Why and How do Volcanoes Erupt? | آتش فشاں پہاڑ کیوں پھٹتے ہیں؟

0
6

پاکستان ویپ میں خوش آمدید! آپ نے واقعی آتش فشاں دیکھے ہوں گے یا نہیں دیکھے ہوں گے، لیکن آپ نے ان کے بارے میں کچھ تو سنا ہوگا۔ آتش فشاں کیا ہیں، لاوا کہاں سے آتا ہے؟ وہ کن علاقوں میں پائے جاتے ہیں، اور آتش فشاں پھٹنے کے اثرات کیا ہیں؟ یہ آپ آج کی ویڈیو میں سیکھیں گے۔ آتش فشاں کیا ہے آتش فشاں عام پہاڑوں سے قدرے مختلف ہوتے ہیں۔

Why and How do Volcanoes Erupt?

Why and How do Volcanoes Erupt? | آتش فشاں پہاڑ کیوں پھٹتے ہیں؟ | Why do volcanoes erupt? | آتش فشاں کیوں پھٹتے ہیں؟ | How do volcanoes erupt? | آتش فشاں کیسے پھٹتے ہیں؟

Why and How do Volcanoes Erupt? | آتش فشاں پہاڑ کیوں پھٹتے ہیں؟

مختلف رد عمل زمینی درجہ حرارت میں ڈرامائی طور پر اضافے کا باعث بنتے ہیں اسی لیے سطح زمین سے ہزاروں فٹ نیچے ایک خاص قسم کا مائع پایا جاتا ہے اس مائع کو میگما کہتے ہیں۔ میگما مختلف چٹانوں کے پگھلنے سے بنتا ہے۔ یہ مائع بہت گرم ہے۔ جب یہ زیادہ دباؤ اور مختلف گیسوں کی وجہ سے زمین سے باہر نکلتا ہے تو لاوا بن جاتا ہے۔

اور ہم کہتے ہیں کہ آتش فشاں پھٹ پڑا ہے یعنی آتش فشاں پھٹا ہے۔ یہ سوڈا کی بوتل کا ڈھکن کھولنے کے مترادف ہے، اس میں موجود گیس پریشر سے باہر آتی ہے اور ایک مدھم آواز آتی ہے۔ آتش فشاں کے بارے میں قدیم خرافات آتش فشاں کا پھٹنا بہت خطرناک ہوتا ہے، ظاہر ہے جب پہاڑ سے لاوا اور آگ پورے دباؤ کے ساتھ پھوٹتی ہے تو لوگ خوفزدہ ہوں گے۔

یہی وجہ ہے کہ قدیم یونانیوں میں آتش فشاں کے بارے میں مختلف کہانیاں تھیں۔ اٹلی کے شہر سسلی کے قریب ایک آتش فشاں ہے۔ یونانیوں کی یہ کہانیاں اسی پہاڑ سے منسوب تھیں۔ یونانیوں نے بہت سے دیوتا بنائے ان کے مطابق ان آگ کے پہاڑوں کے اندر ایک دیوتا ہے جو اس آگ میں دوسرے دیوتاؤں اور انسانوں کے لیے ہتھیار بناتا ہے، یہ لاوا اس آگ سے نکلتا ہے ،

ایک اور قول کے مطابق اس کے اندر ایک دیوتا بند ہے۔ پہاڑ جب وہ یہاں سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ پہاڑ آگ اور لاوے سے بھڑک اٹھتا ہے۔ کبھی کبھار بہت زور دار دھماکے بھی ہوتے ہیں، ان کا خیال تھا کہ یہ آوازیں بھی اسی دیوتا کے قہر و غضب کی ہیں۔ کچھ دوسری قدیم قوموں کا بھی خیال تھا کہ ان آتش فشاں کے اندر اس لاوے میں کوئی دیوتا رہتا ہے۔

تاریخ کا سب سے خطرناک آتش فشاں حادثہ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ 400 سالوں میں آتش فشاں کے نتیجے میں 250000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوستو تاریخ کا سب سے خطرناک آتش فشاں حادثہ 1815 میں انڈونیشیا میں پیش آیا۔ انڈونیشیا کے جزیرے سمباوا پر واقع تمبورا نامی آتش فشاں دھماکے سے پھٹ گیا، آگ، لاوا اور دیگر مادے آسمان کی طرف 13 ہزار فٹ بلند ہو گئے

ان میں گیسیں، گرد و غبار اور چٹانیں بھی موجود تھیں، جو اڑ کر آس پاس کے علاقے میں پھیل گئیں۔ اس دوران پہاڑ سے راکھ نیچے بہنے لگی اور پہاڑ کے آس پاس کے جنگل میں آگ لگ گئی اسی دوران پھٹنے سے سونامی ملحقہ سمندر جاوا سے ٹکرا گئی۔ ان تمام واقعات کے نتیجے میں دس ہزار افراد فوری طور پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

جب کہ بعد میں ہلاکتوں کی تعداد 70,000 تک پہنچ گئی ہے، جو اسے تاریخ کے بدترین آتش فشاں پھٹنے میں سے ایک بناتا ہے۔ اس حادثے کے اثرات پوری دنیا میں پھیلے ، شمالی امریکہ میں فصلوں کو نقصان پہنچا، جس سے قحط پڑا۔ یورپ میں پھیلنے والی مختلف بیماریاں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پھٹنے کی وجہ سے موسمی تبدیلیاں بھی ہوئیں۔

جس کی وجہ سے اگلے سال یعنی 1816 میں پہلے سے زیادہ سردی ہوگئی اور گرمی کا موسم بھی سرد ہوگیا۔ اس سال کو “گرمیوں کے بغیر سال” کا نام دیا گیا ہے 1967 میں اس آتش فشاں پر دوبارہ آتش فشاں پھٹنے کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔ یہ انڈونیشی آتش فشاں آج بھی متحرک ہے اور کبھی کبھار تھوڑا سا لاوا بھی پھوٹتا ہے۔ آتش فشاں پھٹنا کیوں ہوتا ہے؟ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ پہاڑ کیوں پھٹتے ہیں؟

اگر زمین کے نیچے گرم مادہ میگما ہے تو وہ زمین سے کیوں نکلتا ہے؟ زمینی درجہ حرارت دراصل بہت زیادہ ہے۔ یہ پگھلا ہوا گرم مادہ چٹان سے ہلکا ہے اس لیے یہ سطح زمین کی طرف بڑھتا ہے مختلف گیسوں کی وجہ سے یہ مادہ دھماکے سے پھٹ کر آگ اور لاوا بن جاتا ہے۔ آتش فشاں کا عمل کتنا خطرناک ہے؟ اس آتش فشاں کے پھٹنے کا درجہ حرارت آٹھ سو سے بارہ سو ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ اس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پانی کا ابلتا نقطہ ایک سو ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے آتش فشاں کے دوران خطرناک گیسیں، راکھ، لاوا اور چٹانیں اڑ کر آس پاس کے علاقوں میں پھیل جاتی ہیں،

ان علاقوں میں آگ لگنے کا بھی خطرہ ہے۔ یہ مادہ فصلوں اور آبی ذخائر کو بھی نقصان پہنچاتا ہے راکھ اور خطرناک گیسیں مختلف بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھا دیتی ہیں۔ ان میں ناک، گلے اور پھیپھڑوں کی بیماریاں شامل ہیں۔ پاکستان کے آتش فشاں دوستو، پاکستان میں کوئی خطرناک آتش فشاں نہیں ہیں بعض ذرائع کے مطابق پاکستان میں صرف ایک ہی آتش فشاں پھٹنے کی اطلاع ہے

یہ واقعہ 2010 میں اس وقت پیش آیا جب بلوچستان کے علاقے زیارت میں مقامی لوگوں نے “طور زوار” آتش فشاں سے لاوا نکلتے دیکھا۔ تاہم یہ پھٹنا خطرناک نہیں تھا دوستو آتش فشاں کے پھٹنے کے بارے میں آپ کو پہلے ہی معلوم ہو گا لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بلوچستان میں مٹی کے تقریباً 18 آتش فشاں ہیں؟

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ پہاڑ گرم مٹی کا اخراج کرتے ہیں دنیا کا سب سے بڑا مٹی کا آتش فشاں بھی بلوچستان میں پایا جاتا ہے جس کی بلندی تین سو فٹ ہے بلوچستان میں مٹی کے آتش فشاں کے دو سلسلے ہیں جن میں سے ایک کا نام “چندرا گپ” اور دوسرا “جیبل” ہے۔ ای غوراب”۔ چندر گپتا کے مٹی کے آتش فشاں پاکستان کے سب سے بڑے نیشنل پارک ’’ہنگول نیشنل پارک‘‘ میں واقع ہیں۔

ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ان پہاڑوں کو بہت مقدس سمجھتے ہیں اور ان کی زیارت کرتے ہیں۔ زیر آب آتش فشاں دنیا میں زیرِ آب آتش فشاں بے شمار ہیں۔ یعنی یہ آتش فشاں سمندروں اور دریاؤں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی کل تعداد کا تعین کرنا مشکل ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں آتش فشاں پھٹنے والوں میں سے دو تہائی سمندروں اور دریاؤں میں ہوتے ہیں

پانی کے اندر آتش فشاں کی کل تعداد لاکھوں میں ہوسکتی ہے ماہرین کے مطابق ان کی تشکیل میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ زمین پر پائے جانے والے آتش فشاں اور جو پانی میں پائے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف بحر الکاہل میں تقریباً دس لاکھ آتش فشاں ہیں۔ مزید دلچسپ معلومات اس وقت دنیا بھر میں ایک اندازے کے مطابق 1,350 فعال آتش فشاں ہیں۔ ان میں سب سے خطرناک آتش فشاں میکسیکو سٹی سے 33 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ زیادہ تر فعال رہتا ہے اور ہر سال ہزاروں ٹن گیسیں اور راکھ ہوا میں چھوڑتا ہے۔ جبکہ سب سے بڑا فعال آتش فشاں ہوائی میں پایا جاتا ہے

اس کی اونچائی تیرہ ہزار چھ سو اڑسٹھ فٹ ہے۔ سب سے زیادہ فعال آتش فشاں انڈونیشیا، جاپان اور امریکہ میں پائے جاتے ہیں۔ آسٹریلیا میں کوئی فعال آتش فشاں نہیں ہیں زمین کے علاوہ نظام شمسی کے دیگر سیاروں پر آتش فشاں کے وجود کی نشانیاں پائی گئی ہیں۔ سب سے حالیہ خطرناک آتش فشاں پھٹنے کا واقعہ انڈونیشیا میں 2021 میں پیش آیا جس کے پھٹنے سے راکھ، لاوا اور دیگر مادے آسمان پر 40,000 فٹ تک پہنچ گئے، جس سے 57 افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح 2018 میں گوئٹے مالا میں آتش فشاں پھٹنے سے 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ دوستو اپنی رائے کمنٹس میں بتائیں

Read More::Why did Holland fight against the sea? | ہالینڈ نے سمندر سے جنگ کیوں کی؟

❤️❤️Watch Historical Series English Subtitles And Urdu Subtitle

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here