Who was Thomas Alva Edison Urdu | تھامس ایڈیسن کون تھا ؟

Who was Thomas Alva Edison Urdu | تھامس ایڈیسن کون تھا ؟

تھامس ایلوا ایڈیسن
(انگریزی میں: Thomas Alva Edison)[1]،(انگریزی میں: Thomas Edison ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (فرانسیسی میں: Thomas Alva Edison ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 11 فروری 1847[2][3][4][5][1][6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
میلان، اوہائیو[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 18 اکتوبر 1931 (84 سال)[8][2][3][4][5][1][6]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویسٹ اورنج[9][1]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات ذیابیطس[1]  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نسل امریکی[1]  ویکی ڈیٹا پر (P172) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز،  امریکن فلوسوفیکل سوسائٹی،  اکیڈمی آف سائنس سویت یونین،  سائنس کی روسی اکادمی،  قومی اکادمی برائے سائنس  ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ میری اسٹیلویل (1871–1884)[1]
مینا ملر (1886–1931)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد چارلس ایڈیسن،  تھیوڈور ملر ایڈیسن،  تھامس ایلوا ایڈیسن جونئیر[1]،  ماریون ایسٹیل ایڈیسن اویزر،  میڈلین ایڈیسن سلونی  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد 6   ویکی ڈیٹا پر (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ انجینئر[1]،  موجد[1][10][11]،  ریاضی دان[1]،  کارجو[1]،  منظر نویس[12]،  کاروباری شخصیت،  فلم ہدایت کار،  طبیعیات دان[11]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[13][1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل ایجاد[14]،  برقی ہندسیات[1]،  ہندسیات،  منظر نگاری  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں برقی قمقمہ  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
گرامی ٹریسٹی اعزاز (1977)
فرینکلن میڈل (1915)
تمغا جون فریٹز (1908)
رمفورڈ انعام (1895)
تمغا البرٹ (1892)
Legion Honneur Commandeur ribbon.svg کمانڈر آف دی لیجین آف اونر (1889)
تمغا جون اسکاٹ (1889)
میٹوسی میڈل (1887)
تمغا بنجمن فرینکلن
اسٹار آن ہالی ووڈ واک آف فیم  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Thomas Alva Edison Signature.svg
 
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ایک تین سالہ بچہ اپنی ماں کے ساتھ اپنے چھوٹے سے اینیمل فارم پر انڈے جمع کر رہا تھا۔ اس نے دی کھا کہ ایک بطخ انڈوں پر بیٹھی ہے۔ وہ دلچسپی اور حیرانی سے اسے دیکھ ے چلا جا رہا تھا اس نے ماں سے پوچھا، ’ماں یہ بطخ انڈوں پر کیوں بیٹھتی ہے؟‘ ماں نے کہا ’یہ انڈوں پر بیٹھ کر انھیں سینچتی ہے، جس کے بعد انڈوں سے چھوٹے چھوٹے بطخ کے بچے نکل آتے ہیں۔‘ ننھے بچے یہ سنا تو اس کے چھوٹے سے دماغ میں کئی سوال پیداہو گئے۔ ماں بچے کے ساتھ گھر واپس آئی تو کچھ دیر بعد بچہ غائب ہو گیا۔ سارا دن بیچاری ماں اپنے بچے کو تلاش کرتی رہی۔ لیکن جب وہ ملا تو اسی فارم ہاؤس میں جہاں وہ صبح گیا تھا۔ وہ بچہ کچھ انڈے جمع کر کے، بھوسے کے ڈھیر پر رکھ کر ان کے اوپر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کیورئیس کڈ، وہ متجسس بچہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اگر بطخ انڈوں پر بیٹھ کر بچے پیدا کر سکتی ہے تو وہ ایسا کیوں نہیں کر سکتا۔ اب شاید یہ بتانے کی ہرگز ضرورت نہیں کہ انڈے ٹوٹ چکے تھے۔ تین سالہ بچے کی حرکت تو بہت فنی تھی، مضحکہ خیز تھی، لیکن اس کا یہی تجسس اسے اپنے دور کا سب سے بڑا سائنس دان بنا گیا۔ اس بچے کو آج دنیا تھامس ایلوا ایڈیسن کے نام سے جانتی ہے۔

Who was Thomas Alva Edison Urdu | تھامس ایڈیسن کان تھا ؟

اٹھارہ سو ساٹھ کی بات ہے۔ ابراہم لنکن امریکہ کا صدر بننے کی تیاری کر رہا تھا اور ملک میں خانہ جنگی کا ماحول تھا۔ اس دور میں امریکی ریاست مشی گن میں پورٹ ہیرون سے ڈیٹرائٹ تک ایک ٹرین چلتی تھی جس میں ایک بارہ سالہ بچہ تھامس ایڈیسن اخبار اور ٹوفیاں بیچتا تھا۔ وہ غریب ماں باپ کا بچہ تھا، سنائی بھی اسے کچھ اونچا ہی دیتا تھا بلکہ یوں کہیے کہ وہ تقریباً بہرہ تھا، ڈیف تھا۔ اس کے استاد نے اسے تین ماہ بعد ہی سکول سے نکال دیا کہ اس کا سر بہت بڑا تھا اور ان کا خیال تھا کہ وہ چیزیں یاد رکھنے صلاحیت سے محروم ہے۔

جس پر اس کی ماں جو کہ خود بھی ایک استاد تھی، نے اسے گھر پر ہی واجبی سی تعلیم دینا شروع کر دی۔ قدرت نے اس کو بہت تھوڑا دیا تھا ہاں خواب اگرچہ اس کے بہت بڑے بڑے تھے۔ وہ ایک کامیاب بزنس مین بننا چاہتا تھا، اس کی خواہش تھی کہ امریکہ کے ایک ایک گھر میں اس کا نام پہنچے۔ اس بڑے خواب کے لیے اس کے پاس ایک ذہین دماغ تو تھا لیکن سرمایہ بالکل نہیں تھا۔ کیونکہ کوئی انویسٹمنٹ اس پر کرنے کو تیار نہیں تھا اور اس کے پاس انویسٹمنٹ تھی نہیں بچپن سے ایڈیسن کا حال یہ تھا کہ اس کے ہاتھ جو چیز آتی وہ اسے خود دوبارہ بنا کر بیچنے کی کوشش کرتا تھا۔ اخبار بیچتے بیچتے ایک دن اسے خیال آیا کہ کیوں نہ اپنا اخبار نکالا جائے۔

وہ پرنٹنگ پریس سے اخبار لینے جاتا تھا اور اس مشین کو کام کرتے ہوئے دیکھتا تھا۔ پرنٹنگ پریس کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے میں اسے کوئی مشکل نہیں ہوئی کیونکہ وہ ایک سادہ سا پریس ہوا کرتا تھا۔ اس نے اپنا چھوٹا سا پرنٹنگ پریس اسے دیکھتے ہوئےبنا لیا اور اسے ایک ٹرین کی سامان والی بوگی ہی میں انسٹال کر دیا۔ اسی مشین پر وہ خود ہی اخبار چھاپنے اور ٹرین میں بیچنے لگا۔ لوگ پہلی بار ایسا اخبار دیکھ رہے تھے جو اخبار بیچنے والےچھوٹے سے لڑکے نے خود ہی لکھا خود ہی چھاپا اور خود ہی بھیجنے کا بندوبست کیا تھا۔ اس لئے کچھ لوگ اسی ناولٹی میں اسی شوق میں تجسس یہ اخبارخرید لیتے تھے۔

مگر ظاہر ہے یہ اخبار نیوز کوالٹی میں بڑے اخبارات کا مقابلہ تو نہیں کر سکتا تھا اس لئے اس کی فروخت نہ ہونے کے برابرتھی۔ پھر یوں ہوا کہ ایک دن اس بوگی میں جہاں یہ پرنٹنگ پریس انسٹال تھا آگ لگ گئی اور ایڈیسن کا پریس جل کر راکھ ہو گیا۔ وہ چاہتا تو پرنٹنگ پریس دوبارہ بنا لیتا طریقہ تو وہ سیکھ چکا تھا مگر تب تک وہ یہ بھی سمجھ چکا تھا کہ اخبار کے بزنس میں زیادہ فائدہ نہیں ہے۔ تو اب کیا کیا جائے؟ اسے کوئی سونے کی کان تو ملنے سے رہی۔ اس نے ٹرین کی کھڑکی سے سر باہر نکالا اور ٹریک کے ساتھ دوڑتے بھاگتے ٹیلیگراف کے کھمبوں کو دیکھنے اور کچھ سوچنےلگا۔ وہ جانتا تھا کہ ان کھمبوں پر لگی تاروں میں ہزاروں پیغامات کے سگنلز دوڑ رہے ہیں۔

اخبار بیچنے کے دوران اس نے ٹیلیگراف کے آفسز دیکھے تھے اور مشینوں کی ٹک ٹک آوازیں سنی تھیں۔ اس نے ٹیلیگراف آپریٹرز کو کوڈز والا پیغام لے کر اسے الفاظ میں ڈھالتے ڈی کوڈ کرتے دیکھا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ پرنٹنگ پریس بنا سکتا ہے تو ٹیلیگراف مشین کیوں نہیں بنا سکتا۔ بلکل اسی طرح جس طرح اس نے سوچا تھا کہ بطخ انڈوں سے بچے نکال سکتی ہے تو وہ کیوں نہیں نکال سکتا۔ لیکن اب ظاہر ہے وہ میچور ہو چکا تھا اگر ایسا ہو سکتا کہ وہ ٹیلی گراف مشین بنا سکتا تو واقعی یہ اس کے لیے سونے کی کان کا دروازہ ہی تھا مگر ٹیلیگراف مشین، پرنٹنگ مشین سے زیادہ پیچیدہ تھی۔ اسے سمجھنے کیلئے اس کے قریب رہنا پرنٹنگ پریس میشن سے کئی زیادہ ضروری تھا۔

چنانچہ ایڈیسن نے ٹیلیگراف آپریٹر بننے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر یہاں مسئلہ یہ تھا کہ اسے ٹیلیگراف کے مشکل مشکل کوڈز سکھاتا کون؟ تو دوستو نجانے ہر بار ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب آپ کچھ کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو نیچر، قدرت آپ کی پوری پوری مدد کرتی ہے ایسا ہی ایڈیسن کے ساتھ ہوا۔ اٹھارہ سو باسٹھ میں ایڈیسن پندرہ برس کا تھا۔ اس نے ایک تین سالہ بچے کو ٹرین کی زد میں آ کر مرنے سے بچایا۔ بچے کے باپ نے ایڈیسن کو اس کے اس احسان کا بدلہ دینا چاہا لیکن ایڈیسن نے انکار کر دیا۔ اور کہا کہ اگر وہ واقعی ہی اس کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو کسی طرح اسے ٹیلیگرافی سکھا دیں یا کسی ایسے شخص کا بتا دیں جو اسے یہ سیکھا سکے۔

اب اتفاق دیکھیں کہ وہ شخص اس بچے کا باپ خود ٹیلیگرافی جانتا تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کی جان بچانے کے خوشی میں ایڈیسن کو ٹیلیگرافی کے کوڈز سکھا دیئے۔ اب ایڈیسن نے اخبار بیچنا چھوڑے اور ٹیلیگراف آپریٹر بن گیا۔ اس وقت امریکہ میں خانہ جنگی زوروں پر تھی امریکہ دو حصوں میں بٹا تھا خون خرابہ ہو رہا تھا ہر طرف سے خبروں کی بھرمار تھی، ٹیلیگراف مشینوں پر بار بار جنگ کی تازہ ترین صورتحال کے پیغامات آتے رہتے تھے۔ اس لئے کام کے دوران ایڈیسن ہر وقت مصروف رہتا مگر یہ جاب اس کی منزل نہیں تھی۔ یہاں تو وہ صرف یہ دیکھنے آیا تھا کہ ٹیلیگراف مشینوں میں آخر کون سی راکٹ سائنس ہے جو وہ نہیں سمجھ سکتا۔

اس کے ساتھی آپریٹرز تو بس جیسے تیسے کام کا وقت پورا کرتے اور گھروں کوچلے جاتے، مگر ایڈیسن ٹیلیگراف مشین کو سمجھنے میں لگا رہتا کام کے دوران۔ سگنلز بھیجنے اور وصول کرنے میں جو بھی مشکلات ہوتی تھیں اس نے سب نوٹ کررکھی تھیں۔ جب اٹھارہ سو پینسٹھ میں امریکہ میں خانہ جنگی ختم ہو گئی اور کام کا بوجھ کچھ کم ہوا تو ایڈیسن پھر سے اپنے آئیڈئیے یعنی ٹیلیگراف مشین بنانے پرجت گیا اپنی ملازمت کے دوران وہ اس مشین کے بارے میں بہت کچھ سیکھ چکا تھا، اب اس نے ڈے شفٹ چھوڑ کر نائٹ شفٹ میں کام شروع کر دیا۔ نائٹ شفٹ میں کام زیادہ نہیں تھا، مگر تجربات اور غوروفکر کیلئے بہت وقت تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ ان مشینوں کو چلانے کیلئے بھلا اتنے ٹیلیگراف آپریٹرز کیوں چاہئیں؟ کیا کوئی مشین آٹومیٹک طریقے سے کوڈڈ پیغام کو ڈی کوڈ نہیں کر سکتی؟

کیا ایک ہی مشین سے ایک وقت میں کئی جگہوں تک پیغامات بھیجنا ممکن ہے؟ اسے لگا یہ سب ممکن ہے، اگر کوشش کی جائے چنانچہ اس نے ایسی ٹیلیگراف مشینوں کو ڈیزائن کرنا شروع کر دیاجو یہ سارے کام کر سکیں۔ ایڈیسن نے سات سال تک ٹیلیگراف آپریٹر کی نوکری کی، مگر یہ محض نوکری نہیں تھی، اس دوران وہ اتنا کچھ سیکھ چکا تھا کہ اپنی ٹیلیگراف مشینیں بنا کرپرانی مشینوں کا بوریا بستر گول کر سکتا تھا وہی مشینیں جنھیں چلاتے ہوئے اسے سات سال ہو گئے تھے۔ اٹھارہ سو انہتر م یں ایڈیسن نے نوکری چھوڑ دی۔ اس نے سات برس تک ٹیلیگراف آپریٹر کی ملازمت کر کے جو کچھ سیکھا تھا اب اس کی بنیاد پر دولت کمانے کا وقت آن پہنچا تھا۔

ٹیلیگراف آپریٹر کی نوکری کے دوران وہ کئی شہروں میں گھومتا گھومتا بوسٹن پہنچ چکا تھا۔ لیکن نوکری چھوڑنے کے بعد اس نے نیویارک کی راہ لی۔ اس کی جیب میں تو محض ادھار لئے ہوئے چند ڈالرز تھے مگر اس کی اصل تجوری تو اس کا دماغ تھا جس میں ہزاروں آئیڈیاز کا خزانہ بھرا تھا۔ جب اس نے یہ تجوری نیویارک شہر کے بزنس مینوں کے سامنے کھولی تو کچھ مہربان لوگوں کو اس کے آئیڈیاز پسند کئے۔ ان مہربانوں سے اسے انویسٹمنٹ ملنے لگی اور اس رقم سے ایڈیسن نے جدید ٹیلیگراف کے اپنے آئیڈیاز پر کام شروع کر دیا۔ لیکن اس کی پہلی ایجاد ٹیلیگراف مشینوں کے متعلق نہیں تھی، جانتے ہیں یہ پہلی ایجاد کیا تھی؟ آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں الیکٹرانک ووٹنگ کے بہت چرچے ہیں۔

لیکن دنیا کا سب سے پہلا الیکٹرانک ووٹ ریکارڈر ڈیڑھ سو برس پہلے اٹھارہ سو انہتر میں ایڈیسن نے ایجاد کیا تھا۔ لیکن یہ ایجاد کمرشل نہیں ہو سکی تھی۔ سیاستدان اس ایجاد کے استعمال میں ہچکچا رہے تھے۔ شاید انہیں اس ایجاد کی وجہ سے الیکشن میں دھاندلی کا خدشہ تھا۔ چنانچہ ایڈیسن نے فیصلہ کر لیا کہ وہ آئندہ صرف ایسی چیزیں ڈیزائن کرے گا جن کی مارکیٹ ویلیو ہو گی، جن کے خریدار بڑی تعداد میں میسر ہوں اویلیبل ہوں چنانچہ اس نے ٹیلیگراف مشینوں کے اپنے پرانے آئیڈیاز پر ہی کام پھر سے تیز کر دیا کیونکہ ان مشینوں کی ڈیمانڈ مارکیٹ میں تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ پھر یوں ہوا کہ جلد ہی اس کی بنائی ہوئی آٹومیٹک ٹیلی گراف، ایک ہی وقت میں کئی جگہوں پر پیغام بھیجنے والی ملٹی پلیکس ٹیلی گراف اور پرنٹنگ مشینوں نے پیغام رسانی کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے پرانی مشینوں کا ڈبہ گول ہو گیا اور ہر جگہ ایڈیسن کے نام کا ڈنکا بجنے لگا۔ ایڈیسن کو کامیابی کیا ملی کہ اپنے پرائے سب اس کی طرف دوڑے چلے آئے۔ بڑے بڑے انویسٹرز میدان میں کودے اور ایڈیسن کی جھولی نوٹوں سے بھر دی۔ ایڈیسن نے سات سال ٹیلیگراف کی نوکری کر کے جو تجربہ حاصل کیا تھا اگلے سات برس میں اس نے اسے کامیابی سے کیش کرایا۔ ٹیلیگراف کا بزنس واقعی اس کیلئے سونے کی کان ثابت ہوا تھا۔ انتیس برس کی عمر تک وہ ایک کامیاب دولت مند بزنس مین بن چکا تھا۔ لیکن یہ دولت ابھی اس کے تصور سے اس کی امیدوں سےبہت کم تھی۔ وہ بہت اونچا اڑنا چاہتا تھا۔

چنانچہ اس نے اپنا بزنس ایمپائر کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا ایسا بزنس ایمپائرجہاں وہ ایسی چیزیں ڈیزائن اور تیار کرسکے جو دیکھنے والوں کے ہوش اڑا دیں۔ وہ امریکہ کا سب سے بڑا برانڈ بننا چاہتا تھا۔ اٹھارہ سو چھہتر میں ایڈیسن نے نیوجرسی کے علاقے مین لو پارک میں اپنی لیبارٹری اور ورکشاپ قائم کی۔ یہ ورکشاپ چونتیس ایکڑ پر پھیلی ہوئی تھی۔ یہاں کام کرنے کیلئے اس نے امریکہ کے بہترین سائنسدان اور انجینئر ملازم رکھے اور ایک زبردست انٹیلیجنٹ ٹیم تیار کی۔ یہاں وہ ایسی ایجادات کرنا چاہتا تھا جنہیں وہ عام لوگوں کے لیے فوری طور پر تیار کر کے مارکیٹ میں لا سکے۔ یوں وہ کم وقت میں کم محنت سے زیادہ منافع کما سکتا تھا۔ ایسی ایجادات کیلئے اسے زیادہ غوروفکر کی ضرورت بھی نہیں تھی۔

Read More :: History of America Read In Urdu Article And Watch Play History

سائنسدان بجلی سے لے کر آواز اور تصویر ریکارڈ کرنے والی مشینیں تک بنانے کی کوششوں میں تھے۔ لیکن یہ سب کچھ لیبارٹریوں کے بند ماحول میں ہو رہا تھا۔ ایک تحقیقی کام کی صورت میں یہ سب کچھ ہو رہا تھا۔ ابھی بہت سی ٹیکنالوجیز کمرشل نہیں ہوئی تھیں۔ اس کے برعکس ایڈیسن کی خوبی یہ تھی کہ اسے ٹیکنالوجی کو کمرشل کرنے کا فن آ گیا تھا۔ تو ایڈیسن نے یہ کیا کہ سب سے پہلےموجود ٹکنالوجیز کو ہی استعمال کرتے ہوئے ایسی چیزیں بنا ڈالیں جنہیں عام لوگ بھی استعمال کر سکتے تھے۔ اپنی انہی زبردست ایجادات کی وجہ سے وہ مین لو پارک کا جادوگر کہلایا۔ ان ایجادات میں پہلی ایجاد تھی فونوگراف۔

یہ ریکارڈنگ کی اتنی سادہ سی ڈیوائس تھی کہ اس پر ریکارڈ کی گئی آواز صرف ایک پن کی مدد سےسنی جا سکتی تھی اور وہ بھی صاف صاف۔ فونوگراف پر پہلی آواز بھی اس کے موجد تھامس ایڈیسن ہی کی تھی جس میں اس نے بچوں کی مشہور نظم میری ہیڈ اے لٹل لیمب گائی۔ یہ سیلنڈر جیسی سادہ سی مشین دراصل ایڈیسن کا فونوگراف ہے جو آواز ریکارڈ کرنے کی پہلی کمرشل ڈیوائس تھی۔ اس ایجاد نے امریکہ میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ امریکی صدر اور کانگریس نے ایڈیسن کو بلا کر اس ڈیوائس کا کمال اپنے سامنے دیکھا۔ بعد میں یہی ڈیوائس گرامو فون کے نام سے امریکہ میں گھر گھر پہنچ گئی۔ فونو گراف اور گرامو فون میں دوستو فرق تھا۔

یہ الگ الگ ڈیوائسز تھیں۔ اور گرامو فون تو ایڈیسن کی ایجاد بھی نہیں تھی بلکہ بعد میں ایجاد ہوئی۔ لیکن گرامو فون کا نام اتنا مشہور ہوا کہ اس دور میں کئی ریکارڈنگ ڈیوائسز گرامو فون ہی کہلانے لگیں۔ مگر فونوگراف یا گرامو فون تو ابھی شروعات تھی۔ جادوگر سائنٹسٹ کی پٹاری سے ایک اور آئیڈیا نکلا جس نے ایک بار پھر سب کو حیران کر دیا۔ یہ آئیڈیا تھا ہر امریکی گھر کو بجلی سے روشن کرنے کا۔ امریکہ اور یورپ کی راتیں تو اٹھارہ سو پچاس سے پہلے ہی روشن ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ بجلی کے ٹاورز بھی لگ چکے تھے اور گلیوں میں رات کو بڑی بڑی آرک لائٹس روشن ہو جاتی تھیں۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہ آرک لائٹس اتنی زیادہ روشنی دیتی تھیں اور اتنی گرمی پیدا کرتی تھیں کہ انھیں گھروں میں استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا۔

صرف پارکس یا چوراہوں پر ہی اونچا کر کے لٹکایا جا سکتا تھا۔ گھروں میں لوگ اب تک گیس یا تیل سے روشنی کا انتظام کرتے تھے۔ تو اٹھارہ سو آٹھتر میں ایڈیسن نے رپورٹرز کے سامنے یہ ڈینگ مار دی کہ وہ جلد ہی امریکی گھرانوں کو بجلی سے روشن کر دے گا۔ اب اتنا بڑا سائنسدان جب یہ دعویٰ کر دے تو امریکیوں کا انتظار کرنا تو بنتا تھا سو وہ یہ انتظارکرنے لگے ایڈیسن کا خیال تھا کہ اگر ایک عام لیمپ کو تیل یا گیس کی جگہ بجلی سے روشن کیا جائے تو اس کی روشنی بڑھ جائے گی اور آرک لائٹ کی طرح آنکھوں میں چبھے گی بھی نہیں۔ اس نے اندازہ لگایا کہ اگر لیمپ میں سے ہوا نکال دی جائے یعنی ویکیوم پیدا کر دیا جائے اور پھر اس لیمپ میں کچھ باریک سی تاریں داخل کر کے ان میں سے کرنٹ گزارا جائے تو لیمپ روشن ہو جائے گا۔ ان باریک سی تاروں کو فلامنٹ کا نام دیا گیا۔ لیکن ایڈیسن خود کہا کرتا تھا کہ آئیڈیا کسی بھی پراجیکٹ کا صرف ایک فیصد ہوتا ہے اور باقی ننانوے فیصدانتھک محنت سے ہی پورا ہو پاتا ہے تو اسی ننانوے فیصد پر اس نے کام شروع کر دیا۔

پہلا مرحلہ یعنی لیمپ، بلب میں ویکیوم پیدا کرنا تو کوئی خاص مشکل نہیں تھا اس کی لیباٹری میں یہ کام ہو سکتا تھا اصل مشکل تھی اس میں لگنے والی تاروں یعنی فلامنٹ کی تیاری۔ سوال یہ تھا کہ یہ فلامنٹ کون سے میٹریل کا بنے گا وہ میٹریل جس میں سےکرنٹ بھی گزر سکے اور وہ میٹریل کرنٹ کو برداشت بھی کر سکے؟ کیونکہ ایسے کسی میٹیریل کا سائنسدانوں کو اس وقت تک علم نہیں تھا۔ ایڈیسن نے سب سےپہلے کاغذ کا فلامنٹ بنایا۔ لیکن جب اس میں سے کرنٹ گزارا گیا تو اس کے پرزے پرزے ہو گئے۔ اس کے بعد تو جیسے ایلیمنٹس کی ایک قطار لگ گئی۔ ایڈیسن اور اس کی ٹیم کے سامنے جو بھی چیز آتی جو بھی میٹیل آتا وہ اس سے کرنٹ پاس کر کے دیکھےکہ کیا بلب جلا ہے؟ اس جنونی طریقے میں انھوں نے گھوڑوں کے بال، کوکونٹ کے ریشے، مکڑیوں کے جالے حتیٰ کہ کچھ ملازموں کی داڑھیوں کے بال تک ٹیسٹ کر کے چھوڑے۔

لیکن کرنٹ کے آگے کوئی بھی ایلیمنٹ نہیں ٹھہر رہا تھا۔ ایک بار پلاٹینم کے فلامنٹ کا تجربہ کامیاب رہا تھا مگر پلاٹینم بہت ہی مہنگی دھات تھی۔ اسے کمرشلی استعمال کرنا ناممکن تھا۔ اگر اسے استعمال کیا جاتا تو ظاہر ہے بلب اتنا مہنگا ہو جاتا کہ عام امریکی اور دنیا میں عام لوگ ایسے خرید نہ پاتے ایڈیسن ایک سستا بلب بنانا چاہتا تھا جو ہر گھر میں پہنچ سکے۔ چنانچہ اس نے پلاٹینم کا فلامنٹ مسترد کر دیا اور اپنی ٹیم کو تجربات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ تقریباً ایک سال کی مغز ماری اور چھے ہزار میٹریل ٹیسٹ کرنے کے بعد ایڈیسن کی ٹیم ایک سستا اور معیاری فلامنٹ بنانے میں کامیاب ہوئی۔ اور یہ تھا کاربن کا فلامنٹ۔ اگرچہ تاریخ میں یہ کنٹروورسی یا تنازعہ آج تک موجود ہے کہ کاربن فلامنٹ کی ایجاد کا سہرا کس کے سر باندھا جائے؟

یڈیسن کے سر یا پھر اس کے ایک ملازم سیاہ فام ملازم ایڈورڈ لیوس لیٹی میر کے سر؟ ویسٹ انڈیز کے مشہور کرکٹر مائیکل ہولڈنگ سمیت بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ فلامنٹ کا موجد ایڈیسن نہیں لیٹی میر تھا۔ سیاہ فام ملازم کو اس ایجاد کا سہرا دینے والے لوگوں کا خیال ہے کہ سفید فام نسل پرستوں نے ایڈیسن کو فلامنٹ بنانے کا کریڈٹ دے کر سیاہ فاموں سے ناانصافی کی ہے، تاریخ کو مسخ کیا ہے۔ اب کاربن فلامنٹ بھلے لیٹی میر نے ہی بنایا ہو لیکن اس کا کمرشل فائدہ بہرحال ایڈیسن نے ہی اٹھایا۔ اس نے بجلی سے جلنے والا بلب تیار کر لیا تھا۔ اب وقت تھا اس کی آزمائش کا۔ اٹھارہ سو اناسی، 1879 میں اس نے کاربن کے فلامنٹ سے بلب کو جلایا اور اسے تیرہ گھنٹے تک روشن رکھنے میں کامیاب رہا۔ یہ ایک ایسی ایجاد تھی جس نےدنیا میں بہت بڑی تبدلیلے کر آنی تھی۔

سو ایڈیسن نے نئے سال کے موقع پر اپنی اسی ایجاد کی نمائش کا اعلان کیا۔ اعلان ہوتے ہی دور پار سے لوگوں نے نمائش میں پہنچنے کی سرتوڑ کوششیں شروع کر دیں۔ اکتیس دسمبر اٹھارہ سو اناسی کی رات ایڈیسن کی لیبارٹری کے باہر ایک اچھا خاصا ہجوم جمع تھا۔ وہ لیبارٹری کے باہر گیس لیمپس کی جگہ بجلی کے روشن بلب دیکھ کر پرجوش ہو رہے تھے۔ لیکن ظاہر ہے اصل نمائش لیبارٹری کے اندر تھی۔ ایڈیسن نے لیبارٹری کے دروازے کھولے تو بے چین لوگ تیزی سے ایک ایسی دنیا میں داخل ہوئے جو رات کے وقت بھی دن کا منظر پیش کر رہی تھی۔ لیبارٹری میں پچیس بلب روشن تھے جن کی روشنی لیبارٹری میں رکھی سینکڑوں بوتلوں کے شیشوں سے ٹکرا کر بہت دلفریب سماں پیدا کر رہی تھی۔ اس وقت کے لحاظ سے یہ ایک ناقابل یقین منظر تھا۔ کیونکہ کمروں کے اندر بجلی کے بلب کا تصور اور اتنی روشنی کا تصور اس وقت نہیں تھا۔ ایڈیسن کی یہ نئی ایجاد دیکھنے والوں کو بہت پسند آئی۔ اس نئی ایجاد پر اخبارات میں شہ سرخیاں بھی لگیں۔

ایڈیسن کا الیکٹرک بلب امریکیوں کیلئے نئے سال کا تحفہ تھا۔ اب ایڈیسن اپنے دعوے کے مطابق میٹن ہیٹن کو جو نیویارک کا ایک علاقہ ہےروشن کر سکتا تھا۔ مگر اس کیلئے کچھ قانونی رکاوٹیں تھیں، مطلب وہی بیوروکریسی کے مسائل، یہ پرمٹ، وہ این او سی، یہاں درخواست، وہاں سائن وغیرہ وغیرہ۔ خدا خدا کر کے یہ مرحلے بھی ایڈیسن نے مکمل کئے اور مین ہیٹن کو بجلی سپلائی کرنے کا اجازت نامہ حاصل کر لیا اب بڑے پیمانے پر بجلی سپلائی کیلئے بڑا بجلی گھر بھی چاہیے تھا۔ بڑے بجلی گھر کا مطلب تھا بڑی انویسٹمنٹ۔ جس کا اب ظاہر ہے ایڈیسن کے لیے مسئلہ نہیں رہا تھا۔ امریکہ کے سب سے دولت مندلوگ اس کے آئیڈیاز پر پیسہ پانی کی طرح بہانے کو تیار بیٹھے تھے۔ انہی دولت مندوں میں جے پی مورگن بھی تھا۔

وہی جے پی مورگن جس کی ایک کمپنی ٹائی ٹینک جہاز کی مالک تھی۔ یہی جے پی مورگن ایڈیسن کا بھی انویسٹر تھا، مورگن کو یقین تھا کہ یہ بہترین بزنس انویسٹمنٹ ہے۔ اگر امریکہ کے گھر بجلی سے روشن ہونے لگے تو ساری رقم بے پناہ منافعے سمیت واپس آ جائے گی۔ چنانچہ جے پی مورگن کی مدد سے ایڈیسن نے لوئر مین ہیٹن کے علاقے پرل سٹریٹ میں ایک بجلی گھر بنایا۔ یہاں تیس تیس ٹن وزنی جنریٹر رکھے گئے، زیرِ زمین بجلی کی تاریں بچھائی گئیں۔ پھر چار ستمبر اٹھارہ سو بیاسی کو بجلی گھر میں ایک بٹن دباتے ہی لوئر مین ہیٹن کا ایک مربع میل کا علاقہ روشنیوں سے جگمگانے لگا۔ گلیاں اور گھر الیکٹرک بلب سے روشن ہو گئے تھے۔

انسان کے چاند پر جانے سے پہلے تک یہ انسانی ترقی میں ایک بہت بڑی چھلانگ تھی۔ لیکن یہ چھلانگ مین لو پارک کے جادوگر ایڈیسن کو بہت مہنگی پڑی۔ کیونکہ اب اس کے ہاتھوں کے تراشے ہوئے پتھر کے صنم بھی اس کے سامنے آن کھڑے ہوئے تھے۔ یہ کیسے ہوا؟ وہ کون تھے؟ ایک دن ایڈیسن اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی زندگی بھر کی کمائی کو جلتے ہوئے دیکھ رہا تھا لیکن آگ بجھانے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔ بلکہ ایک کاغذ پر کچھ نوٹ کر رہا تھا وہ کیا نوٹ کر رہا تھا؟ ایڈیسن کا دنیا کی فلم انڈسٹری پر وہ احسان کیا ہے جس کبھی نہیں جھٹلایا جا سکتا؟ یہ سب دیکھنے کے لیے ایڈیسن کی بائیوگرافی کا دوسرا اور آخری حصہ یہاں دیکھئے

Read More :: History of America Read In Urdu Article And Watch Play History

Part 2 :: Who was Thomas Alva Edison Urdu | تھامس ایڈیسن کون تھا ؟

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: