھا، اس نے بونس کے لالچ میں خوب کام کیا اور سارے جنریٹر جلدی جلدی ٹھیک کر دئیے۔ لیکن جب وہ بونس لینے پہنچا تو ایڈنس نے کہا ’بونس والی بات تو میں نے مذاق میں کی تھی۔‘ یہ مذاق تھا یا دھوکے بازی،لیکن ٹیسلا کو یہ بہت زور سے لگا۔ وہ دلبرداشتہ ہو کر نوکری چھوڑ گیا۔ ایڈیسن نے پچاس ہزار ڈالر بچانے کے لیے جو ملازم کھویا تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ یہی ملازم اس کی ساری ایمپائر پر بھاری پڑنے والا ہے۔ ٹیسلا جلد ہی ایڈیسن کے مقابلے کی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں لے آیا۔

یہ ٹیکنالوجی تھی آلٹرنیٹنگ کرنٹ یا اے سی۔ ادھر ایڈیسن جس بجلی سے بلب جلا رہا تھا وہ ڈی سی یا ڈائریکٹ کرنٹ تھا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ ایڈیسن کا ڈی سی کرنٹ کم وولٹ والا تھا اور طویل فاصلے تک بجلی نہیں پہنچا سکتا تھا۔ اس سے زیادہ فاصلے تک بجلی پہنچانے کیلئے ہر ایک میل کے فاصلے پر نیا بجلی گھرانسٹال کرنا پڑتا تھا، مطلب ہر ایک میل پر نیا خرچہ نئی انویسٹمنٹ جبکہ ٹیسلا کا اے سی کرنٹ ایک ہی بجلی گھر سے پورے شہر کو روشنی دے سکتا تھا اور ایک ہی بجلی گھر ہزاروں میل دور تک بھی بجلی پہنچا سکتا تھا۔

اب یہ ایک گیم چینجر ٹیکنالوجی تھی۔ ایک ایک گیم چینجر تھا ایڈیسن اور جے پی مورگن کے رائیولز، ان کے مقابلے کے بزنس مین اور انویسٹرز ایسی ہی کسی ٹکنالوجی کے انتظار میں تو تھے۔ انہوں نے ٹیسلا کے آئیڈیا کو سمجھا اور اس پر ڈالرز کی بارش کر دی۔ ایک بڑی بزنس کمپنی ویسٹںگ ہاؤس کارپوریشن نے ٹیسلا سے اے سی کرنٹ کے حقوق دس یا پندرہ لاکھ ڈالرز کے لگ بھگ خرید لئے۔ اے سی کرنٹ کی پیدا وار شروع ہو گئی۔ نیویارک کے بہت سے گھروں کو اے سی کرنٹ سے بجلی کی سپلائی بھی ملنے لگی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایڈیسن ایک بزنس آئیڈیا کا مقابلہ بزنس آئیڈیا سے کرتا۔

مگر وہ ضدی اور انا پرست ثابت ہوا۔ اسے یہ زعم تھا کہ اس کی ٹیکنالوجی سب سے بہتر ہے اور اس کا کوئی مدمقابل نہیں دور تک۔ اس خوش فہمی یا غلط فہمی میں وہ اے سی کرنٹ کا پھیلاؤ روکنے کی کوشش کرنے لگا۔ ایڈیسن اور ٹیسلا کے اس ٹکراؤ کو تاریخ میں وار آف دا کرنٹس کے نام سے یاد کیا جاتا۔ وار آف دا کرنٹس میں ایڈیسن نے ہر ڈرٹی ٹرِک کھیلا، ہر برا کھیل کھیلا اس کے کہنے پر جانوروں کو اے سی کرنٹ لگا کر مارا گیا حتیٰ کہ ایڈیسن نے ایک انسانوں کوسزائے موت دینے کیلئے بھی اے سی کرنٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔

وہ یہ سب کچھ اس لیا کر رہا تھا کہ اے سی کرنٹ اس کے مد مقابل اس کے خریف ٹیسلا کی ایجاد تھی اور وہ اے سی کرنٹ ٹیسلا کا مقابلہ کرنے کی بجائے اے سی کرنٹ کواوچھے ہتھکنڈوں سے بدنام کرنے پر تل گیا تھا اے سی کرنٹ کے خلاف اس نے ہزاروں پمفلٹ چھپوا کر بھی لوگوں میں بانٹے یہ سب کچھ اس لیا کیا گیا تاکہ اے سی کرنٹ کو خطرناک ثابت کر کے مارکیٹ میں ٹیسلا کا اور اس کرنٹ کا نام بدنام کیا جائے لوگ اس کرنٹ سے ڈرنے لگیں اور یہ ٹیکنالوجی فلاپ ہو جائے۔ لیکن کوئی ٹیکنالوجی بھلا صرف پراپیگنڈے کے زور پر مارکیٹ سے آؤٹ ہو سکتی ہے بھلا؟ نئی اور سستی ٹکنالوجی جو بہتر بھی ہو اسے ہرانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے۔

ایڈیسن تو ضد پر اڑا ہوا تھا لیکن اس کا بزنس پارٹنر جے پی مورگن بات سمجھ گیا تھا۔ وہ جان گیا کہ ایڈیسن کی ضد اس کی ساری انویسٹمنٹ ڈبو سکتی ہے۔ چنانچہ اس نے بجلی کی مارکیٹ میں اِن رہنے کیلئے وہی کیا جو ایڈیسن نے ٹیسلا کے ساتھ کیا تھا۔ یعنی جے پی مورگن نے ایڈیسن کے ساتھ اپنے پرانے تعلق کا لحاظ کئے بغیر خود غرضی دیکھائی جنرل الیکٹرک کے نام سے اپنی الگ پاور کمپنی بنا لی۔ چونکہ ایڈیسن کی پاور کمپنی بھی مورگن کی انویسٹمنٹ پر ہی چل رہی تھی اس لئے اس نے یہ کمپنی بھی جنرل الیکٹرک میں ضم کر لی۔ اگرچہ نئی کمپنی میں ایڈیسن کے شیئرز تو موجود رہے مگر فیصلوں کا اختیار جے پی مورگن کے پاس چلا گیا۔

اس ساری صورت حال میں ایڈیسن کی آخری امید یہ تھی کہ شکاگو میں ہونے والی ورلڈ کولمبیئن ایگزیبیشن میں الیکٹرک سپلائی کا ٹھیکہ اسے ملے۔ یہ نمائش کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے چار سو برس پورے ہونے پر منعقد کی جا رہی تھی۔ اٹھارہ سو ترانوے میں ہونے والی اس نمائش کو بجلی سے روشن کرنے کا ٹھیکہ اگرجنرل الیکٹرک کو مل جاتا تو ایڈیسن کیلئے کچھ فیس سیونگ ہو سکتی تھی۔ کیونکہ جنرل الیکٹرک ابھی تک ایڈیسن کا بنایا ڈی سی کرنٹ استعمال کر رہی تھی۔ لیکن ظاہر ہے یہ کرنٹ تو اے سی کے مقابلے میں بہت مہنگا تھا۔ چنانچہ جب پاور سپلائی کیلئے بولی لگانے کا وقت آیا تو جنرل الیکٹرک نے دس لاکھ ڈالر کی بولی لگائی جبکہ ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک نے اس سے آدھی صرف پانچ لاکھ ڈالر کی بولی لگائی۔

یہ ایڈیسن کے ڈی سی کرنٹ کی آخری شکست تھی، بلکہ موت تھی اس کے بعد ایڈیسن بجلی کے بزنس سے آؤٹ ہو گیا اور جنرل الیکٹرک نے بھی دھیرے دھیرے اپنے پلانٹس کو اے سی کرنٹ پر منتقل کر نا شروع کر دیا۔ یہ سب کچھ ایڈیسن کی ضد کا نتیجہ تھا، اس کی ہٹ دھرمی کے باعث ہوا تھا اگر وہ اپنے رویے میں لچک دکھاتا اور پہلے ہی ڈی سی کی جگہ اے سی کرنٹ استعمال کرنا خود بھی شروع کر دیتا تو بجلی کے بزنس سےشاید آؤٹ نہ ہوتا۔ مگر اس کی انا نےاسے ہرا دیا تھا۔ بزنس کی بے رحم مقابلے بازی میں پہلی بار ایڈیسن کو شکست کا زہر چکھنا پڑا تھا اور وہ بھی اپنے ملازم کے ہاتھوں جیسے اس نے محض چند ڈالرز کے بدلے نوکری چھوڑنے پر مجبور کیا تھا

اس ناکامی کے بعد اس کے مخالفین سمجھ رہے تھے کہ اب ایڈیسن کی بتی گل ہو گئی اور وہ کوئی نیا بڑا پراجیکٹ شروع نہیں کر سکتا۔ لیکن مین لو پارک کے جادوگر کی پٹاری میں ابھی بہت سے آئیڈیاز باقی تھے۔ اس نے پٹاری میں ہاتھ ڈالا اور ویڈیو کیمرہ نکال لیا۔ دیکھنے والوں کی آنکھیں پھر کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ایڈیسن نے ایک بار پھر پرانی ٹیکنالوجی کو بہتر کر کے بیچ دیا۔ ویڈیو کیمرے کی ٹیکنالوجی پرانی ہی تھی۔ برطانوی سائنسدان موئے برج سمیت کئی لوگ اٹھارہ سو اسی سے اس پر کام کر رہے تھے۔ کیمروں سے بنائی گئی تصاویر کو دائرے کی شکل میں جوڑ کر جب گھمایا جاتا تو یہ تصویریں حرکت کرتی نظر آتی تھیں۔ اس لئے انہیں موشن پکچرز یعنی حرکت کرنے والی تصویریں بھی کہا جاتا تھا۔

مگر ان تصویروں کو جمع کرنے کیلئے بعض اوقات کئی کئی کیمرے لگانا پڑتے تھے۔ یا پھر تصویروں کو نکال کر الگ الگ جوڑنا پڑتا تھا۔ اب ایڈیسن نے ایسا کیمرہ بنا لیا تھا جو بجلی سے چلتا تھا اور ایک ہی کیمرے میں سیلولائڈ کی ایک پٹی پر تصویریں بنتی جاتی تھیں۔ اس کیمرے کو کائنیٹو گراف کا نام دیا گیا۔ اس کیمرے سے لی گئی تصویریوں کو ویڈیو کی شکل میں چلانے کیلئے ایک ڈیوائس کائینیٹو سکوپ ایجاد کی گئی۔ اس ڈیوائس میں تصویروں والی سیلولائڈ کی پٹی کو رکھ دیا جاتا۔ پھر یہ ڈیوائس ان تصویروں کو ویڈیو کی شکل میں پلے کر دیتی تھی۔ ویڈیو دیکھنے کیلئے آنکھ کو اس پر لگے لینز کے قریب لے جانا پڑتا تھا۔

ایڈیسن نے اپنی مین لو پارک والی لیبارٹری سے اکیس میل دور ویسٹ آرنج نیوجرسی میں بلیک ماریا کے نام سے ایک سٹوڈیو بھی بنالیا۔ یہاں اٹھارہ سو چورانوے میں بڑے پیمانے پر ویڈیوز کی ریکارڈنگ کی گئی۔ ایڈیسن ویڈیوز یا موشن پکچرز کو لوگوں کیلئے ایک لگژری، ایک انٹرٹینمنٹ بنانا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے پورے امریکہ میں کائنیٹو سکوپ کے سٹوڈیوز کا جال بچھا دیا۔ ان سٹوڈیوز میں ایک شخص پچیس سینٹ دے کر ایک کائنیٹو سکوپ استعمال کر سکتا تھا یعنی اس میں ویڈیو دیکھ سکتا تھا۔ اس ایجاد نے ایڈیسن کو پھر سے امریکہ میں مقبول عام کردیا اور اس کے کاروبار کو بھی چار چاند لگ گئے مگر اب یہاں بھی وہی یہی مسئلہ در آیا پیش آ گیا جو بجلی کے معاملے میں سامنے آیا تھا۔

وہ یہ کہ کیمرہ جیسے اس نے بہتر کر کے بیچنا شروع کر دیا تھا، ویسے ہی اس کا کیمرہ اور کائنٹوسکوپ بھی اس کے کمپیٹیٹرز بہتر کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ جب کوئی کوشش کرتا ہے تو پھر نتیجہ تو آنا ہی ہوتا ہے۔ تو یہ ایک ایسی بات تھی جو ایڈیسن کی کیمرہ ٹیم نے بھی سمجھ لی تھی۔ اس ٹیم نے ایڈیسن کو ایک کام کا مشورہ دیا۔ مشورہ یہ تھا کہ ایک ایسا پروجیکٹر بنایا جائے جس سے بہت سے لوگ ایک ہی وقت میں ویڈیو دیکھ سکیں۔ مگر ایڈیسن کی سوچ اس کےمختلف تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ابھی لوگ کائنیٹو سکوپ میں ویڈیو دیکھنے کیلئے الگ الگ پیسے دیتے ہیں کیونکہ ایک وقت میں ایک ہی شخص کائنیٹو سکوپ کے چھوٹے سے لینز سےآنکھ لگا کر ویڈیو دیکھ سکتا ہے

لیکن اگر ویڈیوز بڑی سکرین پر چلنے لگیں تو ایک وقت میں بہت سے لوگ اسے دیکھنے لگیں گے اور اس کا منافع کم ہو جائے گا۔ چنانچہ زیادہ منافعے کے لالچ میں اس نے پروجیکٹر بنانے کے آئیڈئیے کو مسترد کر دیا اور یہیں ایک بار پھر وہ مار کھا گیا۔ کیونکہ کچھ لوگ اسی آئیڈیا پر اسی خیال پر کام کر رہے تھے۔ اورجلد ہی ایسی ڈیوائسز مارکیٹ میں آنے لگیں جنہوں نے کائنیٹوسکوپ کا پیک اپ کروا دیا۔ سب سے پہلے تو اٹھارہ سو پچانوے میں دو فرانسیسی سائنسدانوں نے پیرس میں کپڑے کی سکرین پر پروجیکٹر سے ویڈیو دکھا کر تہلکہ مچا دیا۔ اس کے بعد امریکہ میں بھی فینٹو سکوپ کے نام سے ایک پروجیکٹر مارکیٹ میں آ گیا جسے آج پہلی باقاعدہ سینما سکرین سمجھا جاتا ہے۔

اور اس پروجیکٹر کے مقابلے میں ایڈیسن کی کائنیٹو سکوپ کی کوئی اہمیت نہ رہی۔ بجلی کے بزنس میں ناکامی کے بعد اب یہ دوسرا موقع تھا کہ ایڈیسن کا کاروبار تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا۔ لیکن اس بار ایڈیسن ہوشیار تھا، اسے معلوم تھا کہ بزنس میں ضد نہیں سودے بازی چلتی ہے۔ چنانچہ اس نے بھی سودے بازی کر لی۔ اس نے فینٹو سکوپ کے مالک ٹامس آرمات سے فینٹوسکوپ کے رائٹس ہی خرید لیے۔ پھر اس نے فینٹو سکوپ کو بہتر بنا کر وائٹا سکوپ کے نام سے ایسی سینما مشین تیار کی جس نے باقی سب کمپیٹیٹرز کو مارکیٹ سے نکال باہر کیا۔ وائٹا سکوپ کے بعد اٹھارہ سو چھیانوے میں ایڈیسن نے پروجیکٹو سکوپ کے نام سے ایک اور سینما مشین بنا ڈالی۔

دوستوجن سینما مشینوں پر برسوں تک امریکی سینما انڈسٹری کی روزی روٹی چلتی رہی ہے، وہ ایڈیسن کی سینما مشینوں سےسیکھ کر ہی بنائی گئی تھیں۔ یوں ہی ہالی وڈ فلم انڈسٹری نے جنم لیا، موشن پکچرز اور گونگی فلموں سیلنٹ موویز کا ٹاک کیز سے پہلے کی فلموں کا دور شروع ہوا۔ ٹکنالوجی میں یہ انقلاب ایڈیسن کے ایجاد کرتا ویڈیو کمیرے اور پروجیکٹرسے ہی ممکن ہو پاتا تھا یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر ایڈیسن نہ ہوتا تو ہالی وڈ اورسینما گھروں کی رونق شاید کسی اور طرح سے وجود میں آتی اور ہاں ایڈیسن کے بلیک ماریا سٹوڈیوز نے بھی ویڈیوز بنانے کا سلسلہ جاری رکھا اور بیس برس میں بارہ سو فلمیں تیار ہوئیں۔ ایڈیسن چونکہ آواز اور ویڈیو دونوں کی ریکارڈنگ ڈیوائسز بنانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔

اس لئے اس نے ایک ایسی ڈیوائس بنانے کی بھی اب کوشش شروع کر دی جس میں ویڈیو کےساتھ آواز کو بھی سنا جا سکے یعنی گونگی فلموں کو بولتی فلموں میں بدلنے کی ٹکنالوجی اس میں اسے کچھ کامیابی بھی ملی لیکن وہ اسے زیادہ بہتر اور کمرشل استعمال کے قابل نہ بنا سکا۔ انیس سو پندرہ میں یہ پراجیکٹ ختم کر دیا گیا۔ تاہم کچھ عرصے بعد انیس سو بیس کی دہائی میں کچھ دوسرے سائنسدانوں نے گونگی فلموں کی جگہ بولتی فلمیں بنانے کی بہتر اور قابل استعمال ٹکنالوجی بنا لی اور مارکیٹ میں لے آئے۔ لیکن مائے کیوریس فیلوز سینما مشین اور ویڈیو کیمرہ ہی ایڈیسنکی آخری منزل نہیں تھے۔

وہ تو سکائی از دا لِمٹ کے مطابق چلتا تھا۔ موشن پکچرز یعنی ویڈیوز میکنگ میں کامیابی کے بعد ایڈیسن نے بزنس کے کئی اور شعبوں میں بھی قدم رکھ دیا۔ اس کی قائم کی ہوئی کمپنیاں پنکھے، موٹرز، گرامو فون، بجلی کا سامان حتیٰ کہ میڈیکل کے آلات اور پلاسٹک کی پیکنگ تک بناتی تھیں

ایڈیسن کی ہر پروڈکٹ پر اس کا نام لکھا ہوتا تھا، ہر کمپنی کے ہر اشتہار میں یہ دعویٰ کیا جاتا کہ ایڈیسن پروڈکٹس سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ یوں ایڈیسن کا نام کوالٹی کی ضمانت بن گیا، وہ امریکہ میں ایک برانڈ بن گیا، بارہ سال کی عمر سے دولت مند اور بزنس برانڈ بننے کا جو خواب اس نے دیکھا تھا وہ پورا ہو گیا تھا۔ اب وہ بوڑھا ہو رہا تھا، بظاہر اسے سب کچھ مل گیا تھا۔ لیکن جس عمر میں لوگ اپنی خون پسینے کی کمائی میں ایک پیسے کا ضیاع ایک پینی کا ضائع ہو جانا برداشت نہیں کرتے وہاں ایڈیسن نے پانچ ملین ڈالر اپنی آنکھوں کے سامنے جلتے دیکھےلیکن ٹس سے مس ہوا۔ ہوا یہ کہ دسمبر انیس سو چودہ میں ایڈیسن کے ویسٹ آرنج نیوجرسی والے پلانٹ میں آگ لگ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے تیرہ عمارتیں جل کر راکھ ہو گئیں۔

ایڈیسن بھی وہاں موجود تھا اور اپنی عمر بھر کی کمائی اپنی آنکھوں کے سامنے جلتے دیکھ رہا تھا۔ لیکن اسے نہ دل کا دورہ پڑا نہ کوئی پریشانی ہوئی۔ اس نے اپنے بیٹے چارلز سے کہا بیٹا جاؤ اپنی ماں اور اس کی سب دوستوں کو لے کر آؤ آگ کا ایسا نظارہ انہیں پھر دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ چارلز نے اپنے باپ کی بات سن کر شاید سوچا ہو کہ بڈھا سٹھیا گیا ہے، بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے۔ مگر یہ بڈھا سٹھیایا نہیں تھا۔ وہ تو کاغذ قلم لے کر ان چیزوں کی فہرست بنا رہا تھا جو اسے اپنے پلانٹ کو دوبارہ تعمیر کرنے کیلئے چاہیے تھیں۔ اس کی اس کارروائی کو دیکھ کر وہاں موجود ایک رپورٹر کو تجسس ہوا۔ اس نے سوچا ذرا دیکھیں تو سہی یہ شخص اپنا نقصان دیکھ کر اب کیا لکھ رہا ہے؟

اس نے ایڈیسن سے اس بارے میں پوچھا تو ایڈیسن کے جواب نے اسے حیران کر دیا۔ ایڈیسن نے کہا میں سڑسٹھ برس کا ہوں مگر میں کل سے ایک نئی شروعات کروں گا۔ یہ بات سن کر چارلز کی طرح شاید رپورٹر کو بھی ایڈیسن کی دماغی صحت پر کچھ شک ہوا ہو۔ لیکن ایڈیسن مذاق بلکل نہیں کر رہا تھا۔ جب فائر بریگیڈ نے آگ پر قابو پا لیا تو پلانٹ میں ہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا گیا تو یہ تیس سے پچاس لاکھ ڈالرز تھا۔ تھری ٹو فائیو ملین ڈالرز مگر ایڈیسن نے نقصان کی یہ خبر بھی ہنسی مذاق میں اڑا دی۔ اس کے پاس اب بھی اتنی دولت تھی کہ وہ یہ پلانٹ دوبارہ کھڑا کر سکتا اگرچہ ایک بڑے نقصان کے بعد دوبارہ انویسٹمنٹ کرنا دل گردے کا کام تھا مگر ایڈیسن جانتا تھا کہ اس کا نام ایک برانڈ ہے۔

اس نے ایڈیسن سے اس بارے میں پوچھا تو ایڈیسن کے جواب نے اسے حیران کر دیا۔ ایڈیسن نے کہا میں سڑسٹھ برس کا ہوں مگر میں کل سے ایک نئی شروعات کروں گا۔ یہ بات سن کر چارلز کی طرح شاید رپورٹر کو بھی ایڈیسن کی دماغی صحت پر کچھ شک ہوا ہو۔ لیکن ایڈیسن مذاق بلکل نہیں کر رہا تھا۔جیسے ہی اس کا پلانٹ دوبارہ کام شروع کرے گا اس کا منافع واپس آ جائے گا اور نقصان پورا ہو جائے گا۔ چنانچہ اس نے پلانٹ کو دوبارہ بنایا اور کچھ ہی عرصے میں اپنا نقصان پورا کر لیا

جب فائر بریگیڈ نے آگ پر قابو پا لیا تو پلانٹ میں ہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا گیا تو یہ تیس سے پچاس لاکھ ڈالرز تھا۔ تھری ٹو فائیو ملین ڈالرز مگر ایڈیسن نے نقصان کی یہ خبر بھی ہنسی مذاق میں اڑا دی۔ اس کے پاس اب بھی اتنی دولت تھی کہ وہ یہ پلانٹ دوبارہ کھڑا کر سکتا تھا۔ اگرچہ ایک بڑے نقصان کے بعد دوبارہ انویسٹمنٹ کرنا دل گردے کا کام تھا مگر ایڈیسن جانتا تھا کہ اس کا نام ایک برانڈ ہے۔ جیسے ہی اس کا پلانٹ دوبارہ کام شروع کرے گا اس کا منافع واپس آ جائے گا اور نقصان پورا ہو جائے گا۔ چنانچہ اس نے پلانٹ کو دوبارہ بنایا اور کچھ ہی عرصے میں اپنا کر لیا۔

شد ہنری نے فورڈ کمپنی کے نام سے کاریں بنانے کا بزنس شروع کر دیا۔ کہتے ہیں ایڈیسن نے بجلی سے چلنے والی کاریں یعنی الیکٹرک کارز بھی بنائی تھیں اور ہنری فورڈ بھی الیکٹرک کاریں بنانے کیلئے ایڈیسن سے ایک لاکھ بیٹریاں خریدنے والا تھا مگر کسی وجہ سے یہ ڈیل فائنل نہ ہو سکی۔ اس ناکام ڈیل کے بعد بھی دونوں کی دوستی میں فرق نہیں آیا۔ ان دونوں نے اپنے کچھ اور دوستوں سے مل کر ایک گروپ بنا لیا تھا جسے وہ ویگابانڈز یعنی آوارہ گرد کہتے تھے۔ یہ لوگ اکٹھے سیرسپاٹے اور پارٹیاں کرتے۔ ایڈیسن امریکیوں میں ایک طرح کی سلیبیرٹی، لیونگ لیجنڈ بن چکا تھا۔ اسے اپنے دور کا سب سے بڑا موجد یا انوینٹر مانا جاتا تھا اور اس کا شمار امریکہ کےسب سے بڑے کاروباری افراد میں ہوتا تھا۔

جدید امریکہ اسی کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی پر چل رہا تھا اس لئے لوگ اس کے دیوانے تھے۔ شاید ہی دنیا میں کسی سائنسدان کو اپنی زندگی میں اتنی عزت اور اتنی شہرت اور اتنا پیسہ ملا ہوجتنا ایڈیسن کو ملا۔ عالی شان تقریبات اس کے اعزاز میں منقید کی جاتیں۔ لوگ اس سے فرمائش کر کے میری ہیڈ اے لٹل لیمب سنتے یہ وہی نظ تھی جو اس نے اپنی پہلی ایجاد فونوگراف پر ریکارڈ کرائی تھی۔ پریس اس کی ہر بات اور اس سے جڑے ہر واقعے کو شہہ سرخیوں میں شائع کرتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ایڈیسن کی بیماریاں بکلک کر کے دیکھ لیجئے۔ یہاں دیکھئے امریکی خانہ جنگی کیکہانی اور ابراہم لنکن کی بائیوگرافی بڑھتی جا رہی تھیں۔

انیس سو اکتیس میں جب ایڈیسن ویسٹ آرنج نیوجرسی میں رہ رہا تھا تو وہاں اس کی طبیعت بہت بگڑ گئی اور وہ بستر سے لگ گیا۔ رپورٹرز نے ویسٹ آرنج کاؤنٹی میں اس کے گھر کے باہر ڈیرے لگا لئے، ایڈیسن دھیرے دھیرے موت کی جانب بڑھ رہا تھا اور اس کی حالت میں معمولی سی تبدیلی کی خبریں بھی امریکی اخبارات میں ہیڈ لائنز بنتی تھیں۔ آخر اٹھارہ اکتوبر انیس سو اکتیس کو چوراسی برس کی عمر میں ایڈیسن کی موت ہو گئی۔ اس کا تابوت دو روز تک اس کی لیبارٹری میں رکھا رہا جہاں پچاس ہزار سے زائد لوگوں نے اس کو آخری باردیکھا۔ تیسری رات امریکی صدر ہربرٹ ہوور نے ریڈیو پر لوگوں سے درخواست کی کہ وہ ایڈیسن کی یاد میں اپنے گھروں کی بجلی ایک منٹ کیلئے بند کر دیں۔

چنانچہ پورے امریکہ میں ایک ہی وقت میں لائٹس بند ہو گئیں۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ اگر ایڈیسن نہ ہوتا تو امریکہ کیسا دکھائی دیتا۔ ایڈیسن کو نیوجرسی میں ہی اپنے گھر کے پاس دفن کر دیا گیا۔ ایڈیسن کے نام پر ایک ہزار ترانوے ایجادات رجسٹرڈ ہیں۔ امریکہ میں اس کی یادگاریں اور مجسمے بنائے گئے، اس کے نام پر ایوارڈز دیئے گئے بہت سےانسٹیٹیوٹس اس کے نام پر بنے اس سے وابستہ عمارتوں کو محفوظ کر کے ہسٹورک سائٹس یا تاریخی مقامات کا درجہ دیا گیا۔

دوستو کیا آپ کے ذہن میں کبھی کوئی ایسا خیال آیا جو کسی پہلے سے موجود ٹیکنالوجی کو بالکل نئی شکل دے دے؟ یقیناً آیا ہو گا، ہمیں کمینٹس میں ضروربتائیں۔

Part 1 :: Who was Thomas Alva Edison Urdu | تھامس ایڈیسن کون تھا ؟

Read More :: History of America Read In Urdu Article And Watch Play History

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: